یہ لانگ مارچ گورنر راج یا ایمرجنسی کے زریعے روک بھی دیا جائے تو کسی دوسری شکل میں سامنے آجائے گا
وہ دوسری شکل مٹا دی گئی تو کوئی اور روپ سڑکیں بھروا دے گا گورنر راج اور ایمرجنسی تو آج کی بات ہے اس سے پہلے کیا کچھ نہیں ہوچکا
حبیب اکرم کو سنیں
سہیل آفریدی کا قافلہ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا ہے ان علاقوں میں کافی عرصے سے عصر یا مغرب کے بعد سڑک پر سفر محال ہے لیکن چار اکتوبر کی رات کے وقت اس قافلے کا کرک پہنچنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اگر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کام کریں تو ان علاقوں میں امن بحال کرنا کوئی مشکل نہیں ہے
اسد طور کی خبر کے مطابق پاکستانی میڈیا کی تو کوئی ساکھ ہی نہیں ہے۔ ہماری خبر کوئی نہیں مانتا۔ لیکن یہ بین الاقومی میڈیا AFP فرانس کی جانی مانی نیوز ایجنسی ہے اسکی رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ ہزراوں کا مجمع ہے ۔اور یہ صرف ایک شہر کرک کے لوگ ہیں ۔
ایک طرف سہیل آفریدی کھل کر کھیل رہا ہے دوسری طرف سندھ میں علیم عادل شیخ پیپلز پارٹی کو دفن کرنے میں مصروف ہے
ہر طرف خان کے کھلاڑیوں نے میدان لگایا ہوا ہے
.............
سندھ کی طرف سے کل تک لانگ مارچ کرانے کا اعلان کرنا چاہئے
ان نوجوانوں کے جوش و جذبے کو مثبت سمت دینے کی ضرورت ہے ان سب نوجوانوں کو ایک بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کرنا اور انکے حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے وفاق اور صوبہ مل کر ان نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ کریں اور نوجوان بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں