I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also endorsed by me as the mediator. The signing of this agreement at the highest level of the respective governments demonstrates the commitment of both sides to a diplomatic resolution of the conflict. Islamabad MoU shall enter into force with immediate effect and as a first step, Islamic Republic of Iran will instantly reopen the Strait of Hormuz and the United States of America will immediately lift the naval blockade.
I offer my heartfelt congratulations and sincere appreciation to the President of the United States, Donald J. Trump whose steadfast commitment to diplomacy and preference for peaceful resolution have once again helped end a conflict that could have led to devastating consequences for the region and beyond. I also commend the dedication and tireless efforts of the United States negotiating team, including J.D. Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner, for their invaluable contributions to this achievement.
I express my profound respect and appreciation to His Eminence Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei, the Supreme Leader of Islamic Republic of Iran and President Masoud Pezeshkian for their wisdom, foresight and statesmanship in embracing the cause of peace. I also wish to recognize the efforts of the Iranian negotiating team, including Mohammad Bagher Ghalibaf, Abbas Araghchi and Eskandar Momeni, whose patience, perseverance and commitment to constructive engagement were instrumental in bringing this agreement to fruition.
I would especially like to acknowledge the sincere efforts and constructive engagement of the leadership of the State of Qatar in helping reach this point. I also highly commend the leadership of the Kingdom of Saudi Arabia, the Republic of Türkiye and the Arab Republic of Egypt for their indispensable role and invaluable contributions in this regard.
I would also like to make special mention of Field Marshal Syed Asim Munir, whose tireless efforts, selfless dedication and instrumental role were critical in facilitating this breakthrough and advancing the cause of peace and regional stability.
May this Memorandum of Understanding serve as an enduring foundation for greater understanding, mutual respect and shared prosperity for the complete region.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
نیفے میں پستول چلنے کو گلوریفائی کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ لوگ جو دن رات ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں اور بندوق کے زور پر انصاف کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے، آج ذرا اس بچی کے بارے میں بھی سوچیں۔ اس کا کیا قصور تھا؟ جب قانون، عدالت اور انصاف کی جگہ بندوق لے لے تو پھر ظلم صرف ان لوگوں تک محدود نہیں رہتا جنہیں مجرم قرار دیا جاتا ہے بلکہ بے گناہ لوگ بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اگر آج مرنے والی کوئی مرد ہوتی تو شاید بہت سے لوگ فوراً کہہ دیتے کہ ڈاکو ہوگا یا ریپسٹ ہوگا، لیکن اس معصوم بچی کا کیا جرم تھا؟ کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون سے بالاتر ہو کر قتل اور طاقت کے بے جا استعمال کو جائز نہیں ٹھہرایا جاتا، کیونکہ اس کا انجام اکثر بے گناہوں کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج اس انجام کو دیکھ لیجیے۔💔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی ہدایت پر صوبائی حکومت میں وزراء، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کو مختلف محکموں کی ذمہ داری��ں تفویض کردی گئی ہیں۔
صوبائی وزراء کو تفویض کردہ محکمے
🔹نذیر احمد عباسی: محکمہ توانائی و بجلی
🔹شکیل احمد: محکمہ مواصلات و تعمیرات
🔹محمد عارف: محکمہ معدنیات
🔹طارق محمود آریانی: محکمہ ریونیو و اسٹیٹ
شفیع اللہ جان: محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ
مشیروں کو تفویض کردہ محکمے:
🔹پیر مصور خان غازی: محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات
🔹لیاقت خان: محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و خواتین بااختیاری
🔹ہمایوں خان: محکمہ صنعت و تجارت
🔹میاں محمد عمر: محکمہ زراعت
معاونینِ خصوصی کو تفویض کردہ محکمے
🔹طارق سعید: محکمہ داخلہ و قبائلی امور
🔹محمد عثمان: ٹیکنیکل ایجوکیشن و ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی
🔹طفیل انجم: محکمہ بہبودِ آبادی
🔹افتخار اللہ جان: محکمہ جیل خانہ جات
🔹سمیع اللہ خان: محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ
🔹ملک عادل اقبال: محکمہ ثقا��ت، سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر
🔹محمد خورشید: محکمہ لائیوسٹاک، فشریز و کوآپریٹو
🔹محمد اسرار: محکمہ خوراک
تمام صوبائی وزراء، مشیران اور معاونینِ خصوصی کو بہت بہت مبارکباد۔
یہ ذمہ داریاں عوامی خدمت، دیانتداری اور کارکردگی کا امتحان ہیں۔ امید ہے کہ آپ سب عمران خان کے ویژن، میرٹ، شفافیت اور حقیقی فلاحی طرزِ حکمرانی کو عملی شکل دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی بھرپور خدمت کریں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنے فرائض بہترین انداز میں ادا کرنے اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آذر بائیجان میں مقامی حکومتوں کے نظام پر ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی نظام سرے سے موجود ہی نہیں لیکن میڈم وزیراعلی اپنے آدھی درجن وزیروں کے ہمراہ نمائندگی کے نام پر سیروسیاحت کے لئے پہنچی ہوئی ہیں جبکہ صوبہ سندھ سے بلدیاتی نظام کے نمائندہ چنیسر ٹاؤن کے چیرمین فرحان غنی صوبے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ حقیقی نمائندگی وہی ہوتی ہے جو زمینی حقائق اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر ہو۔۔۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے صرافہ بازار کراچی میں چھاپے کے دوران پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی جانب سے ڈائریکٹر کراچی زون کو واقعہ کی مکمل انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
قہقہے اور آنسوؤں پر قابو: برطانوی ایوان کی تاریخ میں شاہ کی تقریر کے بعد، پہلی مرتبہ کسی مسلمان کی طرف سے نئے پارلیمانی سال کی کارروائی کے آغاز کا رسمی خطابِ و��اداری
For the first time in British parliamentary history, a Muslim proposes the ‘Loyal Address’ in the House
بلاول بھٹو کا کیمروں کے سامنے ایک سینئر پارٹی رہنماشازیہ مری کیساتھ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے
سیاسی جماعتوں میں کارکنان اور رہنمائوں کی عزت کی جاتی ہے
ایک سینئر رہنما کا یہ حال ہے تو ورکر کی کیا حیثیت ہوگی
میڈیا اگر آزاد ہے تو اس معصوم بچے کو دکھائے گا
یہ بچہ غزہ میں شہید نہیں ہوا بلکہ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کی لڑائی میں شہید ہوا ہے
نثار باز رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی نیشنل پارٹی
آج کی پریس کانفرنس ہر طرح سے ایک بہترین پریس کانفرنس تھی
تمام اعدادوشمار بتائے گئے
وفاق جو زیادتی قبائل کیساتھ کررہا ہے وہ گنوائے گئے
صوبے کے مسائل اجاگر کئے گئے
وفاق اور صوبے کے مابین خلیج کی وجوہات بتائے گئے
صوبائی مسائل پر گفتگو کیلئے وفاق وقت نہیں دے رہا یہ بھی بتایا گیا
یہ پریس کانفرنس ہر طرح سے ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی تھی
کراچی سے لوٹا ہوں اور دیکھ آیا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام کیسے لیتی ہے.
آپ یقین کریں لاہور اسلام آباد تو دور کی بات ہے اس سے تو ہمارے سرگودھا کا انفراسٹرکچر بہتر حالت میں ہے.
کراچی پہنچتے ہی، صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے برادرم سبوخ سید کے ساتھ ساحل پر گیا. چونکہ سمندر پر سورج طلوع ہوتا دیکھنا تھا نزدیک ترین سپاٹ پر پہنچے. ساحل گندگی اور غلاظت سے بھرا پڑا تھا. متلی ہونے لگی.
واپس ہوئے تو خیال آیا عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر ��اضری دی جائے. سنی ہوں اور بڑی خواہشوں میں سے ایک ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضری دینے جاؤں. وہاں کا موقع تو جانے کب ملے. عبداللہ شاہ غازی بھی تو اسی خانوادے سے ہیں ، بس دل کھچا سا چلا گیا.
مزار تو ابھی بند تھا لیکن اس کے اطراف میں دیوار کے ساتھ ساتھ گندگی اور غلاظت کے نشانات دیکھ کر دل لہو گیا.
آگے پل کی طرف گئے تو پل کے نیچے ایک صاحب باقاعدہ شلوار اتار کر فٹ پاتھ پر رفع حاجت کر رہے تھے.
پیپلز پارٹی سے پوچھا جانا چاہیے کیا گڑھی خدا بخش کے مزاروں کے اطراف میں بھی ایسی ہی بد انتظامی ہے؟
جب جب موبائل فون نکالا ، کسی نے تنبیہہ کر دی کہ جیب میں ڈالو کوئی چھین لے گا. یاد رہے کہ ہر بار تنبہہہ کرنے والا کوئی مقامی ہی تھا. یعنی یہ تنبیہہ مشاہدے کی بنیاد پر کی جا رہی تھی نہ کہ بدگمانی کی بنیاد پر.
حالت یہ تھی کہ صبح سویرے ساحل کے لیے
نکلے تو گارڈ کہنے لگا میری مانیں تو
نہ جائیں، یہ وقت خطرناک ہو سکتا ہے. گارڈ بھی وہیں کا تھا.
رات کے آخری پہر برادرم فیض اللہ خان 1952 کےبنے ایک قدیم اور معروف ہوٹل پر ہمیں کباب کھلانے لے گئے تو راستے میں وہ سڑک پڑی جسے یونیورسٹی روڈ کہتے ہیں اور جو کئی سالوں سے اسی طرح کھدی پڑی ہے اور مکمل ہونے میں نہیں آ رہی. جانے کتنے پیسے کس کس نے کھا لیے ہوں یا شاید نہ کھائے ہوں اور پوری ایمانداری سے جمہوریت اپنے شہریوں سے انتقام لینے پر تلی پڑی ہو.
میں نے سڑک کا حال دیکھ کر فیض اللہ خان صاحب سے پوچھا کیا پیپلز پارٹی پر اس سڑک کی وجہ سے عوامی دباؤ نہیں آتا؟ انہوں نے جو، جواب دیا وہ ان کے کھلائے گئے لذیذ کبابوں اور سبوخ سید صاحب کی پرلطف رفاقت سے بھی زیادہ مزیدار تھا.
زندہ بھٹو کے مزاج خراب ہوں یا شمال مغرب کے انقلابیوں کی طبیعت بوجھل ہو جائے ، سچ یہ ہے کہ ��رقیاتی کاموں اور انتظامی مہارت میں ن لیگ ان سے آگے ہے،. بہت آگے.
کراچی والوں سے واقعی ہمدردی ہو رہی ہے. کوئی شہر اس سلوک کا مستحق نہیں جو کراچی کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. کراچی سسک رہا ہے. کراچی واقعی سسک رہا ہے.
جو لوگ کراچی میں نہیں رہ رہے وہ شکر کریں اور کراچی والوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ انہیں اس اذیت سے نجات دلا دے.
میں آئی ٹی کے بچوں سے کہتا ہوں کہ قطعی مایوس نا ہونا مجھے اپنا گھر بیچ کر بھی آپ سب کے کورسز پورے کرانے پڑے میں کراؤں گا ۔اپنے بچوں کے لیئے IT Hub بنانے کا جو خواب دیکھا تھا وہ پورا کرکے دکھائیں گے ۔
یہ فیک نوٹیفیکیشن کہاں سے چلا ، کس واٹس ایپ سے کس کو کب ملا کس نے پہلی پوسٹ کی اور کس کس نے کی ، کون کون فیک نیوز پھیلانے میں ملوث تھا اب وہ جانے اور @NCCIAOFFICIAL جانے ۔ تف��یلات اب ہم ٹوئٹ کریں گے ۔ دیکھتے ہیں بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی
پاکستان کے زیادہ تر صحافیوں میں اصل اور پورا سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔ وہ یہ کہ چاہے جو مرضی پارٹی آ کر پاکستان کا ٹوٹا پھوٹا سرمایہ داری نظام چلانے کی کوشش کرے پر اس نظام میں پاکستان کے 50 فیصد عوام اگلے 25 سال میں بھی خوشحال نہیں ہو سکتے۔ سوشلزم کے علاوہ پاکستان کی اوبافی کی اکثریت کے مسائل کا اس ریاست کے پاس کوئی حل نہیں پر اس سے یہ اپر مڈل یا مڈل مڈل کلاس صحافی بہت ڈرتے ہیں جن کی بڑے اچھے پیسوں میں مختلف TV چینلوں پر نوکریاں لگی ہوئی ہیں اور جو یوٹیوب پر آدھا سچ بول کر پیسے کما رہے ہیں۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ملک کے 20 کروڑ سے زیادہ غریب اور لوئر مڈل کلاس لوگوں کا کتنا برا حال ہے۔ آج کل یہ جمہوریت کے نام پر عمران جیسے نوسرباز کو ایک بار پھر نجات دہندہ بنا کر پیش کر رہے ہیں جو ایک تصدیق شدہ جھوٹا، فوج کا بوٹ پالشیا، مذہبی منافق اور تقریبا ہر لحاظ سے کرپٹ آدمی ہے۔ اس طرح یہ صحافی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور انہیں ایک بار پھر جھوٹے خواب دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی اتنی دگرگوں حالت کے ذمہ دار صرف ادارے اور سیاستدان نہیں بلکہ بہت سے صحافی بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہیں ہدایت کی اشد ضرورت ہے۔ @SaeedQaziPk@AdeelAsifPkOne@zulfiqarmehto
Peshawar Institute of Cardiology treated over 2,500 patients from areas other than KPK last year including 628 from Punjab, 104 from Sindh, 96 from Islamabad, 73 from Azad Jammu and Kashmir, 48 from Balochistan and 25 from GB and 1597 from Afghanistan. https://t.co/hCMMtN91SX