آیت الله علی خامنائی کا اعلان۔۔۔
میری جان کی کوئی قیمت نہیں ایک ناقص جسم ہے اور تھوڑی سی شہرت ہے جوآپ لوگوں نے دی ہے۔ میں نے سب کچھ اسلام اور اس انقلاب کے لیے رکھا ہوا ہے اور سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہوں سنت سیدنا امام حسین ؑ کی طرح۔
جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال ترلپر کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خاموش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا — یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے
ذرائع کے مطابق، حکام نے قاسم رونجھو اور ان کے بیٹوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایک پریس کانفرنس کر کے یہ بیان دیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ووٹ دیا۔ کیا یہ ملک کا مذاق نہیں؟ آج جب وہ سینیٹ میں آئے تو کیا وہ دباؤ میں لگ رہے تھے؟ یا جب انہیں وہیل چیئر پر لایا گیا، تب ان کی حالت نے کچھ اور ہی کہانی بیان کی؟
All political parties have refused to accept my resignation, which I find ironic because I’ve already resigned and have no desire to remain in this parliament. They think they can make it up to me, convince me to change my mind, and apologize for their mistakes. But don’t apologize to me—apologize to the people of Balochistan. Acknowledge the pain you've caused by taking their loved ones. Say sorry to Sami and Mahrang for assaulting them when they simply wanted to speak. I am not just Akhtar Mengal; I am a part of the people. When you make amends with them, you'll make amends with me.
I hold no personal animosity towards anyone, but my conscience compelled me to make this decision. I’ve tried to make everyone understand, but they refuse to address Balochistan’s issues.
I was not in Pakistan and came to rid myself of a burden that has weighed on me for months. Now, I am free. I hope others realize this before it’s too late. I write this as I board my flight. Goodbye, parliament—may we meet again when the rule of law prevails!
میرے والد سردار عطاء اللہ مینگل کی تیسری برسی کے موقع پر، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بطور رکن پارلیمنٹ استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں، اختر مینگل، رکن قومی اسمبلی، بطور رکن پارلیمنٹ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں۔
بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارا صوبہ مسلسل اس ایوان کی جانب سے نظرانداز ہوتا رہا ہے۔ ہر روز، ہمیں دیوار سے مزید لگایا جاتا ہے، جس سے ہمیں اپنے کردار پر نظرثانی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ اس اسمبلی میں بلوچستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے، میری طرح کی آوازیں بھی کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے احتجاج یا اظہار رائے کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے لوگوں کو یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے، غدار قرار دیا جاتا ہے، یا بدتر، قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں، میں اس صلاحیت میں مزید کام کرنا ناممکن سمجھتا ہوں، کیونکہ یہاں میری موجودگی میرے نمائندہ عوام کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں رہی۔
لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے استعفے کو قبول کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بلوچستان کی حفاظت فرمائے اور اسے خوشحال کرے۔
We will never forgive nor forget the way this caretaker setup, backed by the establishment, has treated their own. I bow my head in shame! #MarchAgainstBalochGenocide
سب کچھ یاد رکھا جائے گا. وہ آئے انہوں نے التجا کی اور انہوں نے آپ کو حل بتایا۔ یہ معصوم بچے اپنے پیاروں کے بغیر مایوسی کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے۔ #MarchAgainstBalochGenocide
بلوچ لاپتہ افراد کے بحفاظت بازیابی کی % 100 ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے …! لاپتہ افراد کی بازیابی کے campaign کو sabotage کرنے والے ہم میں سے نہیں … وُہ اپنے آقاؤں کے اِشاروں پہ ناچ رہے ہیں، ہم اِن عناصر کی پُرزور الفاظ سے مزمت اور نفرت کرتے ہیں 😡