اس عمل کا دینِ اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہاں اگر آپ ہندومت اور دیگر مذاہب جو ایک خدا پہ یقین نہیں رکھتے اُن کو کھنگالیں گے تو ایسےرواج عام نظر آئیں گے۔
بہت عرصہ پہلے ہمارے گاؤں میں فوجی سکیم آئی فوجی اپنا کھانا کھانے کے بعد بچا کچھا کھانا پھینکتے اور اردگرد کے گاؤں کے لوگڑ کتے وہاں پر جا کر ہڈیاں چوستے اور بچا کھانا کھاتے
دو ہفتوں کے بعد سکیم چلی گئی اور وہ لوگڑ کتے جن کے منہ کو فوجی کھانا لگ چکا تھا وہاں پہنچ جاتے لیکن وہاں پر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا وہ زور زور سے بھونکتے اور ان کے بھونکنے کی آواز شام کو اردگرد کے تمام گاؤں سنتے رات کو ان کتوں کے ڈر سے اس طرف سے کوئی بھی نہ گزرتا کیونکہ وہ ہر کسی کو کاٹتے اور بھونکتے
ابصار عالم کو شریف خاندان نے بہت نوازہ، بڑی بڑی تنخواوں پر عہدے دیے، بڑے چینلز پر بڑی تنخواوں پر نوکریاں دلوایاں
اب ابصار عالم کو TV پر کوئی دیکھتا نہیں، ویلاگ دیکھنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار سے بھی کم ہے بڑے بڑے عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی جرنیل بیٹھے ہوۓ ہیں اور محسن نقوی ویسے بھی اسےلفٹ نہیں کرواتا ابصار عالم نے جو مزے شریف خاندان کے پرانے دور میں کیے اب وہ دور اسے یاد آتا ہے
اب یہ اپنی افادیت ثابت کرنے کے لیے کبھی کشمیریوں کو کاٹتا ہے تو کبھی سوشل میڈیا کو گالیاں دیتا ہے کبھی ایران والوں پر الزامات لگاتا ہے تو کبھی بلوچوں کو غداری کے فتوے بانٹتا ہے اسے اب سمجھ جانا چاہیے وہ سلیم جا چکی ہے عیاشی کے دن ختم ہو چکے ہیں اب جو ہے اسی پر گزارہ کرو
منیب فاروق کہہ رہے ہیں کہ ہمیں عام عہدوں پر فائز لوگ بتاتے تھے کہ “ہمیں بچانا ہے اور عمران خان کی حکومت کو گرانا ہے۔”
بےشرمی کی انتہا ہے! آپ اسٹیبلشمنٹ کے ڈاکیے ہیں یا صحافی؟ شرم آنی چاہیے۔ آج کس منہ سے بیٹھ کر تجزیے کر رہے ہیں!مطیع اللہ جان۔
پنجاب حکومت کے نئے بل کے تحت حکومت کسی بھی شخص کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر سکتی ہے جائیداد ضبط کر سکتی ہے اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ای میل اکاؤنٹس ختم کر سکتی ہے اس کے علاوہ اسے digital surveillance پہ ڈال سکتی ہے یعنی اسے کوئی الیکٹرانک کڑا پہنا دیا جائے گا اور اس کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھی جائے گی ! اسد طور ۔۔
یہ محض اتفاق ہے یا پھر سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور سازش ہے،، جب سے PIA عارف حبیب اینڈ کمپنی کو فروخت کی گئی ہے اس کے بعد جیٹ فیول سستا اور پیٹرول مہنگا ہے، اب حکومت نے جیٹ فیول 231 روپے لیٹر کردیا ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 300 روپے ہے۔
9 مئی لاہور کا ایک اور اسیر چل بسا
الطاف حسین جو کہ مقدمہ نمبر 1280/23 میں ایک سال تک ناحق کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رہے اور پھر جیل ٹرائل کے بعد مقدمے سے بری ہوئے،
رات اچانک ہارٹ اٹیک سے ان کی وفات ہو گئی ہے۔
عمران خان تابعدار نہیں تھا اس نے باجرے کا ماجرا جان لیا تھا،اس لئے اس کے خلاف پہلے دن سے ہی منے اور ٹکلے چھوڑ دیئے گئے تھے، اب جو عمران خان پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے ہمیں نوکریوں سے نکلوایا وہ جا کر راوی کے گندے نالے میں چھلانگ لگا دیں
منیب فاروق کا کہنا ہے عمران خان کی حکومت بنی تھی تو متقدرہ حلقوں نے فوج کی طرف سے ہدایت کی کھل کر تنقید کرو منیب فاروق نے اب یہ بات واضح کردی کے عاصمہ شیرازی شاہزیب خانزادہ ،انصار عباسی یہ سب جو اچھل کر آۓ تھے عمران خان کے خلاف ان سب کو آرڈر تھا اسٹبلشمنٹ کا
عمران خان جب روس گئے تو ایک صاحب جن کو ارشد صاحب گنجا شیطان نام لیتے تھے اس گنجے شیطان نے ڈھیرو ڈھیر صحافیوں کو میسج بھیجنے شروع کردیے یہ دیکھو یہ چلا گیا یہ چلا دے چلا گیا
عدیل راجہ
۔انا للہ وانا الیہ راجعون
یہ الطاف حسین ہیں ان کا تعلق لاہور سے ہے چھ ماہ پہلے نو مئی کی مقدمہ 1280/23 میں، میں نے ان کو بری کرایا ہے، کوٹ لکھ کے جیل میں ہی یہ شدید بیمار ہو گئے تھے اس کے بعد بس ان کا دوائیوں پر گزارا رہا اور اج خالق حقیقی سے جا ملے۔
another prisoner dies shortly after release from illegal detention. If there's ever going to be an open investigation, it will expose the horrific crimes against humanity over the last 4 years in Pakistan
نو مئی کے مقدمات میں جیل سے باہر آنے والے لوگوں کی پُراسرار اموات پر پی ٹی آئی کی ٹھنڈی اور میٹھی قیادت کا مجموعی ردِعمل: یہ ظلم یاد رکھا جائے گا۔
حرام زادوں میں بھی کبھی نہ کبھی تھوڑا بہت حلالی پن آجاتا ہے، لیکن ان کنجروں میں وہ بھی نہیں۔ تم عمران خان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کر سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے، مزاحمت نہیں کر سکتے، اور اب نو مئی کے متاثرین کے لیے بھی کچھ نہیں کر سکتے، تو پھر تم اس دنیا میں امب چوپنے آئے ہو؟
SHAME!
Mr. M uneeb F arooq confesses about being a hitman of the establishment, discloses identity of his real bosses while masquerading as a journalist.
Reveals - where from he used to get instructions for targeting politicians and governments.
میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں عمران خان دور میں تمام چینلز اور صحافیوں کو عمران خان حکومت پہ تنقید کرنے کا ٹاسک فوج نے دیا تھا یہ نا اہلی کا بیانیہ مہنگائی کا بیانیہ سب فوج چلوا رہی تھی اور ہچھ بے غیرت اب بھی کہتے ہیں عمران خان کو فوج لائی تھی