ایک بے نامی اکاؤنٹ کا درد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹوئٹر پر میرا ایک بے نام سا اکاؤنٹ ہے۔ نہ میری تصویر، نہ میرا اصل نام، نہ میرے گھر کا پتہ ۔لیکن ان لفظوں کے پیچھے کوئی بے جان سایہ نہیں؛ گوشت پوست کا ایک عام انسان ہے۔ میں بھی صبح روزگار کے لیے نکلتا ہوں، تھک کر گھر لوٹتا ہوں، بچوں کی فرمائشیں سنتا ہوں اور مہینے کے آخر میں خرچ کا حساب جوڑتا ہوں۔ میری بھی یہی کوشش ہے کہ رزق حلال کماؤں اور اپنے بچوں کو حلال کا لقمہ کھلاؤں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اپنا درد لکھتے ہوئے مجھے اپنا چہرہ چھپانا پڑتا ہے۔
میں نے گمنامی کا لبادہ کسی شوق سے نہیں اوڑھا۔ دل تو میرا بھی چاہتا ہے کہ اپنے نام اور اپنی تصویر کے ساتھ وہ بات کہوں جسے سچ سمجھتا ہوں، مگر پھر اپنے بچوں کے چہرے سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ مجبوریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی تفصیل بتانا بھی اپنی شناخت بتانے جیسا ہوتا ہے۔ کبھی کوئی صرف بے نام ہونے پر میری نیت پر شک کرتا ہے تو دکھ ہوتا ہے؛ وہ میرے لفظ پڑھ لیتا ہے، میری بنائی Ai دیکھ لیتا ہے مگر ان لفظوں کو لکھنے سے پہلے کی ہچکچاہٹ اور ان تصاویر کے پیچھے کے محرکات نہیں دیکھ پاتا۔ میری بات سے اختلاف کیجیے، سوال کیجیے، مگر میری گمنامی کو میری بددیانتی کا ثبوت نہ بنائیے۔
میں عمران خان کو اپنا لیڈر اس لیے مانتا ہوں کہ مجھے اس کے مؤقف میں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور سچ کہنے کا حوصلہ دکھائی دیتا ہے۔ میری نظر میں پاکستان کے دیرینہ سیاسی بگاڑ کی سب سے بڑی جڑ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اور عوام کے اختیار پر اس کی بالادستی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں فیصلہ عوام کا ہو اور جواب دہی طاقت رکھنے والے ہر شخص کی۔ جس انسان کو برسوں قوم کے لیے میدان میں محنت کرتے اور خدمت کے کام کرتے دیکھا، اسے اپنے مؤقف پر کھڑا دیکھتا ہوں تو خود سے پوچھتا ہوں: اگر وہ اتنا کچھ داؤ پر لگا سکتا ہے تو کیا میں اپنی استطاعت کے مطابق ایک سچی بات بھی نہیں کہہ سکتا؟
مجھے کوئی عہدہ نہیں چاہیے، نہ انتخاب لڑنا ہے، نہ اپنی وفاداری کے بدلے کوئی صلہ لینا ہے۔ میں اس تحریک کے ساتھ اس امید پر جڑا ہوں کہ میرے بچوں کو کل اپنی بات کہنے کے لیے فرضی نام نہ رکھنا پڑے۔ میرے حصے میں شاید صرف چند لفظ آئے ہیں؛ میں چاہتا ہوں کہ وہ دیانت سے لکھوں اور جو تصاویر میں بنا رہا ہوں وہ میرے مُلک کی تاریخ لکھیں میں گمنام ضرور ہوں، مگر میرا دکھ، میری امید اور اس ملک سے میرا رشتہ گمنام نہیں۔ میری بس اتنی خواہش ہے کہ کبھی اپنے بچوں کو اپنا یہ اکاؤنٹ دکھاتے ہوئے کہہ سکوں: یہ میں تھا—ڈرتا بھی تھا، تمہاری فکر بھی کرتا تھا، مگر جہاں تک ممکن ہوا، سچ کے ساتھ کھڑا رہا۔
کل میں سچ کی بے نام راہوں میں اگر میں مارا گیا اُٹھا لیا گیا یا گُمنام ہوگیا تو مجھے تو شاید کوئی نہ ڈھونڈے مگر میں اپنے اندر پلنے والے اُس ندامت اور کچھ نہ کرسکنے کے احساس کی آنکھوں میں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکوں گا کہ میں جتنا بھی وقت کے لیے رہا جُگنو کی طرح چمکا اور روشنی پھیلا کر مرا 🥲🙏
گورنر راج لگاؤں گا
سو ارب ڈالر لاؤں گا
ایک سال میں معیشت ٹھیک کردوں گا
ریڈ لائن لگاؤں گا
زرعی انقلاب برپا کردوں گا
جی ہاں ناظرین یہ سارے مصرعے اسی بے وزن شاعر کے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان TTPالمعروف فتنہ الہندوستان فتنہ الخوارج
کو پاکستان آباد کرنے کیلیے خواجہ آصف اور جنرل ندیم انجم کی کوششیں بے مثال ہیں پڑھیے 👇🏽👇🏽👇🏽
https://t.co/94rSns7giu
شوکت نواز میر کی مبینہ گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ اُن کے اہلخانہ کے مطابق میر کو حراست میں لیے جانے کے شواہد موجود ہیں جبکہ کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ 42 کیسز میں مطلوب شوکت میر روپوش ہیں۔
https://t.co/JI80FxUxbp
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
🚨 اس قوم کےسیاسی اورفوجی حکمران مسلسل جھوٹ بولتےرہےکہ ہمیںIMFمجبور کرتا ہےکہ ہم تیل، بجلی اورگیس کی قیمت بڑھائیں جبکہIMFسربراہ کہہ رہی ہےکہ پاکستان کوہمیشہ کہاکہ امیروں پرٹیکس لگاؤ غریبوں کوریلیف دو
لیکن ان بےغیرتوں نےالٹا غریبوں کاہی کچومرنکال دیا💔
ادارے ہمیں بتاتے تھے کہ پی ٹی ایم کے دو ایم این ایز محسن داوڑ اور علی وزیر کو افغانستان سے فنڈنگ ہوتی ہے اور پھر جب ہمارے خلاف عدم اعتماد آئی تو یہی دونوں لائن میں لگ کر ووٹ دینے آئے اور پھر محسن داوڑ کو اہم عہدے سے بھی نوازا گیا تھا ! جنید اکبر ۔۔۔
کچھ منظر ہمیشہ کے لئے بدنامی کے رستے زخم بن جاتے ہیں۔ آپ مر بھی جائیں تو منظر نہيں مرتے۔
1۔ شہبازشریف کی وار کرمینل ڈونلڈ ٹرمپ کو درازی عمر کی دعائیں۔ اور آخر میں فوجی سلیوٹ۔ اطالوی وزیراعظم کے اس پر حقارت کے تاثرات۔
2۔ مریم نواز کی شیطان العرب کے ہاتھوں کو پکڑ کر مساج دینا۔ اور شہبازشریف کا ترشی نگاہوں سے دیکھنا۔
تیسرا منظر بھی ہے۔ اس کا انداز خود لگائیں۔ اشارہ۔ یہ وائٹ ہاؤس میں شوٹ ہوا تھا۔
ویسے تو عظیم ترین فیلڈ مارشل نے جج، مولوی، سیاستدان، بیوروکریٹ اور وردی والوں کو مکمل ننگا کردیا ہے
لیکن اعلیٰ عدلیہ اور بکاؤ عسکری ججوں کی ذلت و رسوائی کا اپنا ہی سواد ہے۔۔۔!!!