Pakistan is a peace lover and want to stay in good relationships with all the world but i guess india is out of the world
#DelhiDroneDramaDebunked@JoinTeamGumnaam @ShahzadYunasPTI
@snapchatsupport My phone was hacked, and the hacker used my ID to violate the community guidelines. I was not involved in this. Kindly unlock my account and give it back to me. @atjofficial is my snap account please give it back to me #atjofficial
@snapchatsupport@Snapchat@Snap#snaphack#snaplocked
My phone was hacked, and the hacker used my ID to violate the community guidelines. I was not involved in this. Kindly unlock my account and give it back to me
@snapchatsupport My phone was hacked, and the hacker used my snapchat ID to violate the community guidelines. I was not involved in this. Kindly unlock my account and give it back to me
پولیس والوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جن شریفوں کے حکم پہ اتنی کھلی بغیرتی کر رہے ہیں اِنہوں نے اقتدار میں پھر بھی نہیں آنا، اقتدار تحریک انصاف کا ہے اس بار معافی کسی کو نہیں ملے گی ہر ظلم کا حساب سود سمیت لیا جائے گا۔۔۔
جاوید چودھری اپنے تازہ کالم میں اس حد تک گر گیا ہے جس حد تک حامد میر (جعفر) رجیم چینج آپریشن کے وقت گرا تھا اور امریکہ کو کہا تھا کہ عمران خان کو قتل کروا دیں ورنہ یہ ایران، حز/ب اللہ، اور طالبان کا ساتھی، مذہبی انتہا پسند امریکہ کے لئے خطرہ بن جائے گا۔
جاوید چودھری لکھتا ہے کہ عمران خان کو اگر زندہ چھوڑ دیا گیا اور اسے وزیراعظم بننے دیا گیا تو یہ مخالفین کو سرے عام پھانسیاں دے گا۔ اسے اس طرح قتل کروا دیا جائے جیسے شیخ مجیب الرحمٰن کو باغی بنگلہ دیشی فوجیوں نے 15 اگست 1975 میں قتل کیا تھا۔
جاوید چودھری لکھتا ہے: "آج عمران خان 2018 سے بھی کئی گنا بڑا دیو بن چکا ہے اور سیاسی جماعتیں اور طاقت کے ماخذ اکٹھے ہو کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہے۔"
"یہ جیل میں بھی اس وقت کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج ہے اور اگر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن ہو گئے تو یہ دو تہائی اکثریت لے جائے گا اور اس کے بعد یہ سڑکوں اور گلیوں میں پھانسیاں دے گا اور اس وقت تک دیتا رہے گا جب تک یہ شیخ مجیب کے انجام تک نہیں پہنچتا مگر سوال یہ ہے کیا پاکستان اس وقت تک رہ جائے گا؟ میرا نہیں خیال یہ ملک اس وقت تک بچے گا۔"
میں نے عرض کیا تھا کہ صحافی نہيں ہیں۔ یہ فتنہ گر ہیں۔ فتنے پھیلاتے ہیں تا کہ زمین پر فساد پھیلے۔ فتنے کو قتل سے بڑا جرم کہا گیا ہے۔ اس طرح فتنہ گر قاتل سے بڑا مجرم بنتا ہے۔
اور جاوید چودھری ایسا فتنہ کھڑا کررہا ہے کہ جس پر عمل کیا گیا تو ہوسکتا ہے ایسا فساد پھیلے کہ ہزاروں، لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوجائیں۔
عمران خان صاحب سے غلطی ہوئی کہ ان سانپوں کو صحافی سمجھ کر آزادی دیے رکھی۔ رجب طیب اردوغان اور مہاتیر محمد کی طرح ان سانپوں کو پٹاری میں بند نہيں کیا۔
اور اب یہ فتنہ گر اس کے قتل کی تجاویز دے رہے ہیں۔