امید سحر مریم نوازشریف صاحبہ کا بہت شکریہ جنہوں نے مجھ نا چیز ادنی سے کارکن کو فالو بیک کر کے جو حوصلہ افزائی کی میں بے حد مشکور ہوں
@aftabniazi007@Shamylaroy@RiazKamran15
یوتھیے پاکستان دشمنی میں اتنے اگے جاچکے ہیں کہ یہ لوگ پہلے بھارت کے ہمدرد بنے، پھر افغانستان کے گن گانے لگے۔ اب یہ دشمنی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ یہ سرِعام TTP، BLA اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گردوں کے سہولت کار بن چکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب یہ پورا یوتھڑ طبقہ راتوں رات کشمیری بن کر آزاد کشمیر میں لاقانونیت اور فتنہ انگیزی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اس کھلی لاقانونیت کا براہِ راست فائدہ صرف ہندوستان اور اسرائیل کو پہنچ رہا ہے، اور یقیناً ان کے تانے بانے وہیں سے ملنے والی فنڈنگ سے جڑے ہیں اور پی ٹی ائی کو بھی فنڈنگ ان دو ممالک کے شہری دیتے ہیں
#Indian_Action_Committee
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے شروع کی گئی" ایئر ایمبولینس سروس" عوام کیلئے امید کی کرن بن رہی ہے،
میانوالی کی زخمی خاتون کی بروقت لاہور منتقلی،اہلخانہ وزیراعلیٰ پنجاب کا شکر گزار ،
سوشل میڈیا ھیڈ مسلم لیگ ن سردارصفدر خان لغاری مرحوم کے
قل شریف پر دعا کیلئے ان کے والد محترم سردار اظہر خان لغاری رکن قومی اسمبلی کے پاس موجود
مشیر وزیر اعلی پنجاب ذیشان ملک
رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر نور خان نیازی
وزیر اعلی پنجاب کے فوکل پرسنز بلال رضوان عزیر کیانی
سابق سوشل میڈیا ھیڈ عاطف روف
سینٹرل آگنائزر سوشل میڈیا ونگ
آفتاب نیازی
صدر پنجاب سوشل میڈیا ٹیم کاشف صابر خان ۔
ڈویژنل صدر یوتھ میڈیا ٹیم بہاولپور ایڈوکیٹ چوھدری صبور
ڈسٹرکٹ جنرل سیکرٹری یوتھ میڈیا ٹیم لاھور بابر بشیر
اور دیگر سوشل میڈیا پر کام کرنے والے ساتھ ۔
اناللہ وانا الہ راجعون
اللہ کریم صفدر بھائی کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔ آمین
@MaryamNSharif@ZeshanMalick@Atifrauf79@KashifSabir@BilalRixwan1@Uzair_Kayani18@SaboorCh3@babar_pmln2
برصغیر کی تقسیم اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے آغاز سے ہی یہ اصول طے تھا کہ جو کشمیری بھارتی جبر و استبداد کے نتیجے میں ہجرت کر کے پاکستان یا آزاد کشمیر آئے، وہ اور ان کی نسلیں ریاست جموں و کشمیر کے مستقل اور قانونی باشندے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان لاکھوں مہاجرین کو آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں کے ذریعے سیاسی نمائندگی دی گئی تاکہ عالمی فورمز پر ان کا کشمیر کا رشتہ اور حقِ خودارادیت ہمیشہ زندہ رہے۔ یہ نشستیں محض کوئی سیاسی ریوڑیاں یا عام انتخابی سیٹیں نہیں ہیں بلکہ یہ تنازعِ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے اصل حقِ ملکیت کی آئینی علامت ہیں جنہیں کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی طور پر یہ کشمیری مہاجرین بنیادی طور پر 1947-48 کی پہلی جنگ اور پھر کچھ خاندان 1965 کے معرکے کے دوران بھارتی جبر اور قتلِ عام سے جانیں بچا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے، جن کا تعلق بنیادی طور پر مقبوضہ جموں ڈویژن کے علاقوں پونچھ، ، جموں شہر، کٹھوعہ اور ریاسی کے علاوہ وادیِ کشمیر کے اضلاع جیسے سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ اور کپواڑہ سے تھا۔ حکومتِ پاکستان نے ان پناہ گزینوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کے بڑے شہروں خصوصاً راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، کراچی اور پشاور میں باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں آباد کیا جہاں آج ان کی تیسری اور چوتھی نسل مقیم ہے۔ آج جب مودی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35A کا خاتمہ کر کے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت چھین لی ہے اور پورے ہندوستان کے شہریوں کو کشمیر میں جائیدادیں، نوکریاں اور ڈومیسائل دے کر وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کا بھیانک کھیل شروع کر رکھا ہے، تو ایسے نازک وقت میں پاکستان کے اندر مقیم ان حقیقی کشمیریوں کی نمائندگی ختم کرنے کا مطالبہ کرنا براہِ راست نئی دہلی کے موقف کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ہندوستان کا تو شروع سے یہ خواب رہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں موجود کشمیری مہاجرین کا ناطہ ان کی دھرتی سے توڑ دے تاکہ کل کلاں جب عالمی سطح پر رائے شماری یا حقِ خودارادیت کا موقع آئے، تو ہندوستان دنیا کے سامنے یہ عذر پیش کر سکے کہ یہ لاکھوں کشمیری تو اب مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بن کر اپنی شناخت کھو چکے ہیں اور ان کا جموں و کشمیر کی سیاست یا مستقبل سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے قوانین کے تحت آج بھی کوئی عام پاکستانی شہری آزاد کشمیر میں نہ جائیداد خرید سکتا ہے اور نہ وہاں کا ڈومیسائل بنوا سکتا ہے، یعنی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یہاں مکمل تحفظ حاصل ہے، لیکن دوسری طرف ہمارے اندر سے ہی کچھ ہندوستانی ایجنٹوں کی آوازیں ان حقیقی کشمیریوں کی شناخت مٹانے کے لیے اٹھ رہی ہیں جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا۔ کشمیری مہاجرین کی ان 12 نشستوں پر حملہ دراصل حقِ خودارادیت کی بنیاد پر حملہ ہے کیونکہ اگر ان اصل آبائی علاقوں کی نمائندگی کرنے والے باشندوں کی سیاسی شناخت ہی ختم کر دی گئی تو کشمیر کاز کا مقدمہ کمزور پڑ جائے گا، اس لیے ان نشستوں کا تحفظ ہر اس شخص کا فرض ہے جو کشمیر کی آزادی اور شہداء کے خون کے ساتھ وفادار ہے۔
#Indian_Action_Committee
راولاکوٹ CMH پر حملہ اور پولیس و ایف سی کے جوانوں پر سیدھی فائرنگ حقوق کی تحریک نہیں، بلکہ خالصتاً دہشتگردی ہے! 3 پولیس جوانوں اور 1 ایف سی اہلکار کی شہادت پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ 24 سے زائد زخمی جوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ غنڈے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خون بہانے آئے تھے۔ جب ہسپتالوں اور محافظوں پر حملے شروع ہو جائیں، تو وہ تحریک نہیں بلکہ "فتنۂ ہند" کی پراکسی بن جاتی ہے۔ اب ان قاتلوں کے خلاف بلاامتیاز اور عبرت ناک ایکشن وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے!
مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ہیڈ اور ایم این اے اظہر لغاری صاحب کے نوجوان فرزند صفدر لغاری کے انتقال پر دلی دکھ ہوا۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں اظہر لغاری صاحب اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین