@MuradSaeedPTI یہ ملک ہمارا ہے یہ فوج بھی ہماری ہے ان فوجیوں کے ہاتھ میں جو ہتھیار ہیں وہ ہتھیار بھی ہمارے پیسوں سے لیے گئے ہمارے ہیں وہ جن کے سینوں پر ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ سینے بھی ہمارے ہیں🙏🏻😭
کور کمانڈر بلوچستان جنرل آصف غفور جاب سیکیورٹی کلیرنس کارکردگی صفر اگر اسکی باتیں سنو تو یہ عاصم منیر سے بھی بڑی بڑی آیات سنائے گا آدھا بلوچستان رات کو بند رہا کئی پولیس اسٹیشنوں پر حملے کئے گئے اہلکاروں سمیت کئی عام شہری لا پتہ اور قتل کر دیئے گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی
اور تصویر میں موجود دوسرا جرنل ISPR احمد شریف ہے جو میڈیا کنٹرول کرتا ہے اس نے ابھی تک یہ درد ناک خبر نیوز TV چینلز پر نہی آنے دی کیونکہ انکے آگے انسانی جان کی کوئی قیمت نہی اور ویسے بھی بلوچستان کو پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں ۔
پاکستانی قوم جان لے کہ ملک میں بدامنی قتل و غارت جرنیلوں کی پالیسیوں کے عین مطابق پھیلایا جاتا ہے
(Bloody civilization)
موسیٰ خیل اور بولان میں ہونے والے واقعات کی پُرزور مذمت کرتا ہوں، میں شہدا کے لواحقین کے غم کو بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ جنگ کسی ایک قوم کی نہیں، اس سانحے کو قومیت پرستی کا رنگ دینے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ دہشتگردی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے جس کیخلاف اب ہم سب کو ایک ہونا ہو گا۔
نہتے شہریوں کو اغواء اور ماورائے عدالت قتل کرنے والی اور اپنے آپکو دنیا کی نمبرون کہنے والی فوج کی اوقات چیک کریں کہ گزشتہ 14 گھنٹے سے بلوچ سرمچاروں سے بلوچستان کا کنٹرول واپس نہیں لے سکی ہے اور واحد کام صرف اپنے حوالدار میڈیا کو آنسو بہانے اور پروپیگنڈا پر لگانا ہے
رات پاکستانی فوجی میڈیا نے بیان جاری کیا کہ حملے ناکام ھوگئے ہیں لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ اتنے بم دھماکے ھوگئے ہیں،اتنے گرنیڈ حملے ھوگئے ہیں،بیلہ فوجی کیمپ پر قبضہ کرلیا ہے،نوشکی میں اتنے فوجی مار دئیے ہیں تو اگر یہ ناکام حملہ ہے تو کامیاب حملہ کیا ھوتا ہے؟ https://t.co/oy2Rid6FYd
ہر خبر کا مثبت اور منفی پہلو
منفی پہلو: پاکستان میں 800 سے زیادہ فیول پمپ کا نیٹ ورک رکھنے والی فرانس کی کمپنی ٹوٹل انرجی نے اپنا 50 فیصد بزنس یا 26.5 ملین ڈالر مالیت کے شیئرز بیچ دیے۔
مثبت پہلو: سویٹزرلینڈ کے گنوور گروپ نے پاکستان میں 800 سے زیادہ فیول پمپ کا نیٹ ورک رکھنے والی فرانس کی کمپنی ٹوٹل انرجی کے 50 فیصد بزنس یا 26.5 ملین ڈالر مالیت کے شیئرز خرید لیے۔
یعنی پہلے ایک یورپی کمپنی تھی اب دو یورپی کمپنیاں ہونگی۔ یعنی زیادہ سرمایہ کاری ۔۔ زیادہ سہولیات۔
دوسری خبر
منفی پہلو: شیل انرجی اپنے 77.42 فیصد حصص فروخت کر دیئے۔
مثبت پہلو: سعودی کمپنی وافی انرجی نے شیل انرجی کے 77.42 فیصد حصص خرید لیے۔
یعنی عالمی نمبر 1 آئل ایکسپورٹ ملک سعودیہ کی بڑی کمپنی پاکستان میں آگئی۔ (اس کے علاؤہ دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو نے گو Goانرجی کے شئیرز خریدے ہیں وہ بھی پاکستان میں آچکی ہے)
اب ملکی میڈیا کا حال دیکھیں یا پھر ڈیجیٹل ٹیررسٹوں digital terrorists کو دیکھیں تو وہ صرف منفی پہلو ہی بیان کرتے ہیں۔ جس سے عوام۔۔ سرمایہ کاروں ۔۔ کاروباریوں کے اندر خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے احباب سے کہتا ہوں کہ عالمی میڈیا۔۔ عرب میڈیا کا بغور اور روزانہ جائزہ لیا کریں تاکہ حقائق سے باخبر رہیں۔ مزکورہ بالا خبریں اور ان کے مثبت پہلو عرب میڈیا کے انڈیپینڈنٹ اردو سے حاصل کی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منقول
پاکستان کی سخت گرمی میں را سلک میں ملبوس، نقلی ناخن نقلی پلکیں، ویڈیوز کا ذخیرہ رکھنے والی اور اچانک سے زنانہ سے مردانہ آواز میں چنگھاڑنے والی کچھ موروثی سیاسی خواتین میں کوئی سادہ لباس میں ملبوس، اعلیٰ تعلیم یافتہ، میک اپ ٹک ٹاک سے بے نیاز، نمود و نمائش سے پرے،دھیمے لہجے میں بولنے والی خاتون سیاست دان آجائے تو کتنا بھلا لگتا ہے۔ شاباش خدیجہ