جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
I have asked the Punjab CM to ensure that every health facility in the country is made available for Nawaz Sharif to get the treatment of his choice. The federal govt will assist wherever required. I wish him good health.
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
"اور یہاں مجھے اپنے ہی ادارے کی بات کرنی ہوگی، کیونکہ سب سے بڑا نقصان جرنیلوں یا افسر شاہی نے نہیں بلکہ ججوں نے پہنچایا۔ عدلیہ کا کام شہریوں کی ڈھال بننا تھا، وہ واحد ادارہ جس کا مقصد قانون کے بل بوتے پر طاقتور کے سامنے ناں کہنا تھا۔ لیکن یہ بھی انگریز دور کا ہی ایک ترکہ تھی اور اس کے خمیر میں وہی سوچ شامل تھی: انگریز راج میں اس نے عوام کی نہیں بلکہ حاکم کی خدمت کی، اور آزادی کے وقت اس نے اپنی وفاداری رخصت ہوتے ہوئے تاجِ برطانیہ سے منتقل کر کے نئے مقتدر طبقے کے سپرد کر دی، عوام کے نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی ٹینک سڑکوں پر آئے، عدالتوں نے بار بار 'ہاں' کہا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دینے کے لیے 'نظریۂ ضرورت' تراشا؛ غاصبوں سے حلف لیے؛ اور آئین شکنی کو قانون کا روپ دیا۔ عدلیہ کے اندر رچی اس نوآبادیاتی ذہنیت نے اس ملک کو کسی بھی ایک ڈکٹیٹر سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ اس نے آئین کے محافظ کو ہی اس کی پامالی کا سہولت کار بنا دیا"- جسٹس منصور علی شاہ
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
پروغرام بھی وڑ گیا۔ فائر وال بھی وڑ گئی۔ آئی ایس پی آر بھی وڑ گیا۔ آرمی آگاہی نیٹ ورک بھی وڑ گیا۔ آزاد ڈیجیٹل بھی وڑ گیا۔ تین انگریزی نیوز چینل بھی وڑ گئے۔ واٹس ایپ گروپ بھی وڑ گئے۔
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
اہل وطن کو یوم آزادی مبارک!
قائد اعظم کا پاکستان دفن ہو چکا ہے
انا للہ و انا علیہ راجعون
بیرسٹر حسان نیازی کی غیرقانونی حراست کو آج پورے تین سال ہو چکے ہیں
13اور 14 اگست 2023 کی درمیانی رات یعنی 1145PM, ریاست پاکستان نے ماورائے آئین وقانون یعنی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر میرے بیٹے کو گرفتار کیا ، دو ماہ غیرقانونی اغوا رکھا گیا اور پھر ریاست نے اپنے دائیں ہاتھ سے میرے بیٹے کو اپنے ہی بائیں ہاتھ کے حوالے کر دیا یعنی کہاپنی ہی (فوج کی) تحویل میں رکھ لیا فوجی تحویل میں کینگرو ملٹری کورٹس کے ذریعہ فراڈ جھوٹا مقدمہ قائم کر کے دس سال قید کی سزا سنا دی گئی، آج بھی حسان نیازی کو ہائی سیکورٹی جیل کی بیرکوں میں رکھا گیا ہے ۔ فراڈ گرفتاری اور فراڈ مقدمہ کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک سال سے اپیل دائر کر رکھی ہے، چار بنچ بنے اور چاروں بینچوں نے سننے سے معذرت کر لی ، اب پانچواں بینچ پچھلے اٹھ مہینوں سے کیس لٹکائے بیٹھا ہے، اور چھٹیوں کے بعد کیس سننے یا نہ سننے کا پتہ چلے گا۔
حساس ادارے کے ایک افسر کی بارُعب آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ پانچواں چھوڑ چھٹا ساتواں آٹھواں بینچ آ جائے تمہارے بیٹے کا کیس نہیں سنا جائے گا۔۔۔ نہ کوئی بینچ نہ سنے گا نہ فیصلہ دے گا صرف کیس لٹکائے گا۔مجھے اپنے کمزور سویلین ہونے اور اپنی کم مائیگی اور بے بسی پر شرمندگی ہے۔
انا للہ و انا علیہ راجعون
کیسے مان لوں کہ آئین اور قانون کی دھجیاں ازانے والے مکافات عمل سے بچ جائیں گے، ایک ہی آسودگی ہے ایسوں کی ایک شیلف لاہف اور ایک expiry date ہے، پچھتر سالہ تاریخ میں ایسے ساروں کو عبرت کا نشان ببتے دیکھا ہے، کیسے مان کوں کہ اج کے کردار بچ جائیں گے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
جسٹس ریٹائرڈ منصور علی شاہ کا "ادھوری آذادی" کے عنوان سے ڈان اخبار میں دلچسپ آرٹیکل..!!
اگر ہم ایسے جج چاہتے ہیں جو کسی ناانصافی پر مبنی حکم نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر سکیں، تو ہمیں انہیں بینچ تک پہنچنے سے بہت پہلے تیار کرنا ہوگاایسے طلبہ کی صورت میں جنہیں صرف قانون کی باریکیاں ہی نہ سکھائی جائیں بلکہ یہ پختہ شعور بھی دیا جائے کہ آئین کا مقصد کیا ہے
پختہ نظریے رکھنے والا طالب علم ایک دیانت دار وکیل بنتا ہے دیانت دار وکیل ایک بے خوف بار رہنما اور بے خوف بار رہنما وہ جج بنتا ہے جو ناانصافی کے سامنے ’’نہیں‘‘ کہنے کی جرأت رکھتا ہےاگر ہم ایک نسل کو یہ یقین اور عزم دے دیں تو کوئی آئینی ترمیم اسے ان سے چھین نہیں سکتی، کیونکہ پختہ نظریات میں ترمیم نہیں کی جا سکتی..!!
ہماری جدوجہد ہمارا حق ہے، کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد عوام میرے ساتھ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دھاندلی کا 90 فیصد عمل پولنگ کے بعد سے لے کر نتائج کے درمیان ہوا ہے۔ میں نے دو سال الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے کوشش کی، اگر ۸ فروری کو EVM ہوتی تو گیم وہیں ختم ہو جاتی۔ آج بھی کہتا ہوں، اگر انتخابات میں شفافیت چاہیئے تو EVM کا نظام لایا جائے، دھاندلی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (24 جولائی 2025)
2/2
معاشی نظام کولیپس کر گیا؟
وفاقی حکومت کا قرض 83.6 کھرب روپے تک پہنچ گیا، 4 سال میں 75 فیصد اضافہ
وفاقی حکومت کا براہِ راست قرض جون 2026 تک 83.6 کھرب روپے ہوگیا۔
ایک سال میں وفاقی قرض میں 5.8 کھرب روپے (7.3 فیصد) اضافہ ہوا۔
گزشتہ چار سال میں وفاقی حکومت کے قرض میں مجموعی طور پر 75 فیصد اضافہ ہوا۔
جون 2022 کے مقابلے میں وفاقی قرض 35.8 کھرب روپے بڑھ چکا ہے۔
جون 2026 تک حکومت کا مقامی قرض 59.5 کھرب روپے ہوگیا، جو ایک سال پہلے 54.5 کھرب روپے تھا۔
مقامی قرض میں ایک سال کے دوران 5 کھرب روپے (9.1 فیصد) اضافہ ہوا۔
حکومت کا غیر ملکی قرض 24.2 کھرب روپے ہوگیا، جو جون 2025 میں 23.4 کھرب روپے تھا۔
غیر ملکی قرض میں 783 ارب روپے اضافہ ہوا۔