﷽
قل هو ﷲ أحدﷲ الصمدلم يلد ولم يولدولم يكن له كفوا أحد
قل أعوذ برب الفلقمن شر ما خلق ومن شر غاسق إذا وقبومن شر النفاثات في العقدومن شر حاسد إذا حسد
قل أعوذ برب الناسملك الناس إله الناسمن شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناسمن الجنة والناس
شہباز جیسے لوگوں کی وجہ سے آج KPK اور PTI کا یہ حال ہے ۔ اللّه کے بندے اگر غلطی سے ایک منصوبہ بنا ہی لیا ہے عوام کے لئے KPK میں تو اسے تو مذاق کا نشانہ نہ بناؤ ۔ ایسے ہی جھوٹ بول بول کر اپنا بیڑا غرق کر لیا ہے ۔ یہ بس براستہ کراچی ملتان سے ہوتے پشاور جا رہی ہے ۔
پنجاب کو پشاور کی بسوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پاس 1100 الیکٹرک بس صرف پچھلے مالی سال میں نہ صرف پہنچ گی تھی بلکہ پنجاب کے ہر ضلع میں چل رہی ہیں۔ اور اس سال ہم 1500 الیکٹرک بس اور خرید رہے ہیں پنجاب کی ہر تحصیل میں چلانے کے لئے۔
3 BRT سسٹم پہلے چل رہے ہیں ملتان لاہور اور راولپنڈی میں اور 2 ہم ابھی اور بنا رہے ہیں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ۔
تو گل صاحب بونگیاں مارنی بند کریں اور کوئی اچھی بات بھی کرنے کی کوشش کیا کریں۔ ہے تو مشکل کام لیکن کوشش تو کر کے دیکھو۔
یہ بھی سن لیں ہر پشتون نسل پرست جو کہتا ہماری بجلی لے گے اس کو سنا بھی دیں تربیلا ڈیم چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے خود خیبر پختونخواہ تین ہزار تین سو میگاواٹ واٹ بجلی استعمال کرتا اور بقایات صرف سات سو میگاواٹ بجلی بچتی ہے تربیلا کی تقریباً ساری بجلی تو کے پی میں چوری ہو جاتی ہے تربیلا کی بجلی کہ رائلٹی چالیس ارب سالانہ کے پی کو ملتی ہے جب یہ تربیلا بنا تو پنجاب کے دریاؤں کو بیچ کر پیسے ملے تھے اور جو لوگ متاثر ہوئے ان کو زمینیں بھی پنجاب نے دی تھیں ان بے شرم نسل پرستوں کو شرم بھی نہی آتی ؟
محترم ایمل ولی خان صاحب! آپ کی جانب سے ولی خان کے نام سے منسوب اس اقتباس کے حوالے سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ تاریخی حوالوں میں اصل الفاظ اور ان کی تشریح کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ الفاظ واقعی چوہدری محمد علی کی خفیہ دستاویز یا ولی خان کے حنیف رامے کے نام کھلے خط میں موجود ہیں تو براہِ کرم جولائی 1987ء کے روزنامہ جنگ لاہور کا متعلقہ صفحہ یا دستاویز کی اصل نقل پیش کر دیں تاکہ قارئین خود تاریخی حقیقت کا تعین کر سکیں۔
صوبہ سرحد کی بجلی اور آبی وسائل کے حقوق کے معاملے میں تاریخ کا ایک اہم پہلو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ 1991ء میں ایک پنجابی وزیراعظم، میاں محمد نواز شریف، نے تاریخی آبی معاہدے کے ذریعے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تاریخی معاہدہ کیا، صوبہ سرحد کے خالص پن بجلی منافع کے معاملے پر بھی اہم پیش رفت ہوئی اور صوبے کو رائلٹی ملنے لگی۔ آپ کے دادا خان عبدالولی خان نے کہا تھا کہ ایک پنجابی وزیراعظم ہی چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق دے سکتا ہے، اور نواز شریف نے عملی طور پر یہ حقوق دیے بھی۔ اس لیے تاریخ کو محض نسلی تعصب کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اصل حقائق، فیصلوں اور اقدامات کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔
This is the Abu Dhabi equivalent of buying Manchester City to launder their reputation.
The Tareen fortune is built on the misery and accelerated poverty of tens of thousands of farmers if not more.
I am no one to hold Tareen at fault for the sins of his elder. But I went to the American school and I saw what illegitimately earned money did to an entire generation of elites.
If you want to limit those generational effects you need to invest back in the communities you affected. And invest so much money that you feel the pain. Like half of your fortune. Open a fintech that gives farmers loans as inputs using your money and helps them grade their crops and bring them to the right markets and do knowledge transfers to increase yield and productivity. The difference in joy is real. And it’s worth it.
Or you can spend a joyless eternity doing this performative crap.
صرف تاریخ کے طالب علموں کیلئے
چوہدری محمد علی پاکستان کے محض ایک سال تک وزیراعظم رہے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں وزیراعظم تھے جب ملک میں صدارتی نظام تھا اور وزیراعظم کا عہدہ ایک سمبولک عہدہ ہوتا تھا۔ اس وقت جو شخص ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا وہ میرجعفر کے خاندان کا چشم و چراغ اسکندر مرزا تھے جبکہ نمبر 2 ایوب خان تھے۔
ایمل ولی خان صاحب نے بنگالی یا پٹھان عہدیدار کا نام لینے کے بجائے ون یونٹ کا بل پنجابی وزیراعظم کے نام پھاڑ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو توڑنے تک کا راج پاکستان پر بنگالی اور پٹھان نے کیا ہے۔ پنجاب کو کہیں بعد میں جاکر موقع ملا۔
اس وقت امریکہ AI میں سب سے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے جرائم کا خاتمہ شروع نہیں کیا لیکن پاکستان یہ ٹیکنالوجی پہنچ گئی ماشاء اللہ
ہماری قوم 2 حصوں میں تقسیم!
ایک برانڈز اسٹور سے شاپنگ کر کے یہ بتانا چاہتی ہے ہم نے برانڈ خریدا ہے؟
اور دوسرے جو اج کل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم خریدنا تو برانڈ چاہتے ہیں مگر ہم برانڈ شاپر کے پیسے نہیں دیں گے ہم سادہ شاپر استمال کریں گے۔
خیر اگر 10/20 روپے ہی بچانے ہیں تو لوکل کریانہ اسٹور سے بھی خریداری ہو سکتی ہے؟
اپکی کیا رائے ہے؟؟
فاروقی صاحب!
میں سعودیہ سے باہر پاکستان میں مقیم ہوں ، میرے پاس 5 ریال ہیں، اس کے بدلے ایرانی ریال خریدنے کا ارادہ ہے مگر میری گاڑی کی ڈگی چھوٹی ہے اس میں 5 سعودی ریال کے بدلے میں ملنے والے ایرانی ریال سما نہیں سکیں گے۔
کسی کنٹینر کا انتظام ہو سکتا ہے تو بتا دیں، ممنون رہوں گا ۔
کمیل احمد معاویہ
محسن نقوی صاحب نے اسمبلی میں پی ٹی آئی کے لیڈران کے منہ پر ان کو گواہ بنا کر مذاکرات کی اصل کہانی سنا دی وہ جو کہتے جیل میں عمران سے ملا دو تو اس کی زرا تفصیل سنیں عمران نے خود کیا کیا ڈرامے کر رکھے ہیں
یہ بھی بتا دیا گورنر راج کس نے لگوایا ہے
خیبر پختونخوا میں معدنیات پر قبضے کا جھوٹ
1947 سے 2013 تک: 482 لائسنس
PTI کے 13 سال میں: 4,917 لائسنس
عمران دور میں اکیلے 4435 بانٹے گئے!
پہلے جہانگیر ترین، پھر علیمہ اور بیٹا
ایمرجنسی کا ڈرامہ نہیں، یہ ہے معدنیات حقیقت
FWO کو = صرف 1
باقی سب PTI کے پیاروں میں
آپ شاید بھول گئے ہیں کہ سہیل آفریدی نے ان گاڑیوں کو لینے سے انکار کر دیا تھا۔ پی ٹی آئی تو ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے، وہ بھلا خیبر پختونخوا میں امن کیوں چاہے گی؟ کیونکہ امن قائم ہو جاتا تو ان کی سیاست ختم ہو جاتی، اور اب بالآخر ایسا ہی ہو چکا ہے۔
اکتوبر 2025 میں وفاقی حکومت نے دس دس کروڑ روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑیاں دی تو بے غیرت اعلی نے واپس بھجوا دی تھی جنہیں پھر بلوچستان بھجوا دیا گیا تھا
کرائے کا ٹاوٹس یہ نہیں بتائے گا
عمران خان اور پی ٹی آئی کا اپریل 2022 سے اب تک فیصلوں کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو یہی فیصلہ ہونا چائیے۔
خان نے پہلا ماسٹر اسڑوک کھیلا اور اپنی حکومت توڑ دی،دوسرا ماسٹر اسٹروک کھیلا قومی اسمبلی توڑی، تیسرا سب سے بڑا ماسٹر اسٹروک کھیل کر اپنی پنجاب حکومت توڑی ،چوتھا اسٹروک خیبرپختونوا توڑی اور پھر خود جیل جا بیٹھے۔
اب صوبے میں گورنر راج لگوایا، وزیراعلی بھی پرویزالہی کی طرح آفریدی گرفتار۔
اب ان سب کے بعد تو خان کا آخری
“ماسٹر اسٹروک” تو یہی بچ گیا ہے کہ سب سینٹرز اور ارکان اسمبلی سے فورا استحفا دلوا دے اور بقول ایک وی لاگر خان جیل میں اپنے سیل کو اندر سے کنڈی لگا کر بڑی گیم ڈال کر بیٹھا رہے اور ان سب حکمرانوں کا تماشہ دیکھے۔۔ کہ دیکھو خان کی مقبولیت اب آسمان کو چھو رہی ہے۔۔ 😎