جس سسٹم کی تباہی کا اعلان ڈی جے اور محسن نقوی آج کر رہے ہیں، اس سسٹم کی تباہی کی نشاندہی چاچا نے پہلے ہی کر دی تھی۔
لعنت ہے تجربہ کارووں پہ اور انھیں مسلط کرنے والوں پہ ایک چاچا تم سے ذیادہ سیانا نکلا۔
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی خودکشی کی کوشش۔
20 گولڈ میڈل اور نو چاندی اور براؤن میڈل لینے والی سونیا فاروق نے خودکشی کی کوشش کیوں کی.
پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مجھے جنسی تعلقات بنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ سونیا فاروق ۔
ہاسٹل میں سوتے ہوئے ہماری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور اسے استعمال کر کے ہمیں بلیک میل کیا جاتا ہے ثمرا بشیر
میں نے اس نا انصافی اور اس ظلم کے خلاف تین بار درخواست جمع کروائی مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ثمرا بشیر
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہم لڑکیوں کو رات کے ڈیڑھ بجے ہوسٹل سے نکال دیا۔
ثمرا بشیر
🚨ن لیگی صحافی انیق ناجی نے دھو کر رکھ دیا بغیر سرف ایکسل کے
جیل میں بیٹھا ہوا ایک شخص جس نے اس سسٹم کو گردن سے پکڑا ہوا ہے اور سسٹم تھر تھر کانپ رہا ہے۔ انہوں نے ایک سٹروک کھیلا ہے ہر طرف panic ہے ہکے بکے ہوگئے ہیں
کرکٹ کا ستیاناس “ بلوچستان کا ستیاناس “ کشمیر کا ستیاناس “ اسلام آباد کا ستیاناس “ خیبرپختونخوا کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے
بلوچستان میں لاشیں گر رہی تھی موصوف نیویارک میں وزیر خارجہ بن کر گھوم رہے تھے منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے استعفی دو گھر جاو
محسن نقوی صاحب، پاکستان کو بنے ہوئے اتنے سال ہو گئے ہیں، آج بھی ہم وہی باتیں کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس حل ہے۔ بزنس کمیونٹی عزت مانگ رہی ہے، اس کو عزت دلوائیں۔ ہمیں روز گرفتار کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔، ایس ایم تنویر
جنرل باجوہ نے چار سال پہلے عمران خان کی حکومت یہ کہہ کر گرائی کہ “تجربہ کار لوگ” آ رہے ہیں ۔ پھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ “جس دن نئی حکومت آئی اس دن اسٹاک مارکیٹ اوپر گئی۔”
آج چار سال بعد فیلڈ مارشل کا سالا محسن نقوی قوم کو بتا رہا ہے کہ”آپ مانے یا نہ مانے یہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔”
تو کوئی عاصم منیر کے سالے سے پوچھے، یہ وہی “تجربہ کار” لوگ نہیں تھے؟ یہی تو اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ نظام تھا، جسے بچانے اور مسلط رکھنے کے لیے چار سال تک ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا راستہ روکا گیا، قانون بدلے گئے، آئینی تبدیلیاں کی گئیں، عدالتیں مینج کی گئیں تاکہ عوامی انتخاب کا راستہ روکا جا سکے۔
اب چار سال بعد معلوم ہوا کہ سسٹم تباہ ہو گیا؟ یعنی یہ سسٹم “نظام” مسلط بھی خود کیا، چلایا بھی خود، اور اب اس کی تباہی کا رونا بھی خود ہی رو رہے ہیں۔
یہ تو عمیری والا سین لگتا ہے؛ پہلے فوج اور حکومت نشے میں دھت ہو کر غلط کاری کرتے رہے ، اب جب نیفے میں پستول چلنے کا ڈر ہے تو توبہ سوجھ رہی ہے😝
یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں حکومتی صدر گورنر کی سینٹ چیرمین کی ہارٹی خود کہہ رہی ہے کہ الیکشن ہنجاب کا پی ٹی آی جیتی اور ن لیک کے رہنما کہہ رہیں ہیں کہ سندھ میں پی ٹی آی جیتی۔۔۔۔سرعام تسلیم کر رہیں کے فون آے
محمد مالک: پھر تو پی ٹی آئی کا بیانیہ ہی سچ ثابت ہو رہا ہے پورا الیکشن ہی چوری شدہ تھا۔
افنان اللہ: اگر ہمارا الیکشن چوری کا تھا تو پھر پیپلز پارٹی کی بھی ساری نشستیں چوری شدہ ہوئیں۔ کراچی سے تو پیپلز پارٹی ایک نشست بھی نہیں جیتی۔
محمد مالک: اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ آپ خود بھی مان رہے ہیں کہ پورا الیکشن ہی چوری شدہ تھا۔