اگر یہی منظر کہیں اور ہوتا، دنیا خاموش نہ رہتی!🚨
غزہ میں بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں پر ردِعمل سے متعلق ایک جذباتی بیان سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا:
اگر یہ منظر غزہ کے بجائے کہیں اور ہوتا، اور متاثرین مسلمان بچے اور خواتین نہ ہوتے، تو دنیا بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے کو ملتا۔
🔴 ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ کی تباہی کے درمیان ان کی تصویر پر مبنی دیوار گیر فن پارہ (میورل) بنانے والی فلسطینی بچی لیان اور غزہ کے فنکاروں کے نام اپنے پیغام میں کہا:
"پورا اسپین غزہ کے بچوں کے درد کو محسوس کرتا ہے اور اس دن کی دعا کرتا ہے جب وہ خوف کے بغیر دوبارہ اپنے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ آپ کی آواز سنی جا رہی ہے، اور ہم آپ کے دکھ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔"
اللہ کی لعنت ہو
ظالم صہیونی درندوں پر
جنہوں نے غزہ کی ہر شے اجاڑ دی
وتلك الايام نداولها بين الناس
جلد ظالموں کو خدائی سزا ملنے والی ہے
تاریخ خود کو دہراتی ہے
🔴غزہ میں فیفا ورلڈ کپ کا میچ دیکھا جا رہا ہے، فائنل میں اسیپن اور ارجنٹائن مدمقابل، اسپین کھل کر غزہ کی حمایت کرتا ہے جبکہ نیتن یاہو نے کھل کر ارجنٹائن کی حمایت کی سوشل میڈیا مہم چلائی ہے۔
دنیا کا نمبر 1 وحشی دہشت گرد درندہ اسرائیل غزہ کے بچوں کو ذبح کررہا ہے
تازہ بمباری میں تین بچے سمیت 5 شہید
گزشتہ ایک ہفتے میں 60 غزہ کے مسلمان شہید کردیے
جن میں 20 بچے شامل ہیں
کہاں ہے جنگ بندی؟
نام نہاد جنگ بندی کراکر تماشا مچانے والے مسلمان ثالث ممالک کہاں ہیں؟
باچا خان سے منظور پشتین تک حاجی عبدالصمد لالا کی جدوجہد اور زندگی
حاجی عبدالصمد لالا اُس طویل جدوجہد کے ایک ثابت قدم اور نہ تھکنے والے ساتھی ہیں جس کی جڑیں باچا خان کے عدم تشدد، عوامی شعور اور حق گوئی کے فلسفے سے نکلتی ہیں اور جو آج کے قومی تحریک، پی ٹی ایم، تک پہنچتی ہیں۔
انہوں نے بڑی جرات اور استقامت کے ساتھ اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی مفاد اور قومی حقوق کی جدوجہد کو اپنا مقصد بنایا۔
انہوں نے مشکلات، اذیتوں اور سخت حالات کا نہ صرف عملی بلکہ فکری سطح پر بھی مقابلہ کیا۔ ان کی زندگی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ اپنے عوام کے حقوق اور وقار کے لیے ایک شعوری انتخاب رہی ہے۔
حاجی عبدالصمد لالا کئی دہائیوں سے جبر اور استبداد کے مختلف مظاہر کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال قید و بند میں گزارے، لیکن ان کے عزم اور حوصلے میں کبھی کمی نہیں آئی۔
آج بھی وہ ستر برس کی عمر میں سندھ کے دادو جیل میں قید ہیں، مگر ان کی جدوجہد کی روح اور جذبہ بدستور زندہ ہے۔
ان کی وابستگی اور عزم کی بنیاد اس قدر مضبوط ہے کہ نہ جسمانی اذیتیں اور نہ ہی نفسیاتی دباؤ انہیں اپنے موقف سے ہٹا سکے، کیونکہ جہاں فکر اور عمل میں ہم آہنگی ہو، وہاں استقامت خود اپنی راہ بنا لیتی ہے۔
تحریک کے کارکنوں نے بھی اسی جرات اور استقامت کے ساتھ قومی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے۔ کوئی بھی طاقت انہیں اس راہ سے نہیں ہٹا سکتی، خواہ انہیں برسوں تک قید و بند کی صعوبتیں ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔
یہی عزم اور مزاحمت موجودہ ریاستی ڈھانچوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے ہیں کیونکہ تمام تر دباؤ کے باوجود یہی مزاحمت اجتماعی اور قومی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنتی ہے۔
جدوجہد اسی وقت زندہ رہتی ہے جب لوگ اسے قربانی، استقامت اور یقین کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں، اور صمد لالا اسی جدوجہد کی ایک روشن مثال ہیں
ہاشم خان نورزائی جو امارات UAE سے اپنا کاروبار اپنے ملک پاکستان منتقل کرچکا تھا, تاکہ پاکستان کی خدمت کی جاسکے!!
اج قتل کردیا گیا💔💔
اب یہاں پاکستان کون اپنا سرمایہ لیں کر آئیگا؟؟
واہ میرے مولا تیری قدرت
آج سے تین سال پہلے شہزادہ داؤد بحر اوقـیانوس میں لاپتہ ہوگیا تھا۔۔
وشین گیٹ 2021 سے ارب پتیوں کو سمندر کی تہہ میں 3300 میٹر نیچے ٹائی ٹینـــک کے ملبے کی سیر کرانے کا کام کر رہی تھی۔ ٹائی ٹینک کا ملبہ 1985 میں دریافت ہوا،، اور اوشین گیٹ نامی کمپنی نے 2021 سے دنیا بھر کے امـــــــــراء کو اس کی سیر کرانی شروع کر دیی۔
پاکستانی بزنس مین شہـزادہ داؤد اور سلیمان داؤد جو اس کا بیٹا تھا 18 جون 2023 کو ٹائیٹن میں سوار ہوئے،،، انکے ساتھ تین اور ارب پتی لوگ بھی تھے جب ٹائیٹن پانی میں اتر گئی انہوں نے کم وقت میں تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، اس کے ایک گھنٹہ اور 45 منٹ بعد ٹائیٹن آبدوز کا کنـٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا،،،،،،، سمندر کے سطح پر باقی لوگوں نے رابطوں کی کوشش کی،،،،،،،،، بار بار سگنل بھیج دیں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔
انہوں نے فوراً کینیڈا نیوی کو اطلاع دی انہوں نے آپریشن شروع کیا،، کیونکہ ٹائیٹن میں سوار تمام لوگ ارب پتی تھے جب ٹائیٹن میں آکسیجن ختم ہونے کا وقت گزر گیا اور ان کا پتہ نہیں چلا تو سب کو لگا کہ سب آکسیجن کی کمی سے مر گئے ہوں گے لیکن جھٹکا ان کو تب لگا،،،،
جب ایک ہفتے بعد ٹائی ٹینک جہاز کے اس پاس پانی میں کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملے بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کے آبدوز پونے دو گھنٹے بعد Bathypelagic Zone میں دھــماکے سے پھٹ گئی تھی اور یہ خطـرناک زون تین ہزار میٹر کی گہــرائی میں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آبدوز کی دم اور لینڈنگ فریم ٹائی ٹینک کے ملبے سے 1600 فٹ کے فاصلے سے ملا،،،، تاہم لاشیں غائب تھیں اور یہ لاشیں سرے دست کسی ٹیکنالوجی کی مدد سے دریافت نہیں ہو سکتیں، تین سال بعد بھی وہ لاشیں نہیں ملی۔
جب سائنســدانوں نے تحقیق کی تو ایک حیران کن بات سامنے آئی ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں تہہ در تہہ بحریں ویوز ہوتی ہیں۔ ایک بحر کے بعد دوسری بحر اور دوسری کے بعد تیسری بحر آتی ہے اور یہ بحریں سمندر میں سناٹا اور شدید اندھیرا کرتی چلی جاتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں پانچ سو میٹر گـــــہرائی میں سفر کے بعد پانی میں اندھیرے کے ایسے گـہرے بادل ہر طرف چھا جاتے ہیں۔ جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اندھیرا دنیا کے کسی بھی مقام پر انسان کے تجربے میں نہیں آتا۔
سائنــس دان اس اندھیرے کو عرف عام میں "Pitch Darkness" کہتے ہیں،، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اندھیرا اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان دوسرے ہاتھ کو ٹٹول نہیں سکتا، اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی نہیں تھی، سائنس کا نام و نشان نہیں تھا اس وقت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا تھا،،، جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا۔ سورۃ نور کی آیت نمبر چالیس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ------ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ----وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ (سورة نور 40)
ترجمہ یا جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہو، موجوں کے اوپر موجیں اٹھ رہی ہوں،،،، اوپر سے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہوں، اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہوں،، اور اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو وہ اس کو بھی نہ دیکھ پائے"۔۔۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی ثبوت یہ ہے کہ آج سے چودہ سو 1400 سال پہلے جب انسان سمندر میں تیــن میــٹر سے زیادہ گہرائی میں نہیں گیا تھا۔۔ اس وقت قرآن مجید میں کس نے ڈکلیئر کیا کہ سمندر میں موجوں کے اوپر موجیں ہوتی ہیں اور یہ گہرے بادلوں کی طرح ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہیں اور یہ ایک ایسا اندھیرا تخلیق کر دیتی ہیں،،،،،،،،،،،،، جس میں ایک ہاتھ دوسرے کو شناخت نہیں کر سکتا،،،، یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے کس طرح معلوم ہوگئی ؟ اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے میں بتا دیا کہ ہم سمندر میں موج کے اوپر مـــوج چلاتے ہیں اور یہ مـوجیں گـــہرے بادل جیسی ہوتی ہیں،،،،،،،،، اور یہ ایک ایسی پچ ڈارک نیس تخلیق کرتی ہیں جس میں بینائی جواب دے جاتی ہے اور ٹائیــٹن اس پچ ڈارک نیس میں تباہ ہوگئی کیوں کہ یہاں پانی کا پریشر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
کیا یہ محـض اتفاق تھا ؟ جس نے دنیا کو چودہ سو سال پہلے پچ ڈارک نیـــــس، مـوج کے اوپر مـوج اور پھر اندھـیرے کے بادلوں کے بارے میں ہمیں بتایا،،،،، جس وقت سائنـس اور ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہیں تھا۔