سیدنا سعید بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور اسی حالت میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور ان کی ضرورت پوری کردی، ان کے چلے جانے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہیں اجازت دے دی گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں رہے، ان کی ضرورت پوری کردی اور وہ چلے گئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید ھے ہوکر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم بھی اپنے کپڑے اچھی طرح اپنے اوپر سمیٹ لو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ضرورت پوری کی اور میں چلا گیا، یہ فرق دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آمد پر وہ اہتمام نہیں کیا، جو عثمان رضی اللہ عنہ کی آمد پر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی شرم و حیا والے آدمی ہیں، اگر میں ان کو اسی حالت میں آنے کی اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی آمد کا مقصد بیان نہیں کر سکیں گے۔راوی حدیث لیث کہتے ہیں: اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں کہ جس سے اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
(مسند احمد، ۱۲۲۵۳)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ ، ۲۰۹)
🚨🇷🇺🇮🇷 BREAKING: Russian President Vladimir Putin has declared that RUSSIA will SUPPORT IRAN if the United States attacks Iran's soil in support of Israel.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں روزہ افطار کیا تو فرمایا :
( أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ )
1/2
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ ﷺنکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگےنکلا ہوا ہے،
فرمایا :
تم اپنی صفیں سیدھی رکھو وگرنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا۔
(جامع ترمذی،۲۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
(ابوداؤد،۱۵۲۲)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہلکی سی بارش ہوئی ۔ سخت اندھیرا تھا ۔ ہم انتظار میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے اور ( مجھے ) فرمایا :’’ پڑھ ۔‘‘ میں نے کہا : کیا پڑھوں ؟ آپ ﷺنے فرمایا :’’ سورۂ ( قل ھو اللہ احد ) اور معوذتین صبح و شام تین تین دفعہ پڑھا کر ۔ تجھے ہر مصیبت میں کفایت کریں گی ۔‘‘
(سنن نسائی، ۵۴۳۰)
قالَ ﷺ:
عورت سے نکاح چار وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے:
اس کے مال کی وجہ سے،
اس کے خاندانی حسب کی وجہ سے،
اس کی خوبصورتی کی وجہ سے،
اور اس کے دین کی وجہ سے.
پس تم دیندار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کرو.
بخاری 5090
(مسلم 3635؛ ابوداؤد 2047؛ نسائی 3232؛ ماجہ 1858؛ مشکوٰۃ 3082)
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد(ﷺ)! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا۔
(جامع ترمذی، ۲۱۳)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ ﷺنے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ ﷺکو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔ کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ ﷺاس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو آپ ﷺاس سے ضرور بدلہ لیتے تھے ۔
(صحیح بخاری،۳۵۶۰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔
(صحیح بخاری، ۶۰۴۵)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ
اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
(صحیح بخاری،۶۰۶۹)