There are 89 countries with population of one crore or more. 60 of these have a per capita income higher than Pakistan. Only 5 countries outside Africa with income below Pakistan. Of these Syria, yemen and Afghanistan have had long term civil war/occupation! The historical reasons for exploitation & low development of African nations is well documented. When will we admit that the hybrid system running Pakistan for most of last 4 decades is an utter and complete failure?
جن حکمرانوں کو اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ انہیں عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا بلکہ انہیں ہمیشہ فارم 47 کی طرح حکومت میں لانے والے سرپرست موجود ہیں تو وہ یہی کرتے ہیں کہ ایک سال پہلے کی قائمہ کمیٹی کی اس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں جو کہتی ہے کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں سیفٹی کے انتظامات موجود نہیں ۔ اس غفلت پر چودہ بچوں کے قتل کا مقدمہ شہباز شریف سمیت پوری کابینہ پر ہونا چاہیے
14 newborn #babies died after a fire broke out in the gynecology ward of #PIMS Hospital in #Islamabad.
Will prime minister or Health minister resign after this tragedy ??
عمران خان، بشریٰ بی بی اور کوٹ لکھپت جیل میں زیرِ حراست پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ حکومتی رویہ غیر انسانی اور قابلِ مذمت ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری اس وقت شدید علیل ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مناسب علاج معالجے، ضروری طبی سہولیات اور بروقت طبی نگہداشت فراہم نہیں کی جا رہی۔ کسی بھی زیرِ حراست شخص کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ جیل میں قید افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے مترادف بھی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن بیماری کی حالت میں ہر قیدی کو بلاامتیاز مناسب علاج، ادویات اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی ملنی چاہیے۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں اور باوقار سلوک یقینی بنائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری سمیت تمام بیمار زیرِ حراست رہنماؤں کی صحت کے حوالے سے فوری میڈیکل چیک اَپ کرایا جائے، انہیں ضروری ادویات اور مکمل علاج فراہم کیا جائے اور اگر کسی مریض کی حالت جیل میں علاج کی متقاضی نہ ہو تو اسے فوری طور پر مناسب ہسپتال منتقل کیا جائے۔ قیدی کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو، اسے بنیادی انسانی حقوق اور مناسب طبی سہولیات سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان فوج کے کرنل کی یونیورسٹی میں دھماکہ دار انٹری اور اندھا دھند فائرنگ کے بعد کچھ اور معاملات منظر عام پر آئے ہیں
خریدہ فاروقی @GFarooqi اور اس جیسے باقی فوجی ٹاؤٹس نے بیانیہ بنایا کہ پشتون کرنل تھا، بیوی کو باقی اسٹوڈنٹس کے بیچ غیر محفوظ دیکھ کر غیرت میں آکر فائرنگ کردی۔ اب مبینہ طور پر پتہ چل رہا ہے کہ وہ تو بیوی ہی نہیں اور دوسرے وہ خاتون تو پولیس کی موجودگی میں بیرئیرز کو روندتی ہوئی دبنگ اسٹائل میں اسٹوڈنٹس اور انتظامیہ کو اپنے تابع کرنے کی کوشش میں تھی (خاص فوجی اسٹائل)، پھر اس نے اپنے کرنل صاحب کو بلایا جو وردی میں، پستول لے کر محافظ بن کر پہنچ گئی اور فائرنگ شروع کردی۔
اب اگر ایسے کوئی بھی پاکستانی شہری اپنی آپ کو یا اپنے گھر والوں کو غیر محفوظ سمجھے تو کیا وہ فائرنگ کرسکتا ہے یا یہ عزت صرف فوجی حضرات اور ان کے کسی بھی قسم کے رشتے کا خاصہ ہے؟
دوسرے اگر خریدہ فاروقی کا بیانیہ ٹھیک تھا تو پھر سزا اور کورٹ مارشل والی کہانی کی کیا تُک بنے گی جو کہ ڈی جے بابو کے بیانیے اور کہانی سے مطابقت نہیں رکھتی
تیسرے یہ کہ کیا یہ سرکاری بدمعاشی اب فوجی اہلکاروں سے بڑھ کر ان کے خاندانوں (اور جان پہچان والوں) تک بھی پہنچ چکی ہے اور وہ کسی کو بھی کہیں بھی دھونس، دھمکی اور بندوق کے ذریعے تابع کرسکتے ہیں؟
اگر کوئی بھی بات صحیح ہے تو پاکستانی کاکروچز اور بلڈی سویلینز کو چاہئے کہ وہ ضروری سامان اٹھائیں اور شاید کسی بھی ایسے ملک چلے جائیں جہاں کم از کم وہ کیڑے مکوڑے نہ رہیں۔
جب کوئی پوچھتا تھا کہ عمران خان کس حقیقی آزادی کی بات کرتا ہے، کیا فوج سے آزادی چاہئے تو آج شاید ساری قوم کو ایک دفعہ پھر جواب مل چکا کہ ہمیں انصاف پر کھڑا ہونا ہے اور ایسی آزادی چاہئے جہاں ہم طاقتور اور وردی والوں کے غلام نہ ہوں، نہ ہی ہم اور کسی کے آگے جھکیں، جہاں تمام پاکستانی برابر ہوں
جس PIMs ہسپتال میں صرف آگ بجھانے کے آلات ہی فرسودہ نہیں ہیں، وہاں کے دیگر شعبوں کی بھی یہی حالت ہےـ
اس فرسودہ ہسپتال میں یہ عمران خان کو لے کر علاج کے نام پر لے کر جاتے رہے ہیں؟؟
#TorturingImranKhanIsACrime
اُن 15 معصوموں کو پتا بھی نہیں تھا کہ وہ پاکستان نامی ایک جہنم میں آنکھ کھول رہے ہیں اور پھر مسلط رجیم کی دہکائی جہنم کی آگ نے اُنہیں آ لیا ! ہائے کاش کہ تم کسی آزاد اور انسانی معاشرے میں جنم لیتے !
ذہنی مریض عاصم منیر نے چن چن کر ہارے ہوئے بدنام زمانہ بدمعاشوں اور کریمنلز کے ہاتھوں میں پاکستان دیا ہوا ہے، وفاقی وزیر صحت ایک ایسے بیشرم اور بدتمیز شخص مصطفیٰ کمال کو لگایا ہوا ہے کہ جس کے ہاتھوں عوام ماضی میں بھی ذلیل ہوتی رہی ہے، عاصم منیر نے پاگلوں کو وزیر بنایا ہوا ہے اور پاگل اب عوام کو پڑ رہے ہیں، مصطفی کمال بوٹ پالش کرکے وزیر بنا اور اب یہ پاگل غریبوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتا ہے۔
#PIMS
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
"پورے ملک میں اس وقت دو نظام ہم پر مسلط ہیں ایک نظام امیر کا نظام دوسرا غریب کا نظام ہے امیر کے بچے ان سکولوں میں جاتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں جا سکتا، امیروں کے بچے وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں پیدا ہوتا امیروں کے بچے ان ہسپتالوں میں جاتے ہیں جہاں غریب کا بچہ نہیں جاسکتا اس ملک پر اس وقت ایک آفت ہے، غریب کے لیے زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ 1980 تک سرکاری سکول اچھی تعلیم دے رہے تھے اس کے بعد ایک فوجی حکمران نے فیصلہ کیا کہ امیر کے بچے پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولز میں پڑھیں گے آج غریب اور سفید پوش لوگوں کے بچے ان انگلش میڈیم کے پڑھے امیر کے بچوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتے۔ پاکستان میں ایک ایسی تفریق پیدا کردی گئی جو دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے"۔
سلمان اکرم راجہ
@salmanAraja
سانحہ پمز ہوا،ابھی تک نہ وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے معافی مانگی اور نہ مصطفٰی کمال کو برطرف کیا گیا،اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد شہبازشریف/مصطفٰی کمال صرف اسلام آباد کے ذمہ دار اور پھر یہ پمز ہسپتال آصف زرداری کے گھر سے،شہبازشریف کےدفتر اور مصطفٰی کمال کی وزارت سے چند کلومیٹر کی دوری پر،یاد رکھیں جن معاشروں میں حقیقی احتساب کا نظام نہیں ہوتا وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں اور اس سانحے کا حقیقی احتساب وزیراعظم سے شروع ہوتا ہے۔۔
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔