@Sadaqat8503@WhoAhmadRajput ڈر اگر احترام اور ذمہ داری سے پیدا ہو تو بات الگ ہے۔ لیکن چھڑی، مار اور ذلت سے پیدا ہونے والا خوف نہ تربیت ہے، نہ تعلیم۔ یہ صرف کمزور بچوں کے دل میں نفرت اور خوف بھرنا ہے۔
@Sadaqat8503@WhoAhmadRajput جو شخص ایسی ویڈیو دیکھ کر بھی یہ کہے کہ "ڈر مثبت جذبہ ہے"، وہ درحقیقت اس ظلم کو جواز دے رہا ہے۔
اللہ ایسے استادوں سے بچائے اور ایسے سوچنے والوں کو بھی ہدایت دے۔
بچوں کو ادب سکھائیں، مار پیٹ نہیں۔
@Sadaqat8503@WhoAhmadRajput او بھائی۔
تجھے گالیاں لکھ کر میں نے کاٹ دی ہیں۔
تجھے بندہ کیا بولے اب۔
تُو تو مخاطب کیئے جانے کے لائق تک نہیں ہے۔
تیرے اپنے کتنے بچے ہیں BC
@cutehunmee وُہ کونسی دودھ کی دھلی۔
پنگے کرنے والی لڑکی ہی ہے۔
واضح پتا چل رہا ہے۔ کو بیغیرت مرد/لڑکے چھیڑ خانی کرتے ہیں وُہ اتنا بہادری سے ڈٹ کر کھڑے نہیں ہوتے ہیں۔
میڈم نے بدتمیزی کی پہلے۔ اور ہاتھ اٹھایا ہے۔
Angelina Jolie deserves acclaim, applause & appreciation for her Courage of Convictions & her empathy for the cause of Palestinian people, especially victims of #GazaGenocide!
@AJEnglish Just for information Deatha and Destruction in Gaza has officially crossed destruction during Atomic Bombing on Nagasaki.
@POTUS next target matching the hiroshima?
سکول کا موجودہ نظام آپ کے بچے کو آج کے بجائے 1998 کی دنیا کے لیے تیار کر رہا ہے حالانکہ ہم 2026 میں رہ رہے ہیں۔
آپ کا بچہ صبح 4 بجے اٹھتا ہے۔
یونیفارم پہنتا ہے۔
دن کے تقریباً 10 گھنٹے کلاس روم میں گزار دیتا ہے۔
بلیک بورڈ سے نوٹس کاپی کرتا ہے۔
ایسی چیزیں رٹتا ہے جو اکثر جمعہ تک بھول بھی جاتا ہے۔
گھر آ کر ہوم ورک میں پھر وہی باتیں دہراتا ہے۔
اور ہم اسے تعلیم کہتے ہیں۔
1998 میں یہ بات سمجھ آتی تھی۔
دنیا کو ملازمین کی ضرورت تھی۔
ایسے لوگ جو ہدایات پر عمل کریں۔
ایسے لوگ جو رٹا لگائیں اور دہرا دیں۔
ایسے لوگ جو سوال نہ کریں۔
نظام نے بالکل ویسے ہی لوگ پیدا کیے۔
لیکن یہ 2026 ہے۔
دنیا کو اب ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو صرف یاد کر سکیں۔
گوگل کے پاس ہر معلومات موجود ہے۔
اے ائی چند سیکنڈ میں کسی بھی کتاب کا خلاصہ کر سکتا ہے۔
آپ کے بچے کے لیے پرانی تاریخیں اور رٹے ہوئے سوالات اب اتنے اہم نہیں ہیں جتنے پہلے تھے۔
اب دنیا کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ مختلف ہیں۔
تنقیدی سوچ (Critical thinking)
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
تخلیقی سوچ
مؤثر بات چیت (Communication)
ڈیجیٹل مہارتیں
آپ کے بچے کا سکول یہ سب کچھ نہیں سکھاتا۔
وہ بچے کو سکھاتا ہے کہ 8 گھنٹے خاموش بیٹھو۔
استاد پر سوال نہ اٹھاؤ۔
جو بلیک بورڈ پر ہے اسے کاپی کرو۔
امتحان پاس کرو اور اگلے دن سب بھول جاؤ۔
یہ تعلیم نہیں ہے۔
یہ اطاعت (obedience) کی تربیت ہے۔
میں نے بھی اسی سسٹم سے تعلیم حاصل کی۔
میں پاس ہوا۔
مجھے سرٹیفکیٹ ملا۔
اور جب میں حقیقی دنیا میں آیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے کچھ بھی عملی طور پر نہیں آتا۔
میں پروپوزل نہیں لکھ سکتا تھا۔
میں پیسے کا انتظام نہیں کر سکتا تھا۔
میں کچھ بھی بیچ نہیں سکتا تھا۔
میں کانٹینٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
میں ویب سائٹ نہیں بنا سکتا تھا۔
یہاں تک کہ ایک صحیح ای میل بھی نہیں لکھ سکتا تھا۔
لیکن مجھے پاکستان کی تاریخ کے کچھ باب، پرانے واقعات اور درسی کتابوں کے لمبے لمبے اسباق تفصیل سے یاد تھے۔
مسئلہ نظام کا نہیں ہے۔
اس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔
ایسے طلبہ تیار کرنا جو ایک ایسے نظام کے لیے ہوں جو صرف امتحان اور ڈگری پر چلتا ہے، نہ کہ حقیقی زندگی کی مہارتوں پر۔
آپ کا بچہ آج اسی نظام میں بیٹھا ہے۔
وہی چیزیں سیکھ رہا ہے۔
مگر دنیا جو بہت پہلے بدل چکی ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بچے کو سکول سے نکال دیں۔
لیکن یہ کہہ رہا ہوں کہ سکول کافی نہیں ہے۔
سکول کے بعد اصل سیکھنا شروع ہوتا ہے۔
انہیں Canva دکھائیں۔
ویڈیو ایڈیٹنگ کیسے ہوتی ہے یہ سکھائیں۔
ویب سائٹ کیسے بنتی ہے یہ دکھائیں۔
انہیں AI ٹولز سے متعارف کروائیں۔
انہیں کچھ بنانے دیں۔
کچھ بھی۔
ایک پوسٹر۔
ایک چھوٹی ویڈیو۔
ایک سادہ ویب پیج۔
انہیں یہ احساس دلائیں کہ یاد کرنے کے کیساتھ کچھ تخلیق کرنا بھی معنی رکھتا ہے۔
2030 میں کامیاب وہ بچے نہیں ہوں گے جن کے نمبر سب سے زیادہ ہوں۔
بلکہ وہ ہوں گے جو سوچ سکتے ہیں۔
تخلیق کر سکتے ہیں۔
مسائل حل کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔
والدین کا کام یہ ہے کہ اس وہ خلا پُر کریں جو سکول کا نظام پورا نہیں کرتا۔
اپنے بچے کے مستقبل کو اس نظام کے سپرد نہ کریں جو آپ کے اپنے سکول کے دور سے آج تک اپڈیٹ نہیں ہوا۔
نصاب کاغذوں پر بدل گیا ہے۔
لیکن کلاس روم نہیں بدلے۔
منقول
جو آج کے بچے پہلی دوسری کلاسز میں ہیں یا جنہوں نے ابھی سکول جانا شروع نہیں کیا وہ شائد کبھی یہ روائتی کالجوں یونیورسٹیوں اور ڈگریوں کا منہ نہیں دیکھیں گے۔۔۔
کیونکے دس سال بعد دنیا کا ایجوکیشن ماڈل بلکل بدل چکا ہوگا۔۔۔
بچے چھوٹی چھوٹی عمروں میں اربوں روپے کے سٹارٹ اپ کر رہے ہونگے، پریکٹیکل ورک، فری لانسنگ اور مہارتوں پر کام کر رہے ہونگے۔۔۔
ہاں البتہ پاکستان میں شائد 3026 میں بھی شائد یہی کچھ چل رہا ہوگا ہے۔۔
@Aadiiroy2 - خیبر پختونخواہ میں کورٹ نے اسے unfair trade practice قرار دے دیا ہے۔
اگر آپ کسی مخصوص اسٹور کے خلاف شکایت کرنا چاہتے ہیں تو پنجاب میں EPA ہیلپ لائن 1373 پر یا متعلقہ صوبے کے کنزیومر کورٹ میں جا سکتے ہیں۔
@Aadiiroy2 - اگر بیگ پر اسٹور کا لوگو/برانڈنگ ہے تو اسے پروموشنل میٹریل سمجھا جا سکتا ہے، اور اس کی لاگت صارف سے لینا بہت سے کنزیومر قوانین کے تحت قابل اعتراض ہے۔
- پنجاب میں تو پلاسٹک بیگ پر چارج لینے پر براہِ راست پابندی ہے۔