ریٹویٹ کرنے پر پیسہ نہیں لگتا !!
عمران خان سچا عاشق رسول (ص) ہے اور وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے ۔یہی اسکا اصل قصور ہے *
#Where_is_ImranKhan
کیا آج بھی پاکستان میں مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہی ہے یا اب کوئی اور ہے ؟
اس سروے کے نتیجے سے ( نامعلوم ) کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ مقبول جماعت کونسی ہے ؟
.....
#معافی_نہیں_مزاحمت_ہوگی
عوامی سروے !!
کیا آپ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے بعد پاکستان کا مقبول ترین لیڈر عمران خان کو سمجھتے ہیں ؟
اپنی رائے ضرور دیں ۔۔۔۔
#حقیقی_آزادی_لے_کر_رہیں_گے
If Pakistan’s elections are held under the current circumstances, “they would be a disaster,” the former prime minister warns. “The only viable way forward for Pakistan is fair and free elections,” he argues in a guest essay https://t.co/LjtKp2MWhU
@MuradSaeedPTI قائد نے کہا تھا کہ ابھی پاکستان کے لیے اور قربانی دینا پڑے گی۔ ہم نے قربانیاں دی ہیں ان شاء الله پاکستان اور اس میں بسنے والے حقیقی آزادی کی منزل ضرور پائیں گے۔ کوئی اس جدوجہد کو مفروضوں اور جھوٹے بیانیے سے ختم نہیں کرسکے گا۔ ان شاء الله
“صاحب قوم کے شعور کی توہین نا کریں۔ آپ چور کو چور کہتے تھے قوم ہم آواز تھی۔ آپ فتوی لگاتے آپ پر ایمان کی حد تک بھروسہ تھا، لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے۔ آپ غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے آپ کی حب الوطنی کی قسم کھاتے تھے، کس نے جھٹلانا تھا؟ مگر اب نہیں اب آپ قوم کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ صحافی چھوڑ، چینلز خریدیں، جس حب الوطنی کی بنیاد پر آپ کے بیانیے بکتے تھے آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا تمغہ ان سینوں پہ بھی سجا ہے جن کو آپ زبردستی مقابل بنارہے ہیں”؛ ارشد بھائ کی مسکراہٹ بتا رہی تھی وہ دوسری طرف کی جھنجلاہٹ سے بڑے محظوظ ہورہے ہیں۔
ادھر سے گلہ یہ بھی تھا کہ ان کے شاہکار بھی اپنے نام کرلیے۔ “نغمے بھی قوم کے ہیں، قوم کے پیسے سے بنے ہیں۔ احتساب بھی قوم کے پیسے کا تھا جس سے آپ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ جب آپ قوم کو چھوڑ کر ان کے مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو قوم بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی۔ وہ اپنے نغموں۔ قسموں۔ اپنے بھروسے، سب سے آپ کو عاق کر دے گی۔ سمجھ جائیں آپ کی طاقت قوم ہے، ڈنڈا نہیں۔ آپ کے پاس صرف ڈنڈا رہ جائیگا۔ ڈنڈے سے دل نہیں جیتے جاتے”۔
راس نہیں آتی اتنی جرات ہم جیسی قوموں کے بیٹوں کو۔ راس آئ بھی نہیں بڑی قیمت چکھانی پڑی لیکن بات اس کی یہ بھی سچ ثابت ہوئ، اس کی ہر بات کیطرح۔۔
ڈیڑھ سال سے بیانیے بن رہے ہیں۔ یار بک گئے۔ غم خوار بک گئے۔ وفاداریاں اونے پونے نکل گئیں۔ ایمان کوڑیوں کے بھاؤ آ گئے۔ اصول، اقدار، قانون کونسی چیز ہے کہ جس کی بولی نہیں لگی۔ لیکن قوم نے اپنے بھروسے سے ایسے عاق کیا ہے بیانیہ بن کے ہی نہیں دے رہا۔
ارشد بھائ جان سے گئے، جیتے جی رسوا کرنے کی کوششیں کیں، مرے تو کیا کیا تہمتیں لگیں۔ ظلِ شاہ کے جسم میں کوئ عضو سلامت نہ چھوڑا، جن انگلیوں سے اس کا خون ٹپک رہا تھا، وہی ہاتھ اس کے محبوب گریباں پر ڈالے۔ اب عمار۔۔
عمران خان کی جان پر حملہ، کردار پر حملہ، مکان پر حملہ، حملہ بھی اس پر، پرچہ بھی اس پر۔
ہم بالوں سے پکڑ کر دنیا کے سامنے بھری عدالت سے گھسیٹتے لے گئے، ظلم تم نے کیا تم نے آنکھیں کیوں نا پھیریں؟
پنجاب میں الیکشن جیت گئے؟ زیادتی کردی اب تو آئین پامال ہوگا مجبوری ہے ہم کہہ رہے ہیں، مان لو تمہاری مجبوری ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان میں تمہاری حکومتیں ہیں؟ ہم نہیں چاہتے۔ خاموشی سے حوالے کردو۔ بولوگے تو برے بنوگے۔
سائفر تھا، نہیں تھا۔ مداخلت تھی، سازش تھی۔ ہائے ہائے قوم کو بتا دیا؟ یہ کوئ بتانے والی بات تھی بند کمرے میں گھٹنوں کو ہاتھ لگانے تھے یہ کیا کردیا؟
سرحد پار سے کوئ آیا؟ نہیں آیا۔ پراپگنڈہ کر رہے ہو، شرپسند کہیں کے۔ مگر اب آگیا ہے، دیکھو لوگ مر رہے ہیں بد امنی ہے، الیکشن نہیں مانگنا۔۔ اب جواب مانگ رہے ہو؟ سوال ہوچھ رہے ہو؟ غدار! واجب القتل ہو تم تو۔
میں دہشتگرد، میرے یار غدار، میری قوم باغی، میری نسل گناہگار۔
مسئلہ یہ ہے کہ سننے والوں کو یاد ہے، بولنے والے اپنی ہی گڑی کہانی بھول جاتے ہیں۔ پھر جھنجلا جاتے ہیں کہ قوم مان کیوں نہیں رہی۔
جنجھلاہٹ میں پھر ۹ مئی کی تلوار لے کر پل پڑتے ہیں۔۔ اور ۹ مئی بھی کیا اپنی صفوں میں مڑ کر پوچھ لیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ ۹ مئ کی فصل ۹ اپریل کو بوئ گئ تھی اور بونے والے ہاتھ دونوں مرتبہ ایک ہی تھے!
“بیانیہ سچ پر بنتا ہے” ایک اپنے نام کیطرح راست باز دیوانہ ہوتا تھا ارشد شریف، جس نے تمہیں یہ حقیقت سمجھانا چاہی تھی۔
آج بھی حقیقت یہی ہے کہ جب قوم اپنے بچوں کے جنازے پڑھتے نڈھال ہورہی ہو تو دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کانوں میں پگلتے سیسے کیطرح اترتا ہے۔ خدا کے لیے مان جاؤ۔ قوم کے شعور کی توہین نا کرو۔لاشوں پہ نوحے لکھے جاتے ہیں بیانیے نہیں بنائے جاتے۔