@IrshadBhatti336 پٹی صاب، آپ بھی شکر ادا کریں کہ آپ پاکستان میں تھے اور اپ کی لاٹری لگ گئی تھی ورنہ آپ بھی ساری زندگی ایک ڈلیوری بوائے ہی رہتے اور کیک ھی گفٹس دلیور کرتے رہتے۔
@faheemgohar1 بٹ صاحب، ان بے شرم لوگوں کے ضمیر مر چکے ہیں ان کو ایسی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، مردہ ضمیر لوگ فقط اپنی ذات کے لئے جیتے ہیں اس کے لئے چاہے اپنی ماں یا اپنے باپ کو بیچنا پڑے یہ لوگ گریز نہیں کرتے۔
امریکہ سے خبر آئی ہے۔ انھیں ایک خاتون سمیت پانچ پاکستانی افراد کی تلاش ہے۔ جنہوں نے ایک پیچیدہ فراڈ سکیم کے ذریعے امریکی نظام صحت سے چار سو ملین ڈالر سے زیادہ رقم حاصل کی. ادویات اور طبی آلات ںیچنے والی فرضی کمپنیاں بھی بنا رکھی تھیں. فون کال اور انٹرنیٹ سے لوگوں کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتے تھے. پھر مصنوعی ذہانت سے ان کی آواز نقل کر کے ان کی طرف سے ٹیلیفون پر رضامندی اور اجازت کی ریکارڈنگ بناتے تھے. کلیم تو سات سو ملین ڈالر سے زیادہ کے تھے لیکن چارسو سے زیادہ کی ادائیگی بھی ہوچکی تھی-
سب سے خطرناک بات فی الحال یہ لگ رہی ہے کہ ہماری آواز اور تصویر سے کوئی بھی ویڈیو بنا کر چلائی جاسکتی ہے. اور ملک عزیز میں اپنی صفائی دینے سے پہلے ہی بندہ مارا جاسکتا ہے.
ثناء اللہ گوندل
میاں دائود ایڈووکیٹ صاحب پر بھی اللہ تعالٰی نے بطور وکیل کوئی خاص ہی کرم کیا ہوا ہے، ہر ایسا تنازع یا مقدمہ جس کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں ہوتا، اس کو میاں دائود ایڈووکیٹ بہترین طریقے سے حل کر دیتے ہیں، اب دیکھیں نا کہ پورے ملک میں صحافیوں کو اور دیگر شخصیات کو سائبر کرائم ایجنسی کی طرف سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے طلبی کے نوٹسز جاری ہو رہے ہیں لیکن کسی ہائیکورٹ سے ان نوٹسز کیخلاف حکم امتناعی یعنی ریلیف نہیں مل رہا لیکن سینئر صحافی عمران شفقت صاحب کے کیس میں میاں دائود ایڈووکیٹ نے کیس ہی ایسا تیار کیا کہ خود NCCIA کو عدالت میں یہ کہنا پڑا کہ ہم سے ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ صحافی کیخلاف شکایت سننے کا اختیار ہے یا نہیں اور درخواست سے کوئی قابل دست اندازی یا ناقابل دست اندازی جرم ظاہر ہوتا ہے یا نہیں جس پر لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے پوری کی پوری انکوائری ہی معطل کر دی ہے۔
اللہ رب العالمین کا واقعی میاں دائود ایڈووکیٹ صاحب پر فضل کریم ہے، مظاہر نقوی کا کیس ہو یا طارق جہانگیری کا، اینکر ریحان طارق کا کیس ہو یا پھر کوئی اور مشکل سے مشکل، پیچیدہ سے پیچیدہ کیس میں بھی کامیابی ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
پنجاب کے وزیر بیت المال سہیل شوکت بٹ کے ہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ریڈ ۔ اطلاعات کے مطابق یہ ریڈ منشیات کی برآمدگی کے لئے ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ریڈ صوبائی وزیر کے عزیزوں کے ہاں کی گئی تاہم وہ اپنے رشتہ داروں کی حمایت پراتر آئے ۔