*ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید*
*ابتدائی اطلاعات کے مطابق* :
گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سے ایک خاتون کو اترے ہوئے دیکھا جس کا ہاتھ موٹرسائیکل سوار کھینچ رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے مڑ کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے جس پر لڑکی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی
اسی دوران مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر فائر کھول دیا
گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا
*پولیس کے مطابق* :
خاتون نے بتایا ہے کہ ملزم اس کا دفتر مے کولیگ تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی
تاہم راستہ تبدیل کر کے اسے کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس پر وہ اس سے زور آزما رہا تھا
گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کرتے ہوئے مجھے محفوظ کیا- خاتون
اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں
گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے
گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی کو ملک بھر میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
قومی اور سوشل میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بہادر افسر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے
*گروپ کیپٹن عاصم کی قربانی اس بات کی عکاس ہے کہ پاک فوج کے سپاہی صرف سرحدوں ہی نہیں عزت کے بھی رکھوالے ہیں*
اس بچے کا نام ابوبکر ہے اور والد کا نام بابر ہے
ابوبکر کی عمر 9 سال ہے اور ذہنی طور پر مکمل ٹھیک نہیں ہے۔
آجبسے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل ابوبکر کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوا تھا۔آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کے والدین اپنی زندگی جینا چھوڑ چکے ہیں،صبح شام اپنے لخت جگر کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں ملا رہا۔
تمام دوست صرف اللہ کی رضا کے لئے دکھی ماں باپ کی زندگی بحال کرنے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر ابوبکر کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
بے شک پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اسے ضائع نہ کریں۔ اے سی کے ڈرین کا پانی محفوظ کریں یا پائپ کو براہِ راست باغیچے تک پہنچا دیں تاکہ یہ پانی پودوں کی آبیاری میں استعمال ہو سکے۔ پانی کی ہر بوند قیمتی ہے، آئیے اس نعمت کی حفاظت کریں۔ 💧🌱 #water
@MansurQr Sir, ap ko just hope award ki Gai hy aur bank ko good we'll maintain rakhny ky ley recovery ka kah gia hy, Jo kek possible nai hy, unfortunately mistake AP ky end py hy. ager yaqeen aa Ara to. AP ny jab e banking ya sms service active karwai this aur us py ky acceptance ky sign.
سیالکوٹ کے زندہ دل لوگ اس بچے کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں
اس بچے کا نام گھر میں کیا تھا اور والدین کے کیا نام تھے یہ اسے یاد نہیں ہے۔
ابھی اسکا نام کاشف ہے۔
کاشف کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کی عمر میں گھر سے بچھڑ گیا تھا آج تک نہیں معلوم کہاں سے اور کیسے بچھڑا تھا۔
بس بچپن کی تصویر موجود ہے۔
ہم نے انکے ڈاکومںٹس چیک کئے تو اسمیں بازیابی کا شہر ڈسکہ سیالکوٹ لکھا تھا۔ اور سال 2016 لکھا تھا۔ ڈسکہ سے لاوارث ملا تھا۔ لاہور کے ایک شیلٹر پہنچا اور پھر وہاں سے کراچی منتقل ہوا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کسی دوسرے شہر کا ہو۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا عام کریں کہ اگر انکا خاندان پاکستان سے باہر بھی کہیں ہو تو ان تک بات پہنچ جائے۔
آپکا ایک شئیر کسی دکھی ماں کو اسکا لخت جگر دلوا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
29 june 2026
+923162529829
#waliullahmaroof
ہم بلوچ شرمندہ ہیں!!
آئیے آج حقیقت کا جرات سے سامنا کرتے ہیں،سچ کے اوپر جمی جھوٹ اور پروپیگنڈے کی گرد کو ہٹاکر سمجھتے ہیں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔
اس خاتون نے سُرخ رنگ کا جوڑا نہیں پہنا بلکہ اس کے سہاگ کا خون جوڑے پر جم گیا ہے۔یہ خاتون چند گھنٹے قبل لاوارث نہیں تھی،اس کا وارث اس کیساتھ تھا۔
کراچی کا علی جمیل اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ہمراہ سیروتفریح پر بلوچستان گیا،یہی اُس کا جرم ٹھہرا،وہ بلوچستان میں محنت مزدوری نہیں کررہا تھا،وہ بلوچ قوم کا حق بھی نہیں مار رہا تھا۔
وہ تو بلوچ ثقافت کے رنگ دیکھنے آیا تھا،میں اپنی بلوچ قبائلی کی روایات سے مخاطب ہوں کہ علی جمیل تو مہمان بن کر آیا تھا۔
ہماری تو یہ روایات تھیں کہ مہمان کو سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں،اس کے لئے پلکیں بچھاتے ہیں،ایسی مہمان نوازی کرتے ہیں کہ وہ برسوں یاد کرتا ہے۔
پھر کیا ہوا کہ علی جمیل کو مہمان نوازی تو نصیب نہ ہوئی،اس کا کنبہ ہی یتیم کردیا؟ یہ تو ہماری بلوچ روایات نہیں تھیں۔
ہم بطور بلوچ شرمندہ ہیں کہ ہمارے نام پر پروپیگنڈہ کرنے والے بی ایل اے سمیت جتنے بھی مسلح گروہ ہیں انہوں نے صرف علی جمیل کا قتل نہیں کیا بلکہ ہماری بلوچ روایات کو بھی ماردیا ہے۔
بی ایل اے کے حمایتی اور سہولت کار جواز دیتے ہیں کہ چونکہ اُن کیساتھ زیادتی ہوئی یا ہورہی ہے اس لئے ہتھیار اٹھاتے ہیں۔
بی وائی سی جیسے پلیٹ فارم تو یہ بھی نام نہاد منطق پیش کرتے ہیں کہ فلاں خود کش کا بھائی ماراگیا تھا،اٹھایا گیا تھا اس لئے ہتھیار اٹھائے۔
یہاں پر ایک سوال ہے،یہاں علی جمیل کو ماردیا گیا،ایک خاتون بیوہ ہوگئی،دو بچیاں یتیم ہوگئیں تو کیا وہ بھی اس منطق کے تحت بی ایل اے کے خلاف ہتھیار اٹھالیں؟ کیا آپ انہیں یہ حق دیتے ہیں؟
علی جمیل تو پنجابی بھی نہیں تھا،پھر وہ کیوں بی ایل اے کا شکار ہوا؟یہاں یہ امر بھی سمجھنے لائق ہے کہ پنجابی یا حقوق مدعا ہی نہیں ہے درحقیقت اصل مدعا ہی بلوچ قوم کے نام پر غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
بلوچ قوم اب سمجھ چکی ہے کہ بی ایل اے جیسے جتنے بھی مسلح جتھے ہیں وہ اُن کے نام پر گھٹیا اور غلیظ منصوبہ چلارہے ہیں جس کا مقصد بلوچستان کی ترقی کو روکنا اور بلوچ روایات کا قتلِ عام ہے۔
پاکستان نے ایران سے بڑی مقدار میں ایل پی جی گیس امپورٹ کرنا شروع کی ھے 8 دنوں میں 800 سے زائد ایل پی جی ٹینکر کلئیر کیے گئے ہیں یہ ٹینکر 14 لاکھ گھریلو سلنڈر بھر سکتے ہیں
لیکن سلنڈر کی قیمت پھر بھی کم نہیں ھو رہی