اگر پانی بھی زیادہ عرصے کھڑا رہے تو وہ بھی سڑ جاتا ہے اور بدبو دینے لگتا ہے
۔1973 سے آج تک اس ملک کے اقتدار پر وہی بھٹو، وہی زرداری، وہی شریف قابض ہیں سسٹم تباہ و برباد کردیا ہے
#صوبے_تو_بنیں_گے#PPP#PMLN@OfficialDGISPR
حیدرآباد میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے باہر SPSC کی کرپشن اور نتائج میں بےضابطگیوں کے خلاف طلبا کا دھرنا ساتویں دن میں داخل ہوچکا پے۔ دھرنے میں خواتین بچے، بوڑھے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے شامل ہوچکے ہیں۔ بس ہمارا نیشنل میڈیا غائب پے۔
بلاول کی ریاست مخالف تقریر پر @ARYNEWSOFFICIAL اور @WaseemBadami چند گھنٹوں میں پروگرام سجا کر بیٹھ گئے تاکہ بلاول اپنی دھمکیوں کی وضاحت دے سکے۔
کیا یہ سہولت الطاف حسین کو دی گئی تھی جب الطاف حسین نے سانحہ مشرقی پاکستان میں ملوث جرنیلوں کو سزا دینے کی بات کی تھی ؟
سندھ اور کراچی کو برسوں تک جان بوجھ کر پیچھے رکھا گیا۔ مہاجر قیادت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش نے شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا — اور اب صاف صاف کہنا پڑے گا کہ @AltafHussain_90 کا کردار مٹانے والوں نے خود سندھ کو گندگی اور بدانتظامی میں دھکیل دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ سندھ کو صاف کیا جائے اور عوام کی اصل آواز کو واپس اس کا حق دیا جائے
ایم کیوایم کے سینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت پر متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار تعزیت
لندن……29 جولائی 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کراچی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایم کیوایم کےسینئر کارکن سمیع الدین رحمانی کی شہادت اوران کے بیٹے فصیح رحمانی کے زخمی ہونے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے تمام لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ میں اور ایم کیوایم کے تمام کارکنان دکھ اور صدمے کی اس گھڑی میں آپ کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نےدعاکی کہ اللہ تعالیٰ سمیع رحمانی شہید کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اوراہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جناب الطاف حسین نے سمیع رحمانی شہید کے بیٹے فصیح رحمانی کی صحتیابی کے لئے بھی دعاکی ہے۔
#کراچی کو اس بدبخت جماعت نے اس نہج ہر لا کھڑا لیا ہے کہ اس شہر سے کوئی خیر کئ خبر سننے کو ملتی ہی نئیں۔ آج 25 سالہ Wafflix کے بانی، میر رضا علی کی لاش اغوا کے بعدایسڈ میں جھلسی ہوئی گلستان جوہر سے ملی ہے۔
اس شہر کے لوگوں کی منظم طریقے سے ٹارگٹ کلنگ کی جارہئ ہے۔ کبھی موبائیل چھینتے وقت گولی کا نشانہ، تو کبھی بینک یا ATM سے نکلتے وقت، کبھی ڈمپر سے کچل کر، تو کبھی بھتہ نہ دینے پر۔ کیا چاہتے ہیں آپ لوگ؟ جینا حرام کر رکھا ہے اس شہر کے لوگوں کا، لوگ سڑک پر پیدل چلنے سے ڈرتے ہیں۔
@HamidMirPAK صاحب آداب !
آپ ہمیشہ ماضی کے قصے سُنا کریہ کیوں ثابت کرتےرہتےہیں کہ آپ کو سب کچھ پتہ ہوتاہے۔اگرعلم ہوتاہےتووقت پر بتایاکیجیے تاکہ عوام کی رہنمائی ہو سکے۔وقت گزرنےکے بعدٹارزن بننے کاکیا فائدہ؟
آج کی تایخ میں بتائیےکہ آزاد کشمیر میں کیاہورہاہےاورکون کروا رہا ہے۔۔؟؟
آخر کب تک؟
میرے والد نثار پنہوار اور بھائی محسن پنہوار 219 دن سے جبری گمشدگی میں ہیں۔
کوئی FIR نہیں۔ کوئی الزام نہیں۔ کوئی عدالت نہیں۔
یہ انصاف نہیں، ظلم ہے۔
یہ قانون نہیں، طاقت کا ناجائز استعمال ہے
سوال یہ ہے:
اگر نثار احمد پنہوار اور محسن پنہوار مجرم ہیں تو
کیوں عدالت میں پیش نہیں کیے جا رہے؟
اور اگر بے قصور ہیں تو
کیوں 219 دن سے ان کا پتہ نہیں؟
جبری گمشدگی کسی بھی جمہوریت میں قابل قبول نہیں۔
میرے والد 61 سال کے ہیں، شوگر کے مریض ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ خدارا رحم کریں، نثار پنہور اور محسن پنہور کو فوری رہا کیا جائے۔ #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنا بند کی جائے، الطاف حسین
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا#RightsMovementAJK#Kashmir
کشمیر میں اپنے حقوق کےلئے پرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر پولیس اورسیکوریٹی فورسزکی جانب سے وحشیانہ فائرنگ اور درجنوں کشمیریوں کے شہیدوزخمی ہونے کے واقعات دلخراش ہیں۔ مظلوم کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے پرامن احتجاج کررہے ہیں، دھرنادیے ہوئے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے اورانہیں حل کرنے کے بجائے انہیں طاقت سے کچلا جارہاہے۔ان پرگولیاں برسائی جارہی ہیں۔ اب تک سینکڑوں کشمیری شہیدوزخمی ہوچکے ہیں۔ آج بھی راولاکوٹ، میرپور اور دیگرعلاقوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر نہتے کشمیری عوام نے پرامن مظاہرے کئے تھے لیکن نہتے کشمیریوں پر پولیس اورسیکوریٹی فورسز نے اندھادھند فائرنگ کی، ہرشہرمیں سڑکوں پر لاشیں اورزخمی پڑے رہے، بہت سی لاشوں اور زخمیوں کو بھی سیکوریٹی فورسز اٹھاکرلے گئیں، سیکوریٹی فورسز نے اسپتالوں پر بھی قبضہ کرلیااورزخمیوں کوعلاج کرانے نہیں دیا گیا۔
آج کشمیرکی خوبصورت وادی میں نہتے کشمیریوں کے خون سے جس طرح ہولی کھیلی گئی ہے،لیکن حکومت کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کوہدایت کردی گئی کہ وہ اس حوالے سے کوئی خبرنہ دیں تاکہ اس خون کی ہولی کودنیا سے چھپایا جاسکے لیکن اس کوچھپایا نہیں جاسکتا، انٹرنیشنل میڈیاپر اس کی رپورٹس آئی ہیں، اس بارے میں سوشل میڈیا پرجو وڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں انہیں دیکھ کردل خون کے آنسو روتا ہے، کیا اس طرح کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل کراورکشمیر کوخون میں نہلا کر کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے؟
میں حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ خدارا معصوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنا بند کی جائے، وہاں مظالم بند کئے جائیں۔ کشمیریوں کوان کا حق دیا جائے۔میں پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہونے والے معصوم کشمیریوں کو خراج عقید ت پیش کرتاہوں، ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتاہوں اورانہیں یقین دلاتا ہوں کہ الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم آپ کے غم میں برابرکی شریک ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 438 ویں فکری نشست سے خطاب
28 جولائی 2026ء
سندھ پبلک سروس کمیشن کےامتحانات میں طلبہ نےCriminologyاورEnvironmental Science کا 100 نمبروں کا ایک پرچہ دیا،مگرمارک شیٹ میں200 نمبروں کے 2 & Paper 1 درج تھے۔سوال کرنے پر کہا کہ صبر کرو اگلی بار محنت کرنا۔ کب تک ہم اپنے بچوں کےمستقبلوں سےان سرکاری تعلیمی اداروں کو لھیلنےدیں گے؟
کشمیر کو مکمل آزاداورخودمختار ریاست کے طورپرتسلیم کیاجائے۔الطاف حسین
کشمیری عوام کے ساتھ حکومتی رویہ اور کشمیری عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اورقابل مذمت ہے، پاکستان کے حکمرانوں کوچاہیے کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات کے حل پرسنجیدگی سے توجہ دیں، کشمیریوں کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کا سلسلہ بند کریں اور کشمیریوں کے جائز مطالبات کے حل کیلئے ان سے مذاکرات کاراستہ اختیارکریں۔
میں شروع دن سے کشمیری عوام کے جائز مؤقف کی حمایت کرتا چلاآرہا ہوں اوران پر کئے جانے والے ظلم کی مذمت کرتارہاہوں۔میرا شروع دن سے یہی مؤقف ہےکہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کاحق صرف اور صرف کشمیری عوام کو ہے،کشمیریوں کو فٹ بال سمجھنا بند کیاجائے، کشمیر کو مکمل آزادی اورخودمختاری دی جائے اور کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طورپرتسلیم کیاجائے،کشمیری عوام کو جمہوری طریقے سے اپنا صدر اور وزیراعظم منتخب کرنے کا حق دیا جائے تاکہ منتخب نمائندے کشمیری عوام کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ میں دونوں طرف کے کشمیری کے بھائیوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیراورآنے والی نسلوں کے بہترمستقبل کیلئے ایک ہوجائیں اورمتحد ہوکر کشمیری عوام کے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کریں۔ میں آج بھی کشمیریوں کے جائز حقوق اور مطالبات کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور حقوق کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہوں اورجب تک زندگی ہے ان کے حقوق کیلئے آوازاٹھاتا رہوں گا۔
میں اوورسیز ممالک میں رہنے والے تمام کشمیری بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اپنے اپنے علاقوں کے پارلیمنٹرینز کو خطوط لکھیں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ کشمیر کی نازک ترین صورتحال کافوری نوٹس لیں، مظلوم کشمیری عوام پر حکومتی مظالم رکوانے کیلئے مداخلت کریں اور پاکستان کے حکمرانوں پردباؤ ڈالیں کہ کشمیری عوام کے مطالبات کوتسلیم کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 433 ویں فکری نشست سے خطاب
21، جولائی 2026ء
سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم کیا الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت اوروفاق کی نام نہاد علمبردار پیپلزپارٹی کی اصل سوچ اورسیاست آمرانہ، سندھ میں تعصب اورتقسیم کی سیاست ہے، پیپلزپارٹی کی یہ سیاسی سوچ اورپالیسی آج کی نہیں بلکہ اس کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوکے زمانے سے ہے، متعصبانہ سوچ وفکر رکھنے والے جو متعصب عناصر آج سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں اورتجزیوں میں ایم کیوایم کے خلاف زہراگل رہے ہیں،اس پرشرانگیز الزامات لگارہے ہیں وہ یہ بتائیں کہ اگر پیپلزپارٹی واقعی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تواس کےبانی ذوالفقارعلی بھٹو نے 1970ء کے الیکشن کے نتائج کیوں تسلیم نہیں کئے تھے؟ اس نے عوامی لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیابی کوتسلیم کرنے کے بجائے ” اِدھر ہم ادھرتم“ کانعرہ کیوں لگایا تھا؟ کیا بھٹو کایہ نعرہ اس کی جمہوری سوچ ہے یاآمرانہ سوچ ہے جس نے ملک توڑنا گوارا کرلیا لیکن عوامی لیگ کواقتداردینا قبول نہیں کیا؟ اگربھٹو جمہوریت کاعلمبردار تھا تو اس نے 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعدجنرل یحییٰ خان کی جانب سے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بننا کیوں قبول کیا؟ بھٹونے”سوشلزم ہماری معیشت“ اور”روٹی کپڑا اور مکان “ کا نعرہ لگایا تھا، اس نے اقتدارمیں آتے ہی نیشنلائزیشن کے نام پر ملک کے عوام سے ان کی معیشت کیوں چھین لی تھی؟ عوام کوروٹی، کپڑااورمکان کا جھانسہ دینے والے بھٹونے عوام روٹی، کپڑا اورمکان کیوں چھینا؟
پیپلزپارٹی کے پے رول پر سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈہ کرنے والے بعض متعصب پوڈ کاسٹرز الطاف حسین پر تقسیم کا بہتان لگاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں نفرت، تعصب اور دیہی اورشہری کی تقسیم کی بنیاد پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے ڈالی۔بھٹونے اقتدارمیں آنے کے بعد اپنی متعصبانہ پالیسیوں اوراقدامات کے ذریعے سندھ میں تقسیم، نفرت اور تعصب کی جوبنیاد ڈالی وہ آج تک قائم ہے جس سے نہ پیپلزپارٹی انکارکرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی سچامؤرخ اور نہ ہی کوئی غیرمتعصب صحافی اوروی لاگر انکارکرسکتا ہے۔
ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ء میں سندھ اسمبلی میں ایک لسانی بل پیش کیا جس کے تحت سندھی زبان کوسندھ کی سرکاری زبان قراردیکر سندھی زبان کو لازمی قراردے دیا گیا۔ یہ قومی زبان اردو کے خلاف ایک جبری اورمتعصبانہ اقدام تھاجس سے سندھ میں آباد اردو بولنے والوں میں شدید بے چینی پھیلی، اردو بولنے والے بیوروکریٹس، طلبہ اورسرکاری ملازمین کونشانہ بنایا جانے لگا۔ اردوبولنے والوں نے بھٹوحکومت کے اس متعصبانہ اقدام کے خلاف پرامن احتجاج شروع کیا توذوالفقارعلی بھٹو کےکزن اور اس وقت کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ممتازعلی بھٹو جنہیں ذوالفقارعلی بھٹو اپنا ”ٹیلنٹڈ کزن“ کہتے تھے، انہوں نے کراچی ، حیدرآباد اورسندھ کے دیگر شہروں میں اردوبولنے والوں کو حکومتی طاقت سے کچلا، بڑی تعداد میں اردو بولنے والوں کوپولیس کے ذریعے گولیاں ماری گئیں، صرف یہی نہیں بلکہ بھٹو حکومت نے حکومت کی سرپرستی میں اندرون سندھ میں لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور اوردیگردیہی علاقوں میں مہاجروں کی املاک پر حملے شروع کرادیے، مہاجروں کوقتل کیا گیا، مہاجروں کے گھروں، دکانوں اوراملاک کو لوٹا گیا، فصلوں اور املاک کوآگ لگائی گئی،اس وقت اندرون سندھ کے کئی شہروں میں مہاجروں بہت بڑی تعداد آباد تھی، لاڑکانہ کامیئرتک اردو بولنے والاہوتا تھا لیکن بھٹو حکومت کی سرپرستی میں کرائی گئی اس قتل وغارتگری کی وجہ سے مہاجروں کواندرون سندھ کے شہروں سے ہجرت کرکے کراچی اورحیدرآباد میں نقل مکانی کرنی پڑی۔اس طرح مہاجروں نے دوسری مرتبہ ہجرت کی۔یہ سب کچھ ایم کیوایم اور الطاف حسین نےکیا یا بھٹو اوراس کی پیپلزپارٹی نے؟ اس وقت نہ توایم کیوایم تھی اورنہ ہی الطاف حسین سیاست میں تھا۔
1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت نے سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم کرتے ہوئے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیااور جوازیہ پیش کیا گیا کہ دیہی علاقوں کے عوام شہری سندھ سے پیچھے ہیں لہٰذا سرکاری ملازمتوں اورمیڈیکل،انجینئرنگ اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں میں دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے 60 فیصد اورشہری علاقوں کے لئے 40 فیصد کوٹہ مقررکیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگراس تقسیم کامقصد دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابرلانا ہوتا تودیہی علاقے صوبہ پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں بھی تھے لیکن یہ کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں نافذ کیا گیا۔ اس طرح صوبہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا؟ کیا اس وقت الطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیا اس وقت ایم کیوایم کاوجود تھا؟ یہ کوٹہ سسٹم محض دس سال کے لئے تھالیکن یہ آج بھی نافذ ہے۔ 1/2
اردو اسپیکنگ کمیونٹی کوسندھ کے طلبہ کی جانب سےپیغام:
"آپ کوشکایت ہے کہ وڈیرے سندھ کی نوکریاں آپ سےچھین کرہم سندھیوں کودےدیتے ہیں،لیکن درحقیقت آپ اور ہم دونوں اسFeudal System کاشکار ہیں،یہ نوکریاں وہ اپنوں میں ہی بانٹتے ہیں، جسکی خلاف ہم نے یہ احتجاج شروع کیاہے، ہمارے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہوجائیے"
کمال کی ترجیحات ہیں!
**"ایم کیو ایم کا ترانہ"** چلانے والا یا **"الطاف حسین سے محبت"** کا اظہار کرنے والا چند گھنٹوں میں قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے، رات کی تاریکی میں وال چاکنگ کرنے والوں کو بھی تلاش کر لیا جاتا ہے۔
لیکن کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام اسلحہ لے کر شہریوں کو لوٹنے والے، جن کی وارداتیں سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی ریکارڈ ہوتی ہیں، وہ آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔
کراچی کے عوام پوچھتے ہیں: کیا ریاست کی پوری طاقت صرف سیاسی آوازوں کے لیے مخصوص ہے؟ اگر یہی رفتار جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی دکھائی جائے تو شاید شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
**کراچی کو سیاسی انتقام نہیں، قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی چاہیے۔**
**— اے پی ایم ایس او**
ڈمپروں کو تو DIG صاحب نے یہ کہہ کر ای چالان سے استثنا دے دیا کہ انڈسٹریل علاقوں میں پارکنگ کی مناسب جگہ موجود نہیں، لیکن عوام کے لیے روبوٹک ای چالان متعارف کرائے جا رہے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ شہر میں عام شہریوں کے لیے بھی نہ تو مناسب پارکنگ ایریاز موجود ہیں اور نہ ہی جگہ جگہ پارکنگ لاٹس بنائے گئے ہیں جہاں وہ اپنی گاڑیاں پارک کر سکیں۔
آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟ اگر پارکنگ کی کمی ڈمپروں کے لیے جواز بن سکتی ہے، تو عام شہریوں کے لیے کیوں نہیں؟ کوئی DIG صاحب سے پوچھے کہ یہ Selective Relief صرف ڈمپروں کے لیے ہی کیوں؟
اور پھر اس relief کی آڑ میں عوام روز ان ڈمپروں کر نیچے کچلی جائے گی۔
📌اس ملک میں شہری اور دیہی سندھ کی بنیاد ڈالنے والا بھٹو تھا اور اُس کی اولاد نے بھٹو کے اِس مشن کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ بے نظیر کے لہجے میں دوسرے پاکستانیوں اور خاص کرمہاجروں کے لئے چھپی نفرت اس کلپ میں سُنی اور دیکھی جاسکتی ہے۔
📌آج سوشل میڈیا کے دور میں یہی کام چند یوٹیوبرز کو پیسے دے کر انجام دیا جارہا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں پیپلز پارٹی نے باقائدہ ایک فنڈ مختص کردیا ہے جس کے زریعے چند ٹکوں پر بکنے والے نام نہاد بلاگرز کو پیسے دے کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نفرت انگیز پروپگینڈا پھیلایا جارہا ہے۔
📌سندھی بھائیوں کو سمجھنا ہوگا کہ دو قومیں دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سلامتی سے رہ رہی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ مہاجر اور سندھی آمنے سامنے آجائیں جس کے زریعے آنے والے الیکشن میں جیت کو ممکن بنایا جاسکے کیونکہ پچھلے 18 سالوں میں پیپلز پارٹی سندھ کو ایک بھی ترقیاتی منصوبہ دینے سے قاصر رہی ہے اور جو چند منصوبے تعمیر ہوئے ہیں اُن میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی رپورٹس عالمی مالیاتی ادارے مسلسل شائع کررہے ہیں۔ جب کارکردگی صفر ہو تو ناکامی پر پردہ ڈالنے کا یہ پرانا طریقہ ہے۔
📌 یاد رکھیے! نہ تو مہاجر اور نہ ہی کسی سندھی بھائی کا خون اتنا سستا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مضموم مقاصد کے حصول کے لیے بہایا جائے۔ سندھ کو اگر ترقی کرنی ہے تو پیپلز پارٹی کے جاگیردارانہ اور وڈیرانہ استعماری نظام سے چھٹکارا ہی واحد حل ہے۔!!
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90@OfficialMQM
اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے دوسال قبل PPP کی کرپشن اور ملک دشمن اقدامات کا پردہ چاک کیا تھامگر پیپلزپارٹی اور اس کےپے رول پر کام کرنےوالے یوٹیوبر آج تک منہ میں دہی جمائے بیٹھے ہیں
اور
بانیان پاکستان کی اولادوں پر بہتان تراشی کرتے ہیں
بے شرمو!
جواب دو
#کیا_مہاجر_یہودی_ہیں؟
عوام سے مہانہ 400روپے Municipal and Utility Charges کے الیکٹرک کے بل میں لینے کے بعد سعید غنی صاحب فرمارہے ہیں کہ انکی حکومت نے اربوں خرچ کردیئے، سندھ حکومت کا خزانہ بھی خالی ہوگیا تو شہر صاف نہیں ہوگا جب تک لوگ کچرا جگہ پر نئیں ڈالیں گے، تو اب وہ حکم صادر فرمادیں کہ MUCT بھرنے کے باوجود لوگ اپنا کچرا “جام چلرو” یا گوند پاس لینڈ فل ڈالنے خود جائیا کریں کیونکہ اب سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے یہ بھی نہں ہوگا۔ کیونکہ شہری تو کچرا جمع کرنے والوں کو اپنے گھر کا کچرا جمع کرادے دیتے ہیں،جسے کچرے والےہر محلے کی کچرا کنڈی پر پھینک جاتے ہیں، جو SSWM کا کلکٹنگ پوائنٹ ہے، بعد میں سندھ سالڈ ویسٹ کئ گاڑی اگر کچرا اٹھا بھی لے تو وہ اکثر اوقات لیاری ندی میں جا کر ٹرک الٹ آتی ہیں۔ پروف کیلئے ویڈیو لگادی ہے۔ تو براے کرم اپنی ہر ناکامی کا الزام کراچی والوں پر دھر کر انکا صبر آزمانا بند کر دیں۔
#Demand for the Immediate Release of EX MNA Nisar Ahmed Panhwar & Mohsin Panhwar: 212 Days of Illegal Detention. Seven Months of Unending Suffering.
For more than seven months, they have remained in undisclosed detention, completely isolated from their family. No one is allowed to meet them. No one knows their physical or mental condition, and they have no way of knowing how their loved ones are surviving this ordeal.
This prolonged detention has come at an enormous human cost. Nisar Ahmed Panhwar is a diabetic patient who became physically weak during his previous 88-day detention. Subjecting him to another extended period of confinement places his health and life at serious risk.
Despite having committed no crime, both father and son continue to be held in deep-state cells. The systematic removal of political figures and their family members to engineer political space ,public has made its stance clear, rejecting political manipulation and forced narratives. Political engineering cannot buy genuine public support, nor can it justify the violation of basic human rights. ITS TIME TO WORK FOR THE COUNTRY UNDERSTAND THIS BEFORE ITS TOO LATE.
If there is any credible allegation against them, present it before an independent court and allow the legal process to take its course. But if there is no evidence of wrongdoing, there is no justification for continuing to deprive them of their liberty
ENOUGH NOW
For the sake of justice, humanity, and the rule of law, release former MNA Nisar Ahmed Panhwar and his son Mohsin Panhwar immediately. Their family has already endured seven months of uncertainty and anguish. It is time to end this suffering and reunite them with their loved ones.
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#releasenisarandmohsinpanwar
#humanrights
#PakistanPolitics
#karachi
#foryouシ
#SpeakUp
سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ایک سازشی منصوبے کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی کوششیں کررہی ہے، اس کے لئےکچھ مخصوص صحافیوں اور یوٹیوبرز میں ایک خطیررقم تقسیم کی گئی ہے اوران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے وی لاگز اور پوڈکاسٹ میں الطاف حسین، مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف جتنازہراگل سکتے ہو، جتنے الزامات لگا سکتے ہو لگاؤ، نفرت پھیلاؤ تاکہ سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان دوبارہ سے نفرتیں پھیلائی جاسکیں، ان کے درمیان نفرتیں اوراشتعال پھیلایا جائےتاکہ انہیں آپس میں لڑایاجائے، سندھ میں پھر سے کشت وخون کرایا جائے۔ یہ وہی عمل ہے جو پیپلزپارٹی نے اپنی سابقہ حکومتوں کے دور میں کیا، جو19جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دورمیں MQM کوختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا، جس کا سلسلہ پیپلزپارٹی کی بینظیربھٹوحکومت نے جاری رکھا اورایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کیا گیا، سینکڑوں کولاپتہ کیا گیا، آبادیوں کے محاصرے کرکے ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی وہی ظلم کررہی ہے، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنارہی ہے، شہری عوام کوان کے حقوق دینے کے بجائے ان کے خلاف نفرت وتعصب کے اقدامات کررہی ہے۔ جب ہم اس ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کی حکومت اسے نفرت اورتقسیم کی سیاست قراردیتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی اپنی تاریخ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ نفرت، تعصب اورحق تلفیوں اور ظلم وبربریت سے بھری پڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادتیوں سے اندرون سندھ کے عوام بھی بے زار آچکے ہیں لیکن پیپلزپارٹی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بارپھر سندھ کارڈ کھیل رہی ہے لیکن اب سندھ کے باشعور عوام اس کے پروپیگنڈوں میں نہیں آئیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب