سینہ کوبی، ماتم اور نوحہ کرنا ہرگز کوئی عبادت نہیں، بلکہ یہ کھلی بے حیائی اور مشرکانہ جاہلیت کا بدترین مظاہرہ ہے۔ اسلام کی بنیاد ہی حیاء پر ہے، جبکہ یہ گھناؤنا عمل اسلامی تشخص کا جنازہ نکال دیتا ہے۔ حیاء ایمان کا لازمی حصہ ہے، اور جس شخص میں رتی برابر بھی حیاء نہیں، اس کا ایمان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ حیاء انسان کو پاکیزہ رکھتی ہے، جبکہ اس قسم کی بے حیائی اور بے غیرتی صرف ان لوگوں کا شیوہ ہے جنکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں
غیظ المنافقین اشد علی الکفار امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ خاص عطیہ ہے جو اُس نے اپنے محبوب ﷺ کو بخشا
جس کے ایمان پر فرشتوں نے بھی خوشیاں منائی
جو مُرادِ پیغمبر ﷺ ہیں جو اسلام کے مطلوب ہیں
جو اسلام کی عزت و عظمت اور شان و شوکت ہیں
جن کے ایمان کا اسلام منتظر تھا
جن کے ایمان کا کعبہ منتظر تھا کہ کب عمر ایمان لائیں اور مسلمان میرے نزدیک آکر علانیہ رب تعالیٰ کی عبادت کریں
جن کی چمکتی اور لہراتی ہوئی تلوار نے منافقین کا قلع قمع فرمایا
جن کے غیظ و غضب سے منافقین لرزتے اور کانپتے رہے جن کو دیکھ کر شیطان بھاگتا رہا
جن کی تلوار نے صلح کلیت اور مصلحت پسند منافقانہ رجحان کو کاٹ کر رکھ دیا
فاروق وہ ہیں جن کی ذات سے رب تعالیٰ نے ایمان اور کفر کے فرق کو ظاہر فرمایا۔
آپ صحیح العقیدہ سنی ہیں، تو سنی بن کر جئیں، اپنے عقائد پر ڈٹ کر جئیں، اور کھل کر اسکا اظہار کریں
یاد رکھیں! آپکا ذکر اہل بیت اطہار روافض کو بہت چھپتا ہے انکے دلوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے کیونکہ آپ سنی ہیں کسی صحابی رسول کی ہلکی کی تنقیص بھی برداشت نہیں کرتے
یاد رکھیں! اگر آپ روافض کی مجالس، ماتم نوحہ جیسی خرافات کا حصہ بنے گے تو " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ " کا جواب کیا دیں گے ؟
روافض کی مجالس وغیرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان پر تبرا طعن و تشنیع کرنے کیلئے ہوتی ہیں اگر آپ اس طعن و تشنیع کا حصہ بنے تو"اتَّقُوا مَوَاضِعَ التُّهَمِ " یعنی تہمت کی جگہوں سے بچو
اس تہمت کے ظن سے کیسے بچ پائیں گے ؟
روافض کا عقیدہ غلو: مقامِ مصطفیٰ ﷺ پر صریح ضرب!
تفسیرِ قمی میں سورہ الزمر کی آیت 65 "لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ" (اے پیغمبر! اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہو جائیں گے) کی تفسیری روایت میں لکھا ہے کہ:
"اس آیت سے مراد یہ ہے کہ (معاذ اللہ) اگر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کی ولایت کے ساتھ اپنے بعد کسی اور کی ولایت کا حکم دیا، تو آپ ﷺ کے تمام اعمال ضبط کر لیے جائیں گے اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔" (العیاذ باللہ)
قرآنِ کریم میں جہاں بھی "شرک" کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد خالصتاً اللہ کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ہے۔ لیکن روافض نے اپنی من گھڑت تاویل سے "ترکِ ولایت" کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے ہم پلہ اور برابر کا جرم بنا دیا!
کیا (معاذ اللہ) سید الانبیاء ﷺ کا اپنا مقام و مرتبہ اور عمر بھر کی محنت ایک امتی کی ولایت کے اقرار پر موقوف ہے؟
اس فکر کے مطابق، سرورِ دو عالم ﷺ کی اپنی رسالت کا دارومدار بھی "ولایتِ علی" پر رکھ دیا گیا ہے، جو کہ صریح گمراہی ہے
اس نظریے کے مطابق، آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر بھر کی عبادتیں، تبلیغِ دین، غزوات اور تمام نیک اعمال خدا کے ہاں تب ہی قبول ہیں جب وہ حضرت علی کی ولایت کا اعلان کریں۔ اگر آپ ﷺ (معاذ اللہ) کسی اور کی ولایت کا اعلان کر دیتے، تو آپ کے سارے اعمال ضائع ہو جاتے۔ یعنی روافض کے نزدیک نبی ﷺ کی رسالت کا دارومدار اور قبولیت بھی "ولایت و امامتِ علی" پر موقوف ہے۔
خدا کی پناہ! قرآنِ کریم کی معنوی تحریف کی اس سے بدتر مثال کیا ہوگی؟
اہلِ سنت کا یہ غیر متزلزل عقیدہ ہے کہ:کائنات میں سب سے بلند و بالا اور برتر مقام صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کا ہے۔
آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کسی امتی کی ولایت یا اقرار کی محتاج نہیں، بلکہ کائنات کی ہر شخصیت آپ ﷺ کے کلمے اور رسالت کی محتاج ہے۔
توحید کی آیات کو موڑ کر شخصیات پر فٹ کرنا صریح گمراہی اور غلو ہے۔کیا اب بھی کوئی ذی شعور اس فکر کو اسلام کے بنیادی عقائد کے مطابق سمجھ سکتا ہے؟ فیصلہ آپ خود کریں۔
موصوف نے بغیر کسی تاریخی اور دستاویزی دلیل کے، محض اپنے تعصب کی بنیاد پر اہل سنت و جماعت کو بنو امیہ اور بنو عباس کی سیاسی پیداوار قرار دیا ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ اہل سنت کا عقیدہ اور منہج کسی بادشاہ کی سرپرستی کا محتاج نہیں، بلکہ یہ عہدِ رسالت، قرآن و سنت اور اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے۔ہم یہاں ان کی پوری تحریر کے بجائے صرف ایک اقتباس کا علمی محاسبہ کریں گے، اور خود روافض کی اپنی مستند کتب سے ثابت کریں گے کہ تاریخی طور پر ان کے اپنے نظریات کی جڑیں کہاں جا کر ملتی ہیں
شیعہ مکتبہ فکر کے جلیل القدر اور قدیم عالم، سعد بن عبداللہ الاشعری القمی اپنی مشہور کتاب "المقالات والفرق" میں اس فرقے کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس فرقے کا نام 'سبئیہ' ہے، جو عبداللہ بن سبا کے پیروکاروں کا گروہ ہے۔ یہ ابنِ سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنہم) اور باقی صحابہ کرام پر لعن طعن اور عیب جوئی کا آغاز کیا اور ان سے براءت کا اظہار کیا۔"
(المقالات والفرق، صفحہ 2)
اسی طرح شیعہ مکتبہ فکر کے ایک اور بڑے مورخ اور عالم، ابو محمد الحسن بن موسیٰ النوبختی اپنی کتاب "فرق الشیعہ" میں عبداللہ بن سبا کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اہلِ علم کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی تھا، جس نے ظاہر میں اسلام قبول کیا اور حضرت علیؓ سے عقیدت کا اظہار کیا۔ جب وہ یہودیت پر تھا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے بارے میں (وصی ہونے کا) جو دعویٰ کیا کرتا تھا، بعینہ وہی دعویٰ اس نے اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے وصال پر حضرت علیؓ کے بارے میں کیا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت علیؓ کی امامت کے فرض ہونے کا قول زبان پر لایا اور ان کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کیا۔"
(فرق الشیعہ، صفحہ 57)
ان مسلمہ تاریخی حقائق سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ:
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی اور زبان درازی کی ابتدا کرنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ عبداللہ بن سبا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے "وصی رسول" اور امامِ مفترض الطاعہ (جس کی اطاعت فرض ہو) کا نظریہ بھی اسی نے ایجاد کیا۔چنانچہ جو لوگ اہل سنت کو بنو امیہ کی پراڈکٹ کہتے ہیں، انہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ ان کے بنیادی نظریات کی بنیاد ایک ایسے شخص نے رکھی تھی جس کا فتنہ خود شیعہ کتب میں تفصیل سے درج ہے۔
وہاں "جمیع صحابہ" موجود تھے۔ اگر وہاں خلافت کا واضح اعلان ہوا تھا، تو حضور ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد (صرف چند دن بعد ہی) ان ہزاروں صحابہ میں سے ایک نے بھی سقیفہ بنی ساعدہ یا بعد میں یہ کیوں نہیں کہا کہ: "اے لوگو! تم ابوبکرؓ کی بیعت کیوں کر رہے ہو؟ ہم نے تو ابھی چند دن پہلے غدیر کے میدان میں علیؓ کی خلافت کا اعلان سنا تھا!" کیا معاذ اللہ وہ تمام ہزاروں صحابہِ رسول یکمشت مرتد، منافق یا خائن ہو گئے تھے کہ سب نے مل کر الٰہی حکم کو چھپا لیا؟ یہ صحابہ کرام کی عدالت پر بدترین اور ناقابلِ قبول حملہ ہے۔
اگر سیدنا علیؓ غدیر کے دن اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے خلیفہِ بلا فصل (پہلے خلیفہ) مقرر ہو چکے تھے، تو انہوں نے خود حضور ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ہاتھ پر بیعت کیوں فرمائی؟ (معاذ اللہ) کیا شیرِ خدا سیدنا علیؓ کسی مصلحت یا ڈر کی وجہ سے اللہ کے دیے ہوئے منصبِ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے؟ یا انہوں نے حکم الٰہی کو پسِ پشت ڈال دیا تھا؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ غدیر میں خلافت کا نہیں، محبت کا اعلان تھا جسے سیدنا علیؓ خود بھی خلافت نہیں سمجھتے تھے۔
اگر خلافت و امامتِ علیؓ پر ایمان لانا توحید و رسالت کی طرح اصولِ دین کا حصہ ہے جس پر آخرت میں جوابدہی ہونی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نماز، زکوٰۃ، حج، اور گزری ہوئی امتوں کے واقعات تک تو کھول کر بیان فرما دیے، لیکن ایمان و نجات کی اتنی بڑی شرط (امامتِ علیؓ) کا نام لے کر پورے قرآن میں ایک جگہ بھی ذکر کیوں نہیں فرمایا؟ کیا اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) امت کو آزمائش میں ڈالنا چاہتا تھا کہ اتنے اہم عقیدے کو صریح الفاظ میں بیان ہی نہ کیا؟
یہ الزام باطل ہے کہ علماء نے اسے چھپایا۔ حدیثِ غدیر اہلسنت کی معتبر ترین کتب (مسند احمد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور المستدرک للحاکم) میں پوری تفصیل سے موجود ہے۔ اہلسنت کے تمام علماء حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس فضیلت کو منبر و محراب پر بیان کرتے ہیں اور آپ سے محبت کو ایمان کا حصہ مانتے ہیں
اگر بالفرض لفظ "مولیٰ" یا "ولایت" کا معنی "امورِ مسلمین میں تصرف کا حقدار" (یعنی حاکم) مان لیا جائے، تو اس کا مطلب یہ بنے گا کہ حضور ﷺ کی حیات میں ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مسلمانوں کے معاملات کے آزاد تصرف کے مالک بن گئے تھے۔یہ بات عقلی اور شرعی طور پر باطل ہے، کیونکہ ایک وقت میں نبی کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص مستقل متصرف یا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا، اس لفظ کا وہ معنی مراد لینا ہی واجب ہے جو آپ ﷺ کی موجودگی میں بھی حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے لیے صادق آسکے، اور وہ معنی محبت اور نصرتِ اسلام ہی ہے
مقامِ نبوت اور عقیدۂ امامت: ایک تجزیاتی مطالعہ
سبائیوں کے ہاں 'عقیدۂ امامت' کو ایک بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے ائمہ کے لیے جو مقام متعین کیا ہے، اس کے مطابق امامت کا مرتبہ تمام دیگر مراتب بشمول نبوت، رسالت، صحابیت اور ولایت سے اعلیٰ و ارفع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سبائیوں کے کئی دیگر متنازع عقائد کی اساس اسی مسئلۂ امامت پر قائم ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
عقیدۂ بداء: اللہ تعالیٰ کے لیے (معاذ اللہ) وقتی بے خبری یا رائے کی تبدیلی کا یہ عقیدہ محض اس لیے وضع کیا گیا تاکہ امامت کی ترتیب اور نامزدگیوں میں ہونے والی تبدیلیاں یا تضادات کا جواز پیش کیا جا سکے
۔انبیائے کرام پر اعتراضات: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام جیسی جلیل القدر ہستیوں کی طرف بعض لغزشوں کی نسبت (معاذ اللہ) اس نظریے کے تحت کی گئی کہ ان کے دلوں میں ائمہ اہل بیت کے مرتبے کے حوالے سے کوئی انقباض تھا۔
صحابہ کرام پر تبرا اور ارتداد کا الزام: خلفائے راشدین کی خلافت کو غصب شدہ ثابت کرنے اور امامت کے سیاسی و مذہبی تصور کو تحفظ دینے کے لیے صحابہ کرام پر شدید تنقید اور تبرا بازی کی بنیاد رکھی گئی۔
امہات المؤمنین کی تنقیص: سیدہ عائشہ صدیقہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی اور تبرا کا محرک بھی یہی تھا کہ انہوں نے امامت کے اس مخصوص تصور کی تائید نہیں کی تھی۔
بناتِ رسول کا انکار: سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو کم کرنے کے لیے سرکارِ دوعالم ﷺ کی چار صاحبزادیوں میں سے تین (سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم) کے حقیقی بیٹی ہونے کا ہی انکار کر دیا گیا، کیونکہ وہ سیدنا عثمان کے عقد میں رہی تھیں
۔تقیہ کا تصور: چونکہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے خلفائے ثلاثہ کے ہاتھ پر بیعت فرمائی اور ان کی اقتدا میں نمازیں ادا کیں، اس تاریخی حقیقت کے دفاع اور امامت کو بچانے کے لیے 'تقیہ' (ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور) کا عقیدہ گھڑا گیا۔
حرمتِ متعہ کی مخالفت: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ (یا خیبر) کے موقع پر متعہ کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا تھا، اور اس کا اعلانیہ نفاذ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں کیا۔ چنانچہ محض فاروقِ اعظم کی مخالفت میں اس عمل کے فضائل و کمالات کا ایک خود ساختہ تصور پیدا کیا گیا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تمام فکری و کلامی نظریات دراصل اسی 'درختِ بد' کی شاخیں ہیں جس کی جڑیں مروجہ عقیدۂ امامت میں پیوست ہیں۔
@AlMuaazConsul@TimeOut69155858 اور اہل سنت کا مسئلہ بھی یہی ہے تحقیق کوئی نہیں صرف سنی سنائی باتیں اور اسی کو کمزوری بنا کر خارجی رافضی منافق ہماری تاریخ پر، ہمارے مذہب اسلام پر حملہ کرتے ہیں
لفظِ "مولا" کا مفہوم: حدیثِ غدیر اور قرآنِ کریم کے آئینے میں!
عداوت کے معنی "دشمنی" کے ہیں اور اس کی ضد "دوستی" ہے۔ حدیثِ غدیر کے آخری حصے میں اس مفہوم کو واضح طور پر یوں بیان کیا گیا ہے:
اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ"
اے اللہ! تو اس سے محبت رکھ جو اس (علیؑ) سے محبت رکھے، اور اس سے عداوت رکھ جو اس سے عداوت رکھے۔"
ایک فکری مغالطہ اور اس کا علمی رد:
حدیث کے پہلے حصے میں لفظ "مَوْلَاهُ" عداوت یعنی دشمنی کے مقابلے (ضد) میں بیان کیا گیا ہے، جس کا واضح مطلب دوست یا مددگار ہے۔بالفرضِ محال، اگر لفظِ "مولا" کے وہی معنی لیے جائیں جو سبائی لیتے ہیں (جیسا کہ "خلیفہ بلا فصل")، تو ایک بڑا علمی و منطقی تضاد پیدا ہوتا ہے۔
مثلاً اگر اس لفظ کا مطلب 'خلیفہ' ہی ہے، تو قرآنِ پاک کی اس آیتِ کریمہ میں "مولیٰ" کا کیا معنی کیا جائے گا؟
فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ
"بیشک اللہ تعالیٰ، جبرائیل امین اور تمام صالح مومن آپ کے مددگار (مولا) ہیں۔"
اگر یہاں بھی لفظِ "مَوْلَاهُ" کا وہی من گھڑت معنی (خلیفہ بلا فصل) لیا جائے، تو معاذ اللہ ترجمہ کچھ یوں بنے گا:
"اللہ تعالیٰ، جبرائیل امین اور تمام صالح مومن سرکارِ دو عالم ﷺ کے خلیفہ بلا فصل ہیں!" (العیاذ باللہ)
ایک لمحہ فکریہ:اب اہلِ عقل خود فیصلہ کریں کہ اس من گھڑت مفہوم کو مراد لینے سے سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی کون سی خاصیت باقی رہ جاتی ہے؟
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ "مولا" سے مراد دوست، محبوب اور ناصر و مددگار ہے، جو ہر مومن کی شان ہے۔
لُغت اور قرآن و حدیث کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ لفظِ "مولا" یہاں نصرت، محبت اور دوستی کے معنی میں ہے۔ عقل و انصاف کا تقاضا ہے کہ عقائد کی بنیاد من گھڑت تاویلات پر رکھنے کے بجائے، قرآن و سنت کے واضح اور جاندار اصولوں پر رکھی جائے۔ اللہ پاک ہمیں حق سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!