پنجاب میں مارشل لاء لگانے، بنیادی آئینی حقوق معطل کرنے کا بل اسمبلی میں پیش
(تحریر:- میاں دائود ایڈووکیٹ)
مسلم لیگ نواز کی طرف سے "دی کنٹرول آف عادی مجرم اور انسداد سماجی رویہ ایکٹ 2026" کیلئے بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، اس بل کی دفعہ 6 میں 30 کے قریب انسانی حرکات، اعمال، وقوعہ جات کو انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کیا گیا اور سرکاری افسروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ جس بھی عمل کو وہ چاہیئں، اس انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کرسکتے ہیں۔
دفعہ 7 کے تحت طریقہ کار بتایا گیا ہے جس کے تحت پولیس سمیت سرکاری افسران ہی کسی شہری کیخلاف شکایت کنندہ ہو سکتے ہیں یا عام شہری بھی درخواست دے سکتا ہے۔ شکایت کے بعد سرکاری افسران کی ہی دوسری کمیٹی ملزم شہری کو سماعت کے بعد انسداد سماجی رویہ کا جرم ثابت ہونے پر سزا دے سکتی ہے جس کے تحت شہری کو ضمانتی مچلکہ جمع کرانا ہوگا، اس کا نام PNIL لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ جہاز پر سفر نہ کر سکے، پاسپورٹ ضبط کرنے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے، سوشل میڈیا اکائونٹ بند کرنے، موبائل ضبط کرنے، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ضبط کرنے، اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے یا ضبط کرنے، بینک اکائونٹ منجمند کی سفارش کر سکتی ہے اور کسی شہری کی ہر قسم کی جائیداد ( کار، موبائل وغیرہ اور زمین وغیرہ) مجسٹریٹ کی منظوری سے منجمد کر سکتی ہے اور ملزم شہری پر کو ماڈرن ڈیوائس باندھ کر اسکی مانیٹرنگ کر سکتی ہے۔ دفعہ 9 کے تحت ہر وہ شخص عادی مجرم ہوگا جس کیخلاف ایک بھی مقدمہ درج ہوا اور چالان جمع ہوگیا، کوئی ملزم دو مرتبہ کسی مقدمہ یا مقدمات میں گرفتار ہوا یا ایسا شخص جو مسلسل انسداد سماجی رویہ میں تعریف کردہ جرائم میں بار بار ملوث پایا۔ دفعہ 9 میں تعریف کردہ عادی مجرموں کو مجسٹریٹ سمری ٹرائل کے بعد عادی مجرم قرار دے گا اور اس عادی مجرم کو بھی 3 ماہ کیلئے ماڈرن الیکٹرانک ڈیوائس باندھی جائیگی۔ عادی مجرم اگر الیکٹرانک ڈیوائس باندھنے کی کسی بھی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو پہلی مرتبہ اسے 3 ماہ سے 3 سال تک سزا ہو سکتی ہے، اگر ڈیوائس کو نقصان پہنچائے گا تو 1 سال سے 3 سال تک سزا ہوسکتی اور ساتھ 10 لاکھ جرمانہ لازمی ہوگا۔ عادی مجرموں کا DNA ریکارڈ بنایا جائیگا، مزید خلاف ورزیوں کو مزید جرمانے اور مزید سزائیں بھی ہونگی۔ فنگر پرنٹس، تصویری ریکارڈ وغیرہ کا ریکارڈ بنایا جائیگا۔
مسلم لیگ نواز کا پنجاب میں یہ بل آئین میں دیئے گئے کم 13 بنیادی آئینی حقوق یعنی 13 آرٹیکل بنیادی حقوق سے متعلق کی خلاف ورزی ہے، اگر یہ قانون لاگو ہو گیا تو یہ آئین کا آرٹیکل 4 یعنی (مساوی قانونی تحفظ)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا حق) آرٹیکل 10 (غیرقانونی گرفتاری اور نظربندی سے تحفظ)، آرٹیکل 10 اے (فیئر ٹرائل)، آرٹیکل 13 ( دوہری سزا)، آرٹیکل 14 ( عزت نفس کا تحفظ) آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) آرٹیکل 16 (اکٹھے ہونے کی آزادی) آرٹیکل 17 ( سیاسی سرگرمیوں کی آزادی) آرٹیکل 18 (کاروبار کی آزادی) آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) آرٹیکل 23 اور 24 ( جائیداد خریدنے، استعمال کرنے کا حق) کی عملی طور پر معطلی ہوگی۔ بنیادی حقوق ہمیشہ تب معطل ہوتے ہیں جب مارشل لاء لگایا جاتا ہے ورنہ کبھی بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کئے جاتے، کسی قانون کے ذریعے تو بنیادی حقوق معطل ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لئے یہ مجوزہ بل پنجاب میں مارشل لاء لگانے کے مترادف ہوگا۔
بنیادی آئینی حقوق کے آرٹیکلز کے علاوہ یہ مجوزہ بل آئین کے آرٹیکل 175 سب آرٹیکل 3 ( عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنا) کی بھی خلاف ورزی ہے۔
بشکریہ:- میاں دائود ایڈووکیٹ
پنجاب حکومت صوبے کے عوام پر وہ قانون (الیکٹرانک ڈیوائس شہری کو باندھنا) لاگو کرنے جا رہی ہے جو گوانتاناموبے میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا اور امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔
مسلم لیگ نواز کا مارشل لاء لگانے اور بنیادی آئینی حقوق معطل کرنے کا بل اسمبلی میں پیش
(تحریر:- میاں دائود ایڈووکیٹ)
مسلم لیگ نواز کی طرف سے "دی کنٹرول آف عادی مجرم اور انسداد سماجی رویہ ایکٹ 2026" کیلئے بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، اس بل کی دفعہ 6 میں 30 کے قریب انسانی حرکات، اعمال، وقوعہ جات کو انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کیا گیا اور سرکاری افسروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ جس بھی عمل کو وہ چاہیئں، اس انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کرسکتے ہیں۔
دفعہ 7 کے تحت طریقہ کار بتایا گیا ہے جس کے تحت پولیس سمیت سرکاری افسران ہی کسی شہری کیخلاف شکایت کنندہ ہو سکتے ہیں یا عام شہری بھی درخواست دے سکتا ہے۔ شکایت کے بعد سرکاری افسران کی ہی دوسری کمیٹی ملزم شہری کو سماعت کے بعد انسداد سماجی رویہ کا جرم ثابت ہونے پر سزا دے سکتی ہے جس کے تحت شہری کو ضمانتی مچلکہ جمع کرانا ہوگا، اس کا نام PNIL لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ جہاز پر سفر نہ کر سکے، پاسپورٹ ضبط کرنے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے، سوشل میڈیا اکائونٹ بند کرنے، موبائل ضبط کرنے، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ضبط کرنے، اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے یا ضبط کرنے، بینک اکائونٹ منجمند کی سفارش کر سکتی ہے اور کسی شہری کی ہر قسم کی جائیداد ( کار، موبائل وغیرہ اور زمین وغیرہ) مجسٹریٹ کی منظوری سے منجمد کر سکتی ہے اور ملزم شہری پر کو ماڈرن ڈیوائس باندھ کر اسکی مانیٹرنگ کر سکتی ہے۔ دفعہ 9 کے تحت ہر وہ شخص عادی مجرم ہوگا جس کیخلاف ایک بھی مقدمہ درج ہوا اور چالان جمع ہوگیا، کوئی ملزم دو مرتبہ کسی مقدمہ یا مقدمات میں گرفتار ہوا یا ایسا شخص جو مسلسل انسداد سماجی رویہ میں تعریف کردہ جرائم میں بار بار ملوث پایا۔ دفعہ 9 میں تعریف کردہ عادی مجرموں کو مجسٹریٹ سمری ٹرائل کے بعد عادی مجرم قرار دے گا اور اس عادی مجرم کو بھی 3 ماہ کیلئے ماڈرن الیکٹرانک ڈیوائس باندھی جائیگی۔ عادی مجرم اگر الیکٹرانک ڈیوائس باندھنے کی کسی بھی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو پہلی مرتبہ اسے 3 ماہ سے 3 سال تک سزا ہو سکتی ہے، اگر ڈیوائس کو نقصان پہنچائے گا تو 1 سال سے 3 سال تک سزا ہوسکتی اور ساتھ 10 لاکھ جرمانہ لازمی ہوگا۔ عادی مجرموں کا DNA ریکارڈ بنایا جائیگا، مزید خلاف ورزیوں کو مزید جرمانے اور مزید سزائیں بھی ہونگی۔ فنگر پرنٹس، تصویری ریکارڈ وغیرہ کا ریکارڈ بنایا جائیگا۔
مسلم لیگ نواز کا پنجاب میں یہ بل آئین میں دیئے گئے کم 13 بنیادی آئینی حقوق یعنی 13 آرٹیکل بنیادی حقوق سے متعلق کی خلاف ورزی ہے، اگر یہ قانون لاگو ہو گیا تو یہ آئین کا آرٹیکل 4 یعنی (مساوی قانونی تحفظ)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا حق) آرٹیکل 10 (غیرقانونی گرفتاری اور نظربندی سے تحفظ)، آرٹیکل 10 اے (فیئر ٹرائل)، آرٹیکل 13 ( دوہری سزا)، آرٹیکل 14 ( عزت نفس کا تحفظ) آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) آرٹیکل 16 (اکٹھے ہونے کی آزادی) آرٹیکل 17 ( سیاسی سرگرمیوں کی آزادی) آرٹیکل 18 (کاروبار کی آزادی) آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) آرٹیکل 23 اور 24 ( جائیداد خریدنے، استعمال کرنے کا حق) کی عملی طور پر معطلی ہوگی۔ بنیادی حقوق ہمیشہ تب معطل ہوتے ہیں جب مارشل لاء لگایا جاتا ہے ورنہ کبھی بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کئے جاتے، کسی قانون کے ذریعے تو بنیادی حقوق معطل ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لئے یہ مجوزہ بل پنجاب میں مارشل لاء لگانے کے مترادف ہوگا۔
بنیادی آئینی حقوق کے آرٹیکلز کے علاوہ یہ مجوزہ بل آئین کے آرٹیکل 175 سب آرٹیکل 3 ( عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنا) کی بھی خلاف ورزی ہے۔
بشکریہ:- میاں دائود ایڈووکیٹ
اصل پارلیمنٹیرین کا حق یہی ہے کہ وہ عوام کے لیے بولے اج اپ کی اسمبلی کی سپیچ پر فخر ہے کہ اپ نے عوام کے لیے بات کی اور اپ کو عوام کے لیے بات کرنی چاہیے باقی اپوزیشن تو مری ہوئی ہے اپ نے زندہ ہونے کا ثبوت دیا
ویل ڈن
@RShahzaddk کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں چند دن کی بات ہے ان کو اتنے لتر پڑھنے ہیں یہی لوگ بولیں گے کہ بڑی زیادتی ہو رہی ہے ہمارے ساتھ پھر ان کا انسو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا وہ مشاہد صاحب مرحوم والی بات ۔ ان کا حال پی ٹی ائی سے بھی برا ہونا ہے
@miandawoodadv میاں صاحب اس کے خلاف بھی رٹ کرو ہائی کورٹ دائر کرو رٹ پٹیشن دائر کرو ای ڈرامہ بھی بند ہونا چاہیدا ہے اگر کہ اس کیس میں میاں صاحب تسی ون کر جاؤ نا بلے بلے ہو جائے
@RShahzaddk تو شہزاد بھائی اس نے مشکل ترین وقت میں ساتھ کیوں دیا تھا اگر اس کی نوکری گئی ہے تو اس کے ساتھ تھوڑا ہوا ہے اس کو ساتھ جیل بھی ہونی چاہیے تھی
@Mian_JavedLatif میاں صاحب اللہ کی قسم سے اتنے برے حالات کسی بھی مارشل لا ڈکٹیٹر کے دور میں نہیں ہوئے جتنے برے حالات اس گورنمنٹ کے اور ان پانچ سالوں میں ہو رہے ہیں جو ہمارے پیارے پرائم منسٹر صاحب کے ہوتے ہوئے ہو گئے ہیں جو یہ تجربہ کار ٹیم کے ہوتے ہو رہے ہیں پاکستان کے اور عوام کے
میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ سب مل کر پیٹرولیم لیوی بھتے کے خلاف آواز اٹھائی جائے آج نہیں تو پھر کبھی نہیں کیونکہ یہ ملک کی معیشت اور عام آدمی کی جیب پر خودکش حملہ ہے
#ظالمانہ_پٹرولیم_لیوی_ختم_کرو
چاچو کی حکومت کلی لت پر"دھمال پاتے"کہتی ہے۔
دیکھی ہماری معاشی پرفارمنس۔۔۔
اور پرفارمنس👇
پچھلے 4 سال سے چاچو کی حکومت۔۔۔ہر 1 گھنٹے میں
تقریبا 100
کروڑ روپے(2500 کروڑ روزانہ) کا قرضہ ملکی بنکوں سے لیتی ہے۔
15 ہزار کروڑ روپے کی سالانہ لیوی پٹرول سے اکٹھی کر لیتی ہے۔
تقریبا 40 ارب ڈالرز ترسیلات زر اوورسیز پاکستانی بھیج دیتے ہیں۔
برآمدات بڑھیں نہیں۔۔
سرمایہ کاری آ نہیں۔۔۔
نجکاری ہوئی نہیں۔۔۔
مہنگائی اور بیروزگاری
آسمان پر۔۔۔
قرضے 80 سال کے برابر
4 سال میں لے کر
دوسرے آسمان پر۔
ان کا دماغ۔۔۔تیسرے آسمان پر
اور
کہتے ہیں۔۔
دیکھا ہمارا میکرو استحکام
دیکھی ہماری معاشی پرفارمنس۔
اور
آج۔۔۔بجٹ میں پھر یہ عوام کی ماریں گے۔
(اسد آر چوہدری)
@zakriaashraf1@Asadrchaudhry میرے بھائی ایک بات بتائیں نون لیگ کی الیکشن کے بعد اور عمران خان کی گورنمنٹ کے بعد جب سے نون لیگ کے شہباز شریف صاحب وزیراعظم بنے ہیں تو ان کی کارگردگی کیا ہے جس کی بنیاد پہ یہ لوگوں سے ووٹ مانگے پہلے کردگی بتائیں پھر ووٹ بھی مانگ لے