شیخوپورہ کے قریب ایک اور مسیحی کا گھر نذر آتش، جھوٹے الزام میں گرفتار، بیوی بچوں کی جانیں خطرے میں، زندہ بچ گئے تو پوری زندگی اس ذہنی صدمے میں گزرے گی۔
"ایک برا استاد اپنی رائے کو مسلط کرنے کی کوشش کرے گا، اور ایسے طلباء تیار کرے گا جو کسی مشکوک نقطے پر اسی کا بتایا ایک ہی متعین جواب دیں گے ۔ نہ صرف اساتذہ، بلکہ تمام عام لوگ جو با اختیار ہیں اپنے ماتحتوں میں ایسی یکسانیت چاہتے ہیں جو ان کے اعمال کو آسانی سے پیش گوئی کرنے کے قابل بنائے اور کبھی بھی پریشان کن نہ ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو کسی بھی ذاتی ذہنی کاوش اور انفرادیت کو کچل دیتے ہیں، اور جہاں یہ ممکن نہ ہو، وہاں ایسےخیالات رکھنے والے کو ڈسکرج کرتے ہیں اور باقائدہ جھگڑتے بھی ہیں، اور اسکے خلاف باتیں بھی پھیلاتے ہیں"
برٹرینڈ رسل، سیاسی نظریات (1917)، باب۔ I: سیاسی نظریات، صفحہ۔ 4۔
Muslims Burn Christian’s Home and Shop in Pakistan After Blasphemy Accusation; Residents Flee in Fear of Mob Violence
A Muslim mob in Pakistan set fire to a Christian’s house and shop on Friday after he was accused of blasphemy, forcing more than 35 Christian families to flee their homes amid fears of further violence.
Police arrested Kamran Masih, a 40-year-old father of three, at about 9:30 p.m. on Thursday (Oct. 8). Masih ran a small pharmacy in Gharial Kalan village, Narang Mandi, Sheikhupura District, Punjab Province. Local Muslims accused him of sharing a blasphemous video in WhatsApp groups.
As word of his arrest spread, his family and other Christians began fleeing the village, fearing a mob attack.
مکھی پر مکھی مارنے میں عوام ہی نہیں، ہمارے دانشور بھی ید طولی رکھتے ہیں۔ خود تحقیق کرنے کی فرصت کسے ہے۔
قرآن میں مادہ "ح ی ی" سے بننے والے الفاظ 184 بار آئے ہیں۔ صرف "حياة" کی تعداد 76 ہے۔
مادہ "م و ت" سے بننے والے الفاظ 165 بار آئے ہیں۔ صرف "موت" کی تعداد 50 ہے۔
مادہ "ك ف ر" سے بننے والے الفاظ 525 بار آئے ہیں۔ صرف اسم "كفر" کی تعداد 37 ہے۔
مادے "أ م ن" سے بننے والے الفاظ کی تعداد 879 ہے۔ صرف لفظ "إيمان" 45 بار آیا ہے۔
مادہ "ص و ب" سے بننے والے الفاظ 77 بار آئے ہیں۔ صرف لفظ "مصيبة" 10 بار آیا ہے۔
مادہ "ش ك ر" سے بننے والے الفاظ 75 بار آئے ہیں۔ صرف اسم "شكر" ایک بار آیا ہے۔
10 اکتوبر 2012 کو ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا۔ ملالہ بچ گئی ،حملہ آور شاید اب تک مر کھپ گئے ہوں گے ۔ جو آج ملالہ یوسفزئی کو گالیاں دیتے ہیں ، الزام لگاتے ہیں۔ سازش قرار دیتے ہیں ۔ ایجنٹ بتاتے ہیں ۔ یہ سب کل مر جائیں گے، تاریخ میں ان کا ذکر پست ذہن لوگوں میں ہوگا لیکن ملالہ یوسفزئی قیامت تک تاریخ میں روشن اور زندہ رہے گئی۔
زندہ رہو شہزادی۔
منقول
میں اپنی بیٹی جویریہ کے گھر میں نظر بند ہوں۔ میرے 5 اور 7 سال کے نواسوں، محمد اور اسماعیل کو آج سکول جانے سے روک دیا ہے۔ بجلی کال سے کاٹ دی ہے، کھانا پینا تو دور کی بات، پانی کا گلاس تک گھر کے اندر نہیں آسکتا۔
دشمن کے بچوں کو ��و پڑھانے کا شوق تمہیں ہے۔ کیا تم میرے بچوں کو اُن سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہو؟
Veteran actor Nana Patekar passed away at 5:20 AM today after suffering a severe cardiac arrest at his residence.
Despite 45 minutes of continuous CPR, he could not be revived. A medico-legal case (MLC) has been registered, and a post-mortem will be conducted: Dr. Shekhar Salkar, Chief of Oncology Department, Manipal Hospital
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ ا��ضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
Darte hain bandookon wale aik nihati larki se!
Asim Munir, your reign of terror and injustice is nearly over. But what you have inflicted upon this couple has set a new example of lawlessness.
Release Imaan and Hadi
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات ��ھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
سب دوستوں کا شکریہ ۔۔حوصلہ بڑھانے کے لئے ۔۔۔۔۔
صحافت ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے ۔۔میں نے صحافت کے لئے اپنا شہر ڈیرہ اسماعیل خان چھوڑا ۔۔مشکل سے مشکل وقت میں دہشت گردوں کی دھمکیوں کے باوجود بھی صحافت نہیں چھوڑی اور نہ چھوڑوں گی ہاں اب ٹی وی سکرین نہیں ہوگی ۔۔۔
آج نیوز/ٹی وی کے ساتھ 20 سال ایک ماہ کا تعلق تھا جو آج ختم ہو گیا ۔کاش یہ تعلق کس�� دباؤ کی بجائے نارمل طریقے سے ختم ہوتا تو بہتر ہوتا لیکن
خیر ایک لحاظ سے اچھا ہے کیونکہ نامعلوم اب نامعلوم نہیں رہا ۔۔۔۔