4 ماہ کی غفلت اب جا کر کھلی واٹر کارپوریشن کی آنکھ
یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کے پل تلے 54 انچ کی واٹر لائن دب گئی لیاری، کلفٹن اور جمشید ٹاؤن کے لاکھوں شہری مہینوں تڑپتے رہے سوئی ہوئی واٹر کارپوریشن انتظامیہ نے 4 ماہ بعد جاگ کر کام شروع کیا جو آج رات مکمل ہونے کا دعویٰ ہے
اس نوسرباز نے 2024 کے عام انتخابات سے پہلے اور اس کے دوران پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے غریب عوام کو 300 یونٹ تک مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ PPP کے منشور کا حصہ تھا، خاص طور پر کم آمدنی والے صارفین کے لیے۔
کیا سندھ کی عوام کو 300 یونٹس فری بجلی مل رہی ہے ؟
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
History of Hindustani Muslims & Punjabi Sikhs Rivalry. 🧵
The rivalry between Hindustani Muslims and Sikhs traces back to the mighty Mughal Empire. Mughals defeated Sikh rebels who challenged their authority. This marked the beginning of deep-seated rivalry.
4 ماہ کی غفلت اب جا کر کھلی واٹر کارپوریشن کی آنکھ
یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کے پل تلے 54 انچ کی واٹر لائن دب گئی لیاری کلفٹن اور جمشید ٹاؤن کے لاکھوں شہری مہینوں تڑپتے رہے سوئی ہوئی واٹر کارپوریشن انتظامیہ نے 4 ماہ بعد جاگ کر کام شروع کیا جو آج رات مکمل ہونے کا دعویٰ ہے
واسع جلیل نے یوٹیوب چینل ششٹم پر صحافی عباس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایم کیو ایم میں کرپشن کی اور نہ کروں گا، امریکا میں کوئی مارٹ نہیں جبکہ یہاں گزشتہ 8 سالوں سے آن لائن ٹیکسی چلا رہا ہوں، جن لوگوں نے کرپشن کی وہ ویسے ہی چلے بھی گئے ہیں
#ZarayeNews#WasayJalil#MQM
چالیس سال کی طویل حکمرانی کے بعد راجہ داہر کی خواہش ہے کے سندھ اگر ان کو ایک بار پھر موقع دے تو وہ اس کی کایا پلٹ دیں گے۔
کیا راجہ سائیں کو پھر موقع ملنا چاہئے۔ ہیں ان کے دعوے سنیں
غدار دندناتے پھر رہے ہیں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا کوئی نہیں پوری قوم کیا خوف کی چادر میں لپٹ چکی سوچیں پوری قوم سوچیں اس کا حل سوچیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے جب تک ہم خوف کے بتوں کو نہیں توڑیں گے ظالم ہم پر حکمرانی کرتے رہیں گے #Altafhussain#MQM#karachi
4 ماہ کی غفلت اب جا کر کھلی واٹر کارپوریشن کی آنکھ
یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کے پل تلے 54 انچ کی واٹر لائن دب گئی لیاری، کلفٹن اور جمشید ٹاؤن کے لاکھوں شہری مہینوں تڑپتے رہے سوئی ہوئی واٹر کارپوریشن انتظامیہ نے 4 ماہ بعد جاگ کر کام شروع کیا جو آج رات مکمل ہونے کا دعویٰ ہے
جاہلانہ تاریخ ،سستی لسانیت کا اس سے گھٹیا مظاہرہ نہیں ہوسکتا۔ قائد کے والد کا گجرات سےکراچی آنا ریکارڈ پر ہے۔تاریخ کے حوالے سےجھوٹ پیش کر کےتم جیسے بونے قد کے ذہنی مریض اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔
کراچی پاکستان ہے اور پاکستان ہمارا۔ہمیں کسی جاہل کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں!
وفا پرست اور عظیم تحریکی ساتھیو السلام علیکم اداب عرض ہے زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت اتا ہے کہ جب قدر نہ کرنے والے خود ہی راستے سے ہٹ جاتے ہیں اور یہی جدوجہد کی پاکیزگی نجات اور نئی روشنی کا اغازہوتا ہے تحریکیں ہمیشہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب زنگ الود حصے الگ ہو جائیں
#ReleaseNidarAndMohsinPanhwar
والد کے ساتھ ساتھ بھائی کو بھی اس ظلم کا شکار بنا دیا۔ طاقت کے زور پر کسی کے گھر کے سربراہ کو لاپتہ کردینا انسانیت کی توہین ہے۔ نثار پنہوار اور محسن پنہوار کو رہا کریں۔ ہم تب تک خاموش نہیں ہونگے جب تک ہمارے والد اور بھائی خیریت سے واپس نہیں آتے۔
2/3
قول وفعل کایہ تضاد الطاف حسین کی پیش کردہ فلاسفی ”حقیقت پسندی اورعملیت پسندی“ (Realism and Practicalism)کے پیمانے پرپورا نہیں اترتا۔
جب سے انسانی تاریخ لکھی گئی اوروہ آج تک محفوظ ہے تو لوگ اسے پڑھ کرآج سے ایک ہزار سال قبل کے واقعات کو جان بھی سکتے ہیں اورسمجھ بھی سکتے ہیں۔ انسانی جبلت اورانسانی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ انسان اپنی شرم گاہ چھپاتا ہے، جب کپڑا ایجاد نہیں ہوا تھا اس وقت بھی انسان درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھالوں سے اپنی شرم گاہ چھپاتا تھا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ جہاں انسانی فطرت ہوگی وہ انسانی تاریخ سے جڑی ہوگی یعنی انسانی فطرت اورتاریخ کا ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے۔
ہرتعلیمی ادارے میں کوئی ایک بدمعاش گروپ ہوتا ہے اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تھنڈراسکواڈ کے نام سے اسلامی جمعیت طلباء کا بدمعاش گروپ ہوتا تھا جوآج تک موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت کے لوگ ایک طرف توقرآن واحادیث کادرس دیاکرتے تھے لیکن تعلیمی اداروں کے اساتذہ اورطلباوطالبات اچھی طرح واقف ہیں کہ جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے لوگ اسلامی تعلیمات کے برعکس طلباوطالبات سے کیسا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، کیا کسی یونیورسٹی کے چانسلر اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی اوربدمعاشی رکوانے میں کامیاب ہوئے؟ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ جمعیت کے غنڈوں نے بدتمیزی اوربیہودگی کی انتہاء کردی تھی لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ اور ہزاروں طلباء نے پرویز ہود بھائی کاتحفظ نہیں کیا، وہ سب کے سب اس لئے خاموش ہوگئے کہ اگر وہ پرویز ہود بھائی کو بچانے کی کوشش کریں گے تو تھنڈراسکواڈ کے غنڈے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنائیں گے لہٰذا کسی نے ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کو بچانے کا رسک نہیں لیا۔
تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز اور اساتذہ کے اختیارات محدود ہوتے ہیں لیکن وزارت تعلیم کا محکمہ موجود ہے جوریاست کاحصہ ہے، اس کاوفاقی وزیرہوتا ہے جس کے پاس ریاست کی طاقت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کے خلاف بیہودگی اورغنڈہ گردی کا واقعہ رپورٹ ہوگیااورمیڈیا میں اس واقعہ کی خبرنشروشائع ہوگئی تووفاقی وزیرتعلیم کااصولی طورپر فرض تھا کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے اور تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی کرنے والوں کو سزا دلواتے لیکن ہوا یہ کہ ریاست حکم جاری کیا کہ جمعیت کے غنڈہ عناصر کو گرفتارکیاجائے لیکن ریاستی ادارے جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے غنڈہ عناصر کو پکڑنے کے بجائے ان کے ظلم کا نشانہ بننے والے طلباء کو
پکڑنا شروع کردیا۔ریاست ایک یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹرپرویز ہود بھائی جیسی معزز ومحترم شخصیت کو تحفظ نہ سکے تو عام طلباوطالبات کو کیاتحفظ حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی ادارے میں اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ریاست بلاواسطہ یا بلواسطہ اس بدمعاش گروپ کی حمایت کررہی ہے۔
غلامی کاتصور:
انسانی فطرت کا تاریخ سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، ایک زمانہ تھاکہ انسانی فطرت غلام بن کرکام کرنے کو تیار رہا کرتی تھی اورآج کی تاریخ میں انسان غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، پہلے امریکہ، برطانیہ اورپورے مغرب میں غلام ہواکرتے تھے آج پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں غلامی کاتصورنہیں ہے۔اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب میں غلامی کاتصور نہیں ہے سوائے مذہب اسلام کے، کیا دین اسلام نے غلام بنانے کے عمل کوحرام قراردیا ہے؟
جیسا کہ میں کہاکہ انسانی فطرت اور تاریخ کا ایک بہت گہرا تعلق رہا ہے، اگرامریکہ،برطانیہ اورمغربی ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ پہلے وہاں غلاموں سے 16،16 گھنٹے محنت ومشقت کاکام لیاجاتا تھا۔ آج امریکہ میں بظاہر غلامی کادور ختم ہوچکا ہے۔ غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے پر مارٹرلوتھر کنگ کوقتل کردیا گیا لیکن انہوں نے غلامی سے آزادی کا جوچراغ روشن کیاتھا وہ بالآخرکامیاب ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی فطرت غلامی کے عمل کو پسند نہیں کرتی، انسان کی فطرت ہے کہ وہ غلامی برداشت نہیں کرتا، اپنے ساتھ امتیازی سلوک قبول نہیں کرتا اورغلامی، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔
انسانی فطرت میرٹ کے قتل کو بھی پسند نہیں کرتی،صوبہ پنجاب کے طلباوطالبات غورکریں کہ اگر وہ انٹرمیں 70 فیصد نمبرحاصل کرنے کے بعد میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلے کیلئے میرٹ پرپورے اترتے ہوں لیکن میرٹ کا قتل کرکے کسی تھرڈ کلاس نمبرلینے والے پنجابی لڑکے یالڑکی کو داخلہ دے دیا جائے تو ان کے دل پر کیاگزرے گی؟
مکمل فکری نشست
https://t.co/JknOK0k9n2
انسانی فطرت اورتاریخ کا تعلق
(حصہ اوّل)
………………………………
انسانی فطرت (Human Nature) کیا ہوتی ہے؟
انسانی فطرت کا اظہار سوچ سمجھ کر بھی کیاجاتا ہے اوربغیرسوچے سمجھے بھی کیاجاتاہے۔مثال کے طورپر اگر آپ کسی ریسٹورنٹ میں نہاری کھانے کے ارادے سے جاتے ہیں اورریسٹورنٹ میں مینوکارڈ دیکھ کر آپ کاارادہ تبدیل ہوجاتا ہے اور آپ نہاری کے بجائے کسی اورڈش کا آرڈردے دیتے ہیں۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کو یہی تربیت دیتے ہیں کہ وہ گھرسے باہر کھیلنے کودنے جائیں، اسکول کالج جائیں اور کوئی آپ سے بدتمیزی کرے، گالم گفتارکرے تو آپ جواب میں گالم گلوچ سے گریز کریں، کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں کیونکہ گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑا کرنا شریفوں کا کام نہیں ہوتا۔سعادت مند بچے اپنی گھریلوتربیت اور والدین کی تعلیمات کی روشنی میں پوری کوشش کرتے ہیں کہ محلے یا تعلیمی اداروں میں کسی سے لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ نہ کریں۔ ہرمحلے، اسکول، کالج اوریونیورسٹی میں کچھ شرارتی لڑکوں کا ایسا ٹولہ ہوتا ہے جنہیں شریف طلباء سے بلاوجہ چھیڑخانی کرنے اورانہیں تنگ کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے، وہ شریف بچوں پر اپنا دھونس جمانے کیلئے کسی کے سر سے ٹوپی چھین لیتے ہیں یا کوئی اورچیز چھین لیتے ہیں، ان کے پاس چاقو چھری اور دیگر ہتھیار بھی ہوتے ہیں توگھریلو تعلیم وتربیت کے باعث سعادت مند بچے کوشش کرتے ہیں کہ پیار محبت سے اپنی چیز واپس لے لیں مگر شرارتی لڑکے ان کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے، انہیں مغلظات بکتے اوردھمکیاں دیتے ہیں۔ایسی صورت میں انسانی فطرت مختلف طریقے سے ردعمل کرتی ہے، کچھ بچے غنڈہ گردی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اپنا راستہ لیتے ہیں،صبرکرلیتے ہیں اور کچھ بچے بحث ومباحثے پر اترآتے ہیں۔
چیزوں کوپسندکرنے میں بھی انسانی فطرت کادخل ہوتاہے۔ مثال کے طورپرباغیچے میں طرح طرح کے پھول ہوتے ہیں،جب کوئی فرد باغیچے میں جاتاہے تو انسانی فطرت کے مطابق ہرفرد اپنی اپنی پسند کے مطابق پھول کو پسند کرتا ہے، کسی کو گلاب کے پھول پسند ہوتے ہیں اورکوئی چنبیلی کے پھول پسند کرتا ہے۔ اسی طرح ہرانسان کی پسند الگ الگ ہوتی ہے،اسی طرح رنگوں کامعاملہ ہے، کسی کوسیاہ رنگ پسند ہوتا ہے اور کسی کوسفید رنگ اچھا لگتا ہے، کسی کوکوئی اوررنگ پسند ہوتاہے لیکن اگر آپ کسی سے دریافت کریں کہ اسے فلاں رنگ کیوں پسند ہے تو شایدکوئی بھی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ کسی شاپنگ سینٹر میں چند افراد شرٹ خریدنے جائیں توکوئی سیاہ رنگ کی شرٹ، کوئی سفید رنگ کی شرٹ، کوئی بلیواورکوئی ڈارک بلیو کلر کی شرٹ پسند کرتا ہے لیکن جب ان سے یہ سوال کیاجائے کہ آپ نے فلاں رنگ کی شرٹ کیوں پسند کی ہے تو وہ اس کا جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنی فطرت کے مطابق رنگ (Clour) پسند کرتا ہے۔ انسانی فطرت ایک جیسی نہیں ہوتی اوراگرانسان کو اپنی پسند ناپسند کااختیار دیاجائے توہرانسان کی فطرت ایک دوسرے سے مختلف ہوگی لیکن اس کے باوجود کچھ فطری چیزیں جیسے پیاس لگنے، بھوک لگنے یانیند آنے کا تعلق انسان کی فزیالوجی، بائیولوجی اورانسانی جسم کے سیل کی طلب سے ہوتا ہے۔لہٰذا یہ طے شدہ بات ہے کہ انسان کی فطرت ہوتی ہے اورہرانسان میں انسانی جبلت(Human Instinct)، خواہش اورپسند ناپسند ہوتی ہے۔ انسانی فطرت کے مطابق کوئی فرد لڑائی جھگڑا پسند نہیں کرتا اور دوسرا فرد لڑائی جھگڑا پسند کرتا ہے، بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ کسی سے لڑائی نہ کریں ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایاجائے یا ان کے ساتھ ناانصافی کی جائے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں، اندرہی اندر کڑھتے رہتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑے کی طرف نہیں جاتے جبکہ بہت سے لوگوں کو لچھے دار باتیں پسند ہوتی ہیں جبکہ بہت سے لوگ لچھے دار گفتگو اورخوشامدی رویہ پسند نہیں کرتے۔
میرا اکثر سوشل میڈیاپر مختلف براڈ پر جانے کااتفاق ہوتا رہتا ہے وہاں فوجی جرنیلوں کے نام لیکر فحش مغلظات دی جاتی ہیں اور بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ میں فلاں جرنیل کا ایسا کردوں گا ویسا کردوں گا جبکہ وہ پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوتے ہیں۔ میراسوال یہ ہے کہ جنہیں آپ صبح شام گالیاں دیتے ہیں اور مرنے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو اس قسم کے کھوکھلے دعوے، دھونس دھمکیوں اور گالم گلوچ سے اُن فوجی جرنیلوں کی صحت پر کیااثرپڑتا ہے؟جولوگ ٹک ٹاک پر فخریہ دعوے کرتے ہیں کہ میں نے فلاں فلاں جرنیل کے پرخچے اُڑادیئے جب ان سے کہاجائے کہ ہم آپ کو ٹکٹ دیتے ہیں آپ پاکستان جاکر جوکہہ رہے ہیں وہ کرکے دکھائیں تو وہ پاکستان نہ جانے کیلئے نہ صرف حیلے بہانے بنائے گا بلکہ ایسی آفر کرنے والوں کو ہی برابھلا کہنا شروع کردے گا۔ایسی گالم گلوچ اور کھوکھلے دعوے ان کے قول وفعل کاتضاد ظاہر کرتے ہیں۔
1/3