آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے،ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی ہے،دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا کہ فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا،میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام فاٹا عوام کے فائدہ میں تھا، آخرکار وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے،یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟
آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار صوبہ بلوچستان ہے،جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔ یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔
ہم نے ایک منظم ٹیم بنانے کا عزم کیا ہے جو بھی فرینڈزاپنا اکاؤنٹ پرموٹ کروانا چاہتے ہیں وہ اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کر کے کمینٹ میں OK لکھیں، پرموٹ صرف وہی اکاونٹ ہوں گے جوکمنٹس اور ریٹویٹس کریں گے
تمام خواتین وحضرات اس ٹویٹ پر جلدی سے کمنٹس والے بعد ریٹویٹ ضرور کریں۔
@JUIFollowTeam