آج آپ سے ایک وعدہ لینا ہے،ہم جہاں بھی گئے یہی مطالبہ تھا کہ ہمیں ڈی چوک دوبارہ جانا ہے لیکن آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ آج چیف منسٹر صاحب جو بھی اعلان کرے گا،جس دن کا وہ اعلان کرے گا،آپ نے اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔
آپ نے اپنے ایم پی اے ایم این ایز کے لیے نہیں نکلنا عمران خان کے لیے نکلنا ہے۔ اور نظر رکھنی ہے کون ہے جو عمران خان کے نام پر فائدے اٹھا رہا لیکن احتجاج پر نہیں نکلا ۔
جنید اکبر خان.
یہ بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے صحافیوں کو پولیس حکومت کی پریس کانفرنسز اور اس قسم کی ایکٹیوز کا فوری بائیکاٹ کرنا چاہیے اور تب تک جاری رکھنا چاہیے جب تک یہ پبلک میں معافی نا مانگین اور ان اہلکاروں کے خلاف کاروائی نا کریں
ایک اکیلا صحافی پنجاب پولیس کے ڈنڈوں اور گھونسوں کا سامنا کر رہا ہے ذرا سوچیئے کہ کیا اتنی مار پٹائی پولیس والے اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں؟ یہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اس پنجاب کی تصویر دکھا رہی ہے جس کی گورننس کو ایک مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اگر پنجاب میں یہ حال ہے تو باقی صوبوں میں صحافیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا؟
مجھے ڈونلڈ ٹرمپ سے بہت امید تھی کیونکہ ٹرمپ کا میرے والد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے
لیکن انہوں نے ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی ، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی اور وہ بھی خاموش ہو گئے۔
قاسم خان نے حقیقت بیان کی 🔥
کرکٹر بننے سے عمران خان نے ہی مجھے کہہ دیا تھا کہ میرے میں passion نہیں ہے میں کرکٹر نہیں بن سکتا اور سیاست میں آنا نہیں چاہتا میں پبلک appearance نہیں دینا چاہتا لیکن بعض اوقات ضروریات کے سبب سامنے آنا پڑتا ہے ۔
قاسم خان نیازی
سی این این کی صحافی 🚨
عمران خان پاکستان کے 80 سالہ تاریخ میں سب سے مشہور پاکستانی ہیں۔
عمران خان کی قید تنہائی اور جیل میں خوفناک حالات کے تین سال مکمل ہو رہے ہیں۔ لوگ ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں
میں آج جتنا پریشان ہوں اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا عمران خان سے 5 مہینے پہلے جب آخری مرتبہ ہماری گفتگو ہوئی تو وہ اپنے علاج اور دیگر قیدیوں کے علاج کے حوالے سے بہت پریشان تھے جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کی صورتحال بہت خراب ہے ان جیلوں میں قیدی ہیپاٹائٹس کی وجہ سے مر رہے ہیں عمران خان کی آنکھ کا علاج نا کروانا پرفیکٹ مثال ہے عمران خان کو تین مہینوں تک تکلیف رہی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی عمران خان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آ گیا کیوں آیا ہمیں آج تک نہیں پتا تب جب ہماری عمران خان سے بات ہوئی بہت فرسٹریٹڈ تھے۔
قاسم خان کا انٹرویو