الحمدللہ پاکستان مسلم لیگ ن کا کوئی مقابل نہیں پیپلز پارٹی دور تک کہیں نہیں مہاجرین کی پانچ نشستوں پہ ن لیگ بہت اگلے جارہی ہے کسی کسی جگہ پیپلز پارٹی کا بندہ نمبروں میں نہیں آزاد بھی آج تو رک گئے ہیں
کہ مفاہمت نہ سِکھا جبر نارواں سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا
بہت سکون ملا تلخیءِ نواں سے مجھے
رَچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ
ابھی تو خوف نہیں آۓ گا سزا سے مجھے
بلاول بھٹو نے فرمایا کہ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ الیکشن مسلم لیگ (ن) جیتے گی۔ بلاول صاحب، میں آپ کو سمجھانا چاہتی ہوں اور یہ بتانا چاہتی ہوں کہ الیکشن کا فیصلہ ریاست نہیں کرتی، الیکشن کا فیصلہ عوام کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں عوام نے آپ کے حق میں فیصلہ دیا تو مسلم لیگ (ن) نے اسے قبول کیا۔ وہاں آپ جیتے تو دھاندلی نہیں ہوئی، لیکن کشمیر میں ہار گئے تو دھاندلی ہو گئی؟ کشمیر میں آپ کے جلسے خالی تھے، عوام آپ کے ساتھ نہیں تھی۔ آپ کو اپنے بیانیے پر محنت کرنی چاہیے تھی۔ آپ کے پاس کشمیر کے عوام کے لیے نہ کوئی پروگرام تھا اور نہ ہی کوئی کارکردگی تھی۔مریم نواز شریف
عمران خان نے پاکستان کی سیاست کو جس تباہی کی طرف دھکیلا تھا اس کے بعد یہ امید تھی کہ مریم اور بلاول ایک اچھی سیاست کریں گے لیکن بلاول کی سیاست دیکھ کر لگتا ہے وہ تو عمران خان کے نقش قدم پر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی دو چار ہاتھ اگلے نکل گیا ہیں پیپلز پارٹی اسوقت حکومت میں ہے تمام طاقتور عہدے ان کے پاس ہیں گلگت بلتستان میں ان کی اکثریت تھی تو وفاقی حکومت نے تسلیم کی وہاں تو کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور یہاں پر تو حکومت بھی ان کی اپنی تھی اور کسی غیر ملکی یا ملکی صحافی کو دھاندلی نظر نہیں ائی لیکن بلاول بھٹو نظر ارہی ہے حماد حسن