بیرسٹر سلمان صفدر کی آج ساڈھے چار بجے عمران خان اور بشری بی بی سے 40 منٹ اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی جس میں کیسز پر بات ہوئی ان کی جانب سے ہدایات دی گئیں اور انہوں نے صحت کی صورتحال اور living کنڈیشن متعلق سلمان صفدر کو بتایا ہے
Today At 4:30 PM Adyala Jail Authorities facilitated 40 Mins Meeting with Mr Imran Khan & Wife Bushra Imran. After repeated applications / requests met Khan Sb after 7 Months & BB after 11 Months. Session was insufficient to cover all cases / legal matters. Both briefed me on their Health Conditions Living Conditions & Gave Fresh Instructions for Some Legal Matters & Cases.
پی ٹی آئی کی 13 سال حکومت رہی، ہماری ان سے بدترین مخالفت تھی لیکن انہوں نے کبھی یہ کم ظرفی نہیں دکھائی جو آپ کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن کے بھائی انجنیئر ضیا الرحمن کی گفتگو
حفیظ اللہ نیازی نے اہم نکتہ اٹھا دیا 🔥
میرے چچا اکرام اللہ نیازی، ان کی بیگم شوکت خانم اور ان کے سبھی بچوں عمران خان سمیت کسی کو شوگر، بلڈ پریشر، یا کولیسٹرول جیسا کوئی مسئلہ نہیں۔
ان سب کو جیل میں ایسا کیا کھلایا جارہا ہے جو دل کے مسائل اور بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے؟
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
مجھے گرفتار کرنے سے اکانومی ٹھیک ہو جائے گی؟
ایک آدمی جو دعا کرتا ہے اسے بھی اندر کر دیں گے؟ یہ پاگل تھوڑی ہیں، میں عاصم منیر کے لیے دعا کرتا ہوں، مریم نواز، محسن نقوی اور ڈرٹی ہیری کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں سیدھے راستے پر لے آئے، احد خان
یہ تو آؤٹ آف سلیبیس آ گئے ہیں۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر مولانا فضل الرحمن کی گفتگو
جنرل کونسل کے اراکین کراچی نہیں آسکتے کمشنر بھی اغوا ہوتے ہیں اور اب خان آف قلات کے بیٹے کو بھی اغوا کرلیا گیا
مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا، حکومت ٹکر لینے کے لئے تیار ہے تو ہم ٹکر لینے لئے تیار بیٹھے ہیں
تشدد کا راستہ تو فرعون نے اختیار کیا تھا جو اپ لوگ کر رہے آجکل
ہم دمادم مست قلندر کیلئےتیار ہے اگر اپ لوگ باز نا ائے
ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں ہمارے ہاتھ خارش کر رہے ہیں لڑنے کے لیے
حکومت ٹکر لینے کے لئے تیار ہے تو ہم بھی ٹکر لینے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ تشدد کا راستہ فرعون نے اختیار کیا تھا جو آج کل آپ لوگ کر رہے ہیں۔ اگر آپ باز نہ آئے تو ہم دمادم مست قلندر کیلئےتیار ہیں۔ ہم کافی عرصے سے لڑے نہیں ہیں ہمارے ہاتھ خارش کر رہے ہیں لڑنے کے لیے۔ مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی سے خطاب
لڑنے کے لیے ہمارے ہاتھوں میں بھی خارش ہو رہی
اس وقت ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے کوئی آئین نہیں ہے
ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں
یہ ملک فوجیوں کا نہیں ہم سب کا ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں خطاب
🚨🚨
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 28ویں ترمیم کی مشروط حمایت کا بھی فیصلہ ، عمران خان کی رہائی کی صورت میں 28ویں ترمیم کی حمایت کی جائے گی، اکثریتی فیصلہ
بریکنگ: تحریک انصاف کا 28ویں ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہ، عمران خان کی رہائی کی صورت میں 28ویں ترمیم کیلئے ووٹ دیا جائے گا، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اکثریتی فیصلہ