وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ایک طرف صوبے کے نوجوانوں کو آکسفورڈ اور کیمبرج سے پی ایچ ڈی کروانے کے خواب دکھاتے ہیں جبکہ دوسری جانب اسی تعلیم یافتہ طبقے کے خلاف منفی اور اشتعال انگیز بیانیہ تشکیل دیتے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں بھی بلوچستان اسمبلی کے فلور پر ان کے بیانات نے بلوچ شعراء اور دانشوروں کے خلاف ماحول کو خطرناک بنایا، جس کے بعد بلوچ شاعر غمخوار حیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اب ایک بار پھر وہ بلوچ تعلیم یافتہ طبقے، اسکالرز اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کے خلاف منفی فضا کو ہوا دیتے نظر آتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ موجودہ حکومت ایک غیر سیاسی اور غیر جمہوری طرزِ عمل کی نمائندہ ہے، جسے عوامی مینڈیٹ کے بجائے طاقت کے ذریعے صوبے پر مسلط کیا گیا ہے۔ ان کی سیاست کا محور عوامی خدمت نہیں بلکہ مفادات اور طاقت کے توازن کا تحفظ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ انہیں اپنا سیاسی وجود صرف بدامنی اور تصادم کی فضا میں ہی ممکن نظر آتا ہے۔
اگر بلوچستان میں حقیقی جمہوری نظام موجود ہوتا، اگر یہاں جنگ، جبر اور خوف کی سیاست نہ ہوتی، تو یہی عناصر نہ عوامی حمایت حاصل کر پاتے اور نہ ہی کسی سیاسی یا انتظامی منصب تک پہنچ سکتے۔ ان کی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ جمہوری جدوجہد کے دروازے بند کیے جائیں، نوجوان نسل کو سیاسی شعور اور تعلیم سے دور رکھا جائے، میرٹ کو کمزور کر کے اداروں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے، اور صوبے کے وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے اقتدار کے تسلسل پر خرچ کیا جائے۔
جنگی منافع خوروں اور حقیقی قومی قیادت کے درمیان فرق بھی یہی ہے۔ جو لوگ خود کو بلوچستان کا خیرخواہ کہتے ہیں، وہی تعلیم یافتہ، باشعور اور تنقیدی آوازوں کے خلاف محاذ کھولتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت اب بھی پوشیدہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو دیوار سے لگانے کا مطلب پورے سماج کے فکری مستقبل کو نشانہ بنانا ہے؟
اب یہ بات مزید مبہم نہیں رہنی چاہیے کہ اگر کسی بلوچ اسکالر، شاعر، استاد یا دانشور کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری انہی طاقتور حلقوں پر عائد ہوگی جو مسلسل باشعور آوازوں کو خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا، تنقید کرنا اور احتساب کا مطالبہ کرنا دانشور طبقے کا بنیادی حق اور فکری ذمہ داری ہے۔
@PPP_Org@MediaCellPPP@BBhuttoZardari@FarhatullahB
From Mand to Koh e sulaiman, Kamanchar hugged all the beauty of the land and showed it to the entire Baloch nation living far from the land and struggling for its prosperity, scent of flowers, colors of sky, waves of sea, light of moon and stars…
From Mand to Koh e sulaiman, Kamanchar hugged all the beauty of the land and showed it to the entire Baloch nation living far from the land and struggling for its prosperity, scent of flowers, colors of sky, waves of sea, light of moon and stars…
https://t.co/iBKxz0Qtbb
Friends who once walked beside us are now missing, and the pain of not knowing their fate is unbearable.
But their memories keep us strong, and our hope for justice and truth will never disappear.
#ReleaseHakimMajeedBaloch#ReleaseUsmanBaloch#ReleaseDawoodBaloch
اسلام آباد میں ہمارے دھرنے کو ایک ماہ گزر گیا ہے اس ایک مہینے کے دوران ریاست ہم سے بات کرنے ہمیں سننے کے بجائے بزور طاقت اسلام آباد سے بے دخل کرنے کے حربے تلاشتی رہی ہے ۔۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جہاں مقامی انتظامیہ کی مدد سے دھرنے کے شرکا کو ہراساں نہیں کیا جاتا ہمارا دھرنا جبرا گمشدہ کیے گئے لاپتہ افراد کی بازیابی اور بی وائی سی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ہے
اس ملک میں ہر زی شعور اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ساتھیوں کو پُرامن جدوجہد اور عوامی مسائل اجاگر کرنے کے جرم میں غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے قید میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ بلوچستان میں لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل، اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے ہے۔
بی وائی سی قیادت کی گرفتاری نہ صرف آئینِ پاکستان میں درج شہری آزادیوں کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ریاست اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے دبانے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔
اسلام آباد میں جاری ہمارا پُرامن دھرنا، اس جبر کے خلاف جاری ہے یہ دھرنا اس بات کا اعلان ہے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، اور نہ ہی ظلم کو اپنی زندگی میں معمول کا حصہ بنتے بے بس ہوکر دیکھیں گے
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ساتھیوں کو گزشتہ چار مہینوں کی غیر قانونی حراست سے رہا کیا جائے
تمام جبری گمشدہ افراد کو بازیاب اور اس ماورائے عدالت غیر انسانی سلوک کو ترک کرکے انصاف اور آئین و قانون پر عمل کیا جائے جبکہ پُرامن احتجاج اور آزادیٔ اظہار پر جاری غیر اعلانیہ قدغن ختم کی جائے جیسا کہ آئین میں ضمانت دی گئی ہے۔
ہم تمام مکاتب فکر سیاسی و سماجی قوتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔
#ReleaseBycLeaders
#EndEnforcedDisappearances
بلوچ طلباء کہاں ہیں؟
کتابوں والے ہاتھ زنجیروں میں کیوں ہیں؟
صغیر، عزیر، ماہ جبین، زکریا... یہ صرف نام نہیں، بغاوت کی چنگاریاں ہیں!
وہ نسل جوسچ بولتی ہے،جھکتی نہیں آج لاپتہ ہے!
ہر گمشدہ طالبعلم ایک سوال ہے،جواقتدارکے ایوانوں پر تازیانہ ہے
#SaveBalochStudents
بلوچ طلباء کہاں ہیں؟
کتابوں والے ہاتھ زنجیروں میں کیوں ہیں؟
صغیر، عزیر، ماہ جبین، زکریا... یہ صرف نام نہیں، بغاوت کی چنگاریاں ہیں!
وہ نسل جوسچ بولتی ہے،جھکتی نہیں آج لاپتہ ہے!
ہر گمشدہ طالبعلم ایک سوال ہے،جواقتدارکے ایوانوں پر تازیانہ ہے
#SaveBalochStudents#StopBalochGenocide
آج جب ہم ہدہ جیل کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے وکالت نامہ پر دستخط کرانے کے لیے گئے، تو جیل سپریٹنڈنٹ حمید اللہ پیچہی نے نہ صرف دستخط کرانے سے انکار کیا بلکہ ہمارے ساتھ غیر مناسب اور دھمکی آمیزانہ رویہ اختیار کیا۔ اس دوران ہمیں سنجیدہ نوعیت کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
موجودہ جیل سپریٹنڈنٹ ریاستی خفیہ اداروں کی خوشنودی کی خاطر جیل میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کی قیادت کو ہراساں کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی لواحقین کے ساتھ بھی نہایت غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔
Pakistan arrested Mahrang Baloch for her human rights work in Balochistan. "Speaking up for justice is not a crime," she writes
https://t.co/oyZ3wxw4Bz
The Israeli military has displaced tens of thousands of Palestinians by destroying homes and essential civilian infrastructure in Jenin and Tulkarem refugee camps rendering them uninhabitable, as part of its ongoing brutal military operation in the occupied West Bank.
Read more 👇 https://t.co/MWZ7L77wYk
Bright, educated Baloch youth are being silenced through enforced disappearances torture. Anees Baloch, an engineer, has been enforcibly disappeared for months & now in illegal detention for a year framed under false charges. #SaveAneesBaloch#ReleaseAneesBaloch
My brother Aimal was forcibly disappeared by Pakistani Authorities on 23rd may at 2am from our home town Quetta his whereabouts are still unknown, we want his immediate release ,
#ReleaseAimalBaloch
This empty chair at World Expression Forum held in Lillehammer symbolized absence of @mahrangbaloch__ and all who raise their voice for Justice and Rights but jailed by States.
She and BYC Leaders are in Quetta Jail for demanding end to #EnforcedDisappearances and #Injustices
#Pakistan: We are troubled by reports concerning @MahrangBaloch_ health, PEN Norway once again call on @GovtofPakistan to release her immediately.
We will continue to monitor her situation. We have raised our concern with @NorwayMFA and @NorwayinPak.
"URGENT: Dr. Mahrang Baloch abducted in Quetta today! We appeal to human rights organizations @Amnesty@HRW@UNHumanRights to intervene & play a crucial role in securing Dr. Baloch's safe release. #FreeDrMahrang#HumanRights"