چارپائیوں سے باہر نکلو
ہیلو ہیلو آل منیر وشریف
ہیلو پٹواری برادران اور پلاسٹک کے خود ساختہ پٹواری صحافی دانشور ____
ریاض کی موجودہ صورتحال ____آل سعود ہماری ریڈ لائن ہے ۔۔۔۔آل منیر و آل پٹوار ____نکلو
اطلاعات کے مطابق، بھارت نے ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور ایرانی تیل اور مائع پٹرولیم گیس (LPG) کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت، چین اور روس اُن بڑے ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے تہران کے خلاف واشنگٹن کی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے یا انہیں چیلنج کیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا
ایران اگر پاکستان کے مشورے پر چلتا اور امریکی سپانسرڈ “ اسلامآباد ٹالک “ میں ہونے والی امریکی منڈوالی کو تسلیم کر لیتا تو آج امریکہ اسرائیل کا ایران اور قبضہ ہو چکا ہوتا امریکی اسپانسرڈ پاکستان کی منڈوالی در حقیقت ایک deception تھا جسکے تحت ایران کو دباؤ کیں لا کر زیر کرنا مقصود تھا “ اسلامآباد ٹالک “ کے اندر کو حقیقت کو جان کر ایران نے اس امریکی سپانسرڈ مذاکراتی تابوت کو دفن کر دیا ہے لیکن اس تابوت کی باقیات ابھی بھی عاصم منیر کے امریکی حکم پر ایران کے دوروں پر ضرور نظر آتی ہے جسکا واضح ثبوت حالیہ منیر کا ایران کا دورہ امریکی انتخابات سے پہلے ایران کی افزودہ یورینیم کی بیرون ملک منتقلی کا اعلان مقصود تھا تاکہ امریکی صدر چار نومبر کے انتخابات جیت سکے یہی پیغام ٹرمپ کی ہدایت پر منیر لے کر گئے تھے جسے محسن رضائی نے مسترد کر ایک اور امریکی منصوبے کو ناکام بنایا جسکی سہولت کاری عاصم منیر نے کی تھی یاد رہے ٹرمپ الیکشن جیتے یا ہارے دونوں صورتوں میں ایران پر حملہ کرے گا
پاکستان کا یہ کہنا کے ایران اگر امریکی ڈیمانڈ مان لے تو امریکہ حملہ نہیں کرے گا ایک مکروح دھوکے کے سوا کچھ نہیں جسکی سہولت کاری کی عاصم منیر نے کوشش کی _______________
ایک نے قانون خود توڑا اور اسے پولیس نے گرفتار کیا دوسرے سے موصوفہ نے قانون توڑوا کر ویڈیو شیئر کر کے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر کے قانون کا مزاق اڑوایا ۔۔۔۔
امریکہ اسرائیل کے ایران پے حملے
ایک یا دو دن میں متوقع ہیں اور ان حملوں کے جواب میں قوی امکان ہے کے ایران جزیرہ عرب کے آئل اسٹرکچر اور امریکی تنصیبات پر حملے کرے گا ——ان حملوں کی دو بنیادی وجہ ہے ایک نُتھن یاہو کو اسرائیلی انتخابات میں جیت حاصل کرنا اور دوسرا امریکی صدر کی جماعت ریپبلکن کی چار نومبر کو یقینی ہار کو جیت میں تبدیل کرنے ___کیا امریکی اسرائیلی اہداف حاصل ہونگے یا پھر جنگ کا دائرہ خطرناک حد تک بڑھ کر نتھن یاہو اور ٹرمپ کی انتخابی شکست میں تبدیل ہو جائے گا ——یاد رہے کے اسرائیل میں نتھن یاہو شاید جیت جائے لیکن ایرانی جوابی کارروائی کے نتیجہ میں بڑھنے والی عالمی قیمتیں ضرور ٹرمپ کی انتخابی شکست کا باعث بنے گی پاکستان و ترکی اور آل سعود اس امریکی اسرائیلی حملے میں امریکہ اسرائیل کے شانہ بشانہ نظر آئینگے ان حملوں میں گراؤنڈ پر ایرانی قیادت کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا
ملاقات کے عقب میں پاکستانی جھنڈا نہ ہونا زندہ ثبوت ہے کے ایران نے پاکستان کو امریکی غلاموں اسرائیل و سعودی عرب و خلیج کی صف میں کھڑا کر دیا ہے امریکی سپانسرڈ اسلامآباد ٹالک ( Islamabad talk ) کی حقیقت آشکار ہو چکی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کے امریکی سپانسرڈ اسلامآباد ٹالک کی تدفین ہو چکی ہے
آل منیر و شریف کی اصل میں ہوا اسلئے نکلی ہوئی ہے کے مسلم امہ کی لیڈرشپ کا جھوٹا پاکستانی دعویٰ ختم ہو گیا ہے اسلئے حکومت اور پٹواری ایران و بھارت کے تعلقات کے خلاف لکھ رہے ہیں کیا ایران اپنے سفارتی تعلقات کیلئے پاکستان سے ڈکٹیشن لے جبکہ ایران اچھی طرح جانتا ہے کے پاکستان امریکن پپٹ ہے افغانستان پر وحی پاکستان اسلئے حملہ آور ہے کے اس نے بھارت سے سفارتی تعلقات بہتر کیے اور پاکستان سے ڈکٹیشن نہیں لیا پاکستان کی بد قسمتی ہے کے یہ امریکن مفادات کی تکمیل کیلئے ہمسایوں کے خلاف رہا ہے اور آج تنہا ہے آل سعود و خلیج کے خاتمہ کے بعد جو تنہائی پاکستان کے حصہ میں آئے گی اس پے رونے کو آنسو بھی نہیں ملے گے ______
پاکستان کے جغرافیہ کو اگر قائم و دائم رکھنا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ایران کے پیچھے سیاسی نماز کا اہتمام کرنا ہو گا ورنہ اگر آل سعود پے سیاسی ایمان لائے تو پھر یمن سے لڑنا ہو گا اور اگر یمن سے لڑے تو پھر حشر بھی ہو گا اور نشر بھی ہو گا جسکی تاب منقسم سیاسی سماج کے جغرافیہ کو بدل دے گی نہیں اگر یقین تو پھر آل
سعود سے وعدوں کا پاس رکھے اور یمن میں افواج داخل کرے اور اگر ہے یقین تو پھر آل سعود کو خیر باد کہہ کر امریکہ سے اپنی بخشش کا سامان کرے کیونکہ آل
سعود کا تخت آل یہود کی ریاست کا سبب ہے وہ اگر گرا تو الزام سارا پاکستان پر ہی آنا ہے کہا تھا یہ دفاعی پیکٹ پاکستان کو پیک کر دے گا
’’ہم جنگ ہار چکے ہیں، اور ایران جیت چکا ہے_
______________________________________
_____________کرنل لارنس ولکرسن ( ریٹائرڈ کرنل اور چیف آف اسٹاف سیکرٹری اوف اسٹیٹ امریکہ )کا مؤقف ہے کہ ’’ایپک فیوری‘‘ (Epic Fury) نامی فوجی کارروائی کے بعد امریکی حکام کی جانب سے فتح کے دعووں کے باوجود، امریکہ ایران کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے
وہ دلیل دیتے ہیں کہ انہی اہداف پر، انہی میزائلوں کے ذریعے ایک نیا حملہ کرنے سے مختلف نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
البتہ، اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ایران خلیجی خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ایسے اہداف پر پہلے سے زیادہ مہلک حملے کرے جنہیں ابھی تک نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس سے ہماری معیشت کو بھی تباہ کن نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ٹرمپ ’’جانتے ہیں کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘
ولکرسن اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں:
’’ہم جنگ ہار چکے ہیں، اور ایران جیت چکا ہے
سابق سی آئی اے تجزیہ کار لیری جانسن:
”اس بات کا قوی امکان ہے کہ محمد بن سلمان کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا “
یمن پر حملے کے حوالے سے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو کمزور کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، انہوں نے کہا:
”اس کا نتیجہ بالکل اس کے برعکس نکلا ہے۔ اس حملے نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے سعودی عرب کو کمزور کر دیا ہے۔“
ایک اکیلا ایران کھڑا ہوا تو دیکھو پورا مغرب ہل کر رہ گیا حالیہ یورپ میں مہنگائی پے پھوٹنے والے ہنگاموں نے انکی اس حکومتوں کو ہلا دیا ہے جو طویل عرصہ تک امریکہ کے ساتھ مل کر مسلمان ملکوں پر
حاملہ آور ہوتے رہے اور اسرائیل کو سپورٹ کرتے رہے لیکن آج یہ مقید ہیں تو صرف ایران کے حوصلے اور استقامت کی وجہ سے _____ لیکن آج بھی پاکستان سمیت دنیا کے 56 ممالک کی حکومتیں جو بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں یا فوجی آشیرباد سے کھڑی ہیں وہ اپنی امریکی غلامانہ فطرت سے اسلئے باہر نہیں نکل سکتی کیونکہ ان حکومتوں کی عمارتوں کی بنیاد امریکی اینٹوں پے کھڑی ہیں جو گر تو سکتی ہیں لیکن کھڑی نہیں ہو سکتی جسکی تازہ اور واضح مثال سعودی عرب کویت بحرین اور متحدہ عرب امارت ہیں
سعودی عرب: اب ہمیں سمجھ آ گیا ہے کہ 🇵🇰 پاکستان اور 🇹🇷 ترکی دونوں حقیقی معنوں میں ہماری مدد کرنے والے نہیں ہیں۔ لہٰذا 🇦🇪 متحدہ عرب امارات، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔
🇦🇪 متحدہ عرب امارات: سنو سعودی عرب! اس بار ہماری پیٹھ میں چھرا مت گھونپنا۔ تم نے ہمارے رسدی قافلوں پر بمباری کی تھی اور ہمیں یمن سے نکال باہر کیا تھا۔
🇸🇦 سعودی عرب: وہ ایک غلطی تھی، اسے بھول جاؤ۔ ہمیں فوری طور پر تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ حوثی ہمارے ہوائی اڈوں اور تیل کی کمپنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
🇦🇪 متحدہ عرب امارات: ٹھیک ہے، ہم مدد کریں گے۔ آؤ، حوثیوں کو اسی طرح شکست دیں جیسے ہم نے پچھلی بار دی تھی۔
🇸🇦 سعودی عرب: ہاں، ہمیں یہی چاہیے۔ فضائی تحفظ ہم فراہم کریں گے اور مالی وسائل تم مہیا کرو گے۔ اور ہم نے اسرائیل کو اس کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
🇸🇦 سعودی عرب: گیارہ سال بعد ہم دوبارہ متحد ہو رہے ہیں۔ اس بار ہمیں حوثیوں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
🇦🇪 متحدہ عرب امارات: ٹھیک ہے، لیکن اگر اس بار پھر ہمارے ساتھ دھوکا کیا تو ہمارا تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا
مآخذ السعود
آلِ سعود کی سلطنت کا زوال
محمد بن سلمان،
سعودی عرب کے ولی عہد نے ملکی اور خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے ایسی ناکامیاں اپنے دورِ اقتدار میں دیکھی ہیں جنہوں نے اقتدار پر ان کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے
ممکن ہے کہ ہم تاریخ کے ان اہم ترین لمحات میں سے ایک میں جی رہے ہوں، جو مغربی ایشیا اور عالمی جغرافیائی سیاست کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں
جہاں یہ بات لوگوں کو ہضم نہیں ہوتی کے آل سعود کا خاتمہ دیوار پر لکھا ہے وہ کیا نہیں جانتے کے
1977ء میں دنیا خلیجِ فارس کے مستقبل کا تصور بھی ایران کے تختِ طاؤس کی حقیقت کو مدِنظر رکھے بغیر نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن 1979ء میں رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کے خاتمے نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا
میاں محمد نواز شریف کے والد محترم اور دادا ایک معمولی سے "لوہار"تھے پھر کیا ہوا کہ ان کے بیٹے میاں صاحب نے اس صنعت کو سنبھالا
کہ اچانک ایک معمولی لوہاری کئی سو سٹیل ملوں اور فیکٹریوں میں تبدیل ہوگئی۔۔۔
اسے کہتے ہیں کمال اور اصل تبدیلی۔۔۔
مفتی صدیق اللّٰہ
اگر امریکہ ایران کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی تو پروفیسر کی بات سچ ثابت ہو گی کے پاکستان امریکہ کے کہنے پر ایران کی پیٹ میں خنجر گھوپ کر اسرائیل اور سعودیہ کی مفادات کی تکمیل کی کوشش کرے گا