یہ ایک نہایت نایاب اور اعلیٰ معیار کی ویڈیو ہے جو ۱۳۵۶ ہجری / ۱۹۳۸ء کے حج سیزن میں فلمائی گئی تھی یعنی آج سے ۸۸ سال پہلے۔
اس میں پیدل آنے والے حجاج بھی دکھائی دیتے ہیں، اپنے ملکوں سے اونٹوں پر آنے والے بھی اور گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے بھی۔
ساڑھے چار منٹ کی یہ ویڈیو ایسی ہے کہ انسان کی زبان خاموش ہو جاتی ہے، تاکہ آنکھیں ان تاریخی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
مدینہ منورہ کی تمام زیارتیں
اس ایک
ویڈیو میں موجود ہیں
اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی آلہ سیدنا محمد وبارک وسلم
اللہ کریم! ہمیں بار بار مقبول حاضری نصیب فرما، آمین۔
Nobody taught us this in school. 🧵
That cream in your medicine cabinet? You might be using the WRONG one.
Save this post. Share it with someone who needs it.
Your skin will thank you later. 🙏
پرسوں چھت پر سفید سیمنٹ، چونا، نمک اور پھٹکری کے پانی سے سفیدی کی۔ 40° گرمی میں بھی چھت کا فرش ٹھنڈا اور پنکھے کی ہوا بہتر محسوس ہوئی۔ سفید سطح دھوپ کو منعکس کرتی ہے جس سے چھت کم گرم ہوتی ہے۔ 5 مرلہ گھر کا خرچہ تقریباً 600–700 روپے۔ سستا اور مؤثر حل ہے فرق آپ خود محسوس کریں گے
*حج کا بہت ہی آسان طریقہ*
*میرے خیال میں اس سے زیادہ آسان طریقہ اور نہیں ہو سکتا آپ خود دیکھ کر اندازہ کریں ، اور جلدی سے یہ ویڈیو ان حضرات کے پاس شیئر کریں جو حج کے مبارک سفر پر روانہ ہونے والے ہیں
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں 👇
@SohailLionKing
🚨اپنے عزیز و اقارب اور دیگر بھائیوں کو توجہ دلانے کے لیے برائے کرم اس VIDEO کوخود بھی غور اور توجہ سے دیکھیں اور سنیں مزید زیادہ سے زیادہ SHARE بھی کریں🙏🔥🔥
میں نے پوچھا:
بابا جی یہ تو بتائیں کہ مکّہ زیادہ افضل ہے یا مدینہ؟
بابا جی نے کہا:
پُتّر اپنا بٹوہ نکال۔
میں نے اپنا بٹوہ نِکالا اور بابا جی کے سامنے رکھ دیا۔
بابا جی نے میرے بٹوے کی طرف دیکھا اور کہا:
پُتّر فرض کر لے کہ تیرے اس بٹوے کی قیمت پانچ روپیہ ہے۔
اس میں اگر تو ایک لاکھ روپیہ کا ہیرا جڑ دے تو پِھر اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور بجائے پانچ روپے کے ایک لاکھ ہو جائے گی۔ اور پھر اگر بٹوے کے اندر پانچ پانچ ہزار کے بیس نوٹ رکھ لے تو تیرے بٹوے کی مالیت ایک لاکھ سے بڑھ کے دو لاکھ ہو جائے گی۔
پُتّر یاد رکھ۔۔۔ اللّہ تعالیٰ کے خزانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وجود حضور سرورِ عالم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر زمین پر ہوں تو زمین آسمان سے افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم آسمان پر ہوں تو آسمان زمین سے افضل۔اسی اصول کی بِناء پر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر مکّہ میں ہوں تو مدینہ سے مکّہ افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ہوں تو مدینہ مکّہ سے افضل۔فضیلت کا موجب حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا وجودِ باجود ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ میں تھے تو خدائے تعالیٰ نے مکّہ معظمہ کی قسم یاد فرمائی اور فرمایا:
لَآ اُقْسِمُ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اس شہر ( مکّہ ) کی قسم ہے۔ (سورۃ البلد،آیت:۱ )
کیوں؟ کیا اس لیے کہ اُس میں اُس کا گھر ( کعبہ ) ہے؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اس میں صفا مروہ کی پہاڑیاں ہیں؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اُس میں چاہ زم زم ہے؟ نہیں! تو پِھر خدا نے اس شہر کی قسم کیوں یاد فرمائی؟ اللّہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاَنْتَ حِلٌّ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اے محبوب! تم اس میں تشریف فرما ہو۔
( سورۃ البلد،آیت:۲ )
اللهم صل علی محمد و آلہ محمد
*ناشتے کے فوراً بعد چائے پینا —
میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے؟*
پاکستان میں 90% لوگ ناشتے کے ساتھ یا فوراً بعد چائے پیتے ہیں۔ مگر *سائنس اور معدہ* کچھ اور کہتے ہیں۔ آئیے سمجھتے ہیں:
*1. نقصان کیا ہوتا ہے؟
4 بڑی وجوہات*
**1. آئرن جذب نہیں ہوتا** چائے میں **Tannins** ہوتے ہیں جو کھانے کے آئرن سے چپک جاتے ہیں خون کی کمی Anemia، کمزوری، چکر، بال گرنا — خاص کر خواتین میں
**2. تیزابیت + بدہضمی** چائے **Acidic** ہے۔ خالی یا بھرے پیٹ پر تیزاب بڑھا دیتی ہے سینے میں جلن، کھٹے ڈکار، السر کا خطرہ
**3. کیلشیم ضائع** چائے میں **Caffeine** پیشاب کے ذریعے کیلشیم باہر نکال دیتی ہے ہڈیاں کمزور، جوڑوں کا درد، 40 کے بعد Osteoporosis
**4. دوائی کا اثر کم** تھائرائیڈ، آئرن، اینٹی بایوٹک کی گولیاں چائے کے ساتھ **کام نہیں کرتیں** بیماری ٹھیک نہیں ہوتی، پیسہ ضائع
*WHO کی ریسرچ:* کھانے کے 1 گھنٹے کے اندر چائے پینے سے *آئرن 64% کم جذب* ہوتا ہے۔ پاکستان میں 50% عورتیں Anemia کی مریض ہیں — بڑی وجہ یہی ہے۔
*2. تو کیا چائے بالکل چھوڑ دیں؟ نہیں! وقت بدل دیں*
1. *ناشتے کے بعد 30 سے 60 منٹ انتظار کریں* — تب تک کھانا ہضم ہو چکا ہوتا ہے، آئرن جذب ہو چکا ہوتا ہے۔
2. *ناشتے کے ساتھ کیا پئیں؟* سادہ پانی، لسی، یا فریش جوس۔ یہ ہضم میں مدد کرتے ہیں۔
3. *دن میں چائے کب؟* ناشتے کے 1 گھنٹے بعد، دوپہر 4 بجے، اور رات کھانے کے 2 گھنٹے بعد۔ *دن میں 2 کپ سے زیادہ نہیں۔*
*3. اگر چھوڑ نہیں سکتے تو "نقصان کم" کیسے کریں؟*
1. *دودھ والی چائے بہتر ہے* بلیک ٹی سے — دودھ Tannins کا اثر تھوڑا کم کرتا ہے۔
2. *لیموں نہ ڈالیں* کھانے کے بعد والی چائے میں — تیزابیت ڈبل ہو جاتی ہے۔
3. *چائے ہلکی بنائیں* — "کڑک" چائے = کڑک تیزابیت۔
4. *Anemia کے مریض:* کھانے کے 2 گھنٹے پہلے اور 2 گھنٹے بعد تک چائے بالکل نہ پئیں۔
*4. کن لوگوں کے لیے ناشتے کے بعد چائے "زہر" ہے؟*
1. *حاملہ خواتین:* بچے کو آئرن نہیں ملتا، پیدائشی وزن کم۔
2. *Anemia کے مریض:* ہیموگلوبن کبھی پورا نہیں ہوگا۔
3. *السر/تیزابیت کے مریض:* معدے میں زخم بڑھ جاتے ہیں۔
4. *ہڈی کے مریض:* کیلشیم روز باہر، دوائی بےاثر۔
5. *بچے:* قد نہیں بڑھتا، پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔
*"میرے پاس روز 10 مریض آتے ہیں:* 'ڈاکٹر صاحب کمزوری ہے، چکر آتے ہیں'۔ Hb چیک کرو تو 8۔ پوچھو ناشتہ کیا کرتے ہو؟ جواب: 'پراٹھا اور چائے'۔
*یاد رکھیں:*
*چائے دشمن نہیں، غلط وقت دشمن ہے۔*
*30 منٹ صبر = عمر بھر کی صحت۔*
1. *ناشتے کے فوراً بعد چائے = آئرن ضائع + تیزابیت*
2. *30-60 منٹ رکو، پھر شوق سے پیو*
*— ڈاکٹر طارق حسین سومرو*
*فیملی فزیشن لاڑکانہ*
*"علاج سے پہلے پرہیز، پرہیز سے پہلے آگاہی .
گلیات کے شور شرابے اور سیاحوں کے ہجوم سے دور، ایبٹ آباد روڈ پر ایک ایسا مقام ہے جو اپنی خاموشی، گھنے جنگلات اور مٹی کی سوندھی خوشبو کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔ اسے ہم 'باڑہ گلی.' کے نام سے جانتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ وقت تھم گیا ہے۔
اگر آپ نتھیا گلی سے ایبٹ آباد کی طرف نکلیں، تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی بادلوں کی اوٹ میں چھپا یہ پرسکون علاقہ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 7,700 فٹ کی بلندی پر واقع یہ مقام محض ایک سیاحتی پوائنٹ نہیں، بلکہ سکونِ قلب کا ایک گہوارہ ہے۔ مری ایکسپریس وے سے جھیکا گلی اور نتھیا گلی کے پُرپیچ مگر سحر انگیز راستوں سے گزرتے ہوئے یہاں تک کا سفر بذاتِ خود ایک یادگار تجربہ بن جاتا ہے۔
باڑہ گلی کی سب سے بڑی انفرادیت پشاور یونیورسٹی کا سمر کیمپس ہے۔ برطانوی دور کی قدیم فوجی چھاؤنی میں قائم یہ کیمپس جب گرمیوں میں آباد ہوتا ہے، تو یہاں کی فضاؤں میں علم، تحقیق اور مباحثوں کی خوشبو رچ بس جاتی ہے۔ پتھروں سے بنی پرانی طرز کی عمارتیں، ڈھلوانی چھتیں اور ان کے گرد پہرہ دیتے صدیوں پرانے دیودار کے درخت آپ کو کسی قدیم یورپی گاؤں کا احساس دلاتے ہیں۔ یہاں وہ تجارتی رونق نہیں جو مری یا نتھیا گلی میں نظر آتی ہے، اور یہی اس کی اصل روح ہے۔ یہاں فطرت اپنے اصل اور بے ساختہ روپ میں ملتی ہے جہاں پرندوں کی چہچہاہٹ، چیڑ کے درختوں سے ٹکرا کر آتی سیٹی بجاتی ہوائیں اور اچانک گلیوں میں بچھ جانے والی سفید دھند انسان کو ایک طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہے۔ یہاں کی راتیں اتنی پرسکون ہوتی ہیں کہ آپ اپنے دل کی دھڑکن بھی صاف سن سکتے ہیں۔
جو لوگ ہائیکنگ اور فوٹوگرافی کے شوقین ہیں، ان کے لیے باڑہ گلی کسی جنت سے کم نہیں۔ یہاں کی ٹریلز آپ کو گھنے جنگل کے ان گوشوں تک لے جاتی ہیں جہاں سے دور مٹیالے پہاڑ اور مکش پوری ٹاپ کا نظارہ آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔ کیمرے کی آنکھ یہاں کے بدلتے موسموں، ڈھلتے سورج کی زرد روشنی اور بارش کے بعد نکھرے ہوئے سبزے کو قید کرنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتی ہے۔ برہ گلی ان لوگوں کے لیے ہے جو ہجوم سے اکتا کر فطرت کی سرگوشیاں سننا چاہتے ہیں اور اپنی روح کو تازہ دم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ بھی زندگی کی بھاگ دوڑ سے تھک کر کسی 'خاموش جنت' کی تلاش میں ہیں، تو اگلی بار گلیات کے سفر میں اس چھپے ہوئے ہیرے کے لیے وقت ضرور نکالیے گا۔
Composed by Life Goes On