@sajidusmani787 پاکستان میں 50٪ خواتین خود ڈاکٹر سے کہلوا کر اپنا آپریشن کرواتی ہے درد سے بچنے کے لئیے اور باقی خواتین کا ڈاکٹر ڈرا کر کر دیتی ۔وجہ یہ ہے کہ لیڈی ڈاکٹر تک مرد کی رسائی نہیں ہوتی اور خواتین لیڈی ڈاکٹر کو اعتماد میں لے کر ساس یا خاوند کو کہلوا دیتی کہ معاملہ سیریس ہے آپریشن ہو گا
بھارتی ایئر چیف اے پی سنگھ بھارت کے واحد ایئر چیف تھے جنہیں 5 ہزار گھنٹے سے زائد پرواز کا تجربہ حاصل تھا۔ وہ دو سال ایک ماہ تک بھارتی فضائیہ کے سربراہ رہے اور آپریشن سندور کے دوران بھی اسی عہدے پر فائز تھے۔
گزشتہ روز ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی فضائیہ کی کمان ایئر چیف مارشل اشوتوش ڈکشٹ کے سپرد کر دی گئی۔
بھارتی فضائیہ کی روایت رہی ہے کہ ریٹائر ہونے والے ایئر چیف مارشل کے اعزاز میں الوداعی دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن اے پی سنگھ بھارت کے پہلے ایئر چیف ہیں جنہیں فیئر ویل پارٹی تو دور، الوداعی چائے کی دعوت دینا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں اس جگہ کو ہی تالے لگا دیے گئے جہاں روایتی طور پر یہ الوداعی تقریب منعقد ہوتی تھی۔
اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ کی کارکردگی نے اس کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا؟ بھارتی میڈیا، مودی، راج ناتھ اور امیت شاہ چاہے جتنے بڑھکیں مار لیں، حقیقت سے وہ بھی واقف ہیں اور پوری دنیا بھی کہ آپریشن سندور میں پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کے رافیل طیاروں کو دھول چٹائی۔ اسی ناکامی کا غصہ اے پی سنگھ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر اس پر نکالا گیا۔
#PlaneCrash
کہانی ہے پاکستان کے علاقے کلر کہار کے رہائشی ایک نوجوان نبیل اعوان اور اٹلی کی دوشیزہ ارورا وولپ کی، جو قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم ہونے کے باوجود دل کی گہرائیوں سے ایک دوسرے کے جڑے ہوئے ہیں۔
آج سے چھ سال قبل سوشل میڈیا کی دنیا میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اگرچہ ان کی زبانیں الگ تھیں اور وہ بول یا سن نہیں سکتے تھے، لیکن اشاروں کی زبان نے وہ تمام فاصلے مٹا دیے جو سرحدیں حائل کرتی ہیں۔ چھ سال کا یہ طویل عرصہ اس بات کا گواہ بن گیا کہ محبت کو پروان چڑھنے کے لیے آواز کی نہیں، صرف خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب ارورا وولپ نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا اور لاہور ایئرپورٹ پر نبیل کو اپنے استقبال کے لیے پھولوں کے ساتھ دیکھا، تو طویل جدائی کی تمام تھکن ایک ہی لمحے میں کافور ہو گئی۔ نبیل اور ارورا کے گلے ملنے کا وہ جذباتی منظر دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی نم کر گیا۔
قانونی کارروائی اور کورٹ میرج کے بعد، کلر کہار میں ان کی شادی اور ولیمے کی شاندار تقریبات منعقد ہوئیں۔ اس خاص دن پر اطالوی دلہن ارورا نے پاکستانی روایتی لباس پہن کر مقامی ثقافت سے اپنی محبت کا انوکھا اظہار کیا۔
نبیل اور ارورا کا یہ انوکھا رشتہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سچی محبت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے لیے بس ایک دوسرے کو سمجھنے والا دل درکار ہوتا ہے۔
पैर का बीच वाला हिस्सा जमीन को क्यों नहीं छूता?
Foot Arch का राज़!
• क्या आपने कभी ध्यान दिया चलते समय पैर का बीच वाला हिस्सा जमीन को छूता ही नहीं? छोटा-सा Foot Arch हमारे शरीर का अद्भुत प्राकृतिक स्प्रिंग है।
• यह दौड़ते और चलते समय झटकों को सोखता है, घुटनों और रीढ़ पर दबाव कम करता है और हर अगले कदम के लिए ऊर्जा लौटाता है।
• दिलचस्प बात: नवजात बच्चों के पैर सपाट होते हैं - यह आर्च धीरे-धीरे 6 से 8 साल में विकसित होता है।
• तंजानिया में मिले 36 लाख साल पुराने पैरों के निशान बताते हैं - इसी संरचना ने इंसानों को लंबी दूरी तक चलने-दौड़ने में मदद की।
हर एक कदम में छिपा है साइंस का बड़ा राज़!
#FootArch #HumanBody #ScienceFacts #HumanEvolution #Anatomy #KnowledgeUniverse #BioVisionX
اصل اوقات کیا ہے۔
ایک دفعہ پنجاب کے ایک بہت بڑے زمیندار کے گھر پر فنکشن تھا۔ غالباً زمیندار صاحب کے بیٹے کی شادی تھی۔ مجھ سمیت کئی دوسرے فنکاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جس کو بھی بلایا وہ پہنچا کہ پیسہ منہ مانگا دیا جا رہا تھا۔ کئی چھوٹی موٹی اپوائنٹمنٹ چوہدری صاحب کی فنکشن میں شرکت کے لیۓ کینسل کی گیئں۔ سب کو پیسہ ہی اتنا بھرپور مل رہا تھا۔ بہرحال پورا طائفہ چوہدری صاحب کے ہاں پہنچ گیا۔ فنکشن فیصل آباد کے علاقے میں ایک گاؤں میں زمیندار صاحب کی قلعہ نما حویلی میں تھا۔ وہاں جاتے ہوئے جو تھوڑے بہت خدشات تھے وہ اس وقت دور ہوگئے جب چوہدری صاحب بہ نفس نفیس ہمارے استقبال کے لیئے آئے۔ حویلی کے ہی ایک سیکشن کی بالائی منزل پر ہمارے قیام کا اس قدر شاندار بندوست کیا گیا کہ کیا کسی فائیو سٹار ہوٹل میں ہوگا۔ رات فنکشن پر بھی بہت سی سیاسی اور سماجی شخصیات مدعو تھیں جن کے سامنے گا کر ہمیں خود اپنی عزت و احترام کا مزید احساس اجاگر ہوا۔ زمیندار صاحب کے کارندوں نے بھی ہماری آؤبھگت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ رات گئے فنکشن ختم ہونے کے بعد جب ہم سونے کے لیئے گئے تو ہم خود اپنی نظروں میں پہلے سے کہیں زیادہ قدآور ہو چکے تھے۔
میری آنکھ علی الصبح کھل گئی۔ میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا اور باہر کے دل فریب منظر کا نظاہ کرنے وہیں کھڑا ہو گیا ۔ گاؤں والے تو سحر خیزی کے عادی ہوتے ہیں ۔ باہر بہت سے لوگ رات کے فنکشن کا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے۔ میں انہیں دیکھ ہی رہا تھا کہ دوسری جانب سے چوہدری صاحب بہ نفس نفیس خود ہاتھ میں ایک سٹک تھامے آتے نظر آئے۔ غالباً باغیچے میں مارننگ واک سے واپس آ رہے تھے ۔ میں اس منظر سے محظوظ ہی ہو رہا تھا کہ چوہدری صاحب کی آواز سنائی دی:
“اوئے رحمان ! کنجراں دے چاہ ناشتے دا انتظام تے ٹھیک ہوگیا نا؟”
جواب سنائی دیا: “جی چوہدری صاحب۔ تساں فکر نہ کرو کوئی شکایت دا موقع نہ مل سی”
اور پھر چوہدری صاحب نے جو ہم کنجروں کے لیے کافی فکر مند تھے مزید تاکید کرتے ہوۓ فرمایا: “ہاں بھئی، اے کنجر ہمارے مہمان نے ؛ تے میرے پتر دی شادی تے آئے نے … خوش خوش واپس جانے چاہی دے نے”
تو یہ تھی ہماری عزت ان کی نظر میں … ہمیں ڈھیروں پیسہ ملا۔ آؤ بھگت بھی بہت ہوئی جو شاید وہاں کی ریت تھی … لیکن انکی نظروں میں ہم فقط کنجر ہی تھے۔
شہزاد رائے
یہ ہیں زمین پر سوئے فرشتے۔۔۔۔۔
چین میں ایک مریض کے دماغ میں دو رسولیاں تھیں۔ بچنے کا کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ چھ بڑے آپریشن، سترہ ماہر ڈاکٹر، اور بتیس گھنٹے مسلسل کھڑے رہ کر ایک نازک دماغ پر کام۔
بتیس گھنٹے۔۔۔ آپ اور میں دو گھنٹے کھڑے ہوں تو ٹانگیں جواب دے جاتی ہیں۔ انہوں نے بتیس گھنٹے ایک انسان کی سانس کو تھامے رکھا۔
اور جب مریض کی جان بچ گئی، جب مانیٹر پر دل کی دھڑکن مستحکم ہو گئی، تو ان ڈاکٹروں میں اتنی ہمت بھی نہیں بچی تھی کہ کمرے تک جائیں۔ وہیں آپریشن تھیٹر کے ٹھنڈے فرش پر، خون آلود کپڑوں میں ہی لیٹ گئے۔ تصویر بنی تو دنیا نے دیکھا
طب نوکری نہیں، عبادت ہے۔ ہم رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے سوتے ہیں کیونکہ کہیں کوئی اور ہمارے بچوں جیسے کسی بچے کی ماں کو بچانے کے لیے جاگ رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں ڈاکٹر کو مریض مارتا بھی ہے، گالی بھی دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اس نے فیس لی، تو احسان کیا؟ نہیں۔ اس نے اپنی نیند، اپنی جوانی، اپنے گھر کے سکون کو ہمارے نام لکھ دیا ہے۔
اس تصویر کو دیکھ کر ایک بار سوچیے۔
اگر وہ سترہ ڈاکٹر تھک کر کہہ دیتے کہ "بہت ہو گیا، کل کریں گے" تو ایک خاندان اجڑ جاتا۔ انہوں نے خود کو توڑ کر ایک گھر جوڑ دیا۔
سلام ہے ان ہاتھوں پر جو کاٹتے ہیں تو زندگی دیتے ہیں، اور سلام ہے ان آنکھوں پر جو جاگتی ہیں تو ہماری دنیا روشن رہتی ہے۔
#motivation
یہ ہیں پھوڈ ویلاگر۔ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ پر گئے وہاں پیزا منگوایا برگر منگوائے رج کے کھایا، اور اس پر ویلوگ بنایا کہ بہت اچھا Taste ہے بہت صفائی ہے بہت اعلی سروس ہے۔
جو پیزا بچ گیا اس کو گھر کے لیے پیک کروا لیا۔
مینیجر نے بل مانگا تو جواب دیا کہ ہم فوڈ ویلوگر پیں پیسے دیتے نہیں پیسے لیتے ہیں۔ ہم نے آپ کے ریسٹورینٹ کی پرموشن کی ہے۔
مینیجر نے جواب دیا نا ہم نے آپ کو بلایا نا ہی آپ سے کہا کہ پرموشن کریں لہذا بل کڈو..
اس پراس ویلوگر نے پیک کیا گیا پیزا کھولا اور اس پر گھٹیا ہونے اور فضول ذائقہ ہونے کا ویلوگ بناکر اپلوڈ کردیا۔
😂 امام صاحب کی حاضر دماغی!
ایک گورنر نے امام صاحب سے کہا:
”نماز میں صرف ایک آیت پڑھا کریں، کیونکہ سرکاری امور کی مصروفیات کے باعث طویل نماز ہمارے لیے مشکل ہوتی ہے۔“
چند ہی دن بعد مغرب کی نماز کا وقت ہوا۔ امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاحزاب کی یہ آیت پڑھی:
وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا
ترجمہ: ”اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی، تو انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا۔“
دوسری رکعت میں یہ آیت پڑھی:
رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا
ترجمہ: ”اے ہمارے رب! انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت فرما۔“
نماز ختم ہوئی تو گورنر نے فوراً کہا:
”امام صاحب! اب آپ جو چاہیں پڑھیں اور جتنی چاہیں آیات پڑھیں، بس آئندہ ان دو آیات سے پرہیز کیجیے!“ 😂
📚 حوالہ: کتاب الأذكياء، ابن الجوزی
سبق: کبھی کبھی بات کہنے کے لیے لمبی تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف موقع محل کے مطابق ایک آیت ہی کافی ہوتی ہے!
وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے تھانوں میں یہ کیاہورھاہے۔
ویسے ایس ایچ اوصاحب کتنے اچھے ہیں کتنے اچھے طریقے سے ٹرک والے کی بات سنی اوراسکا مسئلہ حل کردیا۔
وزیر داخلہ صاحب
آئی جی اسلام آباد صاحب ادھر تو نہ ہی دیکھیں کیونکہ فرق تو کچھ پڑنانہیں یعنی ادھر نہ دیکھو ادھر تو نہ ہی دیکھو
It was reported that SI Awais Arshad slapped a citizen during an inspection of a hotel, where the officer was present for verification purposes. Immediate criminal and departmental proceedings have been initiated against the officer.
The following actions have been taken:
1. *FIR registered* against the officer and *arrested* .
2. Officer *suspended* from service.
3. Departmental *charge sheet issued* for disciplinary proceedings.
Strict accountability is being ensured to prevent misuse of authority and uphold the respect, honour and rights of the citizens.
ایک بار کسی خاتون کو حرم شریف میں ایک لڑکے نے چھیڑ دیا تو اس خاتون نے اس لڑکے سے کہا
کہ
کیا اس پاک جگہ سے آگے بھی کوئی جگہ ہے جہاں کا کر تمہیں معافی ملے گی؟؟
کیسے گھٹیا لوگ ہیں اس دنیا میں کہ حرم پاک کی حرمت کا بھی خیال نہیں
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے میرے بارے میں ریمارکس غیر ضروری ہیں اگر عظمیٰ بخاری خود کوئی شرمندگی محسوس کر رہی ہیں تو یہ ان کی ذاتی چوائس ہے ۔ میری کسی بات یا عمل سے وزیر اعلیٰ پنجاب یا حکومت پنجاب کو کبھی کوئی ایمبیرسمنٹ نہیں ہوئی۔
چیر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ