کاہنہ ناصر مدنی صاحب کا آبائی شہر ہے ، انہوں نے بچوں کے ساتھ زخمی ٹیچر کی بھی عیادت کی ۔ پنجاب حکومت سے ہم بھی درخواست کرتے ہیں کہ اس ٹیچر پر درج کی گئی FIR واپس لی جائے ، یہ غفلت نہیں حادثہ تھا جس میں باقی بچوں کے ساتھ ٹیوشن ٹیچر کی اپنی بچی اور بھتیجی بھی شہید ہوگئی ۔
"سعودی عرب میں پاکستانی ویٹر کی ماں کی موت، ایک تھپڑ اور ایک عرب کا پیار"
سعودی عرب کے ایک بڑے شہر میں ایک مشہور ہوٹل تھا، جہاں پاکستان کے ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان نعیم ویٹر کی ملازمت کرتا تھا۔ وہ بی اے پاس تھا، مگر پردیس میں ڈگری نہیں، انسان کی مجبوری فیصلہ کرتی ہے کہ اسے کون سا کام کرنا ہے۔
نعیم چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ تینوں بڑے بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں کامیاب تھے۔ دو سرکاری افسر تھے اور ایک یورپ میں ملازمت کرتا تھا۔ گھر میں تینوں بھابھیاں نعیم سے ہر کام کرواتی تھیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑنا، بازار سے سودا لانا، بھابھیوں کو میکے اور بازار لے جانا، بھینسوں کی دیکھ بھال کرنا، گویا وہ اپنے ہی گھر میں نوکر بن کر رہ گیا تھا۔
صرف اس کی ماں ہی تھی جو اس کا درد سمجھتی تھی۔
وہ اکثر کہتی، "بیٹا نعیم! کب تک بھائیوں اور بھابھیوں کی نوکری کرتا رہے گا؟ کوئی کام سیکھ، کہیں ملازمت کر۔ آج سب تیرے اپنے لگتے ہیں، مگر جس دن تُو ان کے کام نہ آیا، کوئی پوچھے گا بھی نہیں۔"
نعیم ہنس کر کہتا، "امّی! آپ فکر نہ کریں، میرے بھائی ایسے نہیں ہیں۔"
ماں خاموش ہو جاتی، مگر دل ہی دل میں دعا کرتی کہ اس کا بیٹا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔
آخرکار ماں کے اصرار پر نعیم سعودی عرب چلا گیا اور ایک ہوٹل میں ویٹر کی نوکری کرنے لگا۔
---
چھ ماہ گزر چکے تھے۔
ایک دن ہوٹل میں ایک نہایت امیر عرب تاجر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ نعیم کان میں بلوٹوتھ لگائے ان کی میز سے استعمال شدہ برتن اٹھا رہا تھا کہ اچانک پاکستان سے بڑے بھائی کا فون آیا۔
بھائی کی بھاری آواز سنائی دی۔
"چھوٹے... پہلے ہم یتیم تھے، اب لاوارث بھی ہو گئے ہیں۔"
نعیم گھبرا گیا۔
"بھائی! کیا ہوا؟"
دوسری طرف سے جواب آیا،
"امّی انتقال کر گئی ہیں۔"
یہ سنتے ہی نعیم کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا، جو لرزتے ہاتھوں سے جھکا اور پانی سامنے بیٹھے عرب کے کپڑوں پر گر گیا۔
عرب غصے سے کھڑا ہو گیا اور چیخ کر بولا،
"حمار! کلب!"
یعنی، "گدھے! کتے!"
غصہ اتنا بڑھا کہ اس نے نعیم کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا دیا۔
مگر اسی لمحے نعیم بچوں کی طرح زور زور سے رونے لگا۔
اس کی سسکیاں پورے ریسٹورنٹ میں گونجنے لگیں۔ تمام گاہک حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔
عرب نے سمجھا شاید میری گالی سے رو رہا ہے۔ اس نے فوراً کہا،
"I am sorry... I am sorry."
لیکن نعیم کا رونا بند نہ ہوا۔
عرب نے نرمی سے پوچھا،
"بھائی، کیا ہوا؟"
نعیم نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا،
"میری... ماں... فوت ہو گئی ہے..."
یہ الفاظ سن کر عرب کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔
اس نے آگے بڑھ کر نعیم کو گلے لگا لیا اور کہا،
"اللہ تمہاری والدہ پر رحم فرمائے۔"
ریسٹورنٹ میں موجود دوسرے عرب بھی اس کے پاس آ گئے۔ سب نے اسے دلاسہ دیا۔
---
نعیم اپنے ہوٹل کے مالک کے پاس گیا اور کہا،
"مجھے پاکستان جانا ہے، میری ماں انتقال کر گئی ہے۔"
مالک نے بے رخی سے جواب دیا،
"تمہیں آئے صرف چھ ماہ ہوئے ہیں۔ نہ میں چھٹی دوں گا اور نہ ٹکٹ خریدوں گا۔"
یہ بات سن کر وہی عرب آگے آیا اور بولا،
"اس کا سارا خرچہ میں دوں گا۔"
اس نے فوراً ٹکٹ خریدا، اپنی گاڑی میں نعیم کو ایئرپورٹ چھوڑنے گیا اور کہا،
"جاؤ... اپنی ماں کا آخری دیدار ضرور کرنا۔"
---
پاکستان پہنچ کر نعیم نے اپنی ماں کے جنازے کو کندھا دیا، قبر سے لپٹ کر اتنا رویا کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
تعزیت، قل اور دسویں کے بعد ایک دن تینوں بھائی اور تینوں بھابھیاں کاغذ اور قلم لے کر بیٹھ گئے۔
بڑے بھائی نے کہا،
"ماں کے علاج، دوائی، کفن دفن اور مہمانوں کے کھانے پر کل دس لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ چار بھائی ہیں، اس لیے ہر ایک کے حصے میں ڈھائی لاکھ روپے آتے ہیں۔ اپنا حصہ دو۔"
نعیم حیران رہ گیا۔
"بھائی! میرے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں۔ ابھی تو پردیس گیا ہوں۔"
بھائی نے سخت لہجے میں کہا،
"ماں سب کی مشترکہ تھی، خرچہ بھی سب برابر دیں گے۔"
پھر انہوں نے مزید کہا،
"اور گھر کا جو ٹوٹا پھوٹا، کچا حصہ ہے، وہ تمہارا ہے۔ باقی پکا مکان ہم نے اپنے پیسوں سے بنایا ہے۔"
یہ سنتے ہی نعیم کو اپنی ماں کی بات یاد آ گئی۔
"بیٹا... مشکل وقت آیا تو یہی لوگ تمہیں گھر سے بھی نکال دیں گے۔"
آج ماں کی ہر بات سچ ثابت ہو چکی تھی۔
---
اسی دوران سعودی عرب والے عرب کے مسلسل واٹس ایپ پیغامات آ رہے تھے۔
آخر نعیم نے روتی ہوئی آواز میں وائس میسج بھیجا اور ساری حقیقت بتا دی۔
عرب نے صرف اتنا کہا،
"پریشان مت ہو۔ تم میرے بیٹے کی طرح ہو۔ اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر بھیجو۔"
چند لمحوں بعد نعیم کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ پاکستانی روپے منتقل ہو گئے۔
عرب نے کہا،
👇👇
نیدرلینڈز سے جیتنے کے بعد مراکش کھلاڑی عیسی ڈیوپ کا کہنا تھا کہ
"ہم مسلمان ہیں، ہم یہاں (زمین پر) تھوڑے وقت کے لیے آئے ہیں، ہر چیز اللہ کے لیے ہے اور ہمیں اس کا شکر ادا کرنا ہے۔"
مجھ سے اکثر سوال ہوتا ہے کہ آپ رونالڈو کو پسند کرتے ہیں یا میسی کو؟
میں یقینا رونالڈو کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ رونالڈو کئی چیزوں میں مختلف ہے, اور میری پسندیدگی کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ رونالڈو ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ امید میسی کے چاہنے والے مجھ سے ناراض نہ ہوں گے۔ صدر رجب طیب ایردوان
ماشاءاللہ ❤️
برطانوی گلوکار اور پروڈیوسر ہیری ٹیب نے اسلام قبول کر لیا ہے۔🗣 ہیری ٹیب کا اعلان: "الحمدللہ میں مسلمان ہوں۔‘‘ میں ایک دن اپنے اسلام کے سفر کی کہانی بیان کروں گا میں سب کی طرف سے تعاون اور محبت کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔”
آپ کو اس خبر پر کیا خیال آیا؟ 💭
25 سالہ ایک نرس نے اپنے والد کو گردہ عطیہ کرنے کے لیے کئی ماہ تک خفیہ طور پر تمام طبی ٹیسٹ مکمل کیے، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر والد کو معلوم ہو جاتا تو وہ کبھی اسے ایسا کرنے کی اجازت نہ دیتے۔
باپ اور بیٹی کے درمیان محبت اور قربانی کی ایک خوبصورت مثال ❤️
نماز پڑھتے ہوئے دو سجدوں کے درمیانی وقفہ میں یہ انتہاہی مختصر دعا پڑھنا معمول بنا لیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کیسے آپ کے رزق کو فراخ کرتے ہیں اللہ اکبر 💚
ڈائیرکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری نے اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات کی محنت کے بعد اسلام آباد ایف 7 میں انسانی گوشت کی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کو پکڑا، انسانی گوشت مختلف کلینکس سے لایا جاتا تھا، یہ کہاں پر اور کیسے استعمال ہوتا تھا
تفصیلات جاننے کے بعد الٹیاں شروع ہو گئیں
🚨 بریکنگ: سکاٹ رائٹر سابق امریکی انٹیلی جنس افسر:"اگر میں ایرانی ہوتا تو میں اسرائیلی ریفائنریوں کو بہت پہلے ہی ختم کر دیتا میں اسرائیل کو ختم کر دیتا اسرائیل کو ختم کرنا ضروری ہے یہ لفظی طور پر کرہ ارض کا کینسر ہے۔"
بریکنگ نیوز🚨ایمل ولی خان کا منصور علی خان کی پوڈ کاسٹ میں تہلکہ خیز انکشاف 🔥🔥
9 مئی ایک ڈرامہ تھا جو PTI کو پھنسانے کیلئے کیا گیا۔ سب کو پتہ ہے کور کمانڈرز کے گھر ایسے کوئی نہیں گھس سکتا۔ یہ سب اسٹبلیشمنٹ اور ن لیگ کی گیم تھی، ہمیں بھی اس سارے معاملے پر خاموش رہنا کا حکم ملا تھا، جس کے بدلے میں انعام دیا گیا۔
استمع إلى التعليق، فقط استمع إلى التعليق؛ سوف تستمتع به أكثر من الفوز نفسه!" 🇸🇦✌️🇦🇷
Listen commentary Just listen to the commentary; you will enjoy it more than the victory itself. 🇸🇦vs🇦🇷
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے مسلسل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی دو قبریں ہیں؟
یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال (رح) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اُن کی آخری آرام گاہ لاہور میں ہے۔ اُن کا مزار بادشاہی مسجد اور قلعہ لاہور کے درمیان حضوری باغ میں واقع ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے وہاں حاضری بھی دی ہو۔ لیکن کیا آپ کو یہ بھی پتا ہے کہ علامہ صاحب کی ایک قبر ترکی میں بھی واقع ہے؟
اگر نہیں پتا تو پھر سنیے! حضرت علامہ محمد اقبال رحمت اللہ علیہ کا جسد تو لاہور ہی میں دفن ہے، لیکن ترکی کے شہر قونیہ میں بھی اُن کی ایک علامتی قبر موجود ہے۔ حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے نواح میں ایک علامتی قبر پر علامہ صاحب کی تختی لگی ہے.
قونیہ آج بھی ترکی کا سب سے زیادہ مذہبی شہر ہے بلکہ اسے ملک میں "اسلام کا قلعہ” کہا جاتا ہے۔
حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ 13 ویں صدی کے ایک عظیم صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کا پورا نام جلال الدین محمد رومی تھا۔ آپ موجودہ افغانستان کے علاقے بلخ میں پیدا ہوئے لیکن منگولوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اُن کے والد نے مغرب کی طرف ہجرت کی جہاں مولانا نے بالآخر قونیہ شہر کو اپنا ٹھکانا بنایا۔ آج اسی شہر میں مولانا رومی کا مزار مرکزِ نگاہ ہے۔ مولانا کا شعری مجموعہ "مثنوی" اِس وقت مقدس آسمانی کتابوں کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر سے لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، نواح میں اُن کے شاگردوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ انہی قبروں میں سے ایک کے کتبے پر علامہ صاحب کا نام بھی لکھا ہے۔
تختی پر لکھا ہے، "یہ مقام پاکستان کے قومی شاعر اور دانشور محمد اقبال کو دیا گیا ہے۔"
یہ علامتی قبر دراصل ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا جلال الدین رومی کے رُوحانی تعلق کو بیان کرتی ہے۔ یہ تعلق کتنا گہرا تھا؟ اس کا اندازہ اقبال کی شاعری میں بار بار ہوتا ہے۔
"بالِ جبریل" کی نظم ہے 'پیر و مُرید' جس میں مولانا کو "پیرِ رومی" کہا گیا ہے اور اقبال نے خود کو "مریدِ ہندی" قرار دیا ہے۔
شاید یہ علم ہی ہے جو زمان و مکان کی پابندیاں توڑ دیتا ہے، ورنہ کہاں تیرہویں صدی کے اوائل میں پیدا ہونے والے رومی اور کہاں 19 ویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والے اقبال، دونوں میں 670 سال کا فاصلہ تھا لیکن علم کی دنیا میں یہ صدیوں کا فاصلہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا اور ان حدود کو یہاں تک توڑ دیتا ہے کہ آج ہمیں اقبال رومی کے مزار کے سائے تلے بھی نظر آتے ہیں۔
مصر کی ایک مشہور علمی شخصیت تھے عبدالوہاب عزام، انہوں نے ایک بار کہا تھا "اگر جلال الدین رومی اِس زمانے میں جی اٹھیں تو وہ محمد اقبال ہی ہوں گے۔ ساتویں صدی کے جلال اور چودھویں صدی کے اقبال کو ایک ہی سمجھنا چاہیے۔"
"بالِ جبریل" کی ایک نظم میں علامہ اقبال مولانا رومی کے حوالے سے کہتے ہیں:
ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحرِ پر آشوب و پر اسرار ہے رومی
تُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبال
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومی
اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟
کہتے ہیں چراغِ رہِ احرار ہے رومی
پاکستان سے بہت سارے سیاح اور عقیدت مند ترکی کے شہر قونیہ جاتے ہیں اور مولانا رومی کے مزار کے بعد علامہ اقبال کی اس علامتی قبر پر بھی حاضری دیتے ہیں۔ اللہ تعالی اپنے ان مقبولان کے درجات مزید بلند فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
منقول
⚽️ یوراگوئے کی ٹیم کی امریکہ آمد پر اُنکے ساتھ انتہائی غیراخلاقی اور غیرسفارتی رویہ اپنایا گیا جب اُنکی ٹیم کو سڑک کے کنارے پر کھڑا کر کے اُنکے سامان کی کُتوں کی مدد سے تلاشی لی گئی ایک مہمان ٹیم کے ساتھ ایسا رویہ انتہائی شرمناک ہے۔@FIFAWorldCup
میں جب اسلام آباد رہتا تھا وہاں حافظ جی ہواکرتے تھے جو ویسے تو نائی کا کام کرتے تھے لیکن ضرورت کے وقت ختنے بھی کر لیا کرتے تھے انھوں نے میرے سامنے تین لوگوں کے ختنے کیے دو کا تعلق ڈی آئی خان سے تھا اور تیسرا اسلم صاحب کا لڑکا تھا ختنے تو ہو خیر ہوگے لیکن عجیب بات یہ تھی اسے ساتھ اسلم صاحب نہیں بلکہ عقیل بھائی لاۓ تھے 🤣 کہہ رہے تھے لونڈا بڑا وفادار ہے کراچی میں بھائی لوگوں کی خوب خدمت کرتا رہا ریفرنس لیٹر بھی ساتھ لایا تھا ‼️
میں عمران خان کے لئے بہت پریشان ہوں۔
تقریباً 6 مہینے اور 12 دن پہلے 2 دسمبر 2025 کو ڈاکٹر عظمی خان کی ان سے بیس منٹ کے لئے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ سخت تکلیف میں ہیں۔ ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد سے خان صاحب کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ کتنی تکلیف میں ہیں۔ کس عذاب میں ہیں۔ ان کی آنکھیں بچ گئیں یا چلی گئیں۔
خان صاحب کو اغواء کر کے قید میں رکھنے والے اپنے کارنامے پر خوش ہیں۔ اپنی کامیابی پر حیران ہیں کہ انہوں نے قوم کے مقبول ترین اور محبوب ترین لیڈر کو مسنگ پرسن بنا دیا ہے اور قوم اس ظلم کو سہہ گئی ہے۔
ایسا نہیں ہے۔ تم لوگوں نے اس عمل سے نفرت کے بیج بوئے ہیں جس کی فصل تمہیں کاٹنا پڑے گی۔ جیسے ڈکٹیٹر ایوب خان نے نفرت کے بیج بوئے تھے اور فصل یحیٰی خان کو کاٹنا پڑی تھی۔
نفرت کے بیج بو کر تم محبت کی فصل نہیں کاٹ سکتے۔ یہ نفرت تمہیں جلا کر بھسم کر دے گی کیونکہ تم نے اس نسل کے لیڈر کو اغواء کرکے نمرود کی طرح اس پر ظلم کیا ہے جو جواب دینا جانتی ہے۔ اس کا تمہیں اور تمہاری نسلوں کو جواب دینا ہو گا۔
🛑امریکی خاتون: "مجھے خوشی ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ہار رہے ہیں۔ایران ہمیں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا وہ صرف ہماری بے وقوف حکومت کو للکار رہے ہیں۔ہمیں ایسی عبرتناک شکست کا سامنا ہے جس کی وجہ سے امریکہ دوبارہ ایسی ذلت آمیز کارروائیوں کی کوشش کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔"
بڑی خبر🚨ناروے نے اسرائیل کو تاریخی شکست دی اور میچ کی تمام کمائی فلسطین کو عطیہ کر دی ناروے نے اسرائیل کو 5-0 سے شکست دے کر ایک ایسی خوشی منائی جس کی دنیا بھر میں خوشی محسوس کی گئی لیکن سب سے طاقتور چیز نارویجن فیڈریشن نے میچ کی آمدنی کا 100% فلسطین کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔