سہیل آفریدی کا تاریخی لانگ مارچ تو سوابی تک نہ پہنچ سکا، البتہ ان کی حکمتِ عملی کا انجام یہ ہوا کہ آج وہ خود اپنے آئینی منصب اور اختیار سے محرومی کی صورتحال سے دوچار ہیں!
میں مسلسل کہتا رہا کہ پی ٹی آئی کے دوستو! نہ یہ لانگ مارچ کرنے کی سنجیدہ تیاری رکھتے ہیں، نہ کوئی حکمتِ عملی ہے، نہ مطلوبہ عوامی قوت کو منظم کرنے کی صلاحیت اور نہ ہی ان بلند بانگ دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ۔
مگر جواب میں ہمیں بتایا جاتا تھا کہ آسمان گرا دیں گے، زمین پھاڑ دیں گے، گورنر ہاؤس کا محاصرہ کر لیں گے اور پورا نظام مفلوج کر دیں گے!
اب کہاں گئے وہ انقلاب کے ٹھیکیدار؟ کہاں گئے وہ گورنر ہاؤس کے محاصرے کی دھمکیاں دینے والے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جن کے دعوؤں سے آسمان لرزتا تھا، مگر آج ان کی خاموشی نہیں ٹوٹ رہی؟
حیرت تو یہ ہے کہ مارچ کو اتنی طوالت دی گئی، اتنے وقفے ڈالے گئے، اتنی تاریخیں بدلیں کہ بے چارہ مارچ سوابی بھی نہ پہنچ سکا!
گویا سوابی نہ ہوا، کالا پانی ہو گیا، جہاں پہنچنے کے لیے انقلاب کو بھی عمر قید کی مدت درکار تھی!
میں سہیل آفریدی کی سیاسی حیثیت اور تنظیمی صلاحیت سے پہلے ہی واقف تھا۔ ۔ ایسے شخص سے پورے صوبے کی انقلابی تحریک کی قیادت کی توقع رکھنا ہی میرے لیے حیرت کا باعث تھا۔
لیکن اصل سوال سہیل آفریدی سے زیادہ اس شخصیت کے بارے میں ہے جس نے عمران خان کو ایسے نازک سیاسی دور میں ان کے انتخاب کا مشورہ دیا۔
میں آج بھی سوچتا ہوں کہ خان کے سامنے یہ نام کس نے پیش کیا؟ کس بنیاد پر پیش کیا؟ کیا اس شخصیت نے خان کو زمینی سیاسی حقائق سے آگاہ کیا تھا؟ اور کیا وہ آج اس فیصلے کے سیاسی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے؟
میرے نزدیک سہیل آفریدی سے زیادہ جواب دہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی قیادت مسلط کروانے میں کردار ادا کیا، ان کی ہر ناکامی کو حکمتِ عملی کا نام دیا اور اختلاف کرنے والے ہر شخص کو غدار قرار دینے کی مہم چلائی۔
سوشل میڈیا کے وہ یوٹیوبرز، خودساختہ انقلابی تجزیہ کار اور گالم گلوچ بریگیڈ، جنہوں نے پارٹی کے اندر ہر معقول آواز کو دبایا، آج اپنے اپنے کردار کا حساب دیں۔
پارٹی کو سیاسی قوت کے بجائے سوشل میڈیا کے نعروں، دھمکیوں اور خیالی انقلابات کا اسیر بنا دیا گیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت ہاتھ سے جا چکی ہے، سیاسی قیادت منتشر دکھائی دیتی ہے اور وہی لوگ جو کل تک انقلاب کی تاریخیں دیتے تھے، آج ایک مؤثر مشترکہ لائحۂ عمل تک سامنے نہیں لا سکے۔
سلمان اکرم راجہ سمیت ان تمام انقلابی رہنماؤں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب آپ کی سیاسی قیادت، آپ کی حکمتِ عملی اور آپ کی مزاحمت کہاں ہے؟
انقلاب کے دعوے کرنے والے میدان سے نکلے تو کنٹینر بھی وہیں رہ گیا! اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ لوگ اس کی نشستیں تک نکال لے گئے۔ گویا انقلاب کے پاس اب نہ منزل رہی، نہ سواری اور نہ بیٹھنے کے لیے کرسی!
تاہم ان تمام سیاسی ناکامیوں کے باوجود میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
میرے نزدیک وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی غیر دانشمندانہ، نقصان دہ اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
مجھے خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ، وفاق اور صوبے کے تعلقات اور عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
وفاقی حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محض انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی۔ چند ماہ بعد عوام یہ سوال ضرور کریں گے کہ ایمرجنسی کے بعد دہشت گردی میں کتنی کمی آئی، کتنے علاقے محفوظ ہوئے، کتنی جانیں بچیں اور امن و امان میں کون سی قابلِ پیمائش بہتری آئی؟
میں ذاتی اور سیاسی حیثیت میں بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتا ہوں۔ یہ میرے لیے سیاسی وابستگی کا نہیں، آئینی اصول کا معاملہ ہے۔
سہیل آفریدی کی سیاسی کارکردگی پر میری تنقید اپنی جگہ، مگر کسی منتخب حکومت کے آئینی حقوق کو نظرانداز کرنے کی حمایت مجھ سے ہرگز نہیں ہو سکتی۔
یہ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک نہایت افسوسناک باب ہے، جس کی سیاسی اور آئینی ذمہ داری سے وفاقی حکومت بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔
اور آخر میں
جب انقلاب کے تمام خودساختہ ٹھیکیدار تھک جائیں، جب نعروں کی گونج خاموشی میں بدل جائے، جب حکمتِ عملی کے نام پر مزید کوئی بہانہ باقی نہ رہے اور جب آپ اپنی سیاسی غلطیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں، تو پھر اس خاکسار کو ضرور یاد کیجیے گا۔
جس دن آپ میرے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگیں گے، میں عہد کرتا ہوں کہ مروت آپ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا ایک نیا روپ دکھائے گا۔جب تک معافی نہیں مانگیں گے، میں ٹس سے مس نہیں ہوں گا
اُف کیا کہیں اس پر الفاظ اور دماغ دونوں سُن ہو گئے ہیں سُن کر ۔۔۔۔
سگے خون کے رشتوں کا یہ حال
ایسے مسلمانوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہے
ان ڈاکٹر ثمینہ حق کو میں پرسنلی جانتی ہوں بہت اچھی اور مشہور ڈاکٹر ہے یہ ایسے ہی کچھ نہیں کہتی ہیں