@ImranRiazKhan واہ یوتھیوں کا نیا بیانیہ شروع.
تحریک انصاف حکومت والے سب کررہے تھے پر وفاق نہیں دے رہی تھی، ابے کم عقلوں جب گھڑی چور کو پورے ملک میں ڈنکا بج رہا تھا اس وقت یہ سامان کیوں نہیں لیکر دیا...
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
یہ ہے پشاور کی شاہراہوں سے تازہ ترین مناظر
جی چاہتا ہے تحفے میں
بھیجوں میں انہیں آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو، نذرانے کا نذرانہ
بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ
کیوں آنکھ لگائی تھی، کیوں آنکھ ملائی تھی
کیوں آنکھ ملائی تھی، کیوں آنکھ لگائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے، کرکے مجھے دیوانہ
اگر پی ٹی آئی کو عوامی حمایت حاصل ہوتی تو آج خیبر پختونخوا کے ہر ضلع میں لاکھوں کا مجمع ہوتا اور سڑکیں جام ہوتیں۔ ہمیں اطلاعات تھیں کہ یہ ایک اور 9 مئی کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر 9 مئی تو دور کی بات، صوبے میں ایک سڑک تک بند نہیں ہوئی۔ عوام نے اِن کی حکومت کو مسترد کر دیا ہے، اور اس اقدام سے انہیں ایک نئی امید ملی ہے۔
پشاور کے غیور عوام یوم نجات کا جشن ماننے سڑکوں پر نکل آئے۔
پاکستان کے جھنڈوں کی بہاریں لگ گئیں
سہیل آفریدی تو جس ملک کو ختم کرنے کی باتیں کر رہا تھا، نفرتیں بانٹ رہا تھا، پختون پنجابی کر رہا تھا، سب ختم!
یہ ہیں اصلی اور نسلی غیرت مند پختون، جو دہشتگردی اور منشیات مخالف ہیں
EXCLUSIVE ‼️‼️‼️
*ٹاپ بریکنگ- اہم تقرری*
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں چیف سیکریٹری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کر دیا گیا
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تعینات تھے
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی بطور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی تعیناتی تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کا تعلق ضلع مردان خیبر پختونخوا سے ہے
وفاقی حکومت کی جانب سے تقرری کا نوٹیفکیشن 11 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا