I help people understand China. Emerging Sinologist, Youth of Excellence China Scholar @ZJU_China. Doctoral Researcher. We are in same 🛥 If you understand 🇨🇳
It was pleasure to participate as a speaker in International conference on "Leisure and Common Prosperity" organized by Zhejiang Leisure Association.
My topic was "Leisure, cultural communication and common prosperity - By the people, for the people". 👇
https://t.co/9qzA2M5OBZ
@iraninyerevan Feel sorry for what this child has gone through. This child will not forget what America has done to its people. It would be justified if he chants "Death to America and Israel ".
جاگ مسلمان جاگ
اکانوے دن پہلے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے جنگ جیت چکے ہیں، ایران کے نیو کلئیر پروگرام کو تباہ کر چکے ہیں، آج ٹرمپ کی پالیسی “Dumpster Fire” بن چکی ہے
☝️میری لینڈ کے سینیٹر کرس وان ہاٹن کا کانگریس میں بیان اور امریکی حکومت سے سوال
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد آج امریکی سینیٹر امریکی پالیسی کو کچرے کی آگ سے تشبیہ دے رہے ہیں جسے روکنا ممکن نہیں رہا
لیکن حیرت اُن مسلمانوں پر ہے جو امریکی شکست کو جسے امریکی خود شکست کہہ رہے ہیں، وہ اسے ایران کی شکست ثابت کرنا چاہتے ہیں، ایسے لوگ یا تو بغض سے بھرے ہوۓ منافق ہیں، یا سادہ لوح ہیں جو بھٹک گئے تھے، یا کسی صیہونی ایجنڈے کے پُرزے ہیں
جاگ مسلمان جاگ، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر، نفاق مت پیدا کر
احمد جواد
@s_m_marandi They are killing children in 2026, where are international human rights organizations. Why Netanyahu is not charged for war crimes. Why child killers are roaming free. This world is becoming dangerous place for children. Where is world's conscience? 😓😓
@OopsGuess EU leaders are joke, they are puppets. They are not embracing they are in 2026, World has changed, dynamics have changed. Global South is rising now. Era of European imperialism is over, but EU leaders still living in that era.
جب مریدکے میں لبیک کے مولویوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بن چکا تھا۔
لبیک کا کوا مار کر کھیت میں لٹکایا گیا تھا تا کہ دوسرے کالے کوے زیادہ کائیں کائیں نہ کریں۔ اور پھر کسی کوے نے کائیں کائیں کی بھی نہيں۔
لیکن اب اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ حالات بدل چکے ہیں۔ جذبات بدل چکے ہیں۔
ایران نے اسرائیل کے رعب اور دبدبے اور دہشت کو ختم کر دیا ہے۔ پہلے عرب سمجھتے تھے کہ مشرق وسطی میں بقا کا راستہ تل ابیب سے گزرتا ہے۔ اس لئے تسلیم کر رہے تھے۔ اب وہ راستہ تہران سے گزرتا ہے۔
اب تو شیطان العرب بھی صہیونیوں کے چنگل سے نکلنے کے لئے بال و پر مار رہا ہے۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اسرائیل کے امیج کو کتنی کاری ضرب لگ چکی ہے۔
اب اسرائیل کو تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہيں بچا سکتا۔ زمانہ اسرائیل کے خلاف چال چکا ہے۔
@OopsGuess America can't afford peace in any part of world, for if peace happens who would buy their steal and weapons. That's the reason they don't invest in their Railways. Not a PhD but only a BS level report can articulate why the empire is declining under its own weight.
47 years of sanctions and yet Iran is one of the most advanced and educated nations in the world. They threatened to erase their entire country off the map, yet they stood firm to defend it. Iran is a civilization by itself. Persia never surrenders.
Former Iranian President Mahmoud Ahmadinejad:
“The world no longer accepts that a single nation dictates the fate of all others across the ocean. The system based on the dollar and military pressure is exhausted. If Washington wants to avoid its own downfall, it must learn the word ‘respect.’ We are not a colony—we are a civilization thousands of years old. Every attack they launch against Iranian soil only hastens the end of their influence on this side of the world.”
1500 سال گزرنے کے باوجود آج بھی خوشبو آتی ہے یہ قبر مبارک آپ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی والدہ بی بی آمنہ رضی اللّٰہ عنہا کی ہے
اَلصَّلٰوةُوَالسَّلَامُ عَلَيۡكَ يَاسَيِّدِۡي يَارَسُوۡلَ ﷲﷺ
وَعَلٰٓی اٰلِكَ وَاَصْحٰبِكَ يَاسَيِّدِۡي یَاحَبِیْبَ ﷲﷺ
انگریزی میں لکھ لکھ کر اُردو میں لکھنے کی عادت نہیں رہی حالانکہ الحمداللہ میری اُردو ادبی اُردو ہے میری لکھنوئی ماں کی تربیت کی مرہون مِنّت ہے۔ کافی مہینوں کے بعد اُردو میں لکھ رہا ہوں۔ امید ہے پسند آئیگا۔
ایران کی حکمتِ عملی: امریکی مطالبات کی مخالفت درست ہے۔
پاکستان میں پھیلائی جانے والی بے تُکی بحث۔
پاکستان کے بعض میڈیا حلقوں اور تجزیہ کاروں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ ایران کو امریکہ کے تمام مطالبات فوری طور پر مان لینے چاہییں اور سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) اس عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ رائے نہ صرف حقیقت سے دور بلکہ صیہونی لابی کی پروپیگنڈا مشین کا حصہ ہے۔ ایران چار دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں، معاشی پابندیوں اور اسرائیلی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر ایران مکمل تسلیم کا راستہ اختیار کر لے تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ اپنی قومی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کو ہاتھ سے دے دے۔ پاکستان جیسے ملک کو، جو خود امریکہ کی مداخلت کا شکار رہا ہے، اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ مزاحمت ہی عزت کا راستہ ہے۔ یہ بحث بے بنیاد ہے کیونکہ ایران نے بار بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے مگر امریکہ ہمیشہ نئی شرطیں لگاتا رہا۔
امریکی مطالبات کی اصل نوعیت۔
امریکہ کے مطالبات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ ایران کی بالستیک میزائل ٹیکنالوجی، علاقائی اتحادوں اور IRGC کی طاقت کو ختم کرنے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں ایران نے بڑی پابندیاں قبول کیں اور IAEA نے متعدد بار اس کی تعمیل کی تصدیق کی۔ مگر ۲۰۱۸ میں صدر ٹرمپ نے معاہدے سے یک طرفہ طور پر نکل کر “maximum pressure campaign” شروع کی، جو صیہونی لابی (خاص طور پر Netanyahu کی حکومت) کے دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر ایران نے نہ جھکا۔ ۲۰۲۰ میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت اسی پالیسی کا حصہ تھی۔
آج بھی بائیڈن اور ٹرمپ دور کے بعد امریکی مطالبات میں تبدیلی نہیں آئی۔ یہ مطالبات ایران کی خودمختاری پر حملہ ہیں، نہ کہ امن کی کوشش۔ ایران نے کبھی ایٹم بم بنانے کا دعویٰ نہیں کیا، البتہ اسرائیل کے سینکڑوں خفیہ جوہری وار ہیلڈز موجود ہیں جو عالمی میڈیا نظر انداز کرتا ہے۔
ایران کی عقل مندانہ مزاحمت۔
ایران غلطی نہیں کر رہا بلکہ طویل مدتی حکمت عملی کے تحت عقل مندانہ مذاکرات کر رہا ہے۔ JCPOA کی ناکامی کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی ۶۰ فیصد تک بڑھائی، جو اسے مستقبل کے کسی معاہدے میں مضبوط پوزیشن دیتا ہے۔ اس نے چین کے ساتھ ۲۵ سالہ جامع معاہدہ اور روس کے ساتھ دفاعی و معاشی تعاون بڑھایا، جو امریکی پابندیوں کو بے اثر بنا رہا ہے۔
۲۰۲۴-۲۰۲۵ کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے براہ راست اور بالواسطہ جواب دیا، جس سے ثابت ہوا کہ وہ کمزور نہیں۔ اگر ایران مکمل تسلیم کر لیتا تو عراق اور لیبیا کی طرح تباہ ہو جاتا، جہاں امریکہ نے “تبدیلیِ رژیم” کی پالیسی اپنائی۔ ایران کی مزاحمت نے اسے علاقائی طاقت بنایا ہے اور محورِ مقاومت (لبنان، شام، یمن، فلسطین) کو مضبوط کیا ہے۔ یہ صیہونی توسیع پسندی کے خلاف واحد مؤثر حکمت عملی ہے۔
سپاہ پاسدارنِ انقلاب کا دفاعی کردار۔
سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) کو رکاوٹ قرار دینا سراسر غلط فہمی ہے۔ یہ ایران کا دفاعی اور انقلاب کا محافظ ہے۔ IRGC نے شام میں داعش کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ اس نے حزب اللہ اور انصار اللہ (حوثی) کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف مضبوط کیا۔
خلیج فارس میں بحری سلامتی یقینی بنانے میں IRGC کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ امریکہ نے ۲۰۱۹ میں IRGC کو “دہشت گرد تنظیم” قرار دیا، مگر یہ وہی فورس ہے جس نے ۲۰۲۴ کے اسرائیلی حملوں میں طاقتور جواب دیا اور علاقائی توازن قائم رکھا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد IRGC مزید مضبوط ہوئی۔ پاسداران کے بغیر ایران آج صیہونی ایجنٹوں کا شکار ہوتا۔ یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سلامتی کا ضامن ہے۔
نتیجہ۔
ایران امریکہ کے مطالبات نا مان کر کوئی غلطی نہیں کر رہا بلکہ قومی وقار، خودمختاری اور علاقائی استحکام کی حفاظت کر رہا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اس مزاحمت کا مرکزی ستون ہے۔ پاکستان سمیت مسلم امہ کو یہ سبق لینا چاہیے کہ صیہونی-
امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا تباہی کا باعث بنتا ہے، جبکہ عقل مندانہ مزاحمت اور متبادل اتحاد کامیابی دیتے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی آج خطے میں نئی توازن قائم کر رہی ہے۔ اگر پاکستان اس حقیقت کو سمجھ لے تو نہ صرف ایران بلکہ اپنے قومی مفادات کو بھی بہتر طور پر محفوظ کر سکتا ہے۔ مزاحمت ہی عزت ہے، تسلیم نہیں۔
@IranArmystan_ What a joke, declining empire (America) is threatening Super power China to bow down. China will not listen to illegitimate and illegal demands of US.
🚨 BREAKING NEWS :
“The U.S. has warned China that purchasing oil from Iran could trigger strict sanctions against it.”
🇨🇳China says:“We do not fear any threats whatsoever, We will continue to purchase oil from Iran.”
فلسطین کی بات کرنا بند نہ کریں ! غزہ میں شہید ہونے والی ننھی بچی کے والد سے آخری الفاظ: "بابا ، مجھے جھیل کیوسر اور دو محل نما بہت بڑے گھر نظر آ رہے ہیں۔"
سی این این امریکہ کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس ہے اور عام طور پر امریکی اور اسرائیلی حکومت کا ترجمان ہے
یہ چینل کہہ رہا ہے اور ایک پوری رپورٹ پیش کر رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو غیر معمولی نقصان ہوا جو اربوں ڈالر میں ہے اور یہ اڈے ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کے سامنے sitting duck تھے،
لیکن کچھ منافقین ایران میں نقصانات کو طعنوں کی طرح ذکر کرتے ہیں، میری سمجھ سے باہر ہے کہ اگر ایک اسلامی ملک امریکہ اور اسرائیل کو تُن دے تو ہمیں خوش ہونا چاہئے یا افسردہ؟ اسرائیل اور امریکہ پچھلے چالیس سالوں میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں اور ہر مسلمان اُس ملک کیلئے دُعا کرے گا جو امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرے گا
https://t.co/zaY8KsZbbP