@MaidahMuhammad جزوی معلومات سے کلی نتیجہ نکالنا، اور انسانی روایت کی کمزوری کو بنیاد بنا کر پوری حدیث کو مشکوک قرار دینا،یہ تنقید نہیں بلکہ ایک متعین نتیجے کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔ایک منصف علمی نگاہ کے لیے ضروری ہے کہ حدیث کی حجیت اور اس کی انسانی حیثیت،دونوں کو ان کے صحیح مقام پر رکھا جائے۔
@MaidahMuhammad اب وہ سوال جو حقیقتاً قابلِ غور ہے، وہ یہ ہے کہ کیا بعض علما اور عوام نے حدیث کو اس کی اصل حیثیت سے زیادہ وزن دیا؟ یہ خطرہ ہر دور میں موجود رہا، اور خود علمائے اسلام نے اس کی نشاندہی کی۔ امام شافعیؒ نے کہا کہ اگر کوئی صحیح حدیث میری رائے کے خلاف ہو تو میری رائے دیوار پر دے مارو۔
@MaidahMuhammad صحیح روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا "اکتبوا لأبی شاہ"، یعنی ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے علاوہ صحیفۂ ہمام بن منبہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی کتابیں صحابہ کے دور کی لکھی ہوئی موجود ہیں۔
"دو صدی بعد یادداشت سے لکھی گئیں" والا تاثر بھی درست نہیں۔
@MaidahMuhammad یہ کوئ جدید دریافت نہیں بلکہ اصولِ فقہ کی ابتدائی کتابوں میں یہ تمیز موجود ہے۔یہ دعویٰ کہ نبی ﷺ نےاقوال لکھنے سے منع کیا تھا تاریخی طور پر مکمل نہیں۔ ابتدائی دور میں ایک مخصوص حکم تھاکہ قرآن کے ساتھ کوئی اور چیز خلط ملط نہ ہو جائے،لیکن بعد میں نبی ﷺ نے احادیث لکھنے کی اجازت دی
@BQKhud @Silly_siSilly @ImtnanQazi "مَسند"(میم پر زبر)بالکل الگ لفظ ہےجس کے معنی تکیہ، گدی یا بادشاہ کا تخت ہیں۔ یوٹیوب اساتذہ غالباً اسی لفظ سے مشابہت کی وجہ سے غلطی کر رہے ہیں۔
فرہنگ آصفیہ جو اردو کی معتبر ترین لغات میں سے ہے، اس میں بھی صاف "مُسند" یعنی میم پر پیش ہی درج ہے جیسا کہ آپ کے اسکرین شاٹ سے واضح ہے
@BQKhud @Silly_siSilly @ImtnanQazi یہ لفظ عربی کے "سَنَد" سے ماخوذ ہے۔ عربی میں اسمِ مفعول کا وزن "مُفعَل" ہوتا ہے جس میں میم پر ہمیشہ پیش آتی ہے۔ اس قاعدے کے مطابق "مُسنَد" کا مطلب ہے "جس کی طرف سند لگائی گئی ہو" اور "مُسنَد الیہ" کا مطلب ہے "وہ جس کی طرف سند کی جائے"۔ پس میم پر پیش ہی درست ہے۔
پاکستان میں پاکستانی ایجوکیشن سسٹم کے ساتھ امریکن اور برٹش سسٹم بھی چل رہا ہے لیکن چائنیز یا جاپانی سسٹم یہاں کیوں نہی لایا جاتا؟ جو سکول کے پہلے سالوں میں تربیت پر زور دیتا ہے۔ جو اسکل بیسڈ سٹڈی پر شروع سے کام کرتے ہیں۔ یہاں ڈگریاں ہی کیوں چاہیے اسکلز کیوں نہی؟
السلام علیکم،
میں قوم کے ساتھ آئی پی پی کے حوالے سے معلومات دے رہا ہوں جو ہماری ٹیم نے پچھلے سال کے دوران فیول کی لاگت، کیپیسٹی کی ادائیگیوں اور ہر آئی پی پی کو ادا کیے جانے والے فی یونٹ خرچ کا جائزہ لیا ہے۔
میں اس فی یونٹ قیمت کو دیکھ کر دلبرداشتہ ہوں جو حکومت قوم کی جانب سے آئی پی پی کو بجلی کی پیداوار اور فی یونٹ لاگت کی مد میں ادائیگی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کو یہ مصیبت لاحق ہے۔ حکومت اور آئی پی پیز کے مابین معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے سب سے زیادہ بجلی کے یونٹ 750 روپے فی یونٹ خرید رہی ہے، جبکہ کوئلے کے پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ خرید رہی ہے۔ ہوا اور سولر سے 50 روپے فی یونٹ سے زیادہ۔ سب 20 فیصد سے کم صلاحیت پر اور آئی پی پی کو ادائیگی 1.95 کھرب روپے ہے اور 160 ارب روپے کی تصدیق جاری ہے۔ حکومت 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر ایک پلانٹ کو 140 ارب روپے، 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر دوسرے پلانٹ کو 120 ارب روپے، اور 22 فیصد لوڈ فیکٹر پر تیسرے پلانٹ کو 100 ارب روپے کیپیسٹی کے مد میں ادائیگی کر رہی ہے۔ یہ کل تین پلانٹس کو 370 ارب روپے بنتے ہیں۔ اور یہ تب جبکہ پورا سال 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چلتے ہیں۔
تمام آئی پی پیز کی معلومات، جس میں ہر ایک کو ادا کی گئی رقم اور ہر آئی پی پی سے قوم کو فی یونٹ لاگت شامل ہے، اب دستیاب ہے۔ یہ سب معاہدوں میں "کیپیسٹی کی ادائیگی" کی شق کی وجہ سے ہے، جو پلانٹس کو منافع خوری کی اجازت دیتی ہے، جس کے نتیجے میں آئی پی پیز کو بغیر بجلی پیدا کیے کیپیسٹی کی مد میں ہوشربا ادائیگی کی جاتی ہے۔
اس کا حل آئ پی پیز کو "کوئی کیپیسٹی کی ادائیگی" نہ کرنے میں ہے، صرف سستی بجلی فراہم کرنے والوں سے بجلی کی خریداری کے لیے ادائیگی کی جائے۔ تمام آئی پی پیز کو کسی دوسرے کاروبار کی طرح تجارتی پلانٹس کی طرح تصوت کیا جانا چاہیے، 52 فیصد حکومت کے زیر ملکیت ہیں اور 28 فیصد پاکستان کے نجی شعبے کے زیر ملکیت ہیں، لہٰذا 80 فیصد پاکستانیوں کے زیر ملکیت ہیں۔ ہمیں 60 روپے فی یونٹ بجلی فروخت کی جا رہی ہے صرف ان بدعنوان معاہدوں، بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے۔ براہ کرم، سب کو اپنے ملک کو بچانے کے لیے ان معاہدوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو ملک کے 40 خاندانوں کو منافع دے رہے ہیں۔
Salam,
I am sharing with the Nation the IPP data our team has evaluated on the cost of fuel, cost of capacity payments, and cost per unit paid to every IPP over the last full year. I am shocked to see this per unit data which government is paying on Nation’s behalf to the IPP for electricity capacity payment per unit and cost per unit which is causing this misery to Industrial, Commercial and Domestic consumers. Government is buying because of these IPP agreements, the highest electricity units at Rs 750 per unit from a power plant, while it is buying at an average of Rs 200 per unit from coal power plants. Above Rs 50 per unit from Wind and Solar. All below 20 percent of capacity and payment made to IPPs is Rs 1.95 Trillion and balance 160 Billion is under verification. Government is making capacity payments of Rs 140 billion to one plant at a 15 percent load factor, Rs 120 billion to another plant at a 17 percent load factor, and Rs 100 billion to a third plant at a 22 percent load factor. This totals to Rs 370 billion to just three plants. Running at 15 percent load factor all year.
All the IPP data, including the amount paid to each of them and the per unit cost to the nation from each IPP is now available. This is all due to the term "capacity payment" in the contracts, which allows plants to be highly over-invoiced, resulting in huge capacity payments to IPPs without producing electricity.
The solution is "No Capacity Payment", only payments for electricity purchases from the cheapest electricity suppliers. All IPPs should be treated as merchant plants like any other business, 52 percent are owned by the Government and 28 per percent are owned by Pakistan's Private Sector so 80 percent are owned by Pakistanis. Electricity being sold to us at Rs 60 per unit is only because of these corrupt contracts, mismanagement and incompetence. Please, all must rise against these agreements with 40 families to save your Country.
#Pakistan #ElectricityBill #IPPs