حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنرراج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
لانگ مارچ کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی توخدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اب واقعتا ایک ایسے نازک موڑ پر آگیا ہے کہ یہاں ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا اور اس موڑ سے احتیاط سےنہ گزراگیا تویہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تحریک انصاف نےلانگ مارچ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین وقانون کی بالادستی، پارلیمنٹ اورعدلیہ کے احترام اور ملک میں انصاف کے حصول کے لئے شروع کیا ہے لیکن اس پرموجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوجس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، سہیل آفریدی، ان کی کابینہ کے ارکان کو افغانستان، انڈیااوراسرائیل سے جوڑ رہے ہیں، ان پر جس طرح ملک دشمنی کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں اورخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی جو دھمکیاں دی جارہی ہیں، دوسرے لفظوں میں پشتونوں کوملک دشمن قراردیا جارہا ہے، یہ صورتحال ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں اس پر حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اس وقت پاکستان جوسنگین صورتحال درپیش ہے اگرایسے میں لانگ مارچ کے جواب میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی اور لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو خدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت ہوگی،اس سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، لہٰذامیراحکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمراں خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا اورپشتونوں کے بارے جس طرح کی دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں اس سے خیبرپختونخوا کے پشتونوں میں جوجذبات پیدا ہورہے ہیں، اسی کی روشنی میں سہیل آفریدی نے یہ متنبہ کیاہے کہ اگر پشتونوں کے خلاف ایسا ہی عمل کیاجاتارہا تو ہماری نسلیں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائیں گی اورقومی ترانے کے احترام میں نہیں کھڑی ہوں گی۔لہٰذا حکمرانوں کوحالات کی اس نزاکت اور سنگینی کااحساس کرناچاہیے اوریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے انڈیا کے خلاف جنگ ہویاروس اورامریکہ کےدرمیان افغان جنگ ہو، پشتونوں نے ہردورمیں ہمیشہ پاکستان اور فوج کاساتھ دیاہے،آج جن طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، وہ طالبان قبائلی پشتونوں نے نہیں بنائے بلکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنائے تھے، پشتونوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ڈی پیز بنکر خود مشکلات سامنا کیا۔
پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور رہنماؤں کالانگ مارچ سے الگ تھلگ رہنا قابل غورہے،انہیں چاہیےکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بقا،عدالتی نظام کی بحالی اورانصاف کے نظام کے لئے اس میں بھرپورشرکت کریں اور اگرشامل نہیں ہوناچاہتے توپھر شرافت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔
خیبرپختونخوا کے جوعوام اس مقصد کے لئے گھروں سے نکلے ہیں میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کی کامیابی کے لئے دعاگوہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر ہنگامی 481ویں فکری نشست سے خطاب
5 اکتوبر 2026ء
دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا، ہرجگہ ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم، قابض قوتوں اورمقبوضہ عوام کے درمیان لڑائی کے بعد ہی انقلاب آیاہے اورمقبوضہ قوموں کو آزادی حاصل ہوئی ہے۔
18ویں صدی تک امریکہ برطانوی سلطنت کی کالونی تھا،امریکہ کے عوام سرجھکا کر برطانوی سلطنت کے ظلم کوبرداشت کرتے رہے، لیکن پھر1775ء میں امریکہ کے عوام نے سلطنت برطانیہ سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کردی، اس دوران باقاعدہ گھمسان کی جنگ ہوئی، یہ جنگ تقریروں اوروعظوں سے نہیں بلکہ بندوقوں سے ہوئی۔امریکہ کی اس جدوجہد آزادی کو Revolutionary War of Independence کہا جاتا ہے۔
اسی طرح برطانوی سلطنت سے آزادی کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی برسوں تک جاری رہی۔ اسی طرح بلوچ عوام بھی 1948ء سے بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں جسے 1948ء میں فوجی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیاگیاتھا اوراس کے خلاف مزاحمت کرنے پر بلوچوں کوقتل کیا گیا، انہیں پھانسیاں دی گئیں۔ اگرامریکہ کی آزادی کی جنگ کوRevolutionary War of Independence کہہ سکتے ہیں تو پھر بلوچوں کی اس جنگ کو Revolutionary War of Independence کوکیوں نہیں کہا جاسکتا؟ بلوچ عوام کہتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے لہٰذا تمام ایجنسیاں بلوچستان سے نکل جائیں، بلوچستان سے قبضہ ختم کیاجائے اور بلوچستان کو آزاد کردیا جائے۔ جوبلوچ مزاحمت کاراپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے ہوئے، ان بلوچوں کو”فریڈم فائٹر“کے بجائے غداراورملک دشمن کیوں قرارد یاجاتا ہے؟ انہیں فتنہ الہندوستان کیوں کہا جاتاہے؟
دنیامیں جہاں بھی کوئی ریاست ماورائے آئین وقانون کام کرے، ریاست کے ادارے کسی بھی قوم کے لوگوں پرظلم ڈھائیں، ان کے نوجوانوں کوقتل کریں،ان کے گھروں میں داخل ہوکران کے بزرگوں اور بچوں پر تشدد کریں، ان کی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادریں کھینچیں،ان کی بے حرمتی کریں، ان کی حرمت اورتقدس پامال کریں اورکسی قوم کو دبانےکےلئے ماورائے قانون عمل کریں تواس عمل کے خلاف لوگوں کی جانب سے بھی ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے اوراس نفسیاتی ردعمل میں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ردعمل نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت Third Law of Motion کے تحت ہوتاہے، یعنی ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے اورمخالف سمت میں ہوتا ہے۔ہرایکشن کاری ایکشن ہوتاہے، یعنی اگرآپ قانون کے خلاف کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو زیادتی کانشانہ بننے والے بھی خلاف قانون ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، پتھرمارتے ہیں، یاردعمل میں کچھ بھی کرتاہے، دنیامیں ہرجگہ اسی طرح نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے۔ اگردنیامیں کہیں بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو اس کے پیچھے عوام کا ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جارہے ہیں پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے،
اگرمذاکرات ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔ الطاف حسین
………………………………
صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے میڈیا کا کردار وہی ہے جو مارشل لا دور میں ہوا کرتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہی نشر وشائع کیاجاتا ہے جو حکومتِ وقت چاہتی ہے، تمام ٹی وی چینلز پر جوٹاک شوز اور تجزیئے پیش کیے جاتے ہیں وہ عموماً طےشدہ ہوتےہیں کہ کس موضوع پر کیا کہنا ہے اور ریڈلائن کیا ہوگی۔
میرا کام پاکستان کے عوام کے سامنے سچ کہنا ہے چاہےکسی کو اچھا لگےیا برا لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، 9،مئی2023ء کے کیسوں میں عمران خان اور ان کے ساتھی تو جیلوں میں قید ہیں لیکن انہی مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے وہ رہنماء جو جیل میں قید تھے لیکن جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو انہیں رہا کردیا گیا، کتنے اخبارات نے جرات کرکے کھل کر اس پر اداریئے لکھے جب یہ لوگ بھی مقدمات میں ملوث ہیں توپھر عمران خان سے علیحدگی کااعلان آرام سے اپنے گھرکیسے چلےگئے؟ کتنے ٹی وی چینلز نے اس اہم نکتہ پر کھل کراظہارخیال کیا؟
18، اگست2026ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیا گیا کہ عمران خان صاحب کو دوروز کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیاجائے اورمیڈیکل بورڈ تشکیل دیکر ان کامکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت ملک کی سب سےبڑی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود موجودہ حکومت، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے گئی اور ایک گھنٹے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ ملک کی آخری امید عدالت عظمیٰ ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کافیصلہ نہیں مانا لیکن اس حکومتی عمل کےخلاف ٹی وی چینلز کے کسی بھی تجزیئے میں یہ نہیں کہا گیا کہ عدالتی حکم عدولی پر موجودہ حکومت کو فی الفور برطرف کردینا چاہیے اور وزیراعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتارکیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا اور اب 4، اکتوبر2026ء کو لانگ مارچ کرنے کااعلان کیا گیا ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورحکومتی ارکان میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدل مزاج رکھنے والوں کے ذریعے مذاکرات کیے جارہے ہیں اورمعتدل مزاج رکھنے والوں کی کوئی ریڈ لائن نہیں ہوتی بلکہ ایسا مزاج رکھنے والا چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں اورہم وہی فیصلہ کریں جو حکومت چاہتی ہے اور اس طرح ہم لانگ مارچ ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیں۔
عمران خان صاحب کے بنیادی نکات یہی ہیں کہ ہمیں ہرطرح سے آزادی چاہیے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے والا نہ ہو۔ میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہوچکے ہیں لیکن انکے چاہنے والوں نے ابھی تک احتجاجی سیاست کیوں نہیں کی؟ PTI کےرہنما کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاجی سیاست کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں؟ کیا دنیا کے بڑے مسائل مذاکرات کےذریعے حل ہوئے ہیں؟ جہاں عوامی حکومتوں کی آواز کو بندوق کے ذریعے دبایاجاتا ہو، عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہوں اس ملک میں باربارمذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا؟ پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے، اگرمذاکرات دنیا میں ہر مسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔
1/2
2/2
میں اپنی فلاسفی حقیقت پسندی (Realism) اورعملیت پسندی (Practicalism)کے مطابق بات کرتا ہوں۔دنیا میں مختلف نظاموں کیلئےکیپٹل ازم، سوشل ازم، کمیونزم اور ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اگرچہ جمہوریت بڑااچھانظام ہے اور دنیا میں غیرمسلم جمہوری ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں عملاً جمہوری نظام رائج ہےلیکن کیا کسی غیرمسلم جمہوری ملک نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف ٹھوس اورعملی قدم اٹھایا جس سے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھا جاسکے؟ فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن اورناروے سمیت کس ملک نے کہاکہ ہم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں اوراسے طاقت کے ذریعے جارحیت سے روکیں گے؟
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں صرف مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کے حل اورمقصد کے حصول کے لئے میدان عمل میں آکرعملی اقدامات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ دنیامیں یہی ہوتا آیا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
تحریک انصاف کے رہنما اسی حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں جسے وہ ناجائز قراردیتے رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے عوام میں ظلم وجبر کے خلاف انقلابی رحجان دیکھنے میں نہیں آتا،یعنی وہ غلامی، زورزبردستی کی جبری حکومت، آمریت یا بادشاہت سے ملک کے عوام تنگ آکر میدان عمل میں آگئے ہوں۔آخر موجودہ پاکستان کے خطے کے لوگوں کا مزاج کسی قسم کی انقلابی تبدیلیاں لانے کیلئے کیوں نہ بن سکا؟پاکستان کے عوام 80 برسوں سے ناانصافیوں، زیادتیوں، پانی، بجلی، گیس کی قلت، مہنگائی اور بے روزگاری کاسامنا کررہے ہیں، ملک میں اتنی سیاسی ومذہبی جماعتیں موجود ہیں اس کے باوجود عوامی سطح پر کوئی انقلابی سوچ کیوں وجود میں نہ آسکی؟
ایران کی مثال لی جائے تو ایران نے وہ کچھ کرکے دکھادیا جو پوری دنیا نہیں کرسکی، اسی طرح سابقہ مشرقی پاکستان کی مثال لیں تو وہاں متعدد انقلابی مظاہرے ہوئے اور انگریزوں کوعوام کی مزاحمت کاسامناکرنا پڑا، بنگلہ دیش کی تازہ ترین مثال دیکھیں وہ نوجوان نسل نے تحریک چلائی اسی طرح انڈیامیں عوام،کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں سراپا احتجاج بنے، ایک مطالبہ منوانے کے بعد اب وہ دوسرا مطالبہ لیکر آئے ہیں لیکن پاکستان میں عوامی سطح پر ایسا مزاج نہیں ہے۔
پاکستا ن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب تین سال سے جیل میں قید ہیں لیکن پاکستان کی سب سے بڑی جماعت PTI کوئی ایسا لائحہ عمل نہیں لاسکی کہ وہ مؤثر اورمنظم احتجاجی مظاہرہ کرکے اپنے جائز مطالبات منواسکے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے گزشتہ تین برسوں میں باربار لگاتار یہ دعوے کیے کہ ہم فارم 47 کے تحت بننے والی حکومت کوتسلیم نہیں کرتے لیکن آج وہ اسی حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں جسے وہ ناجائز قراردیتے رہے ہیں۔ فارم 47 کے تحت بننے والی حکومت سے مذاکرات کرکے کیاپی ٹی آئی کے رہنماء یہ ثابت نہیں کررہے کہ انہوں نے موجودہ حکومت کو تسلیم کرلیا ہے؟ کیا وہ اپنے بانی عمران خان کی یہ بات بھول گئے کہ فارم 47 کی ٹچی حکومت سے کیابات کروں جبکہ اصل طاقت فوج ہے۔ PTI کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو جھوٹی تسلیاں دینے کے بعد اسی حکومت سے مذاکرات کئے، اگرانہیں یہی کرنا تھا تو تین سال پہلے کرلیتے کم ازکم عمران خان صاحب کو تین سال جیل میں تو نہیں رہنا پڑتا۔عمران خان جیل میں ہیں، ان کے بزرگ ساتھی جیل میں رہ کر وفانبھارہے ہیں اور جن لوگوں نے آزمائش کے وقت عمران خان اور پی ٹی آئی سے لاتعلقی اختیارکی تھی وہ آج تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں۔یہ عمل کیایہ ظاہرنہیں کرتا کہ یہ مٹی وہ مٹی نہیں جہاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کاخمیرہوتا ہے؟
مجھے جنرل ضیاء الحق کے دور میں سمری ملٹری کورٹ سے 9 ماہ قیداور5 کوڑوں کی سزا دی گئی لیکن میں نے معافی نہیں مانگی، میرے بڑے بھائی، بھتیجے اوربہنوئی سمیت ہزاروں ساتھیوں کو شہید کیاگیا لیکن میں نے سرینڈرنہیں کیا، مجھ پر قاتلانہ حملے کیے گئے لیکن میں نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی،جب ہینڈگرینیڈ سے مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مرکزی کمیٹی اورکارکنوں کے اصرارپر میں عارضی طورپر لندن آیا تھا لیکن پھر ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیا اورکارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کاسلسلہ شروع کردیاگیا، ان کی لاشیں بوریوں میں ڈال کرویرانوں میں پھینک دی گئیں اور میڈیاکے ذریعے پروپیگنڈہ کرایاگیاایم کیوایم والوں نے بوری بند لاشیں پھینکی ہیں۔ تمام ترریاستی مظالم اورمنفی پروپیگنڈوں کے باوجود میں نے تحریک جاری رکھی۔
پی ٹی آئی والوں کوسمجھنا چاہیے کہ جب وہ میدان میں آگئے ہیں تو پھر انہیں ظلم وستم برداشت کرنا ہوگا، ہمت اور حوصلے کامظاہرہ کرنا ہوگا۔تحریک انصاف نے مذاق بنارکھا ہے کہ آج لانگ مارچ کریں گے،کل لانگ مارچ کریں گے اس طرح کا عمل کرکے وہ قوم اورپی ٹی آئی کے کارکنوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ ایک خبریہ آرہی ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اس پر رضامند ہوگئے ہیں کہ وہ دہشت گردی نہیں کریں گے کیا اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ دہشت گردی کرتی ہے؟
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر479 سے خطاب
3، اکتوبر2026ء
مکمل فکری نشست کا لنک
https://t.co/KhBsmbTw7D
حکومت نے مذاکرات کاڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف اورحکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیرختم ہونے پر میرایہی کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا ڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا تھا۔ اگر پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور تحریک انصاف سے واقعتا مخلص ہوتے اورانہیں کارکنوں کے جذبات کااحسا س ہوتاتووہ کسی بھی صورت فارم 47 کے تحت قائم ہونے والی موجودہ حکومت سے ہرگز مذاکرات نہیں کرتے۔حکومت نے مذاکرات کادھوکہ دیاہی اسی لئے تھاکہ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے جولانگ مارچ شروع ہونے جارہاتھا اوراس کے کارکنان جوتیاریاں کر رہے تھے، انہیں سبوتاژ کردیاجائے۔
مجھے حیرت ہے کہ فارم 47کی حکومت سے مذاکرت کرنے والی تحریک انصاف کی ٹیم میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے 9مئی کے بعد جیل سے رہائی کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے عمران خان اورتحریک انصاف سے لاتعلقی اختیار کرنے کااعلان کردیاتھا۔
پی ٹی آئی کے رہنماکمپرومائز ہوچکے ہیں، وہ جراتمندانہ فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں، وہ تین سال سے عدالت عدالت کھیلتے رہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کوجھوٹی تسلیاں دیکر انہیں بے وقوف بناتے رہے،بہت مشکل سے 27 ستمبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کااعلان کیا گیامگر 27 ستمبر سےتین روز قبل اسے مؤخر کردیا گیالیکن پریس کانفرنس کرکے کارکنوں اورعوام کواس حوالے سے آگاہ نہیں کیاگیا۔ 4 اکتوبرکو لانگ مارچ کااعلان کیا گیا تواس سے دوروزقبل حکومت سے مذاکرات شروع کردیے۔ انہوں نے ایسی حکومت کی مذاکرات کی دعوت کوکیوں قبول کیاجس نے ہمیشہ دھوکہ دیا، جس نے سپریم کورٹ کے عمران خان کوالشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے واضح احکامات پر عمل نہیں کیا، لہٰذا جو حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کواپنے پیروں تلے روند ڈالے وہ کسی سیاسی جماعت سے کسی معاہدے پر کیسے عمل کرسکتی ہے۔
میں تحریک انصاف کے سچے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والوں سے یہی کہوں گاکہ اگروہ عمران خان کوزندہ سلامت دیکھنا چاہتے ہیں اورانہیں جیل سے باہر نکالناچاہتے ہیں تو انہیں خودفیصلے کرنے ہوں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر480 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
3 اکتوبر 2026ء
On September 30, 1988, Hyderabad experienced a mini apocalypse.
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
Whenever we have the authority, we will ensure that those responsible for the #Hyderabad tragedy face justice.
This was stated during the address commemorating the 38th anniversary of the tragic event.
..........
On September 30, 1988, thirty-eight years ago, Hyderabad, the second largest city in #Sindh, experienced a night of chaos that felt like a mini apocalypse. That evening, a group of armed men in ten vehicles stormed into the city, unleashing a barrage of gunfire on unsuspecting citizens across various neighborhoods. Anyone who crossed their path became a target. For half an hour, the shooting went on, and shockingly, neither the police nor any local authorities showed up. The commissioner, deputy commissioner, SDM, and the entire administration just vanished from sight.
Over 200 innocent people lost their lives, and many more were injured, including youths, the elderly, women, and children. The streets of Hyderabad were tragically marked by the blood of the #Muhajirs.
This wasn’t the first time such violence occurred; similar attacks had happened in #Karachi during General Ayub Khan's rule, resulting in the deaths of many innocent Muhajirs. The same kind of brutality was seen during Zulfikar Ali Bhutto's government as well.
On December 14, 1986, there were similar attacks in Aligarh Colony and Qasba Colony in Karachi, leading to a tragic massacre of the Muhajirs.
As these attacks persisted, Altaf Hussain urged the Muhajirs to get licenses and keep weapons for their safety and to protect their belongings. Even today, I encourage the Muhajirs to take steps to ensure their survival.
The Prophet of Islam, Hazrat Muhammad Mustafa ﷺ, taught his Companions the importance of being prepared and even shared insights on where to find the best arrows and swords.
As we mark the 38th anniversary of the tragic events in Hyderabad on September 30, 1988, I want to pay my respects to the martyrs and extend my heartfelt condolences to their families. I assure them that when we have the opportunity, we will ensure that those responsible for these acts are brought to justice.
I strongly condemn those biased individuals who point fingers at the @OfficialMQM and Muhajirs for the Hyderabad tragedy. It's absurd that the victims of the massacre were Muhajirs, yet we are still being blamed. I want to ask: when the linguistic bill was introduced in the Sindh Assembly during Bhutto's time in 1972, who sparked the riots across Sindh? Did the MQM even exist back then? Was Altaf Hussain involved in politics at that time?
People who spread false accusations about MQM and Altaf Hussain on social media: have they ever actually witnessed Altaf Hussain or the MQM committing acts of terrorism? When questioned, their response is often that they just heard it from someone else.
People who make these accusations are often just passing along rumors, but do they really understand what took place in Hyderabad on September 30, 1988? This kind of hateful mindset has only stoked the flames of animosity and bias in our country. The tragic massacre of the Muhajirs in Hyderabad that day was meant to instill fear in them. Yet, we stood strong then, and we will continue to stand strong today.
I want to honor the martyrs of the Hyderabad tragedy and pray that Allah Almighty accepts their sacrifices. May their blood be a source of blessing that helps us succeed in our goals.
Altaf Hussain.
London. UK.
Public address on the occasion of 38th anniversary of the martyrs of the Hyderabad tragedy on September 30, 2026.
فوج ہرملک کے لئے نہایت اہم ادارہ ہوتاہے، ہرملک کے دفاع کے لئے فوج لازمی جزو ہے، فوج اگرملک کی سرحدوں کے دفاع پر توجہ مرکوزرکھے اوراسی کے لئے اپنی طاقت، اپنے وسائل اورتوانائی صرف کرے تو ملک کے عوام بھی فوج کااحترام کرتے ہیں، اس کی عزت کرتے ہیں لیکن اگرکسی ملک کی فوج اپنے آئینی دائرے سے نکل کرملک کے دیگر امورمیں مداخلت کرنے لگے توایسی صورت میں فوج کی غلط پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے عوام کواس سے شکایات پیداہوتی ہیں۔
بدقسمتی سےپاکستان میں گزشتہ 79برسوں میں بالواسطہ یابلاواسطہ فوج کی مداخلت رہی ہےاوراب یہ مداخلت ایک رجیم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ پاکستان میں ماضی میں عوام فوج کابہت احترام کرتے تھے لیکن فوج کی غلط پالیسیوں اورجبروستم کے اقدامات کی وجہ سے آج عوام میں فوج کااحترام اور قبولیت تیزی سے گررہی ہے، بلوچستان ہی نہیں بلکہ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیراورگلگت بلتستان سمیت ملک کے ہر علاقے میں لوگ فوج پر تنقید کررہے ہیں، سوشل میڈیا پر ہرجگہ لوگ فوج سے نالاں نظرآتے ہیں۔یہ خلق ِخدا کی آواز ہے، فوج کے اعلیٰ حکام کو خداکی مخلوق کی آواز کو سننا چاہیے اور سوچنا چاہیےکہ اگر آج لوگوں کے دلوں میں فوج کے لئے قبولیت کم ہورہی ہے تواس کی وجہ کیاہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں انگریزوں کا وہی سسٹم چل رہاہے جوانگریزوں نے برصغیر کو اپنی کالونی بنا نے کے لئے فوج کی طاقت کے ذریعے یہاں نافذ کیا اور عوام کوطاقت اور جبر کے ذریعے دبایا۔ پاکستان میں بھی عوام کودبانے کے لئے وہی مائنڈسیٹ کام کررہا ہے اوروہی ہتھکنڈے اختیارکئے جارہے ہیں۔
میرا ہمیشہ سے یہی کہنا ہے کہ،
طاقت کو خدا کا عطیہ سمجھو، طاقت حاصل کرکے خود کو زمین پر خدا نہ سمجھو۔
میں فوج کے اعلیٰ حکام سے یہی کہوں گا کہ عوام پر ظلم بندکیا جائے، عمران خان سمیت جیلوں میں قید تمام سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا جائے، عمران خان اورمجھ سمیت جن سیاسی رہنماؤں پر برسوں سے جو غیرآئینی و غیرقانونی پابندیاں عائد ہیں وہ ختم کی جائیں، فوج اپنے آئینی دائرے میں رہے، ہم فوج کوسیلوٹ کریں گے، اس کی عزت کریں گے کیونکہ ہمارافوج سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، ہماری شکایات ہیں کیونکہ ہم پر بہت ظلم ہوا ہے، ہم ان شکایات اورزیادتیوں کا ازالہ چاہتے ہیں۔
حکمرانوں کوسوچنا ہوگا کہ آج عوام پیٹرول، ڈیزل کی روزبروزبڑھتی ہوئی قیمتوں، بجلی، گیس، پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان ہیں، بیروزگاری ہے، عوام کودووقت کی روٹی میسرنہیں ہے، وہ غربت وتنگدستی اورفاقہ کشی کا شکار ہیں۔ حکمرانوں کواپنی عیاشیاں ختم کرکے عوام کی سہولتیں فراہم کرنے اوران کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 469 ویں فکری نشست سے خطاب
12 ستمبر 2026ء
2/2
If a person decides to enforce martial law to free Pakistan from criminals and looters, Altaf Hussain would back this action, but it should only last for a limited time and the individual should not stay in power forever. Altaf Hussain is in favour of democracy and opposes dictatorship. Nevertheless, just like in Islam where something usually not allowed can be accepted in special situations to protect a human life, if an action is banned but becomes vital for the safety and well-being of the country and its people, it could also be accepted.
I am not a landowner or a powerful chief. I come from a working-class background and I am part of the lower and middle-income groups. I started the MQM, and people from my party have been elected to the Senate, National Assembly, and provincial assemblies. However, I have never run for an election myself, nor have I encouraged any of my family members to run for election.
I aim to get rid of the old feudal and wadera system in Pakistan. Because of this fight, I have lived away from my country for 34 years, but I have never given up my beliefs and values in the past, and I will not do so in the future.
The MQM strives for a system in Pakistan where every person has the same rights, no matter their religion, ideology, sect, or belief.
The MQM aims to encourage acceptance of different religions in Pakistan and holds the view that all non-Muslim citizens, including Ahmadis, deserve equal opportunities to live and practice their faiths without hindrance.
We desire that all non-Muslim citizens in Pakistan are allowed to follow their own religions and beliefs, reflecting the message shared by Quaid-e Azam Muhammad Ali Jinnah to the Constituent Assembly on August 11, 1947. No individual should face bias or unfair treatment because of their religion.
Altaf Hussain.
London. UK.
Address 468th Study Circle via TikTok
September 11, 2026.
I am prepared to offer my full support to Field Marshal Asim Munir to assist in fixing the country's system. Altaf Hussain
....................
Pakistan may seem like a free nation, but how many of us can say we are really free? The citizens of Pakistan are not just animals, and we need to fight for real freedom. In the past, we were under the rule of the white British, and now the black British have taken over Pakistan. Former Prime Minister Imran Khan often mentioned this in his talks, which is why the supporters of Pakistan Tehreek-e Insaf chant, “We will gain our freedom.”
In Pakistan, Imran Khan, Altaf Hussain, Baloch people, Pashtuns, Sindhis, Muhajirs, and Kashmiris are being called disloyal. If this is true, then who gets to be called loyal to the nation? The well-known Pashtun leader Bacha Khan was also labeled as disloyal. In 1986, when I spoke at the first political gathering of the MQM at Nishtar Park in Karachi, I stated that I believed Bacha Khan and Sain G M Syed were not disloyal but instead were heroes of freedom.
Today, every aware person in Pakistan is recognizing that we have learned a twisted version of our nation’s past.
When Imran Khan, the founder of PTI, called for true freedom, he was jailed as a result. He has been locked up in Adiala Jail for the last three years. The big question is: what are the PTI officials in the Senate, National Assembly, and provincial assemblies doing after getting their positions to help free Imran Khan?
Today, individuals from all areas and speakers of various languages are clearly stating that, while Pakistan might seem like a self-governing nation, its citizens do not enjoy true freedom. For this reason, I urge those in power and influential groups in the nation: please, for the sake of all that is good, pay attention to the people's concerns and see it as a serious message from a higher power. Do not distance the people from Pakistan, and put an end to the oppressive and forceful rule in the nation.
I would like to know from the people of Pakistan: what do you think is the answer to the current situation in the country?
May God give our organizations the insight and strength to think and comprehend. Pakistan is owned by its organizations just like it is owned by its citizens. Please have discussions with political groups.
Instead of making tensions worse, talk with those you have issues with and clarify what rights the organizations and citizens hold according to the Constitution of Pakistan. Instead of fighting each other, every organization and every person should act within their own constitutional boundaries.
I am willing to provide my complete support to Field Marshal Syed Asim Munir. If I get the chance, I am ready to go to Baloch, Pashtun, Kashmiri, Sindhi, and every other community. I am open to discussions with all political and religious groups, as well as the entire military leadership.
Many people have already lost their lives due to fights and disagreements. It is time for us to rethink our strategies. Personally, I do not wish to be President or Prime Minister.
Yesterday, I stood against the old and unfair system, and I am standing against it today too. I will keep fighting against it until the nation’s system is fixed.
My fight is for the importance of the Constitution and laws in the nation, for a just system to be created, and for every organization to function according to its constitutional boundaries. We need a strict approach to get rid of corruption in the country.
I desire changes to the Constitution, or maybe even creating a completely new one, based on what the citizens want to help the country and its residents thrive and succeed. I am willing to help with this goal. If the plan I suggested is put into action and adjustments to the Constitution are made, the system can be enhanced.
1/2
It is unfortunate that the remembrance of the 78th anniversary of the passing of Pakistan’s founder, Quaid-e Azam Muhammad Ali Jinnah, has been overlooked. Altaf Hussain
..................
We say that we care for Pakistan, yet we have overlooked the death anniversary of the nation's founder, Quaid-e Azam Muhammad Ali Jinnah, the person who established Pakistan. It is crucial for leaders to acknowledge this significant date and make the public aware of it.
They ought to have informed everyone that the Founder of Pakistan, Quaid-e Azam Muhammad Ali Jinnah, died on September 11, 1948, and that today is the 78th anniversary of his passing.
On this day, gatherings for prayer should have been set up to pay respects to the deceased Founder of Pakistan. Additionally, special shows should have been aired to showcase key parts of Quaid-e Azam's life and to inform the youth about his efforts.
But sadly, there wasn't a single program aired today by any television station in the country to remember the death anniversary of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah. His death anniversary didn’t even get a mention.
It is very unfortunate that every year we recognize 6 September, yet we overlook 11 September. Is 6 September considered more significant than the day linked to the Founder of Pakistan, Quaid-e-Azam?
Who is going to teach the younger people, like Gen Z and students, about Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah and the story of Pakistan?
Altaf Hussain.
London. UK
Address 468th Study Circle via TikTok on September 11, 2026.
سرحد یونیورسٹی میں ایک کرنل نے غیرت کے نام پر اپنی بیوی کی حمایت کرکے یہ رسم ڈال دی ہے کہ اب اگر کسی کی ماں، بہن اوربیٹی کے تقدس پرکوئی آنچ آئے تو ہتھیاراٹھاکر اس پر حملہ کردو
جواینکرپرسن اوریوٹیوبرزفوجی افسر کے عمل کو غیرت کا نام دے رہے ہیں وہ نہ صرف غیرت وحمیت سے عاری ہیں بلکہ ذہنی غلام بھی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ اورطلباء کے مابین کوئی مسئلہ چل رہا تھا، یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر کی شکایت پر ایک ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کو معطل کیاگیا تھاجن کی بحالی کیلئے طلباء کی جانب سے احتجاج کیا جار ہا تھا،اس وقت پولیس بھی وہاں موجود تھی، متعلقہ خاتون ڈائریکٹر نے اپنے شوہر کو فون کر یونیورسٹی بلایا جوکہ ایک لیفٹننٹ کرنل ہیں، وہ مسلح ہوکر وردی میں یونیورسٹی پہنچے، انہوں نے پہلے ڈنڈے طلباء کوتشد د کانشانہ بنایا، طلباء نے مزید احتجاج کیاتو فوجی افسر نے طلباء پر فائرنگ کردی۔
یونیورسٹی کی حدود میں طلباء کو تشددکا نشانہ بنانے اورفائرنگ کرنے والے لیفٹننٹ کرنل کے خلاف کیاکارروائی کی گئی اس کاعلم تو بعد میں ہوگا مگر پولیس نے یونیورسٹی کے 24 طلباء کو گرفتارکرلیا اورحراست کے دوران انہیں بہیمانہ تشددکا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ اس افسوسناک واقعے پربعض اینکرپرسن، وی لاگرز اوریوٹیوبرز کی جانب سے عجیب وغریب تبصرے کیے جارہے ہیں کہ خاتون ڈائریکٹر کے شوہرجوفوجی افسر ہیں وہ ایک پشتون ہیں اورپشتونوں میں غیرت کا معاملہ ہوتا ہے لہٰذا انہو ں نے غیرت کی بنیادپر یونیورسٹی میں جاکریہ عمل کیا اس طرح اس فوجی افسر کے عمل کاجوازپیش کیاجارہاہے۔
میں پاکستان کے عوام سے پوچھتا ہوں کہ کیا حرمت، تقدس، غیرت وحمیت، عزت نفس،خوداری اوروقار کامعاملہ صرف اورصرف فوج کے جرنیلوں اورافسران کیلئے ہی ہے؟ جوکچھ بلوچستان میں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے ساتھ نارواسلوک کیاجارہا ہے تو کیابلوچوں کی کوئی غیرت وحمیت اورتقدس نہیں ہے؟
صوبہ خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے کیے جارہے ہیں، جگہ جگہ حملے کرکے خواتین سمیت معصوم بچوں کی زندگیاں چھینی جارہی ہیں، پشتون عوام کو IDPs بناکر پشتون خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے توکیا پشتونوں کی کوئی غیرت وحمیت نہیں ہے؟ اسی طرح پنجابیوں،کشمیریوں، سندھیوں، سرائیکیوں، ہزاروال اورمہاجرقوم کی کوئی غیرت وحمیت نہیں جن کی ماؤں بہنوں نے اپنے شہیدوں کے جنازوں کو کاندھے دیئے؟کیاسویلین پاکستانیوں کی عزت اورغیرت وحمیت کی کوئی وقعت نہیں ہے؟ اگر غیرت وحمیت کے معاملے پر بلوچ، پشتون یاکسی اور قوم افراد بندوق اٹھائیں تو انہیں ملک دشمن قراردیاجاتا ہے۔
ایک فوجی افسر کی اہلیہ کے ساتھ طلبا کی تلخ کلامی ہونے پر لیفٹننٹ کرنل پستول لیکر تعلیمی ادارے میں پہنچ جاتے ہیں اورگولیاں چلاتے ہیں تو کہاجارہا ہے کہ یہ اس فوجی افسر کی غیرت کا تقاضا تھا۔ پاکستانی میڈیا اس فوجی افسر کو پٹھان بلوچ کہہ کراس کے غلط عمل کا دفاع کررہے ہیں،جواینکرپرسن اوریوٹیوبرز اس عمل کو غیرت کا نام دے رہے ہیں وہ نہ صرف غیرت وحمیت سے عاری ہیں بلکہ ذہنی غلام بھی ہیں۔
فوج کے جرنیل جواب دیں کہ فوج کے لیفٹننٹ کرنل نے سرحد یونیورسٹی میں غیرت کے نام پر طلباء پر تشدد اور فائرنگ کرکے کیاپورے پاکستان کے عوام کو یہ درس نہیں دیدیا کہ اگر پولیس، رینجرز اور پولیس کسی بھی قوم کی ماں، بہن، بیٹی اوربیوی پر ہاتھ ڈالے، ان کے دوپٹے کھینچے یا چادروچاردیواری کا تقدس پامال کرے تو انہیں بھی غیرت وحمیت کامظاہرہ کرکے ڈنڈے اوراسلحہ کااستعمال کرنا چاہیے؟لیفٹننٹ کرنل نے اپنے عمل سے بتادیا ہے کہ صرف فوج کے کرنل جنرل کی ماں، بہن، بیٹی اوربیوی کی عزت ہوگی باقی کسی پاکستانی شہری کی ماں، بہن، بیٹی اوربیوی کی کوئی عزت، حرمت،غیرت وحمیت نہیں ہے۔
1/2
سپریم کورٹ کاعمران خان کی صحت کے بارےمیں پٹیشن کی سماعت کےلئےآئندہ ماہ کی تاریخ مقررکرنامذاق ہے۔الطاف حسین
سپریم کورٹ کے ایسے ہی فیصلوں سے پاکستان میں انصاف کانظام تباہ ہوچکاہے
#ContemptOfCourt#FreeImranKhan
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست 2026ء کوحکم دیا تھا کہ عمران خان کو دو دن کے اندراندرشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے،علاج کرایا جائے اورمختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ عمران خان پہلے ہی بیمار ہیں، قید میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوچکی ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے ان واضح احکامات پر عمل نہیں کیا اورعمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ بنانے کے بجائے انہیں پمزاسپتال لیجا کر چیک اپ کرایا اورواپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ اس طرح حکومت نےسپریم کورٹ کے واضح احکامات کی حکم عدولی کرکے صاف طور پر توہین عدالت کاارتکاب کیا ہے۔اس معاملے پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اسی روز سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نےاگلے روز پٹیشن دائر کی۔ پہلے توسپریم کورٹ کوتوہین عدالت پر خود ہی سوموٹولینا چاہیے تھا لیکن جب پی ٹی آئی کی طرف سےپٹیشن دائر ہوئی تو عدالت کوعمران خان کی طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پٹیشن کی فوری سماعت کرنی چاہیے تھی لیکن فوری سماعت کے بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس پریہ فیصلہ دیدیا کہ عمران خان کی صحت کامعاملہ فوری نوعیت کا نہیں اور توہین عدالت کا معاملہ بھی ایسا نہیں کہ اس بارے میں پٹیشن کی فوری سماعت کی جائےلہٰذا چیف جسٹس نے فوری سماعت کے بجائے ستمبر کے مہینے کی تاریخ دی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اگر چیف جسٹس کے مطابق عمران خان کی صحت کامعاملہ فوری نوعیت کا نہیں ہے اوروہ ٹھیک ٹھاک ہیں تو پھر 18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ کیوں دیا تھا کہ عمران خان کودو دن کے اندر اندر علاج کے لئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے؟
حکومت نے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جاکر عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی تو کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نظر میں حکومت کی جانب سے توہین عدالت نہیں ہوئی؟ کیاعمران خان کو فوری علاج کی ضرورت نہیں؟ جب تک شفا اسپتال میں عمران خان کا مکمل معائنہ نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک کیسے پتہ چلے گا کہ عمران خان کو کیا بیماری ہے؟ عمران خان نے اپنی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان سے ملاقات میں صاف الفاظ میں اپنی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ انہیں سخت آئسولیشن میں رکھا جارہا ہے اورذہنی ٹارچرکیا جارہا ہے اوریہ وہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح ماردینا چاہتے ہیں، کیا عمران خان کی یہ ذہنی حالت فوری طورپر علاج کا تقاضہ نہیں کرتی؟ پھر سپریم کورٹ نے اس بارے میں پٹیشن کی سماعت کے لئے آئندہ ماہ کی تاریخ کیوں مقرر کی؟ آخریہ کیا مذاق ہورہا ہے؟ یہ انصاف کی عدالت ہے یا ظالموں کی ڈھال ہے جو ظالموں کوبچاتی ہے اور مظلوموں پر وار کرتی ہے؟ سپریم کورٹ کے ایسے ہی فیصلوں سے پاکستان میں انصاف کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔
ایسے حالا ت میں پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کا طرزعمل بھی بہت افسوسناک ہے، عمران خان کی بہنیں ان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل جاکر احتجاج کرتی ہیں، لوگوں کو پکارتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے لیڈرز اور ارکان اسمبلی ان سے اظہاریکجہتی کے لئے اڈیالہ جیل تک نہیں جاتے۔ آج بھی PTI کے لیڈران قانونی موشگافیوں اورادھر ادھر ملاقاتوں میں مصروف ہیں، انہوں نے تین برسوں سے اسی طرح کے ڈرامے کرکے عمران خان کوآج اس حال میں پہنچا دیا ہے،ان کی ایک آنکھ ضائع کرادی اورآج وہ اپنی بہنوں سے اپنی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کررہے ہیں،لہٰذا میں ایک بارپھر PTI کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ مصلحت پسند لیڈروں سے کوئی توقع نہ رکھیں اوران کی طرف دیکھنے کے بجائے قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، @PTIofficial کے کارکنان، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات اور جین زی خود باہر نکلیں اورعمران خان کو بچائیں، اب بہت ہوگیا ہےاور قوم کو کوئی وقت ضائع کئے بغیر فوراً باہرنکلنا چاہیے۔جہاں تک الطاف حسین کا تعلق ہے تووہ گزشتہ تین سال سے اصولوں کی بنیادپر عمران خان کے لئے آواز اٹھا رہا ہے اورجب تک میرے جسم میں جان ہے میں حق اورسچ کی آوازبلند کرتارہوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 455 ویں فکری نشست سے خطاب
25 اگست 2026ء
#یوم_عزم_وفا_22_اگست
جئے @AltafHussain_90
الطاف حسین بھائی ہماری شان
الطاف حسین بھائی ہماری منزل
الطاف حسین بھائی ہماری تحریک
الطاف حسین بھائی ہماری جدو جہد
جئے نظریہ الطاف حسین ✌️
22 اگست "یومِ عزم وفا"
حق اور باطل میں تقسیم کا دن
سچ اور جھوٹ میں تقسیم کا دن
وفا پرستی اور مفاد پرستی میں تقسیم کا دن
جئے الطاف حسین
سدا جئے الطاف حسین
#یوم_عزم_وفا_22_اگست