محترم ۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر صحت اور تعلیم کے نظام کی صورتحال ٹھیک ہوتی تو آج گلی محلوں میں حشرات الارض کیطرح پرائیویٹ سکولز اور ہسپتالوں کے نام پر ڈسپنسریاں اور کلینکس نہ کھلے ہوتے۔
اور ستم ضریفی عوام کی یہ کہ انہی دو اداروں کے نام پر اربوں ڈالرز کی خیرات بھی بین الاقوامی این جی اوز سے ہماری حکومتیں لیتی ہیں
@RShahzaddk یہاں انگلینڈ اور سارے یورپ میں دنبہ نہیں ملتا، بھیڑ اور اسکا میمنہ یعنی sheep and lamb, ملتے ہیں۔ آپ جس گوشت میں بو کی بات کررہے ہیں وہ بھیڑ کا ہوتا ہے اور تھوڑا سستا ہوتا ہے، Lamb یعنی میمنے کا گوشت بغیر بدبو کے ہوتا ہے اور نسبتا مہنگا ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کو کانفرنس کال کے دوران مسلم اور خصوصا عرب رہنماؤں سے صاف کہہ دیا کہ ایران سے جنگ ختم ہونے اور معاہدے کے بعد، وہ ان تمام ممالک سے 'ابراہیمی معاہدے' (Abraham Accords) کا حصہ بننے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی امید رکھتے ہیں جو ابھی تک اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس بات پر لائن کے دوسری طرف ایسی 'موت کی سی خاموشی' چھا گئی کہ ٹرمپ کو خود ہی مذاقاً پوچھنا پڑا،
'ہیلو... آپ لوگ لائن پر موجود تو ہیں نا؟'"
@BarakRavid
میں پچھلی ٹویٹس میں بھی درجنوں مرتبہ اس پر تفصیلی لکھ چکا ہوں
کہ
حکومت آئل کمپنیز کی مناپلی ختم "ڈی ریگولیٹ"کر دے
پھر دیکھے
نجی شعبہ کس طرح کس قیمت پر لاتا ہے۔
(5 پنج روپئیے کی مثال دی)
نجی شعبہ(کوئٹہ چیمبر سمیت کئی) تو 200 روپے لٹر سے کم سیل پرائس پٹرول پمپس کی طرف سے عام صارف کو دینے کی گارنٹی دے رہے ہیں۔
اور
خیر سے بین الاقوامی قیمتوں کا بھی اگر اطلاق فرض کر لیا جائے تو
روس اور ایران عالمی قیمتوں کے مقابلے میں اچھی خاصی ڈسکاونٹ آفر کرتے ہیں۔
دوسرا اس تیل پر ٹرانسپورٹیشن اور انشورنس کاسٹ آبی راستوں سے آنے کی نسبت بہت کم ہے۔
تیسرا۔۔ایران سے تیل
ان کے سوفٹ سسٹم میں نا ہونے سے
نجی شعبہ مقامی کرنسی یا
بارٹر کے تحت لیتا ہے۔
حکومت کو اربوں ڈالرز بھی بچیں گے۔
یہ ایک ٹویٹ کا لنک پوسٹ کر رہا ہوں
اس ٹویٹ کے کمنٹس میں مزید کئی تفصیلی ٹویٹس ہیں
جو اس بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔
جس وجہ سے ہر طرف مہنگائی سے تباہی برپا ہے
اس کے بارے میں
ایک ہی مرتبہ چند منٹ لگا کے یہ حل پڑھ لیں(پہلے ٹویٹس پڑھی بھی ہوں گی)
ورنہ حجتیں تو ہیں ہی👇
https://t.co/V00sS6ntnd
@Asadrchaudhry@jkBehrani@shaistaawan چوہدری صاحب۔۔۔ ۔۔ بہت ہی درست تجزیہ کیا ہے۔۔۔۔ لیکن ایران کا تیل نہ خریدنے کے پیچھے امریکی پابندیوں سے ذیادہ پاکستان " برادرز اور یا اخی " کے ہاتھوں ذیادہ مجبور اور پابند لگتا ہے
وفاقی حکومت۔۔۔سالانہ
"9000 ارب"روپے قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں ادا کرتی ہے۔1300 ارب سرکاری"سفید ہاتھی"کھا جاتے ہیں جن کی نجکاری نہیں ہو رہی۔
جبکہ اب جو پھڈا شروع ہو گا۔۔تقریبا 3000 ارب(BISP کے 700 ارب اور دفاعی بجٹ کے 2500 ارب) صوبوں سے لینے پر شروع ہو گا۔
اگر حکومت صرف ایک فیصد شرح سود کو کم کرتی ہے تو اسے سالانہ 400 ارب روپے کی سود کی ادائیگی میں بچت ہوتی ہے۔
اس وقت اگر شرح سود ساڑھے 11.5% ہے تو اسے اگر 7% تک لایا جائے تو حکومت 1500 ارب روپے یہاں سے بچا سکتی ہے (اور
ملک میں معیشت کا پہیہ بھی چل پڑے گا)
دوسرا اگر نجکاری کر لیتی ہے تو
1300 کی بچت وہاں سے ہو سکتی ہے۔
نجکاری سے حکومت کو فوری آمدن بھی ہو گی۔اور پرائیویٹ سیکٹر جب میجمنٹ رائٹس کے ساتھ ان اداروں کو چلائے گا تو ٹیکس کی مد میں بھی کمائی آئے گی اور شئیرز پر نفع بھی۔
(ہاں۔۔حکومت یہ کر سکتی ہے کہ BISP صوبوں کے حوالے کر دے)
لیکن اگر صوبوں سے 3000 ارب روپیہ لیا جائے گا تو عوام کے لیے وسائل وہاں سے کم ہونگے۔
اور یہاں۔۔۔سود کی ادائیگی کرتے اور سفید ہاتھیوں کو کھلاتے اتنے پیسے ضائع ہوتے جائیں گے۔
وفاقی حکومت تھوڑی سی محنت کر کے اپنی بھی پرفارمنس دکھا دے یہ تو بہت آسان ہے کہ
صوبوں سے چھین کر اپنے پاس
وسائل بڑھا لیے جائیں۔
(اسد آر چوہدری)
@Asadrchaudhry چوہدری صاحب make sure بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، دوسرے لفظوں میں معیشت اور دیگر مالیاتی معاملات میں رد و بدل کیلئے اس کی اجازت درکار ہوتی ہے
سیاسی بلوغت کا ووٹر کی عمر سے کیا تعلق؟
چار چار دفعہ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے پچاس ساٹھ سالہ سیاہ ست دان کیا سیاسی طور پر بالغ ہیں؟
سیاست کو بازیچہ اطفال بنانے والے یہ نابالغ ہر دفعہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈسے جانے کے باوجود پھر انہیں ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
سُنا ہے کہ ووٹر کی عمر میں آئینی ترمیم کے ذریعے کوئی تبدیلی لانے پر غور ہو رہا ہے۔
ویسے پاکستانی عوام کی مجموعی سیاسی بلوغت کو مدنظر رکھتے ہوۓ, آپکے خیال میں ووٹ ڈالنے کی عمر کیا ہونی چاہیے؟
@Asadrchaudhry ہم نہ بھی بتائیں۔۔ حکومتی سطح پر غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اور معاملات طے کرتے ہوئے جو کُچھ ہوتا ہے، ملکی عزت کیلئے وہی کافی ہے
@Asadrchaudhry ہمارے ذیادہ تر وزیر خزانہ یا تو آئی ایم ایف کی منظوری سے لگتے ہیں یا پھر اس کے منظور نظر ہوتے ہیں، یعنی آئی ایم ایف کی پالیسیز نافذ کرنے کیلئے حکومت کو راضی کرتے ہیں
@ia_rajpoot شکر ہے ہمارے ہاں اسطرح کے فرعون نہیں ہیں اور نہ ہی اسطرح کا فرعونیت نما پروٹوکول ججز کیلئے کیا جاتا ہے، ورنہ دارالحکومت میں رہنا عذاب بن جاتا۔