“𝐈𝐟 𝐚𝐧𝐲𝐭𝐡𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐚𝐩𝐩𝐞𝐧𝐬 𝐭𝐨 𝐦𝐞 𝐢𝐧 𝐣𝐚𝐢𝐥, 𝐀𝐬𝐢𝐦 𝐌𝐮𝐧𝐢𝐫 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐢𝐛𝐥𝐞.”
- 𝑰𝒎𝒓𝒂𝒏 𝑲𝒉𝒂𝒏
𝐅𝐨𝐫𝐦𝐞𝐫 𝐏𝐫𝐢𝐦𝐞 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐞𝐫 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐫𝐞𝐦𝐚𝐢𝐧𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐢𝐥𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 914 𝐝𝐚𝐲𝐬; 𝐢𝐧𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐜𝐚𝐝𝐨 𝐟𝐨𝐫 93 𝐝𝐚𝐲𝐬.
♦️Asim Munir’s military dictatorship regime has Imran Khan illegally incarcerated under conditions which violate United Nations’ Nelson Mandela rules:
Extended periods of complete isolation with no contact with family, lawyers or personal physicians, solitary confinement in a ‘death cell’, dirty water, suspect food, unsanitary conditions, no sunlight, no electricity, no medical aid, no books, no rights as per law♦️
🔺𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 𝐛𝐲 𝐔𝐧𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐇𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐜𝐢𝐥 @UN_HRC 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐉𝐮𝐧𝐞 𝟐𝟎𝟐𝟒 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐞𝐬:
“𝐓𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐍𝐢𝐚𝐳𝐢… 𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 and falls within categories I, II and III.
The Working Group concludes that 𝐡𝐢𝐬 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐡𝐚𝐝 𝐧𝐨 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐛𝐚𝐬𝐢𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐩𝐩𝐞𝐚𝐫𝐬 𝐭𝐨 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐛𝐞𝐞𝐧 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐧𝐝𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐝𝐢𝐬𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐟𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐫𝐮𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐨𝐟𝐟𝐢𝐜𝐞.
…Government of Pakistan to take the steps 𝐧𝐞𝐜𝐞𝐬𝐬𝐚𝐫𝐲 𝐭𝐨 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐝𝐲 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐢𝐭𝐮𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲 and bring it into conformity with the relevant international norms…
…𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 and accord him an enforceable 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐞𝐧𝐬𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐫𝐞𝐩𝐚𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬, 𝐢𝐧 𝐚𝐜𝐜𝐨𝐫𝐝𝐚𝐧𝐜𝐞 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐥𝐚𝐰.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/NsiJ7oHLIU
🔺𝐒𝐭𝐚𝐭𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐛𝐲 𝐀𝐦𝐧𝐞𝐬𝐭𝐲 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 @amnesty 𝐢𝐧 𝐒𝐞𝐩𝐭𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟒 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐞��:
“A year on from Imran Khan’s conviction and sentencing, Amnesty International has found 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐟𝐚𝐢𝐫 𝐭𝐫𝐢𝐚𝐥 𝐯𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐬𝐭𝐚𝐧𝐝𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐰𝐡𝐢𝐜𝐡 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐮𝐥𝐭𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐝𝐞𝐧𝐲𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐢𝐬 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲.
We have noted a pattern of 𝐰𝐞𝐚𝐩𝐨𝐧𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐬𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦 𝐭𝐨 𝐤𝐞𝐞𝐩 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 ��𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐰𝐚𝐲 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐚𝐥𝐥 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲.
Amnesty International calls on the Pakistani authorities to 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 from arbitrary pre-trial detention.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/jUnbKDeb4k
🔺𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐛𝐲 𝐔𝐍 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐑𝐚𝐩𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐮𝐫 𝐨𝐧 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞 @UN_SPExperts 𝐢𝐧 𝐃𝐞𝐜𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟓 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐞𝐬:
“…Imran Khan has reportedly been held for excessive periods in solitary confinement, 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 𝟐𝟑 𝐡𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚 𝐝𝐚𝐲 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐜𝐞𝐥𝐥…”
“…𝐩𝐫𝐨𝐥𝐨𝐧𝐠𝐞𝐝 𝐨𝐫 𝐢𝐧𝐝𝐞𝐟𝐢𝐧𝐢����𝐞 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐢𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐡𝐢𝐛𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐥𝐚𝐰 – and when it extends longer than 15 days, it constitutes a 𝐟𝐨𝐫𝐦 𝐨𝐟 𝐩𝐬𝐲𝐜𝐡𝐨𝐥𝐨𝐠𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞.”
“𝐊𝐡𝐚𝐧’𝐬 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐬𝐡𝐨𝐮𝐥𝐝 𝐛𝐞 𝐥𝐢𝐟𝐭𝐞𝐝 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲.”
“…Khan is 𝐧𝐨𝐭 𝐩𝐞𝐫𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐝 𝐨𝐮𝐭𝐝𝐨𝐨𝐫 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲 or interaction with other detainees and is 𝐮𝐧𝐚𝐛𝐥𝐞 𝐭𝐨 𝐣𝐨𝐢𝐧 𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐚𝐥 𝐩𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬.”
“Imran Khan is held in a 𝐬𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐜𝐞𝐥𝐥 ��𝐡��𝐭 𝐥𝐚𝐜𝐤𝐬 𝐧𝐚𝐭𝐮𝐫𝐚𝐥 𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐝𝐞𝐪𝐮𝐚𝐭𝐞 𝐯𝐞𝐧𝐭𝐢𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧. 𝐓𝐞𝐦𝐩𝐞𝐫𝐚𝐭𝐮𝐫𝐞𝐬 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐝𝐥𝐲 𝐛𝐞𝐜𝐨𝐦𝐞 𝐞𝐱𝐭𝐫𝐞𝐦𝐞 in both winter and summer… 𝐟𝐨𝐮𝐥 𝐨𝐝𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐢𝐧𝐬𝐞𝐜𝐭 𝐢𝐧𝐟𝐞𝐬𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/Zu2Tz1EO3T
#FreeImranKhan
“میں نے انتخابات سے قبل جب ہر جانب خوف کا ماحول تھا، پیشین گوئی کی تھی کہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ آج میں پھر ایک پیشین گوئی کر رہا ہوں کہ ملک میں جو ناانصافی، ظلم و فسطائیت ، لاقانونیت اور معاشی تباہی کا ماحول ہے پاکستان میں بہت تیزی سے حالات اسی جانب گامزن ہیں جو نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں ہوئے ہیں۔
میں اپنے تمام پارلیمنٹیرینز اور پارٹی ممبران کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب حقیقی اپوزیشن کرنے کا وقت ہے۔ اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنی سیاسی قبر کھودے گا کیونکہ عوام کی یہی آواز ہے۔ ہم نے مینڈیٹ چوری سمیت ہر ظلم پر قانونی راستے اختیار کر کے دیکھے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اس لیے اب ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ آپ جتنا تعاون کریں گے یہ اتنا ہی آپ کو ک��لیں گے۔ جو بھی ڈٹ کر اس نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا وہ خود اپنی سیاسی قبر کھودے گا۔
پوری قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنی توجہ پشاور کے جلسے پر مرکوز رکھیں جو 27 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ پورے ملک سے عوام اس جلسے میں شرکت کر کے ظلم کے خلاف اپنی آواز اٹھائے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
2/2
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا ف��لس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چ��زیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام ک�� ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام:
“ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی رینکنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی- لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دو��ارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
اندرونی معاملات کی طرح اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بدترین طریقے سے چلائی جا رہی ہے- افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد بہت لمبی ہے ان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ جب تک ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار نہیں ہو گی ملک میں امن نہیں آ سکتا۔ فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحف�� اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے-
ملک بھر میں گورننس کا برا حال ہے کیونکہ ہر جگہ عوام کے حقیقی نمائندگان کے بجائے فارم 47 والوں کا قبضہ ہے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی حکومت موجود ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے باعث پختونخواہ کی کارکردگی تمام صوبوں سے بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بہترین ہے۔ علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلٰی بہت اچھا کام کر رہے ہیں-
اڈیالہ جیل اس وقت قانون سے بالاتر ہے۔ جیل مینول کے برخلاف میری اپنی اہلیہ سے 90 دن میں 72 گھنٹے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو کہ میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود دو ہفتوں سے میرے بچوں سے بھی ب��ت نہیں کروانے دی جا رہی۔ پچھلے چار ماہ میں صرف چار بار بات کروائی گئی- یہاں تک کہ میری کتابیں مجھ تک پہنچنے نہیں دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق ، قانون اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔“
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے ��ارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی ��دم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا ٹیم اور وکلاء سے گفتگو!!!
اردلی حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام سے مسلسل اس لیے بھاگ رہی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ خود اسٹیبلشمنٹ نے کروایا تھا، اسٹیبلشمنٹ نے خود آگ لگا کر سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی۔ میرا عدالت سے اغواء کیا ہی اس لیے گیا تھا کیونکہ ان کو ردعمل کا اندازہ تھا اور عوام کے جذبات سے کھیل کر انہوں نے اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔ ایک پرامن احتجاج کو اپنے بندے شامل کروا کے فالس فلیگ میں تبدیل کر دیا گیا۔ نو ��ئی کی آڑ میں ہماری لیڈر شپ اور کارکنان سمیت ہزاروں لوگوں کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغواء برائے بیان کی روایت ڈال کر لوگوں سے زبردستی تحریک انصاف چھڑوائی گئی۔ ہمارے 16 افراد شہید اور 4 افراد کو معذور کر دیا گیا۔ سب ظلم ہمارے ساتھ کر کے ہم پر ہی مقدمات بنا دئیے گئے۔نو مئی کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے رچایا گیا تاکہ لوگ ڈر کر تحریک انصاف کو چھوڑ جائیں۔ نو مئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ تو 8 فروری کے انتخابات میں ہو گیا تھا جب تمام تر پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا۔ انتخابات ملتوی کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جھوٹا پروپگینڈا کر کے عوام کو تحریک انصاف سے ب�� ظن کیا جائے مگر یہ اس میں ناکام رہے۔ 26 نومبر بھی اسی مقصد کے تحت کیا گیا تاکہ نہتے پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور عوام کو ان کی آواز بلند کرنے سے روکا جا سکے۔ 26 نومبر کو ہماری کال ملک میں جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے تھی مگر اس پر سیدھے فائر کھول کر عوامی خون سے اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ رنگ لیے۔ 26 نومبر تحریک انصاف کو کچلنے کی دوسری کوشش تھی۔
کٹھ پتلی حکومت نے جمہوریت پر کاری ضربیں لگا کر عوام سے بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر چھین لیے ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پہلے آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ارشد شریف کا قتل کیا گیا، صحافیوں کو اغواء کیا گیا انکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ اب فارم 47 اسمبلی نے آزادی اظہارِ رائے پر قدغن کے لیے کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ سیاسی اختلافات کو دبانے کے لیے پیکا قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اس جعلی اسمبلی نے سوائے جمہوریت پر حملے کے قوانین منظور کرنے کے کچھ نہیں کیا پھر چاہے وہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری ہو یا پیکا ترمیمی ایکٹ۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن تھا اور ان کو یہ خوف تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی تو الیکشن فراڈ سامنے آ جائے گا۔ اپنے ذاتی فوائد کے لیے عدلیہ کی خودمختاری کو سلب کر دیا گیا ہے۔
آٹھ فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کی تیاری کی جائے۔ اس دن عوامی مینڈیٹ چھین کر 1971 کی یاد تازہ کی گئی۔ صوابی میں خیبرپختونخوا اور شمالی پنجاب کے لوگ اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔ دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے ��ہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں۔ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانی بھی اس دن اپنی آواز بلند کریں۔ اوورسیز پاکستانیوں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ ترسیلات زر کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اس حکومت نے سوائے جمہوری اقدار کی پامالی کے کچھ نہیں کیا ان کو ترسیلات زر بھیجنا ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے جو آپ کی ہی گردن دبوچ رہے ہیں۔
ہم جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔ اپنی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ دیگر جماعتوں سے اس مقصد کے تحت روابط کو تیز کریں تاکہ جلد از جلد عوام کو جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس ڈکٹیٹر شپ سے نجات مل سکے۔
عل�� امین گنڈاپور پر بطور وزیراعلٰی گورننس کا بہت دباؤ ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنید اکبر خان جو ہمارے دیرینہ ساتھی اور کارکن ہیں انکو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر منتخب کر دیا جائے اور تنظیمی امور انکے حوالے کر دئیے جائیں
“سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“مذاکرات کے حوالے سے غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی سے میری میٹنگ تک نہیں کروائی گئی- ایسا لگتا ہے جیسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے تاکہ 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام پر عوامی ری ایکشن کو کم کیا جا سکے -
26 نومبر کو پرامن شہریوں کا قتل عام کیا گیا ، انکو سیدھی گولیاں مار کر ڈی چوک میں خون سے نہلایا گیا، ہمارے کئی افراد اب تک لاپتہ ہیں ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا واقعہ ہونے کے بعد گولیاں چلانے والے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے لیکن یہ حکومت ابھی تک ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں کر پائی- جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تھرڈ امپائر کی ہوتی ہے اور صرف ایک غیرجانبدار کمیشن ہی 26 نومبر اور 9 مئی کے شہدا کو انصاف دلوا سکتا ہے اگر اس قتل عام کو دبا دیا گیا تو پاکستان میں کسی کا جان و مال محفوظ نہیں ہو گا-
میرا واضح پیغام ہے کہ اگر مذاکراتی عمل کو لے کر حکومت یونہی غیر سنجیدہ رہی اور جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو مذاکرات کو اگلی میٹنگ کے بعد روک دیا جائے۔
نو مئی کا فالس فلیگ آپریشن بھی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہی کیا گیا تھا۔ اس روز چوکیوں سے فوج اور پولیس ہٹا کر خود ہی آگ لگائی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چرا لی گئی ۔ ہم ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں ۔ ہم نے اس سلسلے میں بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا ہے۔
تین سال سے اس ملک میں آئین و قانون اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے ۔ لوگوں کے گھروں کا تقدس پامال کر کہ ان کو اغوا کیا جا رہا ہے ، تشدد اور جبر کیا جا رہا ،انکے گھر اور کاروبار تباہ کیے گئے، ہمارے ہر ٹکٹ ہولڈر کے لیے انکے حلقوں میں زندگی تنگ کر دی گئی ۔ میرا اپنا گھر دو مرتبہ توڑا گیا ۔ ہم نے اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ یہ کیس جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ ججز نے سنا مگر ڈیڑھ سال سے اسکا فیصلہ محفوظ ہے اور سنایا نہیں گیا ۔ پھر ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور سپریم کورٹ میں قاضی سے بھی رجوع کیا لیکن ان دونوں نے ہی اسٹیبلشمنٹ کے opening batsman کا کردار ادا کیا ۔
ہمارے جو بے قصور لوگ ملٹری تحویل میں رہے ان پر شدید ترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔ میری اطلاع کے مطابق 3 لڑکوں نے دوران حراست خود کشی کی کوشش کی ۔ سمیع وزیر کی حالت اس ��شدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے پہلے جو کچھ تحریک انصاف کے رہنماؤں شہباز گل ، اعظم سواتی سیمت دیگر کے ساتھ کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ظلِ شاہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا ، انتظار پنجھوتہ سے جانوروں کی طرح سلوک کیا گیا۔ یہ کونسا اصول ہے کہ جو تحریک انصاف چھوڑ دے وہ 9 مئی کے الزام سے بری ہے اور جو نہ چھوڑے اس پر ہر قسم کا تشدد اور دباو جائز ہے؟
ہمیں پاکستانی نظام عدل سے بار بار رجوع کرنے کے باوجود بھی انصاف نہیں مل سکا جسکے بعد ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ۔ پاکستان کی حکومت انسانی حقوق کو لے کر بین الاقوامی قوانین او�� معاہدوں کی پابند ہے میں نے وکلا کو ہدایت کی ہے ان معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے اور پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آواز دنیا تک پہنچائی جائے ۔
میرا اوور سیز پاکستانیوں کو بھی یہی پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا خاتمہ کر کہ جنگل کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے اسلیے آپ کی جانب سے ترسیلات زر کا بائیکاٹ بہت اہم ہے ۔ پاکستان میں مقیم آپ کے پیاروں کو بھی وہی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو آپ کو بیرون ممالک میں حاصل ہیں-
جب تمام ایجنسیوں کو ایک سیاسی جماعت کو کچلنے پر لگا دیا جائے گا پھر دہشتگردوں سے کون لڑے گا ؟ یہی ریمارکس سپریم کورٹ کے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس مندوخیل نے بھی دیے کہ خفیہ اداروں کو سیاسی انجینئرنگ پر لگا دیا گیا ہے ۔ جھوٹ بول کر ہماری حکومت پر طالبان کی آبادکاری کا الزام لگایا گیا ۔ ہماری حکومت کے دوران بلکہ حکومت خاتمے کے ایک سال بعد تک بھی دہشتگردی نے سر نہیں اٹھایا تھا یہ سب کچھ انھی کا قصور ہے جو بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ہیں ۔
ان سب تجربات کی بدولت پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے۔ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مزید 1 کروڑ 30 لاکھ افراد غربت ��ی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں ۔ عدلیہ ، نیب ، ایف آئی اے ، پولیس سمیت ہر ادارہ تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام درہم برہم ہے اور عدم استحکام عروج پر ہے۔جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا گروتھ ریٹ صفر ہو گا 1/2
“بشریٰ بی بی ایک گھریلو اور پردہ دار خاتون ہیں، اِن پر بے بنیاد اور جھوٹے کیسز صرف مجھے دباؤ میں لانے کے لئے بنائے گئے- القادر کیس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے- بشرٰی بی بی کو پہلے 3 مہینے بنی گالا میں ایک کمرے میں قید رکھا گیا، انہوں نے خود ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی کہ مجھے عام قیدیوں کی طرح جیل میں رکھا جائے۔ اڈیالہ جیل میں 9 مہینے سخت ترین قید میں رکھا گیا جس کا مقصد ہم��ں دباؤ میں لانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
بشریٰ بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپیگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔بشریٰ بی بی کے خلاف سوشل میڈیا کمپین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
اس تاثر کی سختی سے تردید کرتا ہوں کہ سنگجانی میں رکنے کے بعد مجھے رہا کرنا طے تھا۔ سنگجانی جیسے ایشوز کو اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کی بدنیتی کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ میں ساڑھے تین سال وزیرِ اعظم رہا ہوں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اسلام آباد ڈی چوک میں کارکنان کے ہمراہ پہنچ جانا بشریٰ بی بی ��ی کامیابی تھی جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں- انہوں نے میری ہدایات پر ہی عمل کیا” - سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
Former Prime Minister Imran Khan's Important Conversation with Legal Team and Representatives of Media at Adiala Jail, January 8, 2025
“Today marks six weeks since the November 26th Tragedy, and many of our people are still missing. These individuals disappeared from D-Chowk in Islamabad, not from some remote tribal area. The government has neither produced them in court nor taken any serious measures to recover them. This clearly reflects the government’s lack of seriousness regarding our demands and the negotiation process. We have formed a committee, led by Senior Lawyer Qazi Anwar, on the issue of missing persons.
We strongly demand a transparent and independent investigation into November 26th massacre, where live ammunition was fired on our people, martyring 14 and injuring 64. Instead of conducting investigations, the victims are being harassed. For instance, our 17-year-old worker, Anees Shehzad Satti, from Kotli Sattian, was martyred, and his grieving family was harassed to withdraw their case. This is similar to May 9th (2023) when bullets were fired at us, 16 of our people were martyred, and unarmed, peaceful citizens were labeled terrorists. The sanctity of their homes was desecrated, innocent people were unjustly imprisoned, and their lives were devastated. My residence was also vandalized. A transparent judicial commission to inquire into the tragedies of May 9th and November 26th is imperative. I will not let this matter be forgotten until the victims get justice!
My demands are legitimate and justified, but the government is not taking them seriously. I am not allowed to meet members of my party, which is my legal right. If the government does not form a judicial commission until the next meeting, we will discontinue the negotiation process.
I strongly condemn the campaign against Bushra Begum. Everything she’s doing is for my sake. Distractions like the Sangjani rumors are created to divert attention from the real issues. I commend Bushra Begum for reaching D-Square with party workers and supporters. I urge members of my party to raise the issue of our missing persons at every platform.
There was a plan to impose a ten-year dictatorship in Pakistan, of which two years have already passed. Judges or police officers who become a party to oppression are rewarded with promotions here. Judge Humayun Dilawar, who gave an illegal verdict against me was promoted, while judges from Rawalpindi and Sargodha, who gave fair decisions, were dismissed. Such actions have obliterated merit and rule of law in the country.
Economic progress in the country can never happen as long as the current fascist system is in place. Economic prosperity requires investment, which is impossible without institutions adhering to their boundaries and responsibilities as defined by the Constitution. Surging terrorism in the country is causing irreparable damage to the confidence of the investors. Tragically, those responsible for countering terrorism are using all their resources and energy to corner our party. It is time to rise above personal egos and temporary gains and focus on the decency and prosperity of the country”
Former Prime Minister Imran Khan's Conversation with his Lawyers and Representatives of Media at Adiala Jail
January 6, 2025
"I have witnessed all Martial Laws imposed on Pakistan during my lifetime, including those under Ayub Khan, Yahya Khan, Zia-ul-Haq, and Musharraf. The Martial Laws under Yahya Khan and Zia-ul-Haq were the worst in Pakistan's history, where democracy was completely crushed. In this regard Musharraf was relatively liberal. What is happening in the country today in the guise of democracy can only be compared to Yahya Khan's era. In order to ensure that no one raises their voice against the ruler's transgressions, the first targets in a martial law are democracy, independent judiciary, and free media. Free media is silenced because it criticises, and the judiciary's powers are curtailed because it has the authority to take action against injustices. Under the facade of a so-called democracy, all these fascist measures are in full effect today. What kind of democracy is this where the name of the chairman of Pakistan's largest and most popular political party cannot even be mentioned in the media?
As revealed by the Hamoodur Rahman Commission report, Yahya Khan destroyed the country’s system to hold on to power. The same thing is being done today. In order to save the bogus and fraudulent government produced by Forms 47, PTI is being relentlessly crushed, and democracy, rule of law, and judicial independence are being buried. Shehbaz Sharif is nothing more than a puppet and an orderly of General Asim Munir. Even Shaukat Aziz during Musharraf's era was a more powerful prime minister because, at least, elections then did not witness the level of rigging seen in February 2024. This illegitimate but fragile group propped up by the fraudulent Forms 47 is a disgrace on the name of governance.
The Al-Qadir Trust case, like previous cases, is being dragged on only to pressure me, but I demand its immediate resolution because, just as you were exposed in the Toshakhana and the Cipher cases, the same will happen now.
The Al-Qadir case is entirely baseless and lacks any merit. I did not build a 'Bilawal House' but established a welfare institution in a remote village for the future of the nation's children. I did not, and will not gain even a single Rupee from it. The Al-Qadir Trust University is a charitable institution run through public support, just like Shaukat Khanum Cancer Hospitals and Namal University.
I want to make it very clear that I will not seek an NRO (National Reconciliation Ordinance) like Nawaz Sharif and Zardari did. I will fight my cases in the courts.
Bushra Khan has no contact with anyone. This is mere propaganda. Our negotiation committee is handling these matters. It has been six weeks since the Islamabad massacre, yet the government has made no progress in retrieving our missing persons. This highlights the government's lack of seriousness in conducting successful negotiations.
Pakistan's economy is at its worst. The growth rate is zero. Artificially controlling the exchange rate of the Dollar is not an economic achievement. Development in a country only comes through investment, and investment never comes to a country where there is no rule of law, courts are not independent, terrorism is prevalent, and genuine public representatives are in jails instead of in government. Such a country can never progress."
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عزیز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہ��رے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
القادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“
@__am1na @ImranKhanPTI Nii kuwait to rsty m ee reh gya howa main 2 maah sy Ghoom rha hn filhal aBhi Cambodia main hoon next month inShAllaH wapisi haii...