وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شاہانہ لائف سٹائل... ہیلی کاپٹر میں ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر کافی انجوائے کر رہے ہیں اور پائلٹ کی ڈیوٹی لگی ہوئی وہ ڈرائی فروٹس چھیل کر پیش کر رہا.....
FORBIDDEN STUDIOS PRESENTS: WHEN PILOT IS FIGHTING, PLUMBER IS FLYING
One plane. One sword. One plumbing emergency.
The biggest Bollywood action psyop of the year has arrived.
"ایک صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے اپنی فیملی کے لیے جوتے بنوانے کے لیے اٹلی سے cobbler (موچی یا جوتا ساز) بلوایا، جس نے پاکستان آکر اس وزیر کی فیملی کے پاؤں کے ناپ لیے اور اس نے کسٹمائزڈ جوتے بنوائے، اس پوری فیملی کے جوتوں پر 8 کروڑ روپے کا خرچ آیا۔ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ اس صوبائی وزیرِ اطلاعات و نشریات کا تعلق کس صوبے سے ہے"۔ عمران شفقت
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
وه بدقسمت خاندان جو اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی لاوارثوں کی طرح دنیا سے رخصت ہوا :
ایک بھائی کو دس سال تک اپنے سگے بھائی کی خبر نہیں تھی۔
دو سگی بہنیں ایک دوسرے سے برسوں بات نہیں کرتی تھیں۔ اور پھر جب رشتہ داروں کو اس خاندان کی خبر ہوئی تو گھر میں کوئی زندہ نہیں تھا۔
احسن آباد کے ایک بند فلیٹ سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچیوں کی باڈیز کا ملنا صرف ایک خاندان کی المناک موت نہیں، بلکہ یہ اس سوال کا نوحہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے رشتوں کو آخر کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟
ایک طرف سگے خون کے رشتے برسوں ایک دوسرے کے حال سے بے خبر رہے، دوسری طرف ایک خاندان بیماری، معاشی مشکلات اور تنہائی کے درمیان اپنے ہی گھر میں سمٹتا چلا گیا جب دروازہ کھلا تو اندر صرف پانچ بے جان جسم تھے، مگر اس بند دروازے کے باہر ایک اور چیز بھی دفن ملی
رشتوں کی وہ ڈور جو شاید بہت پہلے ٹوٹ چکی تھی۔
سب سے زیادہ دل چیر دینے والی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عمر کے بھائی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا بھائی کراچی میں کہاں رہتا ہے، جبکہ ڈاکٹر عمر کی اہلیہ اور ان کے بھائی کی اہلیہ آپس میں سگی بہنیں تھیں، مگر وہ بھی برسوں سے ایک دوسرے کے رابطے میں نہیں تھیں۔
ایک ہی خون، ایک ہی خاندان، ایک ہی رشتے ، مگر زندگی میں فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ موت نے آ کر سب کو دوبارہ ایک خبر میں جوڑ دیا۔
پولیس کے مطابق باڈیز کئی روز پرانی تھیں اور حتمی وجۂ موت جاننے کے لیے کیمیکل تجزیہ جاری ہے یہ خاندان صرف ایک بند فلیٹ میں نہیں، شاید برسوں سے رشتوں کے بند دروازوں کے درمیان بھی زندگی گزار رہا تھا۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمر کے بھائی ابوبکر سے رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ 2016 کے بعد سے بھائیوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ابوبکر کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کا بھائی کراچی میں مقیم ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ دل چیر دینے والی بات یہ سامنے آئی کہ ڈاکٹر عمر کی اہلیہ اور ان کے بھائی ابوبکر کی اہلیہ آپس میں سگی بہنیں تھیں، مگر ان دونوں بہنوں کا بھی برسوں سے ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
ایک ہی خاندان کا خون، ایک ہی والدین کی اولاد، سگے بھائی، سگی بہنیں، ایک ہی خاندان کے رشتے—مگر ایک دوسرے کی زندگیوں سے ایسے غائب کہ ایک بھائی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا بھائی کس شہر میں رہتا ہے وہ بہن جو کبھی ایک گھر میں پلی بڑھی ہوگی، جس کے ساتھ بچپن کی یادیں جڑی ہوں گی، آج اس کی موت کی خبر بھی شاید برسوں کے فاصلے کے بعد ملی۔
کبھی معمولی ناراضی برسوں کی خاموشی بن جاتی ہے، کبھی انا رشتوں سے بڑی ہو جاتی ہے، کبھی گھریلو اختلافات اتنے گہرے ہو جاتے ہیں کہ سگے بہن بھائی ایک دوسرے کا حال پوچھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
اور پھر ایک دن خبر آتی ہے کہ وہ شخص جس سے برسوں بات نہیں ہوئی، وہ دنیا میں ہی نہیں رہا۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عمر کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور انہوں نے ملازمت بھی چھوڑ دی تھی۔ خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا بھی بتایا گیا تھا،، آج میں ان سب بہن بھائیوں سے کہتا ہوں کسی کے پیچھے لگ کر اپنے بہن بھائیوں کو برا نہ سمجھا کرو
کیونکہ موت کے بعد پہنچنے والی ہمدردی، جنازے پر بہائے جانے والے آنسو اور قبر پر پڑھے جانے والے فاتحہ سے پہلے اگر زندگی میں کسی کا ہاتھ تھام لیا جائے تو شاید ایک سانحہ ٹل جائے ۔
راؤ عمر فاروق
@MaliikAwann Bro if demand for separate province then yea that’s your right. But the problem is Hazarywal hate Pushtuns, they always keep grudges. They want the division on basis of racism, linguistic and with aggression. If you want support spread love and peace. Stay blessed.
جیسے ہی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ موخر ہونے کی خبر آئی پی ٹی آئی کے گنڈوئے نکل آئے اور اٹک پُل پر لگی کیلوں والی پلیٹیں اُکھاڑ کر دریا میں پھینکنی شروع کر دیں اس پُل پر نا پنجاب پولیس ہے اور نا ہی خیبرپختونخوا پولیس
بہتر ہوتا حکومت اپنا تماشہ بنوانے کی بجائے انہیں یہ ڈرامہ نا کرنے دیتی اب ہر طرف یہی ویڈیو وائرل کر کے یوتھیے پروپیگنڈہ کرتے رہیں گے
یہ پرنس الولید بن طلال ہیں
جو سعودیہ کے امیر ترین پرنس ہیں
اکثر رات کو ریاض کی سڑکوں پر سائیکل چلاتے نظر آتےہیں اور ضرورت مند ان کا انتظار کرتے ہیں
درخواست دیتے ہیں اور الحمد للہ ان کی ضرورت
اللہ پاک پوری بھی کراتے ہیں
اللہ لمبی زندگی عطا کرے آمین
جو کنٹینر حکومت نے لانگ مارچ رکوانے کے لیے استعمال کی ہے ان کنٹینروں میں پاکستانی عوام کی کروڑوں روپے کی اشیاء موجود ہیں۔
کیا ایسی حکومت عوام کی خیر خواہ ہو سکتی ہے جو اپنے مفاد کے لیے عوام کے کروڑوں کل نقصان کرے؟👇
@ahmad__bobak
ایک فیصلہ تحریک انصاف نے کیا ایک فیصلہ اٹک کے پل پر موجود عام پاکستانیوں نے کیا یاد رہے کہ جب لوگوں نے پل پر بچھائے گئے کیل ہٹائے تو سامنے موجود پنجاب پولیس صرف حیرت میں مبتلا دکھائی دی اور کیلوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی جس سے قومی خزانے کو بہت نقصان ہوا
یہ وہ شخص ہے جس نے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے نام ہے حاجی امتیاز اور تعلق ہے منڈی بہاولدین سے جس کو عوام نے سب سے زیادہ ووٹ دیے اس کے ساتھ اس جعلی نظام کا ظلم دیکھیں
سوات کے دوست مدد کریں۔۔۔۔
ممبئی انڈیا سے ایک خاتون نے رابطہ کرکے اپنے والد کے خاندان کی تلاش کے لئے کہا ہے۔انکا کہنا ہے کہ:
"میرا نام ریحانہ ہے۔ میں ممبئی، بھارت میں مقیم ہوں اور اپنے والد کے خاندان اور آبائی رشتے داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
میرے والد شیبر لالا (Shebar Lala) سوات کے پٹھان تھے۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے سوات سے ممبئی، بھارت آئے اور پھر وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ الحمدللہ، ہمارا خاندان ممبئی میں اچھی طرح آباد ہے۔ ہمیں اپنے سوات والے خاندان سے کسی قسم کا مالی فائدہ یا کوئی چیز نہیں چاہیے۔ ہماری صرف یہ خواہش ہے کہ ہمیں اپنے والد کے خاندان، اپنے آبائی گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم ہو سکے اور اگر ممکن ہو تو ایک مرتبہ اپنے خاندان کے لوگوں سے ملاقات بھی ہو جائے۔
والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہمیں جو معلومات بتائی تھیں، ان کے مطابق:
آبائی گاؤں: بور (Bur)، سوات (شاید بر سوات بتایا ہے والد نے انکو)۔ کاسٹ یوسفزئی۔
شیبر لالا کے والد کا نام: محمد علی
والدہ کا نام: خان تولی
محمد علی کی تین شادیاں تھیں۔شیبر دوسری بیوی سے تھے۔
شیبر لالا کی ایک بہن بھی تھیں، جن کا نام: گیرانہ (ہمارے مطابق شاید گرانہ ہو ) بتایا جاتا ہے، جن کی شادی کے بعد وہ بیحا (Biha)، سوات چلی گئی تھیں۔
شیبر لالا کے بھائیوں میں سے ہمیں فی الحال صرف ان تین ناموں کا علم ہے:
• امیر خان
• دولت خان
• دلاور خان
شیبر کے مطابق وہ کل 11 بھائی اور ایک بہن تھے۔
انکے دودھ کا کاروبار تھا۔
والد صاحب غالباً 1930 سے 1940 کے درمیان ممبئی آئے تھے، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی بھارت آ چکے تھے اور بعد میں ممبئی میں مستقل آباد ہوگئے۔
والد صاحب کی ایک خاص پہچان یہ بھی تھی کہ ان کے ہاتھ میں، پنجے کے اوپر ایک داغ/نشان بنا ہوا تھا۔
یہ تمام معلومات ہمیں والد صاحب نے اپنی زندگی میں خود بتائی تھیں۔ ہمارے پاس اس وقت مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں، لیکن ہم انہی معلومات کی بنیاد پر اپنے والد کے خاندان اور اپنی خاندانی جڑوں (Family Roots) کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
اگر سوات، بالاکوٹ، یوسفزئی برادری، بور گاؤں یا بہا سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ان ناموں یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا کوئی شخص اس خاندان کو پہچانتا ہو، تو براہِ کرم ہم سے رابطہ کریں۔
ہم صرف اپنے والد کے خاندان کو جاننا اور اپنے آبائی رشتوں سے دوبارہ جڑنا چاہتے ہیں۔"
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید کسی تک یہ معلومات پہنچ جائیں اور ایک بچھڑا ہوا خون ایک ہوجائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
23 sept 2026
#waliullahmaroof
سرجانی ٹاؤن واقعے کے ملزم کا آخری اعترافی بیان جو اس نے پولیس اور متوفیہ کے بھائی و ماموں کے سامنے دیا
انتباہ : اس ویڈیو میں کچھ الفاظ تکلیف دہ ہوسکتے ہیں، کمزور دل افراد، اور بچے نہ دیکھیں
TW: In this video some seans are disrupted you so please ignore and avoid
#ZarayeNews
Mid-Air Brawl on Biman Bangladesh Airlines Flight Sparks Concern
A video showing two passengers involved in a physical fight aboard a Biman Bangladesh Airlines flight has gone viral on social media.
The flight was travelling from London to Bangladesh when an argument between two male passengers reportedly escalated into a physical altercation, causing panic among fellow travellers, including children and elderly passengers.
Cabin crew and other passengers eventually intervened to separate them.
#Aviation #AirTravel #AviationSafety
A close relative of the victims has been arrested in connection with the Surjani Town tragic incident. How did Karachi police trace the suspect in the Surjani Town incident? DIG West Irfan Baloch revealed the details in an interview with our correspondent Shujaat Qureshi.
#Karachi #KarachiPolice #SurjaniTown #TOKxShujaat #TOKReports
کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی تو میں عمران خان کو جیل سے نکال کر انڈیا لے کر آتا۔ اگر اس جیسا انسان انڈیا میں ہوتا تو اس کو تاج پہنا کر رکھا جاتا ۔ یوگراج سنگھ
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan