زرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر حکومت نے مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کرلیا ہے، مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ اور عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے نوٹفکیشن کی واپسی کا مطالبہ مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونگے۔
شہباز شریف نے دل پر جتنے پتھر رکھے ہیں شاید ہی کسی وزیراعظم نے رکھے ہوں، کل جب 250 ارب کے ٹیکس لگائیں تب بھی دل پر پتھر رکھیں گے، شہباز شریف کو غریبوں کا احساس ہے، بس ہمیں نظر نہیں آتا۔ مفتاح اسماعیل
نہ امریکہ فوجی طاقت سے ایران کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے اور نہ امریکہ ایران کے ساتھ ڈیل کرے گا۔ نہ امریکہ ایران کے 100 ارب ڈالرز کے فنڈز ریلیز کرے گا نہ ایران کے خلاف پابندیاں ہٹائے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل ہے ورنہ امریکہ کو کوئی خاص فرق نہيں پڑتا۔ ٹرمپ آزاد نہیں ہے۔ اسرائیل اور اس کی لابی کے دستور کے تابع ہے۔ اگر حکم عدولی کی تو وہ ٹرمپ اور اس کے خاندان کو برباد کر دیں گے۔
امریکہ جنگ نہيں جیت سکتا لیکن پھر بھی اسرائیل کے حکم پر دوبارہ جنگ کرے گا۔ غالبا دو مہینے بعد یا کچھ مہینوں بعد۔ اور بہت مار کھائے گا۔ ساتھ تین خلیجی ممالک بھی رگڑیں جائیں گے۔
جس دلدل میں اسرائیل نے امریکہ کو پھنسا دیا ہے اس سے نکلنے کا اب کوئی آسان راستہ نہيں ہے۔
خان صاحب نے تو کہا تھا کہ بجٹ اسمبلی میں میری مشاورت کے بغیر پیش نہیں کیا جائے گا لیکن یہاں تو 305 ارب سر پلس بجٹ کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔
اس پر انصافین کا کیا ردعمل ہوگا ؟؟
گنڈا پور کے بعد سہیل آفریدی بھی اچھا بچہ بننے کی طرف گامزن۔ اب انکی حکومت کو زیادہ خطرہ شائد نہ ہو مگر عوامی دباؤ اور بغیر کسی ڈیل کے خان کی رہائی کا امکان کافی معدوم ہو چکا۔
ہم کافی دنوں سے لکھ رہے ہیں کہ شہباز شریف سیاسی لاشہ بن چکا ہے اور تعفن پھیل رہا ہے اسٹیبلشمنٹ اس لاشے کا بوجھ زیادہ دیر نہیں اُٹھا سکے گی اسے اُٹھا پھینکے گی آج وزنی معدہ والے قلمکار سہیل وڑائچ نے بھی پورا کالم لکھ مارا کہ یہ لاشہ جولائی میں اُٹھا پھینکا جائے گا اس سے تعفن پھیل رہا ہے
بھائی واہ۔ احسن اقبال صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔
مفتاح اسماعیل بتاتے ہیں کہ احسن اقبال فرما رہے ہیں کہ؛
"ہم نے عوام کے ٹیکس سے اکٹھا کیا گیا "87 ارب روپے" صرف اس لیے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اس پیسے کو ہم اپنا "سیاسی جماعتوں کا اتحاد" قائم رکھنے کیلئے استعمال کر سکیں" 😳🤔
حکومت کو زوال تب آتا ہےجب حکومتی شجر سایہ نہ دے سکے۔ انگریزی الفاظ میںThe Utility of the Government is now over حکومتی چراغ مزید روشنی فراہم نہ کرسکیں ، آگے بڑھنے کا ویژن نہ ہو،یاد رکھیں ٹھہراؤ موت ہوتا ہے اور تحرک زندگی ۔ موجودہ حکومت افادیت اسلئے کھورہی ہے کہ یہ ٹھہراؤ کا شکار ہے اس کا مستقبل کا کوئی بڑا ویژن نہیں ہے۔
https://t.co/pL3XfvFLwl
In Pakistan Sarkar is busy in Ragra Lagao to it’s own people but Indian Modi Junta is quickly finishing Dam projects to starve Pakistan… Kameena Dushman aur Na Ahl Hukmaran deadly combo as far Pak is concerned….
موجودہ حکومت افادیت اسلئے کھورہی ہے کہ یہ ٹھہراؤ کا شکار ہے اس کا مستقبل کا کوئی بڑا ویژن نہیں ہے۔ جب بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہو ،تیل کی قیمتیں چڑھ رہی ہوں ،نہ سرمایہ کاری آرہی ہو اور نہ کوئی نئی منصوبہ بندی سامنے آرہی ہو تو ہوائیں رخ بدلنے لگتی ہیں حکومتی چراغوں میں روشنی نہیں رہتی، بے جان لاشوں کو اٹھاکر کون زیادہ دور تک چل سکتا ہے؟ ۔ سہیل وڑائچ
جب سہیل وڑائچ صاحب فروری 2024 سے پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ نون لیگ الیکشن سویپ کرے گی اور تحریک انصاف کا ووٹر مایوسی کے باعث باہر نہیں نکلے گا، تو میں نے ان سے اختلاف کیا تھا۔ عوام نے نون لیگ کو مسترد کر دیا۔
لیکن آج میں وڑائچ صاحب سے متفق ہوں کہ اس حکومت کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔
شہباز شریف حکومت نے اپنا ہی ریکارڈ پھر توڑ دیا، ملک کے قرض 81 ہزار 930 ارب روپے پر پہنچ گئے، ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرض میں 6 ہزار 994 ارب روپےکا اضافہ