@MeFaheem مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ رش کے اوقات میں ایک آدھ گھنٹہ کے لئے کوہاٹ روڈ پر بھانہ ماڑی کی طرف سے آنے والے ٹریفک کو رنگ روڈ جی ٹی روڈ کی طرف موڑا جاۓ۔ اور جب رش کم ہو تو واپس نارم پوزیشن اختیار کیا جاۓ۔۔
سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں کمی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اچھا ہے آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی "تعداد" کسی طور کم تو ہوئی۔
22 ہزار 910 مقدمات منتقل ، سپریم کورٹ میں 33 ہزار مقدمات زیر التوا
اسلام آباد ( حسنات ملک ) ملک میں دو اعلیٰ عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار اور سا کلین پر اثرات کے حوالے سے بحث شروع ہو چکی ہے۔ 13 نومبر تک سپریم کورٹ میں 56 ہزار 608 مقدمات زیر التوا تھے جن میں سے 22 ہزار 10 9 مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے۔اب 22 دسمبر تک سپریم کورٹ میں 33 ہزار 796 مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ اس وقت چیف جسٹس پاکستان سمیت 18 حجز فرائض انجام دے رہے
ہیں حالانکہ سپریم کورٹ میں ججز کی منظور شدہ تعداد 34 ہے۔ ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق اگر چہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد کم کرنے پر کوئی غور نہیں ہو رہا تاہم وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ میں ججز کی مجموعی ضرورت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب آئینی عدالت میں چیف جسٹس
سمیت سات حجز خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ تقریباً 23 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات کے فورا بعد مزید حجز تعینات کیے جائیں گے ۔ اس وقت ججز کی منظور شدہ تعداد 13 ہے جس میں صدارتی حکم کے ذریعے اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ امکان ہے کہ آئینی عدالت اگلے ماہ نئی عمارت میں اپنے کام کا دوبارہ آغاز کرے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عدالتی اصلاحات کے لیے جز کی تقرری نہایت اہم ہے۔ یہ
تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت نے آئینی عدالت میں اپنے ہم خیال جمر تعینات کیے ہیں جن کے فیصلے تمام عدالتوں بشمول سپریم کورٹ پر لازم ہوں گے۔ وہ بار ایسوسی ایشنر بھی جو 27 ویں ترمیم کی مخالف ہیں، آئینی عدالت میں 27 ویں ترمیم کو چیلنج کرنے سے ہچکچا رہی ہیں جس سے انکا عدم اعتماد ظاہر ہو رہا ہے۔ ایڈووکیٹ عمر گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہے کہ آئینی عدالت سے مقدمات کے بڑے بیک لاگ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ میں اس سے متفق نہیں، جھوٹے یا بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو مقدمات کی یلغار کو روکا نہیں جا سکتا۔ اندیشہ ہے کہ یہاں سابقہ سپریم کورٹ جیسا بیک لاگ پیدا ہو جائے گا۔ ایک اور وکیل کا خیال ہے
کہ حکومت کو آئینی عدالت کے لیے ایسے ججز پر غور کرنا چاہیے تھا جنہوں نے آئینی فقہ قانون کو فروغ دیا ہو۔ آئینی عدالت نے اب تک 400 سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا ہے۔ تین رپورٹ شدہ فیصلے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاچکے ہیں۔
@farzanaalispark Read the Khyber pakhtunkhwa Control of Norcotics Substances Act and everything will be clear whether a province can permit cultivation of poppy or not.
@Izhar2u پشاور کی جتنی آبادی ہے اس کے لئے موجودہ ہسپتال کافی ہیں۔پشاور کے ہسپتالوں پر بوجھ دیگر اضلاع کے مریضوں کا ہے، لہذا بہتر ہوگا کہ مردان، چکدرہ/بٹ خیلہ، کوہاٹ اور بنوں میں 1000 بستروں کے ہسپتال بناۓ جائیں۔ اس سے وہاں کے لوگوں کو آسانی ہوگی اور پشاور پر مزید بوجھ نہیں پڑے گا۔
@koolkopper This is not Yusafzais vs the rest, in fact this is between the moderate and the extremists within the yusafzaus, and the fact is that you will find the later in abundance in the Yusafzais occupied area.
@YarMKNiazi پشاور میں5000 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی بجائے کوہاٹ/کرک، مردان/نوشہرہ، چکدرہ/بٹ خیلہ میں1000/1000 بستروں پر مشتمل ہسپتال بناۓ جائیں تو پشاور پر مریضوں کا بوجھ بھی کم ہوگا اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھی گھر کی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات میسر ہونگی۔
A lot of people believe that Vote manipulation accounts for the landslide win of NDA in Bihar. While there was vote manipulation, it would not account for >3% vote. This landslide can only be explained by the 10,000 Rs bribe from public funds given to >1.5 Cr women on the eve of elections. This should have been prevented by ECI as they did earlier in TN & Rajasthan etc.
This result shows that it becomes virtually impossible to defeat a combination of money & control of EC & media, especially if you can use public funds to bribe voters. Very worrying for our Electoral democracy
In the South of Khyber Pakhtunkhwa, a newer trend is emerging, for every local kidnapped by the Taliban, locals are doing the same to the families of the Taliban. This morning a police official who was kidnapped by the Taliban from Bannu, his family picked up the father of the Taliban commander, adding that if anything happens to their family member the same would happen to them.
پنجاب حکومت کا جعلی عاملوں پیروں کو سخت سزادینےکافیصلہ دفعہ 297/Aمیں ترمیم، جادو ٹونا کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہو گاجعلی عاملوں کو 7 سال تک قید 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جائیگا