گزشتہ دن الیاس قادری صاحب کی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے انکے ایک مقلد نے ان سے پوچھا بابا جانی آپ پہلے نیچے بیٹھ کر کھاتے تھے اور اب آپ میز پر بیٹھ کر کھا رہے ہیں تو الیاس قادری صاحب نے جواب دیا کہ انکے گھٹنے میں تکلیف رہتی ہے تو ڈاکٹر نے انکو نیچے بیٹھنے سے منع کیا ہے لہذا مفتی صاحب سے مشورہ کرنے کے بعد اب وہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور نماز بھی کرسی پر پڑھتے ہیں۔
اس میں کچھ یاددہانی ہے اور میرے لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ سند ہو جائے۔
1 قادری صاحب کو درد ہوئی انہوں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر وہ داتا صاحب کے گھوڑی والا دم نہیں کیا بلکہ سیدھے ڈاکٹر کے پاس گئے۔
2 قابل غور بات یہ ہے کہ قادری صاحب مر کر نہیں بلکہ زندہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی نہیں بلکہ اپنی ہی تکلیف کو دور نہیں کر سکے۔
3 بلکہ قادری صاحب کو درد ہوا تو انہوں نے اس فیلڈ کے انسان سے رابطہ کیا نہ کسی دربار پر گئے نہ کوئی تعویز لیا کیونکہ انکو پتہ ہے اس مسئلہ کا حل کوئی زندہ اور اسی فیلڈ کا بندہ کر سکتے ہیں۔
4 قادری صاحب کسی مردہ ڈاکٹر کی قبر پر بھی نہیں گئے۔ بلکہ زندہ ڈاکٹر کے کلینک پر گئے۔اھل عقل کیلئے اسمیں نشانیاں ہیں.🧏
اور نصیحت تو عقلمند قبول کرتے ہیں
نصیحت کرتے رہو نصیحت ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
تھوڑا سا نہیں بہت زیادہ سوچیں ۔
@TheSyedaSays پہلے تو اگر ان کے شوہر یا گھر کے سربراہ کی انکم اچھی ہے مینج ہو رہا ہے تو ان کا کردار اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت ہونا چاہیے ۔لیکن اگر نہیں تو اج کل ان لائن بزنس جیسے کہ لیڈیز کی کپڑوں کی میک اپ کی کھلونوں کی اس طرح کے بے شمار چیزیں ہیں جو گھر بیٹھے ان لائن کاروبار کیا جا سکتاے
🌴🌷Goat farming life🌷🌴
🐐Goats feed🐏
بکریوں کی خوراک🦌
اگر آپ بکریوں سے سو فیصد بہترین رزلٹس لینا چاہتے ہیں اچھا دودھ اور زیادہ بچے لینا چاہتے ہیں تو آج تھوڑی سی محنت مزید کریں
بکریوں کیلئے سو فیصد خالص تسلی بخش ونڈہ ، گھر میں آپ خود کریں ، نہایت آسان طریقہ ہے مقدار نیچے بتائ جا رہی ہے ،،،
گندم کا دلیہ 40 کلوگرام
مکئ کا دلیہ 20 کلو گرام
کھل بنولہ 20 کلو گرام۔باریک کروالیں
سرسوں کھل 10 کلو گرام۔باریک کروالیں
چوکر گندم کا 10 کلوگرام
ٹوٹل وزن 100 کلوگرام
ساتھ
منرل مکسچر 1 کلوگرام
ڈی سی پی پاؤڈر 1 کلوگرام
نمک 1 کلوگرام
سب چیزوں کو ملا لیں۔
گندم کی توڑی کے علاوہ اگر خشک گوارا ، چنے کی توڑی ، منگی کی توڑی ، مونگ پھلی کی توڑی ، خشک لوسن ، خشک برسیم شٹالا وغیرہ کے ساتھ مکس کر کے کھلائیں لتو بہتر رزلٹ آئے گا ۔
سبز چارے پر بھی ونڈہ مکس کر کے کھلا سکتے ہیں ۔
اگر ان میں سے کوئ بھی چارہ یا بھوسا دستیاب نہیں پھر گندم کا باریک بھوسا چھان کر استعمال کریں ۔
اگر جیب مزید ساتھ دے تو اس ونڈے میں ایک کلوگرام ہلدی ، آدھا کلو میٹھا سوڈا اور آدھا کلو بجھا چونا بھی ڈال لیں۔
ہلدی بہترین اڈوانس اینٹی بائیوٹک ہے ، میٹھا سوڈا ہاضمہ کیلئے اپنا ثانی نہیں رکھتا ، اور بجھا چونا کیلشیم سورس بھی ہے پیٹ کے کی��ے مکوڑے بھی مارتا ہے اور جراثیم کش ہے جانوروں کے منہ سے پھیلنے والے جراثیم کو کنٹرول کرتا ہے۔
مزید معلومات کیلئے ہمارے ساتھ رابطے میں رہنے کیلئے پیج فالو کریں۔
🐏🐐🦌🐏🐐🦌🐏🐐🦌🐏🐐🦌
پنجاب کی سب سے مشہور بکری کی نسل بِیتل کی اقسام
راجن پوری بِیتل - لائلپُوری بِیتل - ناگری بِیتل - مکھّی چینی بِیتل - رحیم یار خانی بِیتل - گجراتی یا پوٹھوہاری بیتل
لائلپُوری بِیتل (مکمل سیاہ یا سیاہ جسم پر سفید دھبے اور ناگری (تیز سیاہی مائل سُرخ رنگ، یا اس پر سفید دھبے)، بنیادی طور پر فیصل آباد اور ساہیوال میں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں اور ان علاقوں میں نسلوں سے پالی جا رہی ہیں، لیکن وس��ی پنجاب اور بالائی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی موجود ہیں۔ دودھ، وزن اور قد میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ ایک اچھی لائلپُوری بِیتل یا ناگری بِیتل پہلے سُوۓ میں تین کلو دودھ یومیہ سے شروع ہو جاتی ہے اور بعض گھروں کے پاس چار دانت کی عُمر میں پہلے سُوۓ پر پانچ کلو یومیہ یا زائد والی بکریاں بھی موجود ہیں۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کے حوالے سے بھی باقی نسلوں سے بہتر ہیں۔ یہ دونوں اقسام آپس میں بہنیں سمجھیں جاتی ہیں اور ماحول میں اپنے آپ کو جلدی ڈھالنے کی خصوصیت کی بِنا پر قریبا پورے پاکستان میں پرورش کے لئے موزوں ہیں (سواۓ مسلسل سرد، شدید سرد، مسلسل مرطوب یعنی حبس نمی اور ذیادہ گرم خشک علاقوں کے)۔
مکھّی چینی بِیتل بھی عمدہ کارکردگی والی نسل ہے۔ اور ناگری اور لائلپُوری کے بعد دودھ اور قد کے حوالے سے ایک معروف قسم ہے۔ اس کا آبائی علاقہ بہاولپور ڈویژن ہے، اور بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع میں اپنی بہترین بڑھوتری دکھاتی ہے۔ جبکہ ضلع رحیم یار خان میں رحیم یار خانی بھی مکھّی چینا کے ساتھ آ جاتی ہے۔ اپنے آبائی علاقوں میں پالنے کے لئے بہترین نسل ہے، تاہم محنت کے ساتھ بالائی اور وسطی پنجاب میں بھی کامیاب ہو رہی ہے۔
نُکری بِیتل (جسے ڈیرہ غازی خان کے ضلع راجن پور کے حوالہ سے راجن پوری بھی کہا جاتا ہے) ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے لئے شاندار نسل ہے۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے چاروں اضلاع لیّہ، مظفرگڑھ، ڈی جی خان اور راجن پور کی آب و ہوا کے مطابق وہاں پالنے کے لئے سب سے بہترین نسل ہے۔ اس نسل کی سب سے خالص صنف، گُلابی نکرے نر بہ�� اچھا قد اور خوبصورتی رکھتے ہیں۔نُکری مادہ دودھ کے حوالے سے کم دودھ دینے والی نسل میں آتی ہے۔
رحیم یار خانی بِیتل بہاولپور، رحیم یار خان، صادق آباد، یزمان وغیرہ کے علاقوں اور منڈیوں میں پائی جاتی ہے اور اُس علاقے کی مقبول نسل ہے۔ تیکھے نین نقش اور ماتھے سے شروع ہونے والا ناک کا ابھار اس کی خصوصیات ہیں۔ نر بہتر جسم بناتے ہیں، جبکہ مادہ نسبتا کم دودھ دینے والی نسل ہے۔
گجراتی بیتل (پوٹھوہاری) سطح مرتفع پوٹھوہار کے علاقوں میں ذیادہ مقبول ہے اور اس وجہ سے رحیم یار خانی کی طرح علاقائی بیتل کا مقام رکھتی ہے۔ اپنے علاقے میں اچّھی پرورش پاتی ہے۔ نر اچھا وزن کرتے ہیں۔ مادہ دودھ کے حوالے سے بہت معروف نہیں مانی جاتی۔
پوسٹ شئیر کریں۔
یہ دو سال پہلے کی پوسٹ ہے اور سوشل میڈیا پر بہت سے نام کے ساتھ موجود ہے ہر کاپی پیسٹ پوسٹ میں الگ الگ نام۔
یہ آرٹیکل "مہر محمد کامران امین لائل پوریا" کا لکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائے اور لکھنے کی مزید ہمت اور وقت عطا فرمائے۔
عمران خان کا ماسٹر سٹروک!
(یاد دہانی کیلئے لکھ رہا ہوں)
9 اپریل رات 12 بجے تک آخری ڈیڈ لائن تھی،
قومی اسمبلی کا انتہائی اہم اجلاس جان بوجھ کے آخری وقت تک کھینچا گیا،
آخری بال،
آخری چال،
آخری گھنٹہ اور آخری پتہ،
سب پریشان تھے کیا ہونے جا رہا ہے،
ا��صاب کی جنگ تھی، سارا دن گزر گیا
بات آخری لمحوں تک پہنچ گئی،
ٹھیکیداروں کے اعصاب جواب دینے لگے انہیں ساری محنت ضائع ہوتی ہوئی نظر ائی،
جو اب تک پس پردہ چھپے بیٹھے تھے انہیں
مجبوراً سامنے آنا پڑا، ایکسپوز ہونا پڑا،
آخری گھنٹے میں سب ایکٹو ہو گئے،
چھٹی کے دن آدھی رات کو عدالتیں کھل گئیں،
منصفان ریاست جوق در جوق پہنچنے لگے،
ساری اپوزیشن آدھی رات تک قومی اسمبلی میں بیٹھی رہی،
قیدیوں والی گاڑیاں پہنچیں، ایجنسیاں حرکت میں آئیں اورسب کنٹرول کیا جانےلگا.
یہی وہ وقت تھا جس کیلئےکپتان نے
اتنی لمبی اعصابی جنگ لڑی
اتنی زیادہ محنت کی تھی،
کپتان نے میڈیا کو بلایا،
سوشل میڈیا پہ سب لائیو جا رہا تھا،
اندر کی خبریں باہر آ رہی تھیں،
کپتان نے معنی خیز مسکراہٹ کیساتھ پوچھا،
کوئی رہ تو نہیں گیاجو میرے خلاف نہ ہوا ہو،
مطلب کوئی رہ تو نہیں گیا جو واضح طور پر قوم کے سامنے ایکسپوز نہ ہوا ہو،
صحافیوں نے کہاجی نہیں،
وہ اٹھا، ڈائری اٹھائی اور وکٹری نشان بناتا ہوا
اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا،
بظاہر ہار کے جا رہا تھا مگر حقیقت میں
یہی اس کی جیت تھی،
وہ سب پردہ نشینوں کے منہ سے نقاب نوچ کے جا رہا تھا،
وہ سب کو بے نقاب کر کے جا رہا تھا،
وہ سب بکاو اور مفت خوروں کو بیچ بازار ننگا کرکےجا رہا تھا
وہ قوم کو اصل مجرم، اصل غدار دکھا کےجا رہا تھا،
اس کا مقصد پورا ہوا،
پردے کے پیچھے بیٹھے اصل ہرکارے قوم کے سامنے
ایکسپوز ہو چکے تھے،
یہی اس کی جیت تھی،
یہی اس کا ماسٹر اسٹروک تھا ۔۔۔
ألا لعنة الله على المنافقين
علی زائی جیسا تو ہے کوئی نئیں
جہلمی مرزا تے شئے ای کوئی نئیں
@alizaihere کمال اللّٰہ آپ کو اور ہمت دے ایسے ہی آپ سب کو رگڑا لگاتے جائیں ہمیشہ
#مولوی_برائے_فروخت
پورا پاکستان پچھلے سال کی سردیوں کو یاد کر رہا ہے۔
سب ہی کہہ رہے ہیں کہ پچھلے سال تو صرف ہونٹ اور پاؤں کی ایڑیاں ہی پھٹی تھیں،،،
لیکن اس سال تو کپڑوں کی بھی خیر نہیں۔۔۔
ویسے یہ پوسٹ پڑھتے ہی جو پہلا خیال آپ کو آیا تھا وہ بھی ٹھیک ہے۔