*پنجاب پولیس میں کرپٹ افسران کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 13 ڈی ایس پیز کو سزائیں....!!!!*
پنجاب پولیس میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 13 ڈی ایس پیز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ہونے والے احتسابی عمل میں 3 ڈی ایس پیز کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا....!!!!
ملازمت سے برخاست کیے جانے والے ڈی ایس پیز میں:
ڈی ایس پی مہر محمد ممتاز
ڈی ایس پی ملک طارق محمود
ڈی ایس پی جام سلیم
دیگر محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنے والے ڈی ایس پیز میں:
ڈی ایس پی ناصر نواز
ڈی ایس پی مہر سعید
ڈی ایس پی جمیل باجوہ
ڈی ایس پی اسد اللہ
ڈی ایس پی اظہر یعقوب
ڈی ایس پی سلیم کھٹانہ
ڈی ایس پی ارشد لطیف
ڈی ایس پی زاہد مجید
ڈی ایس پی اکرام خان
ڈی ایس پی رضا عباسی
ذرائع کے مطابق بعض افسران کے خلاف محکمانہ انکوائریوں اور اسکریننگ / کرپشن لسٹوں کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جبکہ بعض کو عہدوں سے ہٹانے یا دیگر محکمانہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا....!!!!
پنجاب حکومت کی جانب سے یہ کارروائیاں بدعنوان عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔....!!!!
آئی جی پنجاب کو کرپٹ اور بدنام شہرت رکھنے والے افسران کی چھانٹی کرنے اور ایسے افسران کو فیلڈ پوسٹنگ یا ایس ایچ او تعینات نہ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں....!!!!
@MaryamNSharif
Some people have rightly pointed out that there are not enough gallantry awards recognising the extraordinary courage and sacrifices of the KP and Balochistan Police, who are fighting terrorism on the frontlines. Since nominations for these awards are submitted by the respective provincial governments, I have asked the Cabinet Secretary to seek additional nominations from the KP and Balochistan governments so that deserving police officers and personnel receive the national recognition their bravery and sacrifice merit.
Highly respected and top professional Police officers like Tariq Khosa, Mir Zubair Mahmood & Kaleem Imam should be engaged by @CMShehbaz@OfficialDGISPR to discuss Balochistan.
These 3 officers are unique in a sense they have served in Balochistan in different capacities from ASP to IG levels at different times. Pls Invite them, listen them with care and sincerity.
Who knows their solutions may work. Just in case.
@MohsinnaqviC42@PakSarfrazbugti@KhawajaMAsif
@aamir_ibrahim01 جاز خریدی ہوئی سم پچھتر ہزار میں دوبارہ فروخت کررہا ہے یہ صارف کے ساتھ کمپنی کا ظلم ہے اسے بند ہونا چاہیے آپ کو نوٹس لینا چاہیے اس مسئلے کا
میانوالی کی غریب ماں کے بیٹے عمران کو ملزمان نے اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کر کے نعش نہر میں پھینک دی مجبور ماں ایف آئی آر کروا کر بیٹے کو ڈھونڈتی رہی لیکن پولیس عمران کو ذندہ بازیاب کرانے میں ناکام سی سی ڈی عمران کے قاتلوں کو نشان عبرت بنائے گی؟
@MaryamNSharif@KlasraRauf
@FeezanAshraf@fawadchaudhry کلاسرا صاحب نے مجھے کال کر کے بتایا تھا بڑے چینلز سے آفر کے باوجود وہ آپ اس لیے جوائن کررہے کہ ظفر اقبال صاحب نے سال پہلے وعدہ لیا تھا وہ مروت میں ناں نہیں کرسکتے۔ریٹنگ کا مسئلہ نہیں تھا۔جی آئی ڈی سی پر پروگرامزنے حکومتی صدارتی آرڈیننس کے لیے مسئلہ بنایا کہانی یہاں سے شروع ہوئی
علی پور کی گیارہ سالہ بچی زہرا عقیل کو اس کے گائوں سے ایمبولینس پر بہاولپور انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیر انکالوجی شفٹ کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹر سہیل صاحب نے ان کا علاج شروع کیا ہے۔
وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے میسج کیا ہے کہ شکل انہیں وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ نے بھی ہدایت دی تھی اس بچی کے علاج کے لیے اور وہ خود بھی اس پر پہلے خواجہ سعد رفیق کے توجہ دلوانے پر کام شروع کر چکے تھے۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@KhSaad_Rafique@SalmanRafiquePK
2) Imagine: every day, the government adds the cost of the Islamabad-Peshawar Motorway – without building one. Hard truth: *Debt is rising. Assets are not*.
Over the past four years, the power sector’s circular debt has grown from Rs2.2 trillion to Rs3.2 trillion.
@KlasraRauf F7 میں باشا استنبول ریسٹورنٹ ہے دوستوں ساتھ کھانا کھایا بیس ہزار سے زائد بل دیکھ کر کارڈ قبول نہ کیا کیش پر زیادہ ٹیکس لگا لیا باقی چھوٹے بل کارڈ سے لیتے رہے۔سب ٹیکس چور ہیں،ادارے حرام خوری میں برابر کے شریک ہیں
میرا فرائیڈے کالم
بس خدا زرا عزت عطا کر دے
رئوف کلاسرا
اگر آپ کو کسی سے متعلق حسد کا جذبہ محسوس ہوتا ہے تو اپنی محنت بڑھا دیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محنت ضائع جائے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کامیابی کیلئے مسلسل اور طویل محنت درکار ہوتی ہے جبکہ لوگ راتوں رات دوسروں جیسا بننا چاہتے ہیں‘ جلدی تھک جاتے ہیں اور پھر وہی حسد اور دشمنی پر اتر آتے ہیں اور خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ سب باتیں مجھے کیوں یاد آ رہی ہیں؟ اس کی وجہ بھارت کا رویہ ہے جو اس نے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کے حوالے سے روا رکھا۔ اگر اِس وقت آپ بھارتی قیادت‘ میڈیا یا ماہرین کو سنیں تو آپ کو یقین آ جاتا ہے کہ حسد کتنی خوفناک چیز ہے۔
اس جنگ میں امریکی بمباری سے ہزاروں معصوم لوگ مارے گئے اور جنگ پھیلتی جا رہی تھی۔ خلیجی ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں جن کے بھیجے ہوئے اربوں ڈالر پاکستان کیلئے لائف لائن ہیں۔ ہمارے ایران سمیت ان سب ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔ پوری دنیا اس جنگ کو نظر انداز کر سکتی ہے لیکن پاکستان نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی اور ممکن ہے اگلے مرحلے پر بھارت کو بھی متاثر کرتی۔ لہٰذا پاکستان کی اس جنگ کو روکنے کی کوششیں کرنا ایک فطری اور مثبت عمل تھا‘ جس کی اب پوری دنیا تعریف کر رہی ہے۔
پاکستانی شہریوں کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے‘ ورنہ عمر بھر پاکستان نے عالمی انکوائریاں اور پیشیاں ہی بھگتی ہیں‘ کہیں پٹاخا بھی پھٹا تو چارج شیٹ ہمیں ہی دی گئی۔ ساری عمر ملزم بن کر گزار دی‘ اور اب خدا نے عزت کمانے کا موقع دیا ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن بھارت جس طرح جلن اور حسد کا شکار ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔
بھارت کا واویلا دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ دشمنی‘ بغض اور نفرت انسان یا ملکوں کو اس سطح تک لے جا سکتی ہے کہ بھلے پوری دنیا تباہ ہو جائے لیکن پاکستان کو کریڈٹ نہ ملے۔
پوری دنیا جنگ سے متاثر ہو رہی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت بھی شدید متاثر ہوا‘ جہاں توانائی کی ضروریات آبادی کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں اور وہاں پٹرول پمپس پر ہنگامے بھی شروع ہو چکے ہیں۔ بھارت کو اس امن کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا لیکن وہ اپنے ڈیڑھ ارب عوام اور معیشت کے فائدے سے زیادہ اس بات کی فکر میں ہے کہ چاہے ہماری دیوار گر جائے‘ مگر پاکستان کے صحن میں گرے تاکہ ملبہ وہ صاف کرتے رہیں۔ حسد کی تکلیف کا اندازہ کرنا ہو تو بھارتی قیادت اور میڈیا کو دیکھیں اور سبق سیکھیں کہ حسد کتنی خطرناک جبلت ہے‘ جس سے انسان سب کچھ بھلا کر اپنا ہی نقصان کرنے پر تل جاتا ہے۔
اس وقت بھارت کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صرف انسان ہی حسد نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو وِشوا گرو سمجھنے والے بھی پاکستان سے حسد کر سکتے ہیں‘ خواہ ان کے فارن ریزروز سات سو ارب ڈالر کیوں نہ ہوں اور پاکستان قرض کیلئے کوشاں ہو۔ حسد کا مرض کسی بھی وقت کسی کو بھی ہو سکتا ہے‘ بس خدا آپ کو ذرا سی عزت عطا کر دے۔
مکمل کالم لنک
👇
https://t.co/t791SmCX1D
@roznamadunya