ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر باہر پی ٹی آئی ورکرز بڑی تعداد موجود ۔
تمام آنے والے ورکرز سے اپیل ہے کہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوگیا ہے ۔ لہذا آنے کی زحمت نہ کرے۔
پشاور اور ضلع خیبر کے تمام ورکرز کا تہہ دل سے شکریہ
ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر نقاب پوش اس وقت باہر کھڑے ہے
اگر کوئی ادھر گھس گیا وہ میرے لاش سے گزرے گا
اقبال آفریدی نر کا بچہ ہے ڈٹ کر کھڑا ہے سب پالیمنٹرین کو اس طرح رہنا چاہئے
ملک میں دہشت گردی کی شدت یقیناً لمحۂ فکریہ ہے، جس کے لیے ایک گرینڈ ڈائیلاگ اور متفقہ حکمتِ عملی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مگر المیہ دیکھیے کہ وفاقی حکومت سے لے کر روایتی میڈیا تک، سب کے سب ماؤتھ پیس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جن کی اپنی کوئی آزادانہ رائے یا سمجھ بوجھ نہیں۔ موجودہ سیاسی کھینچا تانی اور احتجاجی لہر سے پہلے جنوری 2016 سے اگست 2026 تک یہی سہیل آفریدی تھے اور یہی تحریکِ انصاف کی حکومت، مگر چونکہ تب چابی نہیں دی گئی تھی اس لیے سب زبانیں بند تھیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی جیسے سنجیدہ قومی المیے کو بھی اپنے سیاسی بیانیے اور وقتی مفادات کے حصول کا ایندھن بنادیا گیا۔
پختونخوا کے کچھ بندروں 🐒 کے علاؤہ سارے پاکستانیوں کی سمجھ میں آگیا کہ عمران اور پی ٹی آئی پاکستان کیلئے وہ کینسر ہے جس کا علاج شوکت خانم ہسپتال میں بھی نہیں
تین دن سے انتظار کررہے ایمرجنسی نہ لگی ایک سال سے انتظار کررہے صوبے نہ بنے ایک ہفتے سے انتظار کررہے سہیل آفریدی اور کابینہ جیل نہیں گئی نا ہی گورنر راج لگا...جو کرنا ہے وقت پہ کیوں نہیں کرتے ہو...😕
سزا اور جزا پاکستان میں کسی کو بھی پسند نہیں...
تاویلیں ہر بندہ دیتا ہے یہاں اب کیا تو پہلے کیوں نہیں کیا, پہلے کیا تو اب کیوں,اب کیا فائدہ، یہ کیوں کیا ,ایساکیوں کیا فلانہ ڈھمکانہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
نری فضول بکواس جان بوجھ کر باتوں کو ٹوئسٹ کرنا...
وزیراعظم عمران خان ہوں یا نواز شریف، دونوں ایک جیسے ہیں۔ دونوں پاکستان اور پنجاب کے مفادات کے لیے ایک ہی طرزِ عمل رکھتے ہیں، لیکن پختونخوا کے مفادات اور عوامی مسائل کی فکر کون کرتا ہے؟
سردار حسین بابک
سیکرٹری خارجہ امور، عوامی نیشنل پارٹی
KPK حکومت میں تھر تھلی مچی ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے تمام لوگوں کو سخت احکامات دیے ہیں کے وہ کل شام تک پچھلے ایک سال میں دیے گئے تمام ٹھیکوں، منصوبوں اور لین دین کی فائلیں سہیل آفریدی کو جمع کروا دیں تاکہ جانے کے بعد کسی بھی چیز کا ثبوت نا رہے۔۔۔۔
خبر یہ ہے کہ
وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کو دوٹوک پیغام بھیجا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی کو طاقتور حلقوں کی جانب سے پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ فیس سیونگ چاہتے ہیں تو ان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ کے پی اسمبلی تحلیل کر دیں۔
ذرائع کے مطابق پیغام میں کہا گیا ہے کہ نہ گورنر راج لگانے کی نوبت آنے دی جائے گی اور نہ ہی انہیں کوئی لانگ مارچ کرنے دیا جائے گا۔
ایڈمنسٹریٹر لایا جائے گا۔
یہ بنتی ہی اس وقت ہیں جب آپ بازار کے مہنگے موسچرائزرز لگائیں گے جتنی بھی ایکٹریسز یا ماڈلز ہی چھوٹی عمر میں ہی انکے ہاتھ ایسے ہوجاتے ہیں ہر وقت کا مینی پیڈی اوپر سے سوکالڈ موئسچرائزرز اسکے باوجود سکن ڈرائی فیل ہوتی ہے...