احسن بھون کی ڈگری پر کیپٹن صفدر اکیلا لڑ رہا ہے۔ یہ ILF والے دوست کیا دھنیا پی کر سو رہے ہیں ؟
انکی زمہ داری صرف عہدے ٹکٹیں اور ملاقاتوں اور دوسرے معملات ہی ہیں۔ یا وکلا کے کسی معاملے سے بھی کوئی لینا دینا ہے۔
اب یہ کنڈا بھی ہمیں ہی کھولنا پڑنا ہے ؟
اگر اگلے 24 گھنٹے میں ILF نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو name and. Shame کیا جائے گا۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخآری
جس نے کے پی کے، کی حکومت کے خلاف سازشوں کا جال بن رکھا ہے اور کے پی کے میں ڈرونز اور دھشتگردی کی آگ پھیلا رکھی ہے ۔
یہ چودھراہٹ، عزت، گارڈز، مہنگی گاڑی پروٹوکول
یہ سب اپنی ماں کے جہیز میں نہیں ملا تھا یہ اس قوم کا دیا ہوا ہے جسکی دن رات بجا رہے ہیں ۔ جس قوم کے ساتھ ان کو کھڑا ہونا تھا اسکو اپنے ساتھ کھڑا ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ قوم کے غدار ہیں
جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔
تحریک انصاف کے تمام ورکرز کے نام:
جن جن بھائیوں اور بہنوں کے کیسز میرے پاس ہیں، وہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ میرے نزدیک ہر ورکر کی حیثیت وہی ہے جو عمران خان کی ہے۔ میں نہ عہدے، نہ سیاست اور نہ ہی کسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی فرق کرتا ہوں۔ میری اولین ترجیح ہمیشہ وہ عام اور کمزور ورکر ہوتا ہے جو مشکل میں ہو، اور میری بھرپور کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے وہی انصاف اور توجہ ملے جو کسی بڑے عہدے دار کو دی جاتی ہے۔
لہٰذا کسی بھی قسم کی سفارش، فون یا تعلق استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ورکر بلاجھجک براہِ راست مجھ سے رابطہ کرے۔ جو قانونی امداد میرے بس میں ہوگی میں ضرور کروں گا۔
ملک پرویز اقبال اُموی۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
شاید آپ کو یاد ہو گا. کہ سلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھی ایک بلوچستان کی بیٹی کو دھکے مار کر اسلام آباد کی سڑکوں سے گرفتار کیا تھا.
اس دن سے بلوچستان کی سرزمین ان کے لیے نوگو ایریا ہے.
جب قانون آئین اور پروٹیسٹ کا حق چھین لیا جاتا ہے تو پھر بغاوت ہی جنم لیتی ہے.
خیبرپختونخواہ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ احتجاج اور لانگ مارچ کیلئے پنجاب کیا کر رہا ہے۔
یہ سوال خیبرپختونخواہ کو نہیں خود پنجاب کو پوچھنا چاہیئے مرکزی اور پنجاب قیادت سے ۔ جو لانگ مارچ کی ساری توجہ اور امید صرف کے پی سے رکھ کر اس حقیقی سوال کی جواب دہی سے اپنی جان چھڑا رہے ہیں
ایک کرنل کو ایک نجی مسئلے پر کسی نے گریبان سے پکڑ لیا۔ یہ واقعہ ایک قومی تہوار کی صورت اختیار کرگیا۔ فوج پتہ نہیں کس غلط فہمی میں ہے۔ اب فوج کا انجام دردناک ہے۔ وقت زیادہ لگے یا کم اسکی اب اہمیت نہیں بچی۔
اگر آج حکومتی ٹر ٹر ٹیم یعنی اطلاعات والوں کی یہ لاجک مان لی جاے کہ خیبر پختوخواہ میں ہونے والی دہشت گردی سہیل آفریدی کی ذمہ دادی ہے تو کیا پھر لاہور میں آے روز ہونے والے گینگ ریپ مریم نواز کی ذمہداری تصور کیے جایئں خاص کر جب حالیہ ایک واقع میں انکے قریبی عزیز ملوث پاۓ گے؟؟
لانگ مارچ کے اہداف کیا ہے؟ کیا کسی کو معلوم ہے
یہ واضح ہونا ضروری ہے کیونکہ لانگ مارچ کن مقاصد کے حصول تک ختم نہیں ہو گا کسی پر واضح نہیں۔
سہیل آفریدی ' بیرسٹر گوہر اور دیگر یہ بھی تو واضح کریں