نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
یہ پہلی دفعہ 2009 کے لگ بھگ دیکھا گیا یعنی جب 62 سال ہوئے تھے پاکستان بنے
مگر یہ جعلی اور فوٹو شاپ ہے
1. 19 ستمبر 1947 جمعرات نہیں جمعہ کا دن تھا
2. اس وقت اردو میں ڈیٹ نہیں تاریخ یا مورخہ لکھتے تھے
3. یہ ٹائپنگ خط نستعلیق اور کمپیوٹر کی ہے۔ نستعلیق کمپیوٹر میں۔ 1981 میں آیا تھا
بہت ہی دلچسپ کہانی ❗
زمین پر لگی کمپنی کی ٹاور پورا کا پورا ٹکڑوں پر کباڑی میں بیچ دیا
کیونکہ کمپنی نے میرا حق نہیں دیا میں نے ٹاور ہی بیچ ڈالا
تمغہ امتیاز تو بنتا ہے اس بندے کے لیے 😎
اتوار کو تو ہم اپنے برطانوی وزیراعظم کے لیے بھی دفتر نہیں کھولتے، لیکن عمران خان کی کال ہم کیسے کاٹتے؟" گورے افسر کا جواب سن کر امان اللّٰہ حیران رہ گئے!
مرحوم لیجنڈری کامیڈین امان اللّٰہ ایک واقعہ سناتے تھے کہ 90 کی دہائی میں ہم کچھ فنکار برطانیہ میں ڈرامہ کرنے گئے۔ ڈرامہ اتنا سپر ہٹ ہوا کہ پبلک نے مزید شوز کی ڈیمانڈ کر دی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے ویزے اگلے دن ختم ہو رہے تھے اور آج 'اتوار' تھا (برطانیہ میں اتوار کو ہوم ڈیپارٹمنٹ مکمل بند ہوتا ہے)۔
آرگنائزر نے کہا: "امان صاحب! صرف ایک پاکستانی ہے جو اتوار کو بھی برطانوی حکومت کا دفتر کھلوا سکتا ہے... آپ عمران خان کو کال کریں۔"
امان اللّٰہ نے حیرت اور جھجھک کے ساتھ لینڈ لائن پر کال کی۔ خان صاحب نے صورتحال سنی اور کہا "ایک گھنٹہ انتظار کریں اور پھر ہوم ڈیپارٹمنٹ پہنچ جائیں۔" جب ہم وہاں پہنچے تو عمران خان خود باہر کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔
تھوڑی دیر میں ایک برطانوی افسر ٹائی کوٹ پہنے، نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ دفتر پہنچا۔ جب خان صاحب نے اسے ہمارے پاسپورٹ دیے، تو امان اللّٰہ نے اس گورے سے کہا: "چھٹی والے دن آپ کو زحمت دینے پر معذرت!"
(یہاں وہ لمحہ آیا جس نے سب کو حیران کر دیا) اس گورے افسر نے مسکرا کر عمران خان کی طرف دیکھا اور بولا: "سر! ہم تو سنڈے کو اپنی ملکہ اور پرائم منسٹر کے لیے بھی دفتر کی چابیاں نہیں نکالتے، لیکن جب اس انسان (عمران خان) نے فون کر کے کہا کہ میرے پاکستانی بھائیوں کا مسئلہ ہے، تو میں اپنا بستر چھوڑ کر آنے پر مجبور ہو گیا!"
صرف ایک گھنٹے کے اندر، اتوار کے بند دن میں ہمیں چائے کافی پلا کر ہمارے پاسپورٹ پر ویزے ایکسٹینڈ (Extend) کر کے دے دیے گئے!
امان اللّٰہ کہتے تھے: "زندگی میں پہلی بار مجھے اپنا سبز پاسپورٹ دیکھ کر پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہوا تھا، اور میرے اندر وہ فخر جگانے والا کوئی اور نہیں، عمران خان تھا۔"
آج وہی عمران خان، جس کی ایک کال پر گورے چھٹی والے دن بھی دفتر کھول دیتے تھے، اپنی ہی قوم کی آزادی کی خاطر ظالموں کی قید کاٹ رہا ہے۔
اگر آپ شیعہ ہوتے تو آج ماتم کر رہے ہوتے اور اگر شیعہ سنی ہوتے تو شاید آج netflix دیکھ رہے ہوتے! پاکستانی عموماً بس وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو انہیں والدین سے ورثے میں ملتا ہے! عقل و شعور کا اس سے کوئی تعلق نہیں!
2008 میں ایلون مسک مالی طور پر ٹوٹ چکے تھے، طلاق کے مرحلے سے گزر رہے تھے، اور ایک کے بعد ایک اپنے راکٹ پھٹتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
فالکن 1 کی تین لانچز ہوئیں، اور تینوں ناکام رہیں۔ 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم ضائع ہو چکی تھی۔ ٹیسلا تنخواہیں دینے سے صرف چند دن دور تھی۔ ایلون مسک اپنے دوستوں سے قرض لے رہے تھے تاکہ اپنا کرایہ تک ادا کر سکیں۔
یہ تصویر اُنہی حادثات میں سے ایک کے بعد لی گئی تھی۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی پریس کانفرنس، نہ کوئی ڈرامہ۔ بس ایک آدمی ملبے کے درمیان بیٹھا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔
اُس کے پاس صرف ایک اور راکٹ بنانے کے لیے پرزے بچے تھے۔ ایک آخری موقع۔
چوتھی لانچ کامیاب ہوگئی۔
چند دن بعد ناسا نے اسپیس ایکس کو 1.6 بلین ڈالر کا معاہدہ دے دیا۔ 2008 کی کرسمس ایو پر ٹیسلا کی فنانسنگ بھی آخری لمحے میں مکمل ہوگئی، ورنہ صرف دو دن بعد 1,200 ملازمین کو تنخواہیں نہ مل پاتیں۔
بعد میں ایلون مسک نے اسے اپنی زندگی کا بدترین سال قرار دیا۔ لیکن اس نے پھر بھی ہار نہیں مانی۔
اگلی بار جب آپ کو ہار ماننے کا دل کرے، تو اُس آدمی کو یاد رکھیں جو ملبے کے درمیان بیٹھا تھا۔
copied viralchallenge
وہ انگریز جج جس نے اذان اور مندر کے گھنٹے کا سچ جان لیا!
انگریز کے دور میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر مقدمہ کیا کہ ان کی مسجد ہمارے مندر کے سامنے ہے اور یہ عین ہماری عبادت کے وقت گھنٹی بجاتے وقت، اذان دینے لگتے ہیں۔
انگریز جج نے سوچا کہ معاملہ خود جا کے دیکھتا ہوں۔ اگلے دن وہ مندر گیا اور وہاں ہندو کو کہا گھنٹی بجاؤ، اس نے گھنٹی بجا دی۔ پھر وہ سامنے مسجد گیا وہاں مسلمان کو کہا اذان دے، مسلمان نے کہا میں اذان نہیں دے سکتا ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔ وہ پھر مندر گیا اور کہا گھنٹی بجاؤ اس نے پھر بجا دی۔
اگلے روز جج نے فیصلہ سنا دیا کہ ہندو فسادی ہے وہ اپنی مرضی سے گھنٹی بجاتا ہے جبکہ مسلمان اپنے مقررہ وقت پر اذان دیتا ہے
💥 میرے بیٹے نے ایک دن میری دکان کی چابی میرے ہاتھ سے لے کر کہا: "ابو، اب بس !!۔"
مجھے لگا میرے اپنے بیٹے نے میری عمر بھر کی محنت پر قبضہ کر لیا ہے۔ 🥹💔
میرا نام اکرم ہے۔
عمر چونسٹھ سال۔
راولپنڈی کے راجہ بازار کی ایک تنگ سی گلی میں میری الیکٹرانکس مرمت کی دکان تھی۔
نام تھا:
اکرم الیکٹرانکس ریپئرنگ
یہ بورڈ میں نے خود لگوایا تھا۔
نیلی ٹین کی تختی پر سفید حروف۔
وقت کے ساتھ رنگ اتر گیا تھا، مگر میں نے کبھی بورڈ نہیں بدلوایا۔
مجھے لگتا تھا اگر بورڈ بدل گیا تو شاید میری پوری عمر کا نشان بھی بدل جائے گا۔
میں نے اس دکان میں چالیس سال گزارے تھے۔
شروع میں ریڈیو آتے تھے۔
پھر ٹیپ ریکارڈر۔
پھر ٹی وی۔
پھر وی سی آر۔
پھر کمپیوٹر۔
پھر موبائل فون۔
ایک وقت تھا جب صبح شٹر اٹھاتا تو دو گاہک پہلے سے کھڑے ہوتے۔
کوئی کہتا:
“اکرم بھائی، آواز نہیں آ رہی۔”
کوئی کہتا:
“تصویر دھندلی ہے۔”
کوئی اپنا پرانا ریڈیو یوں پکڑ کر لاتا جیسے گھر کا فرد بیمار ہو۔
میں پیچ کس اٹھاتا، عینک ناک پر رکھتا، تار جوڑتا، سولڈرنگ آئرن گرم کرتا…
اور چیز چل پڑتی۔
لوگ کہتے:
“استاد، آپ کے ہاتھ میں شفا ہے۔”
میں مسکرا دیتا۔
مگر پھر زمانہ بدل گیا۔
لوگ چیزیں ٹھیک کروانے کے بجائے نئی خریدنے لگے۔
موبائل خراب ہوا؟
نیا لے لو۔
ٹی وی بند ہوا؟
ایکسچینج آفر آ گئی۔
پنکھا جل گیا؟
چائنا کا نیا سستا مل رہا ہے۔
دکان پر گاہک کم ہوتے گئے۔
پہلے دن میں دس کام آتے تھے۔
پھر پانچ۔
پھر دو۔
پھر کبھی پورا دن گزر جاتا اور صرف ایک آدمی چارجر کا پن پوچھ کر چلا جاتا۔
مگر میں روز دکان کھولتا رہا۔
صبح نو بجے شٹر اٹھاتا۔
جھاڑو لگاتا۔
اوزار ترتیب سے رکھتا۔
سولڈرنگ آئرن کو میز پر سیدھا کرتا۔
اور کرسی پر بیٹھ کر انتظار کرتا۔
کبھی گاہک کا۔
کبھی پرانے وقت کا۔
میرا بیٹا حمزہ مارکیٹنگ میں کام کرتا تھا۔
پڑھا لکھا، تیز دماغ، مگر میرے نزدیک بہت جلد باز۔
وہ کئی بار کہتا:
“ابو، یہ دکان اب پہلے جیسی نہیں رہی۔”
میں کہتا:
“کام کم ہے، ختم نہیں ہوا۔”
وہ کہتا:
“آپ rent اپنی جیب سے دے رہے ہیں۔ بجلی کا بل دکان کی کمائی سے زیادہ ہے۔”
میں غصے میں آ جاتا:
“تم لوگوں کو صرف پیسے نظر آتے ہیں۔ یہ دکان میری زندگی ہے۔”
وہ خاموش ہو جاتا۔
مگر اُس کی خاموشی میں فکر ہوتی تھی۔
یہ بات مجھے بعد میں سمجھ آئی۔
ایک دن دکان کا مالک آیا۔
بولا:
“اکرم صاحب، اگلے مہینے سے کرایہ بڑھانا پڑے گا۔ مارکیٹ کا ریٹ بہت اوپر چلا گیا ہے۔”
میں نے ہنس کر ٹالنا چاہا، مگر دل بیٹھ گیا۔
دکان کئی ماہ سے نقصان میں تھی۔
میں گھر سے پیسے لا کر کرایہ دے رہا تھا۔
بیوی کہتی:
“اکرم، اب چھوڑ بھی دیں۔ صحت بھی ساتھ نہیں دے رہی۔”
میں جواب دیتا:
“دکان چھوڑ دوں تو کروں گا کیا؟ گھر بیٹھ کر موت کا انتظار؟”
اصل خوف یہی تھا۔
دکان صرف روزگار نہیں تھی۔
میری پہچان تھی۔
اور آدمی جب اپنی پہچان کھونے لگتا ہے تو ضدی ہو جاتا ہے۔
پھر ایک صبح حمزہ دکان پر آیا۔
ہاتھ میں چائے تھی۔
اور چہرے پر وہ سنجیدگی جو بیٹے کے چہرے پر اچھی نہیں لگتی، کیونکہ وہ اچانک باپ سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔
وہ میرے سامنے بیٹھا۔
بولا:
“ابو، میں نے مالکِ دکان سے بات کر لی ہے۔ نیا معاہدہ میرے نام پر ہو گیا ہے۔”
میرے ہاتھ سے پیچ کس گر گیا۔
“کیا؟”
“غصہ مت کیجیے گا۔ پہلے سن لیں۔”
میں کھڑا ہو گیا۔
“تم نے میری دکان میرے بغیر لے لی؟”
وہ بولا:
“نہیں ابو۔ میں نے آپ کی دکان ختم ہونے سے پہلے بچا لی ہے۔”
میں نے تلخی سے کہا:
“بہت بڑے ہو گئے ہو؟ اب باپ کو دکان چلانا سکھاؤ گے؟”
حمزہ نے سر جھکا لیا۔
پھر آہستہ سے بولا:
“ابو، آپ دکان نہیں چلا رہے تھے۔ آپ یادیں چلا رہے تھے۔”
یہ جملہ میرے دل میں چبھ گیا۔
میں نے کہا:
“تو اب کیا کرو گے؟ یہاں موبائل شاپ کھولو گے؟”
وہ بولا:
“نہیں۔ یہاں ‘ہنر بیٹھک’ بنے گی۔”
میں نے حیران ہو کر پوچھا:
“وہ کیا بلا ہے؟”
“لوگ اپنی خراب چیزیں لائیں گے۔ ہم انہیں ٹھیک کرنا سکھائیں گے۔ پرانے ریڈیو، پنکھے، استریاں، موبائل، لیپ ٹاپ… جو ہو سکے گا۔ کوئی غریب ہوگا تو مفت مدد ملے گی۔ جو دے سکے گا، چندہ دے دے گا۔ نوجوان سیکھیں گے۔ ہفتے میں دو دن ورکشاپ ہوگی۔”
میں نے طنز سے کہا:
“اور میں وہاں ناچوں گا؟”
وہ پہلی بار مسکرایا۔
“نہیں ابو۔ آپ استاد ہوں گے۔”
میں نے ہاتھ جھٹک دیا۔
“میں مفت کا استاد نہیں بنتا۔”
حمزہ نے چائے کا کپ میری طرف بڑھایا۔
“اسی لیے تو آپ کو دکان سے فارغ کیا ہے۔ اب آپ مزدور نہیں، استاد ہیں۔”
مجھے اس کی بات پسند نہیں آئی۔
سچ کہوں تو مجھے اُس دن حمزہ بھی پسند نہیں آیا۔
مجھے لگا میرے اپنے بیٹے نے میری عمر بھر کی محنت پر قبضہ کر لیا ہے۔
میں تین دن دکان نہیں گیا۔
گھر میں بیٹھا رہا۔
بیوی نے زیادہ کچھ نہیں کہا۔
👇
وہ ڈاکو جو خود پولیس کو فون کر بیٹھا
شیدا۔۔۔
پنڈ ملوکاں اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں چوروں اور ڈاکوؤں کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن تاریخ میں اپنا نام سنہری یا شاید انتہائی بیوقوفانہ حروف میں لکھوانے والا ایک ہی ڈاکو تھا جس کا نام اکرم عرف شیدا کارتوس تھا. شیدا اپنے نام کی طرح بالکل پھسپیٹا تھا جس کا دماغ ہمیشہ واردات کے پانچ منٹ بعد کام کرنا شروع کرتا تھا.
ایک سرد اور گھنی دھند والی رات شیدا نے زندگی کی سب سے بڑی واردات کا فیصلہ کیا. اس نے منہ پر کالا رومال باندھا پتلون کے نیفے میں ایک پرانا بغیر گولیوں والا پستول اڑسا اور گاؤں کے ایک متمول صرافہ سنار کے گھر کی دیوار پھاند گیا.
دھند اتنی زیادہ تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سوجھائی نہیں دے رہا تھا. شیدا جیسے ہی صحن سے ہوتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اس نے دیکھا کہ وہاں ایک شخص کمبل اوڑھے لیٹا ہوا ہے. شیدا نے پستول تانی اور کڑک دار لیکن اندر سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا کہ خبردار جو ہلا اپنی جگہ سے گولی مار دوں گا چپ چاپ تجوری کی چابی نکال ورنہ کل کا سورج نہیں دیکھے گا.
کمبل والے شخص نے بڑی اطمینان سے کروٹ بدلی ہنس کر شیدے کو دیکھا اور بولا کہ اوئے شیدیا یہ پستول سیدھی تو کر لے نالی تیری اپنی طرف ہے.
شیدے نے گھبرا کر پستول دیکھی تو واقعتاً نالی اس کے اپنے پیٹ کی طرف تھی. اس نے فوراً رخ بدلا اور شرمندگی مٹانے کے لیے بولا کہ وہ تو میں تیرا حوصلہ چیک کر رہا تھا اب چابی نکال.
اس شخص نے چابی دینے کے بجائے پاس پڑا اپنا چمکدار ٹچ موبائل اٹھایا. شیدے کو لگا کہ وہ پولیس کو بلا رہا ہے. اس نے لپک کر اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور غرور سے بولا کہ شیدے کے ہوتے ہوئے چالاکی اب یہ موبائل بھی میرا اور چابی بھی میری.
اسی دوران صرافہ کے گھر کے باہر اچانک کتوں کے بھونکنے اور کسی کے چلنے کی آواز آئی. شیدے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے. اسے لگا کہ باہر سنار کے رشتہ دار یا محلے والے لاٹھیاں لے کر اکٹھے ہو گئے ہیں.
وہ خوفزدہ ہو کر کچن کی طرف بھاگا اور اندر سے کنڈی لگا لی. باہر شور بڑھتا جا رہا تھا. شیدے کا بلڈ پریشر شوٹ کر گیا اس نے سوچا کہ اگر باہر گیا تو لوگ ہڈیاں توڑ دیں گے اس سے بہتر ہے کہ خود کو قانون کے حوالے کر کے جان بچائی جائے.
شیدے نے جیب سے وہی چھینا ہوا مہنگا موبائل نکالا. گھبراہٹ میں اس کا دماغ سن ہو چکا تھا اور انگلیوں پر پسینہ آ رہا تھا. اس نے اسکرین آن کی ایمرجنسی کال پر کلک کیا اور جلدی میں 15 پولیس ہیلپ لائن گھما دیا.
دوسری طرف سے پولیس آپریٹر کی کڑک دار آواز آئی کہ جی ون فائیو پولیس کنٹرول کیا ایمرجنسی ہے.
شیدا روتی ہوئی صورت بنا کر کچن کے کونے میں دبک گیا اور دھیمی آواز میں بولا کہ سر جی خدا کے لیے جلدی پہنچیں میں صرافہ والی گلی کے مکان نمبر ۴ میں پھنس گیا ہوں. باہر پندرہ بیس بندے لاٹھیاں اور گنڈاسیاں لے کر کھڑے ہیں وہ مجھے جان سے مار دیں گے میری حفاظت کریں میں خود کو قانون کے حوالے کرنے کو تیار ہوں.
آپریٹر نے حیرت سے پوچھا کہ آپ بول کون رہے ہیں اور وہ لوگ آپ کو کیوں کرنا چاہتے ہیں.
شیدے نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے جواب دیا کہ سر میں شیدا ڈاکو ہوں میں چوری کرنے آیا تھا لیکن باہر پنڈ والے اکٹھے ہو گئے ہیں. آپ چور سمجھ کر مجھے پکڑ لیں لیکن ان ظالموں سے بچا لیں.
پولیس آپریٹر نے دو سیکنڈ کا وقفہ لیا اور پھر ہنستے ہوئے بولا کہ شیدے بھائی ذرا فون لاؤڈ اسپیکر پر کرو اور اپنے پیچھے دیکھو.
شیدے نے جیسے ہی فون لاؤڈ اسپیکر پر کیا کچن کے ہال والے دروازے پر دھپ دھپ کی آواز آئی. وہ شخص جس سے شیدے نے موبائل چھینا تھا اس نے کچن کا ہال والے دروازہ جو کھلا ہوا تھا دھکیلا لائٹ آن کی اور اندر داخل ہوا. اس کے ساتھ دو اور تگڑے پولیس والے کھڑے تھے جو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے.
اصل میں ہوا یہ تھا کہ وہ گھر کسی سنار کا نہیں تھا بلکہ دھند کی وجہ سے شیدا غلطی سے گاؤں کی نئی پولیس چوکی کے اندر گھس گیا تھا. اور جس شخص کو وہ سنار سمجھ کر دھمکا رہا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس چوکی کا تھانیدار ایس ایچ او تھا جو رات کی ڈیوٹی کے بعد آرام کر رہا تھا.
باہر جو شور تھا وہ رات کی گشت سے واپس لوٹنے والے باقی پولیس اہلکاروں کا تھا جنہیں دیکھ کر کتے بھونک رہے تھے.
شیدا کارتوس وہیں کچن کے فرش پر بیلن کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنا سر پکڑ لیا. تھانیدار صاحب نے فون ہاتھ میں لیا اور آپریٹر سے بولے کہ شکریہ ون فائیو چور ہمارے پاس ہی کچن میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ چوکی کی چائے بہت کمال کی ہے بس نمک تیز ہے.
شیدے کی اس سیلف سروس چوری پر پولیس نے اسے حوالات میں بند تو کیا لیکن پورے تھانے نے اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا کیونکہ تاریخ میں پہلی بار کسی ڈاکو نے پولیس کو اپنی گرفتاری کے لیے خود ہوم ڈلیوری دی تھی.