پاکستان کسٹمز کا مسئلہ افرادی قوت کا نہیں، نظام کا ہے۔
دیکھیں فرق:
▪️پاکستان میں تقریباً 9,500 ملازمین (جن میں 500 کے قریب گزٹیڈ آفیسرز شامل) 100 ارب ڈالر سے کم تجارت سنبھال رہے ہیں۔
▪️سنگاپور میں 500 سے 1,000 لوگ 1000 ارب ڈالر سے زیادہ تجارت چلا رہے ہیں۔
▪️جنوبی کوریا میں تقریباً 5,786 ملازمین 1,340 ارب ڈالر کی تجارت ہینڈل کر رہے ہیں۔
کام ایک جیسا، نتیجہ زمین آسمان کا فرق۔زیادہ فائلیں اور زیادہ افسر زیادہ ریونیو نہیں لاتے۔ جدید ٹیکنالوجی، واضح قوانین، کم پرتیں اور حقیقی احتساب لاتے ہیں۔مضبوط معیشت کے لیے ایسا کسٹمز چاہیے جو سامان تیزی سے گزارے اور رساو روکے، نہ کہ ایک بڑا ڈھانچہ جو دونوں کاموں کو سست کر دے۔انتظامی ری سیٹ اب اختیاری نہیں، لازمی ہے۔۔۔۔۔
@SHABAZGIL تم لوگ جو فوج میں بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہو نہ اس مقصد میں تم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکو گے۔
جنرل کی دلیری ہے نہ جو تیرے گھر میں گھس کر کوئی واردات ڈال گیا جیسے تو اب بھونک رہا ہے مجھے تو توں متاثر لگ رہا ہے۔
18+
What kind of oppression are these Indian people committing?
This video is from New Delhi, India, where 4-5 boys forcibly brought a girl into an apartment and tried to have sex with her.
When she refused, all these people started beating her.
@ShazadAkbar سمندری گینڈا اپنی باجی دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ کہاں ہے کشمیریوں کا احتجاج؟ صرف ڈرامہ۔
تم لوگ صرف پاکستان کا ایمج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہو اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
کشمیریوں کو بھی احتجاج ملاقات کے وقت ہی یاد آیا تھا؟
دنیا بھر میں بڑی آبادی والے ممالک نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو وقت کے ساتھ چھوٹی اور زیادہ مؤثر اکائیوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ حکمرانی عوام کے قریب آئے اور علاقائی ترقی ممکن ہو۔
پاکستان میں اب بھی صرف چار صوبے ہیں جبکہ پنجاب کی آبادی تیرہ کروڑ کے قریب ہے، جو دنیا کے تقریباً ایک سو پچاسی ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ اس بڑے سائز کی وجہ سے ایک ہی مرکز سے تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل پر یکساں توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے سے ہر علاقہ اپنے مقامی مسائل پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ پاکستان کے ت��ام موجودہ صوبوں کی داخلی تقسیم اور انتظامی سہولت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پنجاب کی آبادی تیرہ کروڑ کے قریب ہے اور یہ دنیا کے بیشتر ممالک سے بڑی اکائی ہے، اس لیے جنوبی پنجاب، سرائیکی بیلٹ، پوٹھوہار اور دیگر خطوں کو الگ انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔ تاہم سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی اسی اصول کے تحت دیکھے جانے چاہئیں۔ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد کی بڑی آبادی کے باوجود صوبے کے باقی حصوں تک حکومت کی رسائی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہمیشہ سوالیہ نشان بنی رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کو آج چھوٹا صوبہ نہیں کہا جا سکتا؛ 1901ء میں یہ خطہ صرف پان�� اضلاع اور تقریباً بیس لاکھ آبادی پر مشتمل تھا، جبکہ آج اضلاع کی تعداد تقریباً چالیس ہے اور صرف پشاور کی آبادی پچاس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ہزارہ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کی الگ شناخت اور انتظامی ضرورت بھی سامنے آتی ہے۔ بلوچستان ��قبے کے لحاظ سے بہت بڑا ہے مگر آبادی کم ہونے کے باوجود فاصلے، وسائل کی تقسیم اور مقامی مسائل پر توجہ کی کمی اس کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس لیے نئے یونٹس کا معیار صرف آبادی نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی، جغرافیائی دوری اور مقامی ضروریات ہونا چاہیے۔
دنیا کے تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بڑی انتظامی اکائیوں کو چھوٹا کرنا حکمرانی کو بہتر بناتا ہے۔ بھارت نے بڑی ریاستوں جیسے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار سے اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ الگ کیے تاکہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کی ترقی ہو سکے، بعد میں تلنگانہ بھی اسی بنیاد پر بنا۔ نائجیریا نے تین بڑے خطوں سے ��روع کر کے 36 ریاستیں قائم کیں تاکہ وسائل کی تقسیم بہتر ہو اور علاقائی عدم توازن کم ہو۔ انڈونیشیا نے صوبوں اور اضلاع کی تعداد بڑھا کر حکومت کو عوام کے قریب کیا، جبکہ فلپائن اور ترکی نے ثقافتی، جغرافیائی اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے۔ یہ ممالک زبانی یا نسلی بنیادوں کے ساتھ انتظامی ضرورت کو فوقیت دیتے رہے، بالکل اسی ��رح پاکستان میں بھی لسانی اور ثقافتی شناخت کو نظرانداز کیے بغیر انتظامی اصول کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
نئے صوبے یکدم نہیں بلکہ بتدریج بنائے جا سکتے ہیں۔ پہلے مجوزہ خطوں میں ہائی کورٹ کے بینچز، سرکاری محکموں کے علاقائی دفاتر اور مضبوط مقامی حکومتیں قائم کی جائیں، پھر آئینی طریقہ کار کے ذریعے انہیں مکمل صوبائی ڈھانچے میں تبدیل کیا جائے۔ اس سے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ لازمی نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سے اخراجات پہلے سے علاقائی سطح پر ہو رہے ہوتے ہیں۔ چھوٹی اکائیاں تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل پر زیادہ توجہ دے سکتی ہیں اور عوام کی حکمرانوں تک رسائی آسان بنا کر جمہوریت کو مضبوط کرتی ہیں۔ پنجاب کے ساتھ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اندر بھی ایسی تقسیم سے پورے ملک میں متوازن ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔
#عوامی_مطالبہ_نئے_صوبے
#PublicDemandNewProvinces
@MoeedNj یہ تمہاری ماں کے یار ہے ٹیکسی کے بچے تجھے کیا مسؑلہ وہ جو مرضی کریں تو سستی طوائف کے بچے کو کوٹ کر رہا ہے اسے یہ نہیں پتا کہ وہ کس باپ کا بیٹا ہے۔
اس ہیکل اینڈ جیکل کی جوڑی کے پاس ویلیڈ پاکستانی آئی ڈی کارڈز ہیں لیکن لوگوں کو کہتے ہیں ہمیں پاکستان کا ویزہ نہیں ملتا، یہ بدروحیں اپنے چور باپ کیلئیے ادھر ادھر بھٹکتی پھر رہی ہیں لیکن پاکستان نہیں آتے۔۔۔
گندی اولاد نہ مزہ نہ سواد 🤮
🇵🇰 لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز شہید۔۔
ایک باپ، ایک کمانڈنگ آفیسر،
ایک بہادر سپاہی 🫡
شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کی بیٹی کے الفاظ دل کو چھو جاتے ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ چاروں طرف گولیوں کی بوچھاڑ میں کیا انہیں اپنی بیٹی یاد آئی تھی، تو اُنہوں نے مسکرا کر کہا: “میں نے اپنے رب کو یاد کیا۔” مگر بعد میں اعتراف کیا کہ ہاں، بیٹی کی یاد بھی آئی تھی۔ یہ ایک باپ کا دل تھا، مگر جب فرض اور اپنے جوان کی حفاظت کا وقت آیا تو اُنہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی۔ بیٹی کے سوال پر اُن کا جواب آج بھی ایک سچے کمانڈنگ آفیسر کی پہچان ہے: “اگر میں اپنے جوان کو نہ بچاتا تو میرا یہ عہدہ میرے کسی کام کا نہیں تھا۔” یہی وہ جذبہ ہے جو سپاہی کو صرف وردی پہننے والا شخص نہیں بلکہ اپنی قوم کا محافظ بناتا ہے۔ شہید کا لہو وطن کی مٹی میں جذب ہو کر آنے والی نسلوں کو وفادار��، بہادری اور فرض شناسی کا سبق دیتا ہے۔ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے عہدے سے بڑھ کر اپنے جوان اور وطن کی حرمت کو مقدم رکھا۔ 🇵🇰❤️🩹🫡
وطن کی خاک نے جب بھی پکارا، وہ چلے آئے
وفا کی راہ میں اپنا لہو ہنستے ہوئے لائے
نہ عہدہ یاد آیا، نہ اپنی جان کی پروا
وہ اپنے جوان کی خاطر شہادت کو گلے لگا ائے
سلام ہے شہید کو، سلام ہے اُس بیٹی کے بہادر باپ کو، اور سلام ہے پاکستان کے اُن تمام سپوتوں کو جو فرض کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ 🇵🇰🫡