NA1 PK1 Chitral
ضلع چترال بنیادی سہولیات سے محروم پسماندہ ترین علاقہ ہے۔
اسلام اور کفر کے نعروں سے ہم عوامی نمائندے انتخاب کرتے آئے ہیں��اکثر اپوزیشن کی زینت بننے کی وجہ حکومتی مہربانیوں سے ہم محروم رہے۔
نمائندے نااہل چنتے ہیں اور محرومی کی زمہ دار ریاست کو ٹہراتے ہیں۔
Upper Chitral Police has send an Advisory Notice to Pir Mukhtar, a social activist, after he allegedly received threat calls from TTP militants.
The notice contains instructions regarding precautionary measures, Magpie News has learned.
1/2
انتظامیہ اپر چترال میں آئس سمیت دوسری منشیات کی بروقت روک تھام کے لیے کاروائی کریں.
اپر چترال چھاپے کے دوران آئس کا برآمد ہونا تشویش ناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خطرناک منشیات نچلے اضلاع کی طرح اب اپر چترال میں بھی پھیل رہی ہیں۔
@DCUpperChitral@KP_Police1@GovtofPakistan
PSA in local language by Dr. Shahzeeba jahan will guide you through essential breast cancer awareness, self-examination techniques, and the right path to referrals.
Your health matters, and knowledge is the first step to prevention۔
#BreastCancerMonth#BreastCancerAwareness
علاقہ شہاب خیل بڈہ بیر میں جرگے کے زریعے تنازعہ حل، فریقین نے ایک دوسرے کو گلے لگاکر غلط فہمی کا خاتمہ کرلیا۔
علاقہ بڈہ بیر شہاب خیل میں اسلم چتر��لی اور رخم زادہ کے خاندانوں کے مابین فائرنگ ہوئی تھی کئی دنوں سے تنازعہ چل رہا تھا۔
17سالہ نوجوان 10thپاس کرنے کے بعد گھر کے اخراجات سنبھالنے کی خاطر اسلام کا رخ کرتا ہے۔ 9 مہینے بعد گرمیوں کی چھٹی پہ بھی گھر نہیں گیا، کیونکہ گھر کا کفیل تھا😭
کل رات بجلی کی کرنٹ لگنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اہل چترال کی تعاون سے ایمبولین�� اور 3 لاکھ روپے لواحقین کو ادا کردئے۔
As discussed the conflict recently happend in Bashqar Goal Chitrl.Due to mismanagemnt of local police the matter still remains unsolved.
TTHC arranged negotiation among both parties to resolve conflict through dialogue.Hope for the positive outcome
#Pir#Mukhtar#Chairman#TTHC
اسپہ علاقہ خودکشیان آی لوٹ وجہ ہیا کی ک��وشت ویڈیو ساوزیاو بلیک کوراو آخر کار خودکشیا تارینیان۔DCچترال@khan_pmsکے مشکور ہیں۔FIR کے لئے خصوصی تعاون پر۔ تنظیم ممبران نے پکڑ کر ابھی پولیس کے حوالہ کیا۔ ویڈیو منظر عام میں آنے کے بعد وکٹم بچہ غائب ہے۔ اللہ نہ کریں کہ خودکشی کی ہو۔
چترال گزشتہ کئی سالوں سے خطرناک سیلاب کی زد میں ہے۔اگلے بیس سال میں انفراسٹرکچر مکمل تبدیل ہو گا۔ محفوظ زمینات ھماری کوتاہی کی وجہ سرکار کے ناجائز قبضے میں ہے وآپس لی جائے ۔اگر چہ نوٹیفکیشن کے نام پر قانون ہے مگر اسں طرح حالات اور واقعات میں اسکی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
1/2👇
@PirMukhtar1 وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے یکجا ہو کر آنے والے نسلوں کے لیے چترال میں محفوظ زمین بچائی جاسکتی ہ��۔ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ھم سب خانہ بدوش ہو کر یا اپنی زمین سرکار سے خریدنے پر مجبور ہونگے یا شہری علاقوں میں مہاجر قوم بن جاینگے ۔
@PirMukhtar1 کیونکہ بدلتے حالات میں عدالتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتی ہے لہذا ھم لوگ اپنے رواجی قانون کا سہارا لیکر چترال میں جتنے بھی save lands ہیں وہ شلا��ات دیہہ منتقل کرواسکتے ہیں ۔
ریشن کو دریا برد ہونے سے بچایا جائے۔
سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی و درجنوں مکانات دریا برد ہو چکے ہیں۔
اپر کی واحد گزر گاہ روڈ کئی بار دریا برد ہونے کے بعد اس بار بھی غرق ہونے کے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔
ریاست آخر کس مرض کی دوا ہے؟
#چترال_کو_حق_دو