سعودیہ نے اسی ہفتے تیل کی فئ بیرل قیمت گیارہ ڈالر کم کی ہے کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا مگر شہباز شریف حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر چودہ روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا ہے پاکستان پہلے بھی سستے تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچا رہا تھا
شہباز شریف عوام دشمن اور الیٹ نواز ہیں
سعودیہ نے اسی ہفتے آئل فی بیرل 11 ڈالر قیمت کم کی، کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا ھے۔
لیکن ہماری حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر تقریبا 14روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا۔ حالانکہ پاکستان میں پہلے ہی تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچ رہاھے۔
اب اسکو ہم کیسے ڈیفینڈ کرے؟
عالمی مارکیٹ میں جب تیل کی قیمت 79 ڈالرز فی بیرل تھی تو پیٹرول کی قیمت 299 روپے فی لیٹر کی گئی آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 75 ڈالرز فی بیرل ہے تو قیمت میں 14 روپے کا اضافہ کردیا گیا مگر جب قیمت 72 ڈالرز فی بیرل تھی تو قیمت کم نہیں کی گئی تھی۔مبارک ہو
سوموار کو ایران نے قطر “ سعودی جہازوں پر حملہ کیا منگل آلے دیہاڑے امریکہ نے حملہ کیا اور پاکستان میں پہلے سے پڑے اسٹاک کو مہنگا کر دیا گیا
موٹروے جی ٹی روڈ کا ٹول اس ہفتے بڑھا دیا
سابق ارکان پارلیمنٹ کو نیلا پاسپورٹ بھی مل جائے گا
سانوں وڈا شریف ای ٹھیک سی پائن
پٹرول کی قیمتیں پورا ایک ماہ سے ذیادہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رھیں لیکن اس حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے نہیں پہنچایا ،عوام انتظار کرتی رھی لیکن یہ انتظار کوئی ریلیف کی خبر نا لایا،اب جب جنگ شروع ھوئے دو ھی دن ھوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ،اس بڑھوتری کا دفاع ھم سے نا ھوپائے گا۔معذرت
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
خبر کے مطابق پیٹرول 13 روپے اور ڈیزل 14 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ منظوری وزیراعظم دیں گے.
کئی ہفتوں سے جنگ بندی تھی عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتیں مسلسل گر گئی تھیں مگر پاکستان میں سستا تیل پہنچنے میں 'کئی سال' لگنے تھے کیونکہ سنگاپور کا پلیٹس انڈیکس اتنا ہی سست تھا جتنی پاکستان کی معیشت ۔۔۔۔ لیکن اب صرف دو تین دن سے امریکہ ایران حملے ہوئے ہیں اور مہنگا تیل فٹافٹ پاکستان پہنچ گیا ہے اور سنگاپور کے پلیٹس انڈیکس کو بھی دوڑیں لگ گئیں ہیں ۔۔۔۔
دنیابھرکے قوانین میں شاید ھی کوئی ایسا اصول ھوکہ معمولی سی حدعبور کرنے پر معاشی قتل کی اچانک بھیانک سزاکئی گنا زیادہ بڑھاکر صارف پر زبردستی تھوپ دی جائےبجلی کےبلوں میں200یونٹ سے صرف ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال ھونے پرصارف پراضافی بوجھ ڈال کرقیامت ڈال دی جاتی ھےایسی مثال دنیا بھر
مبارک ہو چاچو کی حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر ملک بھر میں ہائی وے پر ٹول بڑھا دیا ہے اراکین اسمبلی کا تو مفت ہو چکا عام بندوں کے لئے اب عام سڑک کا ہر ٹول 100 روپے ہیں پشاور اسلام آباد کا اب سات سو روپے ہے
آپ کو مزہ تو آ رہا ہو گا ان پتھروں کا ؟
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
صحافت کا مقصد معاشرے کی اصلاح اور سچائی کی ترویج ہے، نہ کہ ریٹنگ اور ویوز کی بھوک میں انتشار پھیلانا۔ ریحان طارق کی گرفتاری قانون کی بالادستی کا واضح پیغام ہے کہ قومی استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، کوئی بھی 'مقدس گائے' نہیں۔ ⚖️🇵🇰
اب راتوں رات مہنگا پیٹرول پاکستان پہنچ جائے گا اور حکومت سستا خریدا تیل بھی مہنگا بیچے گی پانچ فیصد قیمت بڑھی یہ پاکستان میں پچاس فیصد بڑھا دیں گے نا کوئی کمیٹی بیٹھے گی نا سوچ بچار ہو گا
سستا کرتے موت پڑ جاتی ہے
ریحان طارق کی گرفتاری نے واضح کر دیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ اشتعال انگیز پروپیگنڈا اور مذہبی منافرت پھیلانے پر گرفتاری دراصل اس زہریلے کلچر کی گرفتاری ہے جو ویوز کے لیے معاشرے میں نفرت اور انتشار پھیلاتا رہا۔
اب نہ کوئی مقدس گائے ہے اور نہ ہی کوئی شخص قانون سے بالاتر۔
سوچیں جس کا والد اور جو موجودہ روحانی لیڈر وہ مجتبی خامنہ ای، والد کے جنازے پر اسرائیل کی دھمکی کے خوف سے شریک نہی ہوا جبکہ پاکستان والے وزیراعظم فیلڈ مارشل اسحاق ڈار سپیکر چیئرمین سینٹ بلاول بھٹی اسحاق ڈار سب جنازے میں پہنچے ہوئے
پاکستان تو نہی ڈرتا ہے
یہ ہمارے سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں، ان جاہلوں کو ہماری عوام فالو کرتی ہے۔ جو بچے ان کو فالو کرتے ہیں، وہ اپنی تربیت کا ستیاناس کر رہے ہیں۔والدین کو سوچنا ہوگا۔۔اپنے بچوں کو ان سے دور رکھیں
میں ہزارہ، ترک النسل پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے اجداد کے نسلی ورثے میں منگول اور ترک دونوں عناصر شامل تھے۔ تاریخی طور پر، وسطی ایشیا میں ترک ان اقوام میں شامل تھے جنہوں نے آٹھویں صدی میں اسلام قبول کیا اور شافعی مسلک اپنایا۔ مسلکی اعتبار سے میرے اجداد ابتدا میں آرتھوڈاکس سنی مسلمان تھے۔ سترہویں صدی کے اواخر میں خاص صفوی دور میں کچھ گروہ شیعہ مسلمان ہوئے، جن میں اثنا عشری اور اسماعیلی شیعہ شامل تھے۔ تاہم آج بھی ہزارہ قوم کا ایک بڑا حصہ، تقریباً پینتیس فیصد، سنی مسلمان ہے۔
میرا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جب ہمارے اجداد کے کچھ گروہوں نے اپنا مسلک تبدیل کیا، جو اس وقت مالکیوں اور شافعیوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات کے پس منظر میں ہوا، تو شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ نئے مسلک میں داخل ہونے کے ساتھ اپنے الگ چیلنجز بھی ہوں گے۔ برصغیر پاک و ہند میں جس نوعیت کا مسلکی تناؤ دیکھا جاتا ہے، وہ ہماری کمیونٹی میں نائن الیون سے پہلے بھی تقریباً ناپید تھا۔ ہمارے ہاں کسی صحابی کو گالی دینا، ان کی توہین کرنا یا دشنام طرازی کرنا سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے پر آج بھی ہزارہ قوم، بشمول مذہبی علما، کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔
ہماری قوم میں شیعہ ہزارہ اور سنی ہزارہ کی شناخت سے زیادہ تبار، رشتہ داری اور بھائی چارے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ایک شیعہ ہزارہ اور ایک سنی ہزارہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو کوئی ان کی الگ شناخت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ تعلق فرقے سے زیادہ بھائی بندی کا ہے۔
میں ورجینیا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہزارہ بچوں میں سے کچھ نماز شیعہ مسجد میں پڑھتے ہیں، قرأت سنی مسجد میں سیکھتے ہیں، اور ان کی فیملیز کو اس سے کسی قسم کا مسئلہ نہیں۔ یہی وہ سماجی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔
میرے مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ایک مذہبی شعر لکھا تھا، جو کچھ یوں تھا:
اگر شفقتِ رسولِ خدا نمیبود،
صداقتِ ابوبکر رضیالله تعالی نمیبود،
شجاعتِ علی شیرِ خدا نمیبود،
سخاوتِ عثمان رضیالله تعالی نمیبود،
دولتِ خدیجتہ الکبری نمیبود،
سیاستِ عمر رضیالله تعالی نمیبود،
اسلام هیچ در این دنیا نمیبود۔
یعنی اگر رسولِ خدا ﷺ کی شفقت نہ ہوتی، حضرت ابوبکرؓ کی صداقت نہ ہوتی، حضرت علیؓ کی شجاعت نہ ہوتی، حضرت عثمانؓ کی سخاوت نہ ہوتی، حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی دولت نہ ہوتی، اور حضرت عمرؓ کی سیاسی بصیرت نہ ہوتی، تو آج اسلام اس دنیا میں موجود نہ ہوتا۔
ایران کو کھیر ہضم نہیں ہو رہی ہے
جمعرات کو آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحلی پانیوں میں فسادی پاسداران نے ایک جہاز پر حملہ کیا امن معائدے و سیز فائر کی خلاف ورزی کی پھر ردعمل میں امریکہ نے بھی ٹھوک دیا
ثالثی کروانے والوں کو انہیں شٹ اپ کال دینی چائیے پینچود کل بھی پیٹرول سستا نہیں ہوا اب یہ اپنا رنڈی رونا دوبارہ سے شروع کر بیٹھے ہیں